صحافت سے سیاست تک

  • بدھ 12 / فروری / 2014
  • 5589

اہل صحافت کو مبارک ہو کہ ان کا ایک اور ساتھی منصب وزارت پر متمکن ہوا اور صف دشمناں کو خبر ہو کہ ایک اور صاحب قلم کام سے گیا۔ نقش خیال والے جناب عرفان صدیقی کو وزیر اعظم نواز شریف نے قومی سلامتی کے امور کا مشیر مقرر کر کے طالبان سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کا رکن نامزد کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی ہے کہ ان کا درجہ وفاقی وزیر کا ہو گا۔ اس طرح وہ وفاقی کابینہ کے رکن اور وزیر اعظم نوازز شریف کے مقرب خاص ہوں گے۔

انہیں نواز شریف کی حد تک یہ درجہ کافی عرصہ سے حاصل تھا۔ وہ نواز شریف کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔ مختلف امور پر نواز شریف ان سے مشاورت بھی کرتے تھے۔ 11 مئی کے انتخابات کے دوران یہ رشتہ زیادہ مضبوط ہوا۔ 5 جون 2013ء کو جب جناب نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا تب سے جناب عرفان صدیقی وزیر اعظم کی تقریریں لکھ رہے تھے۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں یہ فریضہ جناب نذیر ناجی سر انجام دے رہے تھے۔ اس بار اگرچہ عرفان صدیقی کا وزیر اعظم کے سپیچ رائٹر کے طور پر باقاعدہ اعلان تو نہیں ہؤا تھا لیکن یہ فریضہ وہ تسلسل کے ساتھ سر انجام دے رہے تھے۔ اور اس معاملے میں ان کی معاونت معروف صحافی جناب رؤف طاہر کرتے تھے۔ جنہیں حال ہی میں پاکستان ریلوے کا ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز مقرر کیا گیاہے۔

جناب عرفان صدیقی اردو کے استاد اور مزاجاً نستعلیق انسان ہیں۔ اگرچہ وہ اہل زبان میں سے نہیں لیکن اردو اہل زبان سے زیادہ اچھی بولتے اور لکھتے ہیں۔ وہ صحافیوں کی صف بندی میں خم ٹھونک کر دائیں بازو کے زبردست حامی اور اسلام اور پاکستان سے جڑے ہوئے صحافی ہیں۔ دینی حلقوں اور جماعتوں کے ساتھ ان کا تعلق محبت و عقیدت کا ہے۔ سید مودودیؒ کے ساتھ ان کی عقیدت و تعلق ڈھکا چھپا نہیں۔ جماعت اسلامی کے درویش صفت رہنما اور قادر الکلام شاعر جناب نعیم صدیقی مرحوم عرفان صدیقی کی والدہ کے حقیقی ماموں تھے۔ جس کا وہ برملا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ قاضی حسین احمد، میاں طفیل محمد، پروفیسر غفور اور مولانا فتح محمد کے ساتھ اپنے تعلق خاطر کو ہمیشہ فخر سے بیان کرتے ہیں۔

وہ گورنمنٹ کالج لاہورمیں رہے شاید ان ہی دنوں نواز شریف اور شہباز شریف گورنمنٹ کالج میں زیر تعلیم تھے۔ لیکن عرفان صدیقی اپنے اس ماضی کا کم ہی تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کا شمار اردوادب کے اچھے اساتذہ میں ہوتا تھا۔ تدریس چھوڑ کر وہ صحافت میں آئے تو بہترین زبان ۔ اعلیٰ اخلاق، تیز صحافتی حس اور مضبوط تعلقات کی بنیاد پر بہت جلد اس شعبے میں نمایاں ہو گئے۔ اردو کالم نگاری میں وہ 1970ء کی دہائی کے بعد ایک اچھا اضافہ ثابت ہوئے۔ بقول جناب مجیب الرحمن شامی اردو کالم نگاری میں اس وقت جتنے نام ہیں یہ سب 1970ء یا اس سے پہلے کے ہیں۔ 1970ء کے بعد اس میں کو ئی گراں قدر اضافہ نہیں ہؤا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ 1970ء کے بعد آنے والے کالم نگاروں میں جن تین افراد نے بہت شہرت پائی ان میں عرفان صدیقی، ارشاد عارف اور جاوید چوہدری شامل ہیں۔ اور ان میں سے سب سے زیادہ نمایاں نام جناب عرفان صدیقی کا ہی ہے۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ موجودہ عہدے کے لیے عرفان صدیقی نے کوئی کوششیں کی تھیں یا یہ عہدہ انہیں از خود ذمہ داری کے طور پر دیا گیا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے مشیر مقرر ہونے کے بعد وہ لوگ جو اپنے طور پر اس عہدے بلکہ اس سے بڑے بعض عہدوں کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ ان کی بے چینی اور تناؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

