کون سی شریعت (2)
- جمعرات 13 / فروری / 2014
- 6171
(گذشتہ سے پیوستہ)
تو آخر کون سی شریعت ہے جو پاکستان میں نافذ ہونی چاہیئے ۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب میرے پاس نہیں ہے ۔ اور میری اوقات بھی کیا کہ میں ایسے سوالوں کے جوابات وضع کروں اور اُن کی صحت کی ذمہ داری اُٹھاؤں سوائے اس کے کہ کتاب و شنید کے ذریعے جو کچھ بزرگانِ دین سے سنا اوراُن کی کتابوں میں پڑھا اور سیکھا ، اُس کا تذکرہ کروں ۔
بزرگانِ دین نے شریعت کے تین ارکان بتائے ہیں :
ا ۔ کتاب اللہ کا علم
۲ ۔ سُنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم
۳ ۔ اجماعِ اُمّت کا علم
شریعتِ مطہرہ کا پہلا رُکن قرآنِ حکیم ہے جس کے بارے میں خود قرآن ہی میں لکھا ہے کہ اس کتاب میں محکم آیات ہیں اور وہی اُم الکتاب ہیں ۔ محکمات وہ آیات ہیں جن کے ایک سے زیادہ معنی نہیں ہیں اور واضح ، صریح، پائدار اور مستحکم ہیں ۔ حکمت یا دانائی کی باتوں کا حکم دینے والی پختہ باتیں ہیں ۔ محکمات کی ضد متشابہات ہیں ۔ یہ وہ آیات ہیں جن کے معنی اللہ اور اُس کے بنی کے سوا کوئی نہیں جانتا یا پھراُن کے معانی ایک سے زیادہ ہیں ۔ اس کتاب میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے اُن پر عمل پیرا ہونا اور جن باتوں سے روکا گیا ہے اُن سے باز رہنا شریعت کا پہلا جزو ہے جسے اللہ تعالی کی اطاعت کا نام دیا گیا ہے ۔
لیکن ہمارے یہاں یہ طریقہ رائج ہے کہ ہم قرآنِ کریم کی ناظرہ تلاوت کرتے ہیں اور اُس سے برکات اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایک صوفی کا قول ہے کہ ناظرہ خوانی سے ثواب تو ملتا ہے لیکن علم حاصل نہیں ہوتا اور علم کے بغیر ثواب نابینا ہوتا ہے ۔
پھر دوسری بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم کتاب کے ایک حِصّے کو تو مانتے ہیں اور دوسرے سے انکار کرتے ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہوگاجیسے قرآن کے ٹُکڑے کر دیے جائیں ۔ اس ضمن میں سورہ الحجر میں لکھا ہے :
" کہ دیجیے کہ میں تو بلا شبہ ڈرانے والا ہوں ، اُس عذاب سے جیسا کہ ہم نے اُن تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا تھا جنہوں نے قرآن کے ٹُکڑے کر دیے تھے " ۔۹۱ ۔ الحجر ۔
ہمارا یہ حال ہے کہ ہم نے علمائے حاضر کے زیرِ سایہ قرآن کے ٹُکڑے کر رکھے ہیں اور نصف سے زیادہ محکم آیات پر مبنی احکامات پر عمل نہیں کرتے ۔ ببانگِ دہل اللہ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جو ہمارا سماجی رویہ بن کر رائج ہے اور جس پر دانشور سے لے کر مذہبی کارکن تک سب عمل پیرا ہیں ۔ اب ہم اِن قانون شکنیوں کی مثالوں کی طرف آتے ہیں :
1 ۔ غیبت یعنی کسی کی عدم موجودگی میں اُس کی برائی کرنا قرآن کے نزدیک مردار خوری ہے ۔ اسے کتاب اللہ میں مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس باب میں مسلمانوں کی اکثریت کی مت ہی ماری گئی ہے۔ کیونکہ وہ باقاعدہ غیبت کی محفلیں برپا کرتے ہیں اور اِسے ریکارڈ یا توا لگانا کہہ کر اس سے اسی طرح لطف اندوز ہوتے ہیں جیسے کامیڈی ڈراموں سے دعوتِ طبع کرتے ہیں ۔ کیا یہ قرآن کو ٹکڑے کرنا نہیں ہے؟
