کرکٹ اور قبضہ مافیا
- ہفتہ 08 / فروری / 2014
- 4229
دنیائے کرکٹ کے تین مالدار ترین بورڈز بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کا انٹرنیشنل کرکٹ کو اپنے اشاروں پر چلانے اور سپر پاور بننے کا خواب پورا ہو گیا ہے۔ بگ تھری کے نام سے سامنے آنے والے اس پلان کی منظوری کے بعد ان تین ممالک کی داداگیری اور دنیائے کرکٹ کے وسائل پر ان کا قبضہ اب اظہر من الشمس ہے۔
بگ تھری پلان کیا ہے؟ اس پلان کے ڈرافٹ کے مطابق آئی سی سی کے سارے بڑے عہدوں پر ان تین ممالک کا قبضہ ہو گا۔ آئی سی سی کی کمائی کا سب سے بڑا حصہ ان تین ممالک کو ملے گا۔ یہ تینوں ممالک آئی سی سی رینکنگ میں تنزلی سے مبرا ہو نگے۔ آئی سی سی ایگزیکٹو کمیٹی میں کسی اور رکن ملک کو جگہ ملے گی تو ان تینوں کی مرضی سے ہی ملے گی۔ فیوچر ٹور پروگرام کا خاتمہ، کون کس سے کھیلنا چاہتا ہے اس کا فیصلہ بھی آئی سی سی کی بجائے یہ تین ممالک ہی کریں گے۔
آئی سی سی کی جانب سے منصوبے کی منظوری کے مطابق آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت آئی سی سی کے مستقل رکن ہوں گے جبکہ چوتھا رکن آئی سی سی کے باقی 7 ممبرز کسی ایک ملک کو منتخب کریں گے۔ اجلاس میں بورڈ آف کرکٹ کنٹرول ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے صدر سری نواسن کو آئی سی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے جو جولائی سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ جبکہ آئی سی سی کے مالی اور دیگر معاملات انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ہاتھ میں ہوں گے۔
بگ تھری منصوبے کی منظوری کے بعد آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے کونسل کی گورننس اور مالی معاملات کی منظوری دے دی ہے۔ قرارداد کی منظوری کو دس ممبران میں سے آٹھ کے ووٹ ملے جبکہ پاکستان اور سری لنکا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ بگ تھری منصوبے کی کامیابی کے لئے تینوں بورڈز کو پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا میں سے کسی ایک ممبر کا ووٹ درکار تھا۔ ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، زمبابوے، اور بنگلہ دیش پہلے ہی بگ تھری کی حمایت کا اعلان کر چکے تھے۔ تاہم منصوبے کی بھرپور مخالفت کرنے والے جنوبی افریقہ نے بھی آخری لمحات میں ووٹنگ کے دوران بگ تھری کے حق میں ووٹ ڈال کر منصوبے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
جنوبی افریقہ کے اس عمل پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ بگ تھری کے معاملے پر پاکستان تنہا نہیں ہے تاہم جنوبی افریقہ نے پاکستان اور سری لنکا کو آخری وقت پر دھوکا دیا۔ بگ تھری کے منصوبے کے بارے میں پاکستان اپنے اصولی موقف سے نہیں ہٹا۔ لیکن اس بات کا ضرور افسوس ضرور ہے کہ جنوبی افریقہ ساتھ چھوڑ گیا۔ جس نے آخر وقت تک یہ تاثر دئے رکھا تھا کہ وہ پاکستان اور سری لنکا کے ساتھ ہے۔ پی سی بی چیئرمین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس اہم ترین معاملے پر اصولی مؤقف اختیار کیا جس پر انہیں فخر ہے۔ کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ پیسے کے پیچھے بھاگنے کی اس روش سے انٹرنیشنل کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔
یہ بات تو واضح ہے کہ کرکٹ فٹبال کی طرح زیادہ بڑا کھیل نہیں ہے ۔ اگر اس میں دھڑا بندی ہوئی تو یہ تباہ کن ثابت ہو گی اور اس میں کسی ملک کو فائدہ نہیں ہو گا۔ آئی سی سی کو مخالفت کرنے والے ممالک کے تحفظات دور کرنے چاہئے تھا تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ لیکن اگر کوئی بھی ملک اپنے حق کے لئے کھڑا ہو رہا ہے تو اس کے خلاف امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے۔ بگ تھری کو آمدنی کا اختیار تو مل گیا ہے مگر ان کی اصل ذمہ داری اب شروع ہو رہی ہے ۔ یہاں یہ کہنا بھی بیحد ضروری ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کو چاہئے کہ وہ اپنا معیار بلند کرے کیونکہ اگر ایسا ہؤا تو پھر پاکستان کی آواز ہر فورم پر سنی جائے گی۔