چنانچہ اس ’’سانحہ‘‘ کے دو دن بعد ہی جناب عطاء الحق قاسمی نے کسی نہ کسی طرح وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے الحمراء آرٹس کونسل میں بلا لیا اور مقامی صحافیوں کے ساتھ ان کی ملاقات کرا کے ایک بار پھر اپنی خدمات پیش کر دیں۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ اس سے پہلے عطاء الحق قاسمی گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارتے رہے ہیں۔ وہ نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں ناروے اور تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔ جب کہ شہباز شریف نے انہیں گزشتہ کئی سال سے الحمراء آرٹس کونسل کا چیئرمین مقرر کر رکھا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہر عہدے کے لیے فٹ ہیں اور اپنی نظر میں ہر میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔ ان کی اپنی نظر میں وہ فیض اور فراز سے بڑے شاعر، ڈپٹی نذیر احمد سے بڑے ادیب اور جنرل شفیق الرحمن اور ضمیر جعفری سے بڑے مزاح نگار ہیں۔ اور کالم اور صحافت میں تو شاید ان کے ہم پلہ شخص تلاش کرنا ہی ممکن نہ ہو۔ وہ اپنے آپ کو شریف فیملی کے سب سے قریب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اب حالات بالکل بدل چکے ہیں جس کا اظہار کبھی کبھی وہ خود بھی کر دیتے ہیں۔

جناب عرفان صدیقی کو عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا رکن نامزد کر کے جہاں اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے وہیں یہ عرفان صدیقی کی صلاحیتوں اور رابطے کا امتحان بھی ہے۔ وہ چونکہ طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔اس لیے توقع یہ ہے کہ پاکستان کا نام نہاد آزاد میڈیا جو کسی اور ایجنڈے پر مسلسل کام کر رہا ہے وہ بہت جلد عرفان صدیقی کو اپنی تنقید کے تیروں پر لے لے گا۔ یہ میڈیا نہ صرف عرفان صدیقی کو   Defensive Position  پر لے آئے گا بلکہ پورے مذاکرات کے عمل کو بھی مشکل بنا دے گا کہ یہی اس کا ایجنڈا ہے۔

جناب عرفان صدیقی کے لیے جہاں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان مذاکرات کی کامیابی ایک چیلنج ہے وہیں ان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپناصحافتی کیرئیر بچانے میں کامیاب رہیں۔ کیونکہ ماضی میں صحافت سے وزارت میں آنے والے لوگ پھر صحافت کے لیے جنس بے کار ہی رہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے ڈان کے ایڈیٹر جناب الطاف حسین کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ وہ تھوڑا عرصہ ہی وزارت میں رہے۔ لیکن پھر ان ہی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے اور دوبارہ صحافت میں ابھر نہ سکے۔

مولانا کوثر نیازی صحافت کی دنیا میں کوئی اچھا نام تو نہیں تھے لیکن اپنی منفی صحافتی سرگرمیوں اور خطیبانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ ذوالفقار علی کابینہ میں وزیر مذہبی امور اور وزیر اطلاعات و نشریات رہے۔ مگر نہ صرف اپنی وزارت کے دوران صحافت سے لا تعلق رہے بلکہ بعد میں بھی ایک سیاستدان ہی کے طور پر جانے جاتے رہے۔ اگرچہ وزارت سے الگ ہونے کے بعد وہ روزنامہ جنگ میں مستقل کالم لکھتے تھے۔ لیکن جاندار تحریر کے باوجود ان کے لکھے ہوئے میں کوئی اثر نہیں تھا۔ چنانچہ جلد ہی وہ اس راستے سے دوبارہ سیاست میں سرگرم ہو گئے۔

صدر ضیاء الحق شاید مدیر تکبیر صلاح الدین شہید کو اپنی کابینہ میں شامل کرنا چاہتے تھے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ جس پر انہوں نے جناب مصطفی صادق کو کچھ عرصہ کے لیے وزیر بنا لیا۔ لیکن چونکہ وہ صرف مالک اخبار تھے۔ بطور صحافی ان کی کوئی بڑی شہرت نہ تھی اس لیے وزارت سے الگ ہونے کے بعد بس اپنا اخبار وفاق کسی نہ کسی طرح چلاتے رہے۔

صدر فاروق لغاری نے بے نظیر کی حکومت ختم کی تو جنگ کے کالم نگار ارشاد احمد حقانی کو نگران کابینہ میں وزیر اطلاعات مقرر کر دیا۔ ارشاد حقانی ہمیشہ غیر منتخب حکومتوں کے مخالف رہے مگر خود ایک غیر منتخب حکومت کا حصہ بن گئے۔ وہ وزارت کے دوران بھی کبھی کبھار کالم لکھ دیتے تھے لیکن اس عرصے میں ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔ وہ وزارت ختم ہونے کے بعد بھی روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر اور کالم لکھتے رہے لیکن اب وہ رعنائی خیال کہاں والی بات تھی۔

مشاہد حسین سید پنجاب یونیورسٹی سے نکالے جانے کے بعد صحافت کی دنیا میں آئے۔ مسلم کے ایڈیٹر رہے اور پھر نواز شریف کے میڈیا سیل سے ہوتے ہوئے سنیٹر اور وزیر اطلاعات بن گئے۔ اس دوران وہ مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری بھی بنے۔ بعد میں ق لیگ میں بھی یہ ذمہ داریاں ادا کرتے رہے مگر صحافت میں بے نام ہو گئے۔ وزارت سے پہلے وہ ایک بڑے صحافی تھے۔ ان کی ساکھ اچھی اور تجزیہ معتبر سمجھا جاتا تھا مگر پھر وہ صحافتی دنیا کا محض ایک قصہ پارینہ بن گئے۔

عارف نظامی گزشتہ نگران حکومت میں وزیر اطلاعات بنے تھے۔ تب سے صحافت کی دنیا میں ایک گم گشتہ شے بنے ہوئے ہیں۔ البتہ نجم سیٹھی نگران وزیر ۔ نگران وزیر اعلیٰ اور چیئرمین پی سی بی بننے کے باوجود ابھی صحافت کی دنیا میں موجود ہیں۔ اگرچہ ان کا کیریئر صحافی کے طور پر شروع نہیں ہؤا۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مسلح جدوجہد کرنے والے ناراض بلوچوں کے ساتھ شریک کار رہے۔ بائیں بازو کے انقلاب کے لیے مختلف طریقوں سے جدوجہد کرتے رہے۔ لیکن جلد ہی ایک کاروباری شخص کے طور پر ابھرے۔ اس دوران وہ اپنی بے باکانہ گفتگو کی وجہ سے مصائب کا بھی شکار رہے۔ مگر اندرون ملک اور بیرون ملک ان کا مقتدر قوتوں کے ساتھ رابطہ پیدا ہو گیا۔ چنانچہ آج وہ پی سی بی کے چیئرمین کے طور پر حکومت کا حصہ ہیں اور بطور اینکر حکومت کے ناقد بھی ہیں۔ یہ دوہری حیثیت انہیں اپنے ملکی اور غیر ملکی رابطوں کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ بہت جلد ان کی حیثیت ایک مصلحت پسند سیاستدان کی ہو جائے گی۔ آزاد اور اعتدال پسند صحافی نہ وہ آج مانے جاتے ہیں اور نہ کل مانے جائیں گے۔

ان حالات میں عرفان صدیقی کا امتحان بہت سخت ہے وہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان میں امن قائم ہو گیا اور پاکستان امریکہ کی جنگ سے باہر نکل آیا تو یہ ان کی ایسی قومی خدمت ہو گی جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پھر وہ بطور صحافی گمنام بھی ہوئے تو تاریخ کے صفحات میں زندہ رہیں گے۔ لیکن اگر مذاکراتی عمل کے دوران متنازع ہو گئے تو وزارت تو جائے گی ہی صحافت بھی انہیں ایک گم گشتہ شے سے زیادہ کوئی نام نہیں دے سکے گی۔ اس لیے وہ ابھی سے فیصلہ کر لیں کہ وہJournalist Turned Politician بننا چاہتے ہیں یا Journalist Turned Journalist ہی رہنا پسند کریں گے۔
’’فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا جگر‘‘