2 ۔ رشوت کو قرآن نے مالِ حرام قرار دیا ہے اورآج کے مسلمان کہلوانے والے معاشروں کے بیشتر حلقے حرامخور ہیں جن میں سرکاری اہل کار سرِ فہرست ہیں ۔ کیا یہ قرآن کو ٹُکڑے کرنا نہیں ہے؟
3 ۔ قرآن نے بدکلامی ، گالی گلوچ اور دشنام طرازی کو ناجائز قرار دیا ہے ۔ اور" قولو للناسِ حسنا " کا قانون نافذ کیا ہے۔ مگر ہم گالی گلوچ کو گفتگو کا مرچ مسالہ سمجھتے ہیں ۔ کیا یہ قرآن کو ٹُکڑے کرنا نہیں ہے ؟
4 ۔ وعدہ خلافی کو قرآن نے منافقت کی علامت قرار دیا ہے۔ مگر ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ عوام سے وعدہ خلافی کی ہے ۔ کیا یہ قرآن کے ٹُکڑے اُڑانا نہیں ہے ؟
5 ۔ فرقہ بندی کو قیامت کی ایک صورت قرار دیا گیا ہے ۔ سورہ ء الروم کی ۱۵ ویں آیت میں واشگاف الفاظ میں رقم ہے :
" اور جس روز قیامت برپا ہو گی اُس روز وہ الگ الگ فرقے ہو جائیں گے ، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، وہ باغ میں خوشحال ہوں گے " ۔
اقبال نے قیامت کے ضمن میں جو فکری نکات اُٹھائے ہیں اُن میں سے ایک تو یہ ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ حساب کا لمحہ ہے اور قیامت کا لمحہ ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ ء محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
بزرگانِ دین کے نزدیک قیامت تو احتساب کی گھڑی کا نام ہے جس میں اپنے عمل کا حساب کیا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں اقبال کہتے ہیں :
صورتٰ شمشیر ہے ، دستِ قضا میں قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
اِسی بات کو مزید تحقیق کے مراحل سے گزارا جاتا ہے اور اقبال ، مُریدِ ہندی بن کر پیرِ رومی سے سوال کرتے ہیں:
سرِ دیں اِدراک میں آتا نہیں
کس طرح آئے قیامت کا یقیں
اقبال مثنوی ء مولوی سے اس کا جواب تلاش کرتے ہیں تو یہ شعر سامنے آتا ہے :
پس قیامت شو ، قیامت را ببیں
دیدنِ ہر چیز را شرط است ایں
ترجمہ : تو خود قیامت بن جا اور قیامت کو دیکھ لے کیونکہ ہر چیز کو دیکھنے کی یہی شرط ہے ۔
یہ قیامت بن جانا کیا ہے ؟
یہ اپنے لیے ہر گھڑی محشر بپا رکھنا اور اپنے اعمال کا حساب کرتے رہناہے ۔
لیکن ہمارے یہاں علمائے وقت نے جو دراصل کردار کے اعتبار سےعلما نہیں بلکہ مذہبی کارکن ہیں ، اس احتساب کو کل پر ٹال رکھا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین ٹُکڑے ہو گیا ہے ۔ گو اقرار باللسان تو نافذ ہے لیکن تصدیق بالقلب یعنی اعمال کی گواہی موجود نہیں ہے۔ اور کوئی سا دعویٰ ، خواہ وہ ایمان کا ہو یا دنیا داری کا ، ثبوت کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہے ۔ بابا فضل شاہ نور والے علیہ رحمت فرمایا کرتے تھے :
" صاحبو ! جان لو کہ قول نہ سچّا ہوتا ہے نہ جھوٹا ، بلکہ وہ عمل کی گواہی سے سچا یا جھوٹا قرار پاتا ہے " ۔
قرآن ہمارے روز مرہ میں کتابی صورت میں موجود ہے۔ لیکن قرآن پر عمل اپنے حقیقی مفہوم میں ناپید ہے۔ حالانکہ صرف اکیلے پاکستان میں لکھوکھ ہا مساجد موجود ہیں جن میں برائی اور بے حیائی کے کاموں سے باز رکھنے کے لیے نماز ہوتی ہے ۔ لیکن معاشرہ کرپٹوں ، بد عنوانوں ، ملاوٹ کاروں ، رشوت خوروں ، بھتہ خوروں اور بجلی چوروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ کیوں ؟ کیوںکہ ان مساجد میں قائم ہونے والی صلوٰۃ نتیجہ خیز نہیں ہے اور نیکی اور حیا کا پھل نہیں دیتی ؟
