منزل دور ہے

  • جمعہ 14 / فروری / 2014
  • 4717

پاکستان مں مذاکرات بھی جاری ہیں اور دھماکے بھی۔ روز گفت و شنید کے نئے دور ہو رہے ہیں اور عوام روز اپنے پیاروں کے لاشے اٹھا رہے ہیں۔ 13 فروری کو کراچی میں طالبان کے بم حملے میں 13 پولیس اہلکار شہید اور 47 افراد زخمی ہو گئے۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری طالبان نے ببانگ دہل قبول کر لی ہے۔

اس سے قبل بھی مسلسل دھماکے ہوئے۔ لیکن تحریک طالبان نے ان دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
دہشتگردی کے ان اندوہناک واقعات سے طالبان کے اظہار لاتعلقی سے یہ گمان ہو چلا تھا کہ کہ شاید انہوں نے فائر بندی کر رکھی ہے۔ جس سے حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی کے روشن امکانات نظر آئے۔ لیکن اس واقعہ کی روشنی میں جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ منزل کہیں دور ہے اور راستہ بہت کٹھن ہے۔

بات کرنے والے وہ سب نہیں جن سے بات ہو رہی ہے اور جو بات کر رہے ہیں وہ خود مختار نہیں۔ جو وہ کہہ رہے ہیں اس کا وہ مطلب نہیں جسے سمجھا جا رہا ہے بلکہ حقائق کچھ اور ہی ہیں۔ ان کو سمجھنا اور اس کے پس پردہ حقائق کو کھوجاننا ضروری ہے ورنہ ایسی ملاقاتیں اور کمیٹیاں اگر کسی منطقی انجام تک پہنچ بھی گئیں تو منزل پھر بھی اتنی ہی دور ہو گی جتنی آج ہے۔

اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تحریک طالبان کا کہنا تھا کہ حکومتی ادارے ان کے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور وہ ان کا بدلہ لینے کے لئے یہ کارروائی کی گئی اور ان کے مطابق یہ کارروائی جائز ہے۔ حکومتی کارروائیاں رکنے تک ہم ان کارروائیوں کو جائز سمجھتے ہیں۔

حکومتی ٹیم نے مذاکرات کی بڑی سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے بالواسطہ اور بلاواسطہ رابطے کر کے ایک خوبصورت ماحول تخلیق کیا تا کہ مذاکرات بہترین طریقے سے ہو سکیں۔ جسے فریقین اور ثالثین نے اچھے انداز میں دیکھا اور اس کی تعریف کی لیکن بدقسمتی ہمارا دامن چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ مذاکرات کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کا یہ سلسلہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ طالبان ریاست کے کھلے دشمن ہیں اور اس کے ساتھ پس پردہ اور بھی ایسی قوتیں ہیں وہ جن کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ کیونکہ حکومت بے پناہ دباؤ کے باوجود مذاکرات شروع کئے اور لچک دکھائی۔ مگر یہ واضح ہے کہ طالبان کے منصوبے باقاعدہ حالات کو خراب کرنے اور پاکستان میں سکیورٹی کی صورت حال کو ابتر کرنے کے لیے ترتیب دئیے گئے ہیں۔

حقیقتاً مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی بنیاد اسی وقت رکھ دی گئی تھی جب تحریک طالبان نے مولانا عبدالعزیز کو کمیٹی میں شامل کیا تھا۔ مولانا عبدالعزیز صاحب نے مذاکرات شریعت کے نفاذ کیلئے کرنے کی ایسی شرط عائد کی جو خود طالبان نے بھی نہیں کی تھی۔ اور یہ بات بھی خاص و عام جانتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا ۔ ایسے میں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ مولانا عبدالعزیز صاحب مذاکرات اپنی مرضی کی شریعت کے تابع ہو کر کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں بھی وہی شریعت نافذ کرنے کے خواہاں ہیں جو انہیں پسند ہو۔

پاکستان کے آئین کے مطابق ’’چونکہ اللہ تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور اقتدار اسی کی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنا ایک مقدس امانت ہے۔ پاکستان کے جمہور کی منشا سے ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی اور اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہو گا۔‘‘ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئین کی بنیاد اسلام پر ہے اور اس مملکت خدا داد میں اسلامی اصولوں کے منافی کوئی قانون، ضابطہ یا اصول لاگو نہیں ہو سکتا۔ ی ہاں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام اور شریعت کی تشریحات ہر مکتب فکر اپنے نقطہ نظر کے قریب ترین دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر ہم سب اصولی طور پر اسلام اور شریعت کے بنیادی اصولوں پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کو اسلامی اصولوں پر چلانا بہت آسان ہو جائے گا۔

آج پاکستان کی صورت حال دن بدن بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم اس قسم کے تنازعات پیدا کر کے دشمنوں کے عزائم پورے کرنے کے لئے کیوں کوشاں ہیں۔ ہم اگر اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ ہر طرف سے دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔ قومیت، مذہب، جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے نفاق پیدا کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

ہمارے ملک میں مذہب، زبان اور دوسرے طریقوں سے جاری قتل و غارت نے ہمیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ بھائی بھائی سے متنفر ہے۔ اس تناظر میں حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں اس وقت امن کی ضرورت ہے۔ اگر امن قائم ہو گیا تو نظام سلطنت بھی بہتر ہو گا۔ اگر امن قائم نہ ہو سکا تو پھر خدانخواستہ معاملات کسی بھی وقت ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست دشمن کو مزید طاقتور ہونے موقع نہ دے اور بھرپور ایکشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سر کچلے۔