گدی نشین کے بیٹے کی دعوت ولیمہ
- ہفتہ 08 / فروری / 2014
- 5091
(اقتباس۔ خاص کاروان کیلئے)
جب خواص و عام اور علماء کرام و مشائخ عظام بہ نیت طعام سیدھی صفوں میں بٹھا دیئے گئے تو لمبے لمبے دسترخوان انکے سامنے بچھائے گئے جن کے کونوں پر جلی حروف میں ۔۔اٹھو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی ۔۔۔ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا ۔۔ چھپا ہؤا تھا۔
ایسے میں خدمتگار دستر خوان پر بڑے بڑے تھالوں میں کھانا چننے لگے۔ نچڑتے حلوے کی پراتیں، زعفرانی زردے کے تھال، اپنی ہی چکنائی میں بل کھاتا قورمہ، مرغ ہائے مسلم کے پہاڑ، مہکتا پلاؤ ، رابڑی سے منجمد کھیر اور نہ جانے کیا کیاتھا۔ اور پھر جیسے ہی بسم اللہ کیجئے کا مژدہ میزبان کے لبوں سے برآمد ہو ا ، زمانہ قیامت کی چال چلنے لگا۔ پل بھر پہلے جو بزرگ عطر میں ڈوبی ریشوں کے گلدستے لہراتے تقویٰ، پرہیزگاری اور مرنے کے بعد کیا ہو گاجیسے موضوعات پر عالمانہ گفتگو فرما رہے تھے، انکی ریشیوں کے گلدستے زعفرانی ہونے لگے جن سے بوند بوند حلوہ ٹپکتا تھا جبکہ کہیں کہیں خزاں رسیدہ پتوں کی طرح کپکپاتے زردے کے چاول بھی دکھائی دیتے تھے۔
رفتہ رفتہ یہ حال ہونے لگا کہ خواص کی پگڑیاں عوام کے ہاتھوں میں، اور عوام کی گردن عظام کے شکنجوں میں، اور عظام کے گریبان کرام کے پنجوں میں جکڑے جا رہے تھے، اور محو حیرت خدام ادب کسی متوقع حملے کے پیش نظر سامنے رکھی دیگوں کی قطار کو اپنے حصار میں لئے کھڑے تھے اور خوف سے تھر تھر کانپتے تھے کہ ماکولات انواع و اقسام سے بر سر پیکار یہ متقی و پرہیزگار عظام و کرام کہیں ادھرکوہی دھاوا نہ بول دیں۔
لذت کام و دہن کی ایسی کڑی آزمائش سے گزرتے ہوئے چند ہی لمحوں بعد کسی بزرگ کی عینک اچھل کر بل کھاتے قورمے میں جا گری تھی تو کسی کا براق لباس دھنک کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کوئی پلاؤ کے تھال پر قابض تھا تو کوئی آستینیں چڑھائے مقبوضہ تھال میں سے چن چن کر بوٹیاں اچکنے کے عمل میں مصروف تھا اور ادھ کھائی بوٹیاں ہوا میں یوں اچھل رہی تھیں جیسے من و سلویٰ آسمان سے گرنے کی بجائے آج زمین سے اوپر آسمان کی طرف برس رہا ہو۔
ہاتھوں میں پکڑی رکابیاں اڑن طشتریوں کی طرح پورے پنڈال میں محو پرواز تھیں اور اندیشہ ہائے دور دراز رکھنے والے اہل نظر نے کوئی خطرہ مول لینے کی بجائے حفظ ماتقدم کے طور پر اب براہ راست ڈونگوں میں ہی کھانا شروع کر دیا تھا۔ مرغ ہائے مسلم کے پہاڑ ان کی ہیبت سے سمٹ کر رائی ہو چکے تھے اوران کے ہاتھوں میں دبی مرغان بے نوا کی چیتھڑہ ٹانگیں کسی خطرناک ہتھیار سے کم دکھائی نہ دیتی تھیں۔
ایک بزرگوار جن کی عینک کا شیشہ کل چھوہارے لوٹتے ہوئے چٹخ گیا تھا اور جن کے مصنوئی دانت ہاتھ میں جکڑی مرغ مسلم کی ٹانگ پر تیزی سے چلتے ہوئے مسلسل بج رہے تھے ، رکابی پر رکوع کے انداز میں جھکے ہوئے تھے اور تیزی سے ادھڑتی ٹانگ ہلا ہلا کر بھرے بھرے منہ سے اپنے نو سالہ سست رو فرزند کو ڈانٹ رہے تھے کہ حرامخور کھاتا کیوں نہیں۔ سب کچھ ختم ہونے کو ہے اور تو ابھی تک سلاد کی جگالی کیئے جا رہاہے۔ پھر انہوں نے ادھ کھائی ٹانگ ، اُٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا والے دستر خوان پر پھینکتے ہوئے سرعت سے ایک اور مرغ مسلم اٹھایا اور اسے جنگی قیدیوں کو گھوڑوں سے باندھ کر چیردینے والے چنگیزخانی طریق کے مطاق دونوں ہاتھو ں سے پھاڑ کر لخت لخت کرتے ہوئے ایک حصہ بجتے ہوئے مصنوئی دانتوں میں دابا اور دوسرا کاہل فرزند کی جانب بڑھاتے ہوئے دھاڑے۔۔۔ کھا اسے۔ اور ادھر لا اپنی پلیٹ میں تجھے پلاؤ نکال دوں۔ یہ ساتھ بیٹھا قائم خانی سارا ختم کئے دیتا ہے۔ سبھی اچھی اچھی پٹھ کی بوٹیاں نکال کر چٹ کر گیا ہے ولد الخنزیر۔ نجانے کب تمیز آئے گی ان لوگوں کو۔ حریص حرام زادے۔
پیر صاحب بار بار تسلی دلا تے تھے کہ کھانا وافر ہے ، پر ان کی ایسی طفل تسلیاں کھانے سے برسر پیکارمردان با صفاکو اور مشتعل کیئے دیتی تھیں۔ بیرے بیچارے خوانوں کو دوبارہ بھرنے کے لئے دوڑ دوڑ کر سامان لا رہے تھے۔ ولے افسوس کہ ان میں سے اکثر خوان تک پہنچنے سے پہلے ہی چت کر دیئے جاتے ، اور جو منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ، جب لوٹتے تو یوں دکھائی دیتے جیسے کسی شکست خوردہ لشکر کے بھاگے ہوئے سپاہی ہوں۔ گریباں چاک۔ دامن تار تار۔ پگڑیاں گلے میں لٹکی ہوئی۔ لبادہ کھیر و قورمہ آلود۔ چال شکست خوردہ اور آنکھوں میں وحشت۔
(انیس احمد ناروے میں مقیم کہنہ مشق صحافی اور ادیب ہیں۔ حال ہی میں ان کا ناول “جنگل میں منگل“ جمہوری پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ اس تحریر کی طرح ان کا ناول بھی اردو جدید اردو ادب میں نادر اضافہ ہے۔)