نئی پاکستانی فلم وار
- منگل 11 / فروری / 2014
- 4660
2007ءمیں جب جیو ٹی وی کے بینر تلے ہدایت کار شعیب منصور کی فلم ” خدا کے لئے “ ریلیز ہوئی تو اسے پاکستان کی تباہ شدہ فلم انڈسٹری کے لئے انتہائی خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔ کچھ ایسا ہی اب پاکستان کی مہنگی ترین فلم ” وار “ کے متعلق کہا اور لکھا جا رہا ہے۔ شعیب منصور کے اسسٹنٹ بلال لاشاری کی ہدایات میں تشدد اور خونریزی کے مناظر سے بھرپور اس فلم کو جیو ٹی وی کے اہم ترین حریف اے آر وائی کے بینر تلے ریلیز کیا گیا ہے اور یوں جیو اور ARY کے درمیان جاری سرد جنگ ایک نئے مرحلے پر پہنچ گئی ہے۔
بعض حلقوں کی طرف سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس فلم کے ذریعے پاکستانی فوج کا امیج بہتر کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے سرمایہ مہیا کیا ہے تاہم سابق بیورو کریٹ کامران لاشاری کے بیٹے ہدایت کار بلال لاشاری اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
اندر کی باتیں تو اندر والے ہی جانتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ فلم میں بعض ایسے مناظر ہیں جن کی پاکستان میں فلم بندی کے لئے فوج کا تعاون ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کہانی میں بھی فوج کو خوش کرنے کے لئے کافی لوازمات ہیں۔ فلم کی کہانی فوج کے ایک نڈر اور محب وطن سابق افسر میجر مجتبیٰ (شان) کے گرد گھومتی ہے۔ شمال مغربی قبائلی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران پولیس کو ایک بڑے دہشت گردی کے منصوبے کے متعلق پتہ چلتا ہے۔ دہشت گردی کے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے پولیس اس میجر کی خدمات حاصل کرتی ہے۔
چونکہ فلم کو پاکستان کی سب سے اہم اور مہنگی فلم کہا جا رہا ہے اور بلاشبہ یہ پروڈکشن کے حوالے سے بین القوامی معیار کی فلم ہے۔ لہٰذا ہدایت کار کا نقطہ نظر ، اسکرپٹ اور فلم کے پیغام کے حوالے سے ذہن میں مختلف سوالات کا اٹھنا نہ صرف فطری بلکہ لازمی بات ہے۔
فلم بظاہر تو دہشت گردی کے خلاف ہے مگر ” طالبان “ کا نام ایک بار بھی نہیں لیا گیا۔ حالانکہ فلم کے شروع میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ اصل واقعات پر مبنی ہے۔ اس کے باوجود نہ جانے کونسی مصلحت کے تحت اصلیت سے کنارہ کشی کی گئی ہے۔
فوجی آمر پرویز مشرف سے لے کر اب تک کے تمام حکمران یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان کو اصل خطرہ کسی پڑوسی ریاست سے نہیں بلکہ ملک کے اندر رہنے والے دہشت گردوں سے ہے۔ اس کے باوجود فلم میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے RAW کو دکھایا گیا ہے۔
اسکرپٹ کے حوالے سے شاید سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے آقاﺅں کے مؤقف کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔ کسی بھی ڈرامائی کہانی میں ہیرو اور ولن ، اچھائی اور برائی کے درمیان تنازعہ واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شائقین کو بتایا جانا چاہئے تھا کہ دہشت گرد کیا چاہتے ہیں، انکی پاکستان کے ساتھ کیا دشمنی ہے اور وہ کس نظام کے نفاذ کے لئے لڑ رہے ہیں۔ عجیب بات ہے فلم میں امریکہ کا بھی کوئی حوالہ نہیں اور ڈرون حملوں کا بھی کوئی ذکر نہیں۔
فلم میں ایک نامکمل کردار ایک سیاستدان اعجاز خان (علی عظمت) کا کردار ہے جو توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ڈیم کی تعمیر کے لئے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ جس طرح طالبان کے نام کو لینے سے گریز کیا گیا ہے اسی طرح کالا باغ ڈیم کا نام لینا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اس سیاسی لیڈر کا دہشت گردوں کے متعلق مؤقف بیان کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔
آج کل بھارت کے حوالے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ سماج میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد اور ریپ کے واقعات کی وجہ بھارتی فلموں میں بڑھتی ہوئی جسمانی نمائش ہے۔ ایسے میں یہ بات انتہائی دلچسپ اور خوش آئند ہے کہ ” وار “ میں جسم کی نمائش ہرگز نہیں کی گئی۔ پیار و محبت اور رقص کے وہ مناظر جن میں شائقین جسم کی نمائش کی توقع کرتے ہیں ان مناظر کو ہدایت کار نے بڑی مہارت سے جسم ننگا دکھائے بغیر فلمبند کیا ہے۔ رقص کا ایک منظر شاید 1994ء کی امریکی فلم PULP FICTION کے ایک منظر سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔
فلم کا زیادہ حصہ انگریزی زبان میں ہے اس لئے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کن شائقین کے لئے یہ فلم تیار کی گئی ہے۔ ARY نے فلم پر جو سرمایہ لگایا ہے اسے خوب کیش کرنے کے لئے اے آر وائی کے متعدد ٹی وی اینکرز کو فلم میں بار بار پروموٹ کیا گیا ہے۔
فلم کی کاسٹ کے حوالے سے بھی ذہن میں کچھ سوالات اٹھتے ہیں۔ اصولی طور پر ہر ہدایت کار کا یہ فنکارانہ حق ہونا چاہئے کہ وہ جن اداکاروں کو کہانی کے کرداروں کے لئے موزوں سمجھے انہیں کاسٹ کرے۔ مگر جب پاکستان کی سب سے مہنگی فلم میں سوائے شان کے ملک کے کسی بھی اہم اداکار مثلاً ندیم ، غلام محی الدین ، عثمان پیرزادہ ، سلیم شیخ ، معمر رانا وغیرہ کو کاسٹ نہ کیا جائے تو تعجب ہونا فطری ہے۔ خاص طور پر جب فلم میں ہدایت کار بذات خود ، ان کے والد صاحب ( سابق بیورو کریٹ) اور سابق میوزک بینڈ جنون کے علی عظمت اداکاری کرتے دکھائی دیں۔
پاکستانی معاشرہ اور فلمی صنعت کو ایسی معیاری ، صحت مند اور تعمیری تفریح والی فلموں کی اشد ضرورت ہے جو شائقین کے سوچ کے عمل کو فعال کرنے میں مدد دے سکیں۔ افسوس کہ معیاری پروڈکشن ہونے کے باوجود ” وار“ اس ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ بطور فلم کا طالب علم میں ہدایت کار کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے باوجود نہیں سمجھ سکا۔ اگر جسم کی نمائش کے بغیر فلم بنانا ممکن ہے تو بھی تشدد اور اسلحہ کی نمائش کے بغیر فلم بنانا کیوں ممکن نہیں۔