شریعت کون سی (1)

  • منگل 11 / فروری / 2014
  • 5749

جب کبھی شریعت اور اُس کے نفاذ کی بات ہوتی ہے تو ازراہِ تفنّن میں اپنے مُخاطب سے کہا کرتا ہوں کہ بہت سے لوگ شریعت کے سفر میں شر تک تو پہنچ گئے ہیں اور اب صرف یعت کا معرکہ سر کرنا باقی ہے ۔
خیر یہ تو ایک سُخن گسترانہ بات تھی ۔ اصل قصّہ یہ ہے کہ اِن دنوں پاکستان کے تمام بڑے ٹی وی چینل علماء کی پگڑیوں کے سائے تلے شریعت کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں ۔ گھمسان کا رن پڑ رہا ہے ۔

لال مسجد اسلام آباد کے مولوی عبدالعزیز برقعہ پوش ، قرآنِ کریم کا نسخہ لہرا لہرا کر یہ دعویٰ کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں کہ ہمارا اصل آئین تو یہ ہے اور جو آئین اسلامیہ جمہوریہ پاکستان سے موسوم ہے ، وہ غیر اسلامی ہے ۔ میں بھی دوسروں کی طرح علماء کرام کا سامع ہوں اور ان سکہ بند مفتیوں کی بات میں مُداخلت کرنے کا مجھے کوئی استحقاق نہیں مگر ۔ ۔ ۔

ہر چند کہ مولانا عزیز کا بیان مستند ہے مگرمیرے پاس بھی اپنی سی کہنے کا جواز موجود ہے اور وہ یہ کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و وسلم کا فرمان ہے کہ : " تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ" ۔
چنانچہ اِس ذمہ داری اور جواب دہی کے پیشِ نظر میں علمائے کرام کے حضور چند سوالات اُنہیں یہ یاد دلاتے ہوئے کرنا چاہتا ہوں کہ کتاب اللہ نے کسی سوالی کو جھڑکنے سے منع نہیں کیا ۔ سو میں جواب مانگتا ہوں ۔

بات جب جبہ و دستار کی ہو رہی ہو تو مجھے نقشبندی درویش مُلا نصرالدین ضرور یاد آتے ہیں ۔ حکایاتِ ملا نصرالدین میں مرقوم ہے کہ ایک دن ایک شخص ایک خط لے کر ملا نصرالدین کے پاس آیا اور تسلیم و تپاک کے تبادلے کے بعد عرض گزار ہؤا : " حضرتِ والا ! مجھے یہ خط موصول ہؤا ہے ۔ مگر یہ کسی ایسی زبان میں ہے جو میں نہیں پڑھ سکتا ۔ اسے پڑھ کر سنا دیجیے"۔
حضرت مُلا نے خط کو ہاتھ میں لیا ، نظریں جما کر خط کے مندرجات ، عبارت اور متن کو دیکھا اور بولے ، " اے بھائی ! یہ خط تو کسی ہندی زبان میں لکھا لگتا ہے جو میں نہیں پڑھ سکتا ۔"
اُس شخص نے ناگوار سی نظروں سے مُلا کو دیکھا اور بولا ِ"سر پر اتنی بڑی پگڑی باندھ رکھی ہے اور ہندی زبان پڑھنا نہیں آتا ۔"
حضرت مُلا نے پگڑی سر سے اُتاری اور شخصِ مذکور کے سر پر رکھی اور بولے ، " لو میاں ، یہ رہی پگڑی تمہارے سر پر ، اب خود ہی پڑھ لو "۔

جی ہاں ، پگڑیاں فضیلت اور علم کی اسناد نہیں ہوتیں ۔ چار گرہ کپڑا غالب کے کفن کا ہو یا شیخِ حرم کی دستار کا، علم و فضل کا پشتارہ نہیں ہوتا ۔ لیکن اب تو یہی ہو رہا ہے کہ ہر ٹی وی چینل پر پگڑیاں بول رہی ہیں اورفتاویٰ کے موتی بکھیر رہی ہیں ۔

جب میں حضرت عبدالعزیز برقعہ پوش مد ظلہ العالی کی یہ دلیل سن رہا تھا کہ پاکستان کا آئین اسلامی نہیں ہے تو مجھے اچنبھا ہوا کہ کوئی مستند عالمِ دین قرآن سے اتنا بے خبر کیسے ہو سکتا ہے ۔ قرآنِ حکیم نے اللہ رب العزت اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اولی الامر یعنی حاکمِ وقت کی اطاعت فرض کی ہے ۔ اور پاکستان کا آئین حکومتِ وقت کا مرتب کردہ صحیفہ ہے اور قابلِ احترام اور محترم ہے۔ جس کی پابندی شرعاً فرض ہے مگر حضرت مولانا عبدالعزیزیہ بات سمجھنا ہی نہیں چاہ رہے تھے ۔ وہ پاکستان کے آئین کو انگریز کا آئین کہے چلے جا رہے تھے ۔ جب بحث میں شریک مولوی وہاب اشرفی نے اُنہیں یاد دلایا کہ اُس آئین پر مولانا مفتی محمود اور مولیٰنا غلام غوث ہزاروی سمیت متعدد اکابر علماء کے دستخط ہیں تو اُن کا جواب تھا کہ اُن بزرگوں کو دھوکہ دیا گیا تھا ۔

واللہ ! کیا دلیل ہے ۔ نبی ء کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو ، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ تو کیا وہ بزرگ علماء جنھوں نے آئین پر دستخط کیے مومنین کی فراست کے حامل نہیں تھے؟ مولوی عبدالعزیز کا یہ الزام گویا اُن بزرگوں کے مومن ہونے پر سوالیہ نشان ہؤا۔