اور جب تک یہ مذہبی کارکن سچ مُچ کے علماء بن کر صلوٰۃ کا وہ میعار قائم نہیں کرتے جسے قرآن نے مقرر کیا ہے تب تک یہ نماز، نماز نہیں فقط ایک پنج وقت تکلف اور خانہ پُری ہے ۔
صلوٰۃ کا میعار کیا ہے ؟
" ان الصلوٰۃ تنہا عن الفحشا ء وا لمنکر " ۔
بے شک نماز تمام برائیوں اور بے حیائیوں سے روک دیتی ہے ۔ مگر پاکستان کی لاکھوں مساجد میں ، جہاں کروڑوں مذہبی کارکن ، قاری ، حفاظ اور خطیب دن رات بر سرِ کار ہیں ، وہاں ہونے والی نماز اس معیار کو قائم نہیں رکھ سکی اور جب تک حقیقی معیارقائم ہو کر رائج نہیں ہوجاتا ، تب تک کسی برائی اور بے حیائی کی فیکٹریاں چلانے والے معاشرے میں شریعت کی بات یا شریعت کا نفاذ محض ایک دیوانے کا خواب ہے۔ کیونکہ جب لوگ برائی اور بے حیائی سے پاک ہوں تو شریعت اپنے آپ نافذ ہو جاتی ہے ۔ لوگ اللہ کے احکامات پر چلتے ہیں ۔ اورامر و نواہی کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ برائی اور بے حیائی سے پاک معاشرے صادق اور امین لوگوں کی اُمّت ہوتی ہے اور جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صادق اور امین ہونے کی گواہی کفار ، مُشرک اور مومن سب دیتے تھے ، اسی طرح ایک مسلمان معاشرے کی ٹرانسپیئرینسی کی گواہی چار دانگِ عالم سے آتی ہے ۔
یہ لوگ جو مذہب کے علمبردار ہیں ، جب ملک میں گناہوں کی فیکٹریاں چلنے پر میڈیا کا شور و غوغا سنتے ہیں تو وہ اس کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں کہ شریعت نافذ کرو ! ارے نادانو ! شریعت تو نافذ ہے مگر اُس کی پاسداری عملاً نہیں ہو رہی۔ کیونکہ تمہارا نظامِ مساجد وہ اُمت تعمیر نہیں کر سکا جو حاملِ خلقِ عظیم ہو ۔ لوگ جو مسلمان کہلواتے ہیں وہ دینی شعار کی پیروی نہیں کرتے ۔ جو لوگ دین کے احکامات نہیں مانتے وہ بھلا ملکی قانون کی پابندی کس طرح کریں گے۔ کیونکہ اُن کی اخلاقی اور روحانی تربیت ہی نہیں ہوئی کہ وہ اصولوں ، ضابطوں اور شعائر کی پابندی کریں۔
گلا تو گھونٹ دیا ، اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا ، لا الہ الاللہ
سو یہ طالبان اور اُن کے ہم نوا کس مونہہ سے شریعت کی بات کرتے ہیں جب کہ وہ خود ہی شریعت کے راستے میں حائل ہیں ۔ کیا طالبان کے علاقوں میں جس طرح کی بد امنی ، قتل و غارت گری اور بے نظمی ہے، وہ اسلام کے پیغامِ امن کی آئینہ دار نظر آتی ہے َ اور اُس ماحول میں شریعت کی بات کرنا محض اپنی مذہبی انا کی پرورش کرنا نہیں تو اور کیا ہے ۔
چنانچہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ جب تک قرآن کے محکمات کی عملی پابندی نہیں ہوتی ، اورامر و نواہی کا صدقِ دل سے عملاً پاس نہیں ہوتا ، تب تک شریعت کی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ کتاب اللہ کی جزوی پابندی سے اسے ٹکڑوں میں بانٹنا کفر کی ذیل میں آتا ہے ۔
اور کتاب اللہ کی مکمل پاسداری کے بغیر کیسی سنت اور کیسا اجماعِ اُمت ، کیونکہ اجماعِ اُمت ہی آئین کی بنیاد ہے ، اور اجماع اُمت سُنتِ رسول کا مرہونِ منت ہے جب کہ سنت کا مخزن کتاب اللہ ہے۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