نفرت کو مسترد کر دیں
- جمعرات 06 / فروری / 2014
- 4302
آزاد کشمیر کی اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر بھارت کو پرامن طور پر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا علاقے میں کشمکش اور غیر یقینی فضا برقرار رہے گی۔
بھارت ہماری دعوت کا مثبت جواب دے اور کشمیری عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دے۔ قیام امن کیلئے بھارت کے ساتھ ہر تجویز زیرغور لانے کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیر میں اقوم متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرانے کے لئے پاکستانی کوششوں میں تعاون کرے۔ وزیراعظم کی تقریر دل پذیر الفاظ کی حد تک سہانی لگتی ہے مگر ہماری سڑکوں پر ہونے والے مظاہرے اور ریلیاں کچھ اور ہی کہانیاں سناتے ہیں۔
پاکستان اور آزاد کشمیر میں یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔ اس موقع پر اس عزم کی تجدید کی گئی کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی جدوجہد میں برسرپیکار مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت بھرپور طریقے سے جاری رکھی جائے گی۔ مگر ملک کے ہر شہر اور قصبے میں بھارتی پرچم بھی نذر آتش کئے گئے اور نفرت کے پیغام کو پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں کھلونا بندوقیں اور تلواریں پکڑا کر ہم دنیا کو کیا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ پوسٹرز پر نفرت انگیز نعرے پڑھ کر دنیا ہمارے بارے میں کیا نقطہ نظر اپنائے گی؟
مہذب قومیں اپنے مسائل مذاکرات کی میز پر طے کرتی ہیں نا کہ بندوق سے نالی سے۔ آج ہم اپنی ریاست سنبھال نہیں پا رہے اور دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی باتیں ہر جلسے اور جلوس میں سننے کو ملتی ہیں۔ ہر پاکستانی کو سوچنا پڑے گا کہ کیا ایسا ممکن ہے؟ نفرت کا یہ کاروبار کر کے ہم امن کی فصل کبھی نہیں کاٹ سکتے۔
یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ جسے بھارت کے پنجے سے چھڑانے کیلئے ارباب حکومت کو کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک جاری رکھنا چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جب تک پاکستان خود داخلی و خارجی طور پر مضبوط نہیں ہو گا اس وقت تک وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھی اپنا مناسب کردار ادا نہیں کر سکتا۔ جنوب مشرقی ایشیا کے بے لاگ دانشوروں کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ کشمیریوں نے آگ اور خون کے دریا عبور کر لئے ہیں اور اب آزادی کی منزل قریب ہے مگر اس منزل تک پہنچنے کے لئے صحیح راستہ چننے کی ضرورت ہے۔
آج کشمیری عوام اس امر پر طمانیت کا اظہار کر رہے ہیں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے کشمیریوں کی حمایت میں قرارداد منظور کی ہے ۔ اصولی مؤقف پر ڈٹے رہنا اور کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھنا اہل پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ برطانوی صحافی مریم ریڈلے نے درست کہا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ شدید مسائل سے دوچار ہے۔ بدقسمتی ہے کہ مصر اور مقبوضہ کشمیر سے اٹھنے والی بچوں و خواتین کی چیخیں اقوام متحدہ کے کانوں تک نہیں پہنچتیں۔ اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داریاں اسی سنجیدگی سے ادا کرنا ہوں گی جس کا مظاہرہ اس نے ایسٹ تیمور اور ڈارفر کی آزادی کے لئے کیا تھا۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرار دادیں اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ تاہم اقوام عالم سے اپنی بات منوانے کیلئے ہمیں اپنا گھر بھی مضبوط کرنا ہو گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری آیام میں دورہ پاکستان کے لئے پر تول رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم جب اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کریں گے تو اس دوران وہ جامع مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے آبرو مندانہ حل کے لئے ٹائم فریم بھی طے کرنے کی کوشش کریں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ماضی کی حکومتوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں کو پاکستان نواز حلقوں سے اپیل کرنا پڑ رہی ہے کہ وہ حکومت پاکستان سے اس بات کی وضاحت طلب کریں کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دوران کشمیر اولین ترجیح کیوں نہیں ہوتا۔ یہ امر بھی لمحہ فکریہ ہے کہ سید علی گیلانی جیسے لوگ بھی پاکستان کی کشمیر پالیسی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے کشمیریوں کی تیسری نسل جدوجہد کررہی ہے اور بھارتی افواج کے ساتھ جدوجہد میں کشمیریوں نے جو جانی ومالی قربانیاں دی ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی۔ حکمرانوں کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ کشمیر جس طرح مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کا بنیادی مسئلہ ہے، اسی طرح پاکستان کا بھی کور ایشو ہے۔
یہ تلخ سچ پیش نظر رہے کہ کشمیر سے نکلنے والے تمام دریا بھارت کے قبضے میں ہیں ۔ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہو ا تو پاکستان میں پانی کا قحط پڑ سکتا ہے۔ بھارت آبی جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کاپانی روک کر پاکستانی دریاؤں پر 42 ڈیم خلاف معاہدہ بنارہاہے۔ اس جارحیت کا سنجیدہ نوٹس لے کر اس معاملے کو عالمی سطح پر مؤثر طریقے سے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ ہندوستان کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری پر دیوار کی تعمیر کا عمل جاری ہے اور اس عمل کا مقصد جموں وکشمیر کو مستقل بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ورکنگ باؤنڈری پر دیوار کی تعمیر کے خلاف پاکستان کو عالمی پلیٹ فارموں پر اپنا احتجاج ریکارڈ پر لانا چاہئے ۔ آزادئ کشمیر ہی اصل میں تکمیل پاکستان ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکمرانوں سے مذاکرات ضرور کئے جائیں لیکن کشمیری عوام کی قیادت کو مذاکرات میں شامل کئے بغیر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔
آج پاکستان اور بھارت کے درمیان جو بھی مسائل ہیں ، ان کا مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی حل نکالنا وقت ہی ضرورت ہے۔ دونوں ایٹمی طاقتیں اگر اپنی عسکری صلاحیتوں کے زعم میں مقابل آئیں اور محدود پیمانے پر ہی سہی کوئی جنگ چھڑی تو دونوں ممالک کیلئے پھر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گا۔
پاکستان اور بھارت اس سے قبل بھی اپنی جنگیں صلاحیتیں ایک دوسرے پر آزما چکے ہیں اور بدقسمتی سے ان کے نتائج بڑے بھیانک نکلے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے عوام نفرت کے بجائے ایک دوسرے سے محبت کریں اور ان عناصر کو مسترد کر دیں جو آگ بجھانے کی بجائے اس پر تیل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