مولنا عبدالعزیز بطور انسان میرے نزدیک محترم ہیں۔ لیکن کیا اُن سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جو مسلمان اس وقت پاکستان نامی ملک میں رہتے ہیں ، جن کے بچوں کے کانوں میں علماء اذان دیتے ہیں ، جن کے شادی کے لائق جوڑوں کے نکاح پڑھواتے ہیں اور جنازہ گاہوں میں جن کی میتوں کے جنازے ہوتے ہیں ،تو کیا ایسا کرتے ہوئے پاکستان کا آئین آپ حضرات کی راہ میں آ کھڑا ہوتا ہے اور آپ کو ان شرعی احکام کی بجا آوری سے روکتا ہے ؟

اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں جس شرعی نظام کا دور دورہ ہے وہ سب علمائے عصر کا مدون کیا ہوا ہے ۔ علماء بچوں کو قرآن کی ناظرہ تعلیم دیتے ہیں، مساجد میں درسِ قرآن اور جمعے کے روز خطابت کے جوہر دکھاتے ہیں ۔ مذہبی محافل منعقد کرتے ہیں ۔ یہ سب کچھ پاکستان کے آئین کے تحت ہوتا ہے ۔ آئین کسی کو اسلام کی ترویج سے نہیں روکتا ، لیکن اس کے بر عکس علماء اپنی مذہبی آزادی کو غلط طور پر برتتے ہیں ، فرقہ پرستی کی تعلیم دیتے ہیں اور بہتر فرقوں کی آڑ میں ملی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں جو قرآن کی صریح خلاف ورزی ہے ۔

قرآن نے کہیں بھی فرقہ بندی کو اشارۃً بھی جائز قرار نہیں دیا بلکہ فرقوں میں بٹ جانے اور فرقوں کے مابین تصادم کو سزا اور عذاب سے تعبیر کیا ہے ۔ ذرا ایک اقتباس ملاحظہ ہو :
" کہہ دو وہ قدرت رکھتا ہے کہ اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے ، یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک فرقے کو دوسرے کی لڑائی کا مزا چکھائے ۔ دیکھو ! ہم اپنی نشانیوں کو کس طرح بیان کرتے ہیں کہ لوگ سمجھ سکیں " ۔ الانعام ۔ آیت نمبر پینسٹھ

کیا یہ فرقہ وارانہ جنگ وہی نہیں جس سے قرآن نے منع کیا ہے مگر قانون کی طرح جب علماء، شریعت کے قانون کو ہاتھ میں لے لیں تو یہی کچھ ہوگا ۔
اس فرقہ بندی کی جنگ میں قرآن کی آیات کی بے حرمتی اور احکامات کی خلاف ورزی پے بہ پے ہو رہی ہے۔ اور ان فرقوں کی مذہبی سیاست انگریزوں کے نوآبادیاتی فارمولے Divide and rule کے مطابق فرقوں کو آپس میں لڑاؤ اور حکومت کرو، کی حکمتِ عملی انگریزی فارمولےکا دیسی ایڈیشن ہے اور یہ علماء ہیں جو انگریز کی سیاست تو خود کر رہے ہیں مگر الزام پاکستان کے آئین کے دے رہے ہیں۔

قرآن کریم نے جا بجا فرقہ پرستی سے منع کیا ہے مگر خود کو عالم کہلوانے والوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ ذرا ذیل کی آیات دیکھیے:
" اور سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور فرقوں میں نہ بٹ جانا "۔ آلِ عمران ، ۱۰۳

"اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور احکام آنے کے بعد ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو بڑا عذاب ہوگا "۔ آلِ عمران ۱۰۵۔
" جن لوگوں نے اپنے دین میں رستے نکالے اور کئی فرقے ہو گئے، اُن سے تم کو کچھ کام نہیں ۔ ان کا کام خُدا کے حوالے ۔ پھر جو جو کچھ وہ کرتے رہے ، وہ آن سب کو بتائے گا " ۔ الانعام ۔ ۱۶۰

قرآن کی آن آیات کے سامنے ہفتاد و دو ملت یعنی بہتر فرقوں کا لشکر کھڑا کر کے ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے ۔ حالانکہ قدیم مذاہب میں ، مثال کے طور پر قدیم چینی مذاہب میں کہا گیا ہے کہ خُدا کے گھر کو جانے والے راستے تعداد میں بہتر ہیں ۔ اس حوالے سے ہفتاد و دو ملت ، فرقے نہیں بلکہ بہتر دینی سکول قرار پاتے ہیں جو سب دین کی تعلیم تو دیتے ہیں مگر باہمی آویزش کی نہیں ۔

اس سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کو بھی دوش دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے وحدتِ ملی کے ضمن میں اپنی ذمہ داری کا احساس تک نہیں کیا حالانکہ اُنہیں ملک کے قانون ساز ادارے کو یہ تجویز بھیجنی چاہیئے تھی کہ وہ ایک ایسا قانون بنائیں جو تمام مذہبی سکولوں کے احترام پر مبنی ہو اور کوئی فرقہ کسی دوسرے فرقے کے خلاف نفرت نہ پھیلائے اور نہ ہی کسی کو کافر قرار دے ، مگر لگتا ہے کہ کسی بھی ادارے میں بالغ نظر لوگ موجود نہیں ہیں جو حرم کے درد کا مداوا سوچ سکتے :
یہ ذکرِ نیم شبی ، یہ مراقبے یہ سجود
حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