یہ بات تو یقینی ہے کہ انٹر نیشنل کر کٹ کونسل پر بگ تھری آسٹریلیا ،انگلینڈ اور بھارتی بورڈز کا قبضہ تباہ کن ہے۔ پاکستان کر کٹ بورڈ نے اس اہم مسئلے پر حقیقت پسندانہ کردار ادا کرتے ہوئے اپنی اہمیت کو تسلیم کروایا ہے ۔آئی سی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے قیام سے انٹر نیشنل کر کٹ مزید تباہی کی طرف گامزن ہوگی اور آئی سی سی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو کا کردار عملاً ختم ہو جائے گا ۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ آئی سی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی سربراہی ایسے بورڈ کودی گئی ہے جو کہ کرپشن کا گڑھ ہے اور کمیٹی کا چیئرمین ( سری نواسن) ایسے شخص کو منتخب کیا گیاہے جو کہ ملزم ہے اور اس کے اپنے ملک میں اس کے خلاف انکوائری جاری ہے اور الزام ثابت ہونے پر اس کو سزا بھی ہوسکتی ہے ۔ ایسے شخص کے انتخاب سے کمیٹی اپنے قیام کے فوری بعد ہی متنازعہ ہو گئی ہے ۔
بگ تھری کے معاملے پر پی سی بی کا مؤقف حقیقت پسندانہ ہے اور پی سی بی کے اس اقدام سے پاکستان کرکٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ آئی سی سی پر بگ تھری کی اجارہ داری قائم ہونا کر کٹ کے لئے سیاہ دن ہے ۔ پاکستان کر کٹ بورڈ نے بگ تھری کے معاملے پر بہترین انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا اور دیگر بورڈ ز کے ساتھ لابنگ کر کے اپنی اہمیت منوائی ہے۔ تاہم اگر پی سی بی اس معاملے میں ذرا پہلے لابنگ شروع کرتا تو زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوتا۔
یہ بات تو واضح ہے کہ انٹر نیشنل کر کٹ پر بگ تھری کا قبضہ یوں ہی ہے جیسے ساری دنیا کو امریکہ اپنی مرضی سے چلاتا ہے۔ اسی طرح اب یہ تینوں ممالک دنیا کی کر کٹ کو اپنی مرضی سے چلائیں گے جو کہ کرکٹ کیلئے تباہ کن ثابت ہو گا ۔ پی سی بی نے بگ تھری ایشو پر کسی کے ہاتھوں میں نہ کھیل کر اپنی اہمیت منوائی ہے ۔ بظاہر یہ پاکستان کر کٹ کا نقصان دکھائی دے رہا ہے مگر آنے والے دنوں میں اس کا پاکستان کرکٹ کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا ۔
بگ تھری پلان کے منظوری سے پاکستان کے کھیل کے میدان مستقبل قریب میں آباد ہونے کا امکان معدوم ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی آمدنی میں بھی بڑی حد تک کمی ہو گی۔ جو پاکستانی کرکٹ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پلان کی منظوری سے پاکستان کو فیوچر ٹور پروگرام میں مختلف ممالک سے سیریز حاصل کرنے کیلئے بھی مشکلات درپیش ہوں گی۔ کیونکہ اب کونسل کی باگ ڈور عملاً بھارت کے ہاتھ میں جا چکی ہے اور بھارت کے پاکستان کے بارے میں عزائم سے دنیا واقف ہی ہے۔
اب پاکستان اور سری لنکا کو چاہئے کہ وہ اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹے رہیں اور عزت و وقار کے ساتھ کرکٹ کے بڑوں سے اپنے مطالبات منوا کر ہی ان کی حمایت کریں۔ ورنہ منصوبہ تو منظور ہو ہی چکا ہے اور بگ تھری کو اب پاکستان اور سری لنکا کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ تاہم شائقین کرکٹ کو یقیناًان ممالک کی ضرورت ہے اور ان ممالک کے اسٹارز کو کرکٹ کے میدانوں میں ایکشن میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
بھارت ،انگلینڈ اور آسٹریلیا کو حاصل ہونے والے اختیارات سے واضح ہے کہ یہ پلان کرکٹ کے میدانوں پر تین ملکوں کی دادا گیری کے منصوبے کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے کرکٹ کی دنیا میں انتشار پھیلے گا اور آئی سی سی کے رکن ممالک کی دو گروپوں میں تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اب کرکٹ کے ان تین بڑوں کو اپنی ذمہ داری کو بھی نبھانا پڑے گا۔
بھارت ہمیشہ سے پاکستان کو کرکٹ میں تنہا کرنے کی کوششوں میں لگا رہا ہے اور اب اسے سنہری موقع بھی ہاتھ لگ چکا ہے۔ مگر یہ بات اسے ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ پاکستان کے بغیر انٹرنیشنل کرکٹ کا چارم ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ پاکستان کرکٹ کی دنیا کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑا نام بھی ہے۔