قصہ کہار درویش
- بدھ 12 / فروری / 2014
- 5311
سنا ہے ہمارے پرویز رشید صاحب ایک درویش سے وزیر ہیں۔ ان کی نظر سے شاید غالبؔ کا وہ شعر گزرا نہیں جسمیں میں وہ دبے دبے لفطوں میں محبوب کی شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ بھئی دیکھو ! کیسا کٹھور ہے کہ کبھی ہمارے کوچے سے پیدل گزرتا ہی نہیں۔ نجانے کیا شوق پال رکھا ہے پینس میں سواری کا۔ پینس نہ ہوئی کوئی رتھ ہوئی کہ جب دیکھو راجوں مہاراجوں کی طرح اس میں سوار۔
کئی مرتبہ سمجھایا کہ بندہ پیدل چلے۔ تازہ ہوا لے۔ صحت کیلئے بھی اچھا ہے۔ پر نہیں جناب۔ ہم تو پینس میں ہی بیٹھیں گے۔ اچھا بھئی تو بیٹھ ۔ پر کہاروں کو کندھا تو بدلنے دے۔ اپنا جثہ دیکھ۔ بیچارے چمرخ کہاروں کی صحت پر نظر ڈال۔ کچھ تو رحم کر۔ پر مجال ہے صاحب جو اس نے مان کر دیا ہو۔ پس ہمارے کوچے میں داخل ہوتے ہی چابک سوار بن جاتا ہے۔
شعر کچھ یوں ہے:
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے ہمارے
کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
اب نجانے کیاسوچ کر پرویز رشید صاحب نے ہیلی کاپٹر کی سواری کو بیکار اور غیر دلچسپ قرار دیتے ہوئے معزز طالبان مہمانوں کو اپنے کاندھوں کی سواری پیش کر دی ہے کہ والیٰ تبار۔۔۔ کندھا حاضر ہے بیٹھئے صاحب۔
ہیلی کاپٹر کی سواری سے تو پرویز رشید صاحب شاید ویسے ہی ناخوش ہوں گےکہ یہ پانی سے نہیں چلتا۔ ہاں اگر ہمارے اس عظیم سائنسدان کی موٹر ہوتی جسے پانی پر چلانے کا تجربہ پرویز رشید کے پیشرو موجودہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کیا تھا بلکہ اس کی ترویج کیلئے حتیٰ المقدور کوشش کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا تو اور بات ہوتی۔
پر مسئلہ یہ ہے کہ سنگلاخ اور پھسلواں چٹانوں پر وہ موٹر چل نہیں سکتی۔ یہاں تک یا تو ہیلی کاپٹر پہنچ سکتا ہے اور یا پھر گدھے گھوڑے۔ اب اگر اس درویش صفت وزیر نے اپنا کندھا پیش کر دیا ہے تو اسکی تو تعریف ہونی چاہیئے۔ پر حاسدوں کا تو کام ہی ہر اچھے کام کو برا ثابت کرناہے۔ سو طالبان خاں بھی یقیناٌ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ اب تک اپنے ان یاران غاران کواپنے کاندھوں پر تو ہم اٹھائے اٹھائے پھرے، اور اب جبکہ اجرت کی وصولی کا وقت آیا ہے تو نون لیگ والو ں نے انہیں اچک لیا ہے۔
ہو سکتا ہے رشید صاحب نے کندھا دینے کی پیشکش کی ہو اور ہم ہی غلط سمجھے ہوں۔ لیکن اگر یہ درست ہے تو پھر انہیں جان لینا چاہئے کہ راستہ کٹھن اور وقت کم ہے اورانہیں جانا بھی انہیں پتھروں پر چل کر ہو گا جن سے یہ پہاڑ بنے ہیں۔ خداناخواستہ کہیں پاؤں رپٹا تو لینڈنگ پھرکہکشاؤں پر ہی ہوگی۔
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اپنے فاتح عالم ناراض بھائیوں کو کاندھا خود سربراہ حکومت پیش کرتا۔ روایت تو یہی ہے۔ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جب چنگیز خاں یا نادر شاہ جیسا کوئی جنگجو کسی دوسرے حکمران کو نیچا دکھاتا تھا تو اسے ذلیل کرنے کیلئے اپنی پالکی یا رتھ شکست خوردہ بادشاہ اور اسکے امیروں سے کچھواتا تھا ، یا پھر اسکے کندھے پر سوار ہو کر لگام اسکے منہ میں ڈال کر اسی کے تخت تک لے جاتا اور پھر آرام سے تخت پر بیٹھ جاتا۔ لیکن اب شاید زمانہ بدل چکا ہے۔ اپنی ان تہذیبی روایت کی پاسداری اب کون کرتا ہے۔
بظاہر تو اب کندھا سواری میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔اگر ہے تو بس یہی کہ اسمیں فحاشی کا کوئی پہلو تو نہیں نکلتا اور یہ کہ کیا دین میں اسکی اجازت ہے۔ ہو سکتا ہے اس مسئلے کی وضاحت ہونے تک یہ معاملہ التوا میں چلا جائے کہ سواری کرنے والوں میں ایک برقع پوش بھی ہوگا۔ لیکن ایسی چھوٹی چھوٹی رکاوٹیں تو آتی ہی رہتی ہیں۔
پرویز رشید صاحب اگرچہ درویش صفت انسان ہیں لیکن سیاست کے تمام گر وں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کندھا سوار تسمہ پا بھی بن سکتے ہیں۔ بڑے سیاستدان کی یہی تو خوبی ہے کہ اگر کوئی ایسا موقع آیا بھی تو وہ یہی کہیں گے:
تسمہ پائی سے دم رکے تو رکے میں کسی سے خفا نہیں ہوتا
ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ملک پر مسخروں کی حکومت نہیں ہے۔
(انیس احمد ناروے میں مقیم کہنہ مشق صحافی اور ادیب ہیں۔ حال ہی میں ان کا ناول “جنگل میں منگل“ جمہوری پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ ان کا ناول جدید اردو ادب میں نادر اضافہ ہے۔)