سوشل میڈیا --- سہولت یا علّت

  • اتوار 09 / فروری / 2014
  • 4272

سوشل میڈیا گذشتہ دو دہائیوں کی شاید سب سے بڑی سائنسی ایجاد ہے۔ درحقیقت اسی نے پوری دنیا کو ’گلوبل ویلج‘ بنایا ہے۔ انسانوں اور معاشروں کے درمیان تیز ترین، قابل اعتماد اور مؤثر رابطے کا یہ جدید ترین ذریعہ ثابت ہؤا ہے۔ اس سائنسی ترقی نے معلومات کی دنیا کے تمام بند دروازے کھول دیئے ہیں اور انسانی معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب تر کر دیا ہے۔ معلومات کے تبادلے کے علاوہ یہ انسانوں اور معاشروں کو سمجھنے اور ان کی نفسیات اور مزاج کو جاننے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

اس سائنسی ترقی نے جہاں بالغ اور پڑھے لکھے لوگوں کو متاثر کیا ہے وہاں آج کے بچے بھی اس جادو کے زیر اثر آئے ہیں۔ چنانچہ یورپ اور امریکہ کے بعد اب ایشیاء اور افریقہ کے کے بچے بھی سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایک تازہ سروے کے مطابق 10سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے درمیان سوشل میڈیا کے استعمال کی شرح تیز ی سے بڑھ رہی ہے جو والدین اور اساتذہ کے لیے تشویش کا باعث بھی ہے۔

بچوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث اس کے نقصانات بھی اب سامنے آنے لگے ہیں اور یہ سائنسی ایجاد اور ترقی اب بہت سے والدین اساتذہ اور بچوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

* سوشل میڈیا کے استعمال کے باعث بچوں کا بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ عام طور پر بچے کئی کئی گھنٹے سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں اور کسی بھی چیز کا کثرت سے استعمال بہر حال نقصان دِہ ہوتا ہے۔ یہ وقت انہیں اپنی تعلیم پر لگانا چاہیے۔

*سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے باعث بچوں کی کھیل کود کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور وہ کسی صحت مند کھیل میں حصہ لینے کے بجائے کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں۔ جو ان کی ذہنی وجسمانی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔

*سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال کرنے کی وجہ سے بچوں کو گھنٹوں ایک ہی انداز میں بیٹھنا پڑتا ہے جس سے ان میں کمر درد کی شکایت بڑھ رہی ہے، نظام انہضام متاثر ہو رہا ہے اور بینائی کمزور پڑ رہی ہے۔

*سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے باعث بچے اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں اور رشتہ داروں سے کٹ رہے ہیں۔ وہ ان عزیزوں سے گفتگو کرنے، ان سے تبادلہ خیال کرنے اور کچھ سیکھنے کے بجائے کمپیوٹر پر وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

*سوشل میڈیا پر زیادہ وقت دینے کی وجہ سے بچوں میں کتب بینی اور اخبارات کے مطالعہ کی عادت بری طرح متاثر ہو رہی ہے جس سے ان کی ذہنی نشوونما رک گئی ہے۔
*سوشل میڈیا پر بچوں کا جن سے رابطہ ہوتا ہے وہ تقریباً سب ہی اجنبی اور انجان ہوتے ہیں۔ 10سے 16سال کی عمرکے بچوں کا اجنبی لوگوں سے رابطہ کسی طرح درست نہیں ہے۔

*بچے چونکہ سادہ اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں اس لیے سوشل میڈیا پر ان سے رابطے میں آنے والے لوگ انہیں کسی غلط راہ پر ڈال سکتے ہیں۔

*سوشل میڈیا کنٹرول کرنے والے گروپوں کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے جس کے لیے وہ بچوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔عام طور پر بچے سوشل میڈیا پر معلومات کا تبادلہ نہیں کرتے بلکہ محض گپ شپ کرتے ہیں جو صرف وقت کا ضیاع ہے۔

*سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی معلومات، تصاویر اور حوالے مستند نہیں ہوتے۔ اس لیے بچے جہالت کو علم سمجھ سکتے ہیں۔

*سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال سے بچوں میں چڑ چڑا پن پیدا ہو رہا ہے جو آگے چل کر ان کی شخصیت کا حصہ بن سکتا ہے۔

*والدین بچوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے پریشان ہیں اور ان کی پریشانی جائز ہے اس لیے بچے کمپیوٹر کا استعمال تو کریں لیکن سوشل میڈیا پر وقت ضائع نہ کریں۔ البتہ اگر مختصر وقت کے لیے اپنے جاننے والے دوستوں، عزیزوں، اساتذہ اور رشتہ داروں سے سوشل میڈیا پر رابطے کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نئے لوگوں سے رابطے سے گریز کریں۔ اور جن سے رابطہ کریں ان سے بھی گپ شپ کے بجائے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں۔