پروفیسر ایرک سپرین کی یاد میں

  • بدھ 19 / فروری / 2014
  • 11478

لاہور کی ادبی ڈائری

سَن اَسی (80) کی دہائی میں کہ جب ابھی کمیونزم کا سورج غروب نہیں ہوا تھا اور امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طورپر سامنے نہیں آیاتھا، پاکستان میں وہ دانش ور جو کمیونزم کے پرچارک تھے اور اخلاص نیت کے ساتھ اس نظام کو عام آدمی کے حالات زندگی کوبدلنے اور استحصالی معاشرے میں تبدیلی کا واحد ذریعے سمجھتے تھے ان میں ایک پروفیسر ایرک سپرین بھی تھے ۔

پروفیسر ایرک سپرین نے راولپنڈی اور بعد میں لاہور میں اپنے علم کی دھاک بٹھائی ۔ وہ کالج میں طلبہ کو اپنے لیکچرز میں کمیونزم کی برکات سے آگاہ کرتے اور کالج سے باہر بھی علی وادبی حلقوں میں اس نظام کے حق میں دلائل و براہین سے گفتگو کرتے ۔ بلا شبہ پروفیسر ایرک سپرین اپنے نظریات سے کمٹڈ شخصیت تھے ۔ ان کے تلامذہ کی تعداد خاصی تھی اوران میں ایسے بھی تھے جو انہیں حقیقی استاد سے بڑھ کر اپنا روحانی باپ تصور کرتے تھے ۔

میری ان سے ملاقاتیں شاہ حسین کالج میں ہوئیں جو لارنس روڈ پر واقع تھا اور جہاں علمی و ادبی نشستیں بھی ہوا کرتی تھیں ۔ پروفیسر ایرک سپرین نے بڑی متحرک اور فعال زندگی بسر کی ۔ وہ انگریزی کے استاد تھے اور اسی زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں آسانی محسوس کرتے تھے سو ان کے انگریزی زبان میں لکھے گئے کالم مختلف اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔انہی کالموