امن مذاکرات اور عورتیں
- بدھ 05 / فروری / 2014
- 4018
ہماری حکومت نے آجکل طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جو کھیل رچا رکھا ہے اس پر انسانی حقوق کے علمبرداروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان مذاکرات کے حوالے سے عورتوں کے انسانی حقوق کے تناظرمیں مندرجہ زیل شکوک کا اظہار اور ان کا واضع جواب حاصل کرنا ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔
1۔ حکومت کی طرف سے تشکیل دی جانے والی کمیٹی میں ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو ماضی میں عورتوں کے لئے بننے والے قوانین کی مخالفت کرتے ریے ہیں۔ اور تقریباُ تمام کا شمار دائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ یہ کسی حوالے سے بھی عوام کی نمائندہ کمیٹی نہیں ہے۔ ایسی کمیٹی کی تشکیل اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکومت نے ان مزاکرات میں عورتوں کے حقوق کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت اپنی کمیٹی کی تشکیل میں عورتوں سے بھی رائے لے لیتی۔
2۔ اس ملک کی ایک بہت بڑی آبادی آزاد خیال لوگوں کی ہے۔ جو انسانی حقوق کی برابری پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ اس کا پرچار بھی کرتے ہیں۔ حکومت نے کمیٹی کی تشکیل کے دوران اس کمیونٹی کوبالکل نظرانداز کیا ہے۔ برابری کی سطح پر کامیاب مزاکرات کرنے میں حکومت کی یہ بہت بڑی بھول ہو گی۔ کیونکہ اس کمیٹی سے مذہبی اور مسلکی اقلیتوں کے حقوق نظر انداز ہونے کا واضع امکان ہے۔
3۔ طالبان کا افغانستان میں حکومتی دور اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انکی حکمتِ عملی میں اسلام کے دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والوں، مذہبی اقلیتوں اور عورتوں کا کوئی مقام نہیں ہے۔ میڈیا پر پیش کی جانے والی مزاکرات کی ممکنہ شرائط واضع طور پر طالبان کی دوغلی پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔
4۔ طالبان نے ایک طرف تو سب کے لئے برابر قوانین کی بات کی ہے لیکن دوسری طرف عورتوں سے متعلق صرف پردے میں رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عورتوں کے بنیادی حقوق مثلاُ تعلیم، صحت، روزگار، شخصی آزادی وغیرہ سے متعلق نہ تو کوئی مطالبہ سامنے آیا نہ ہی کوئی حکمتِ عملی وضع کی گئی۔ جبکہ عوام طالبان کی افغانستان میں حکمتِ عملی سے واقف ہیں۔
5۔ میڈیا پر کئے جانے والے تبصروں میں اقلیتوں کو حقوق اور تحفظ سے متعلق کوئی واضع مطالبہ نہ تو حکومت کی طرف سے سامنے آیا اور نہ ہی طالبان کی طرف سے۔ جبکہ طالبان کا ممتاز قادری کی رہائی کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے لئے اقلیتوں سے زیادہ ان کے قاتلوں کی اہمیت ہے (یاد رہے ممتاز قادری نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو سرِ عام قتل کیا تھا کیونکہ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی تھی)۔
طالبان اور حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی کمیٹیوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ ایک کمیٹی بر سرِاقتدار ہے۔ اور دوسری اقتدار کی خواہاں ہے۔ مجھے تو دونوں ہی طالبان کی کمیٹیاں لگتی ہیں۔ جو صرف اقتدار کی ہوس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھی ہیں۔ عوام پہلے بھی پستے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس وقت تک پستے رہیں گے جب تک اقتدار کے ان پجاریوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گے۔
حکومت کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ اب ان ڈراموں سے بات نہیں بنے گی۔ کسی بھی طرح کے مذاکرات جن میں انسانی حقوق کی اہمیت نہ سمجھی جائے وہ کبھی عوام کے لئے نہیں کئے جاتے۔ ان کے پیچھے کچھ اور ہی مقاصد ہوتے ہیں اور عوام وہ مقاصد جان چکے ہیں۔ اب صرف آواز اٹھانے کی دیر ہے۔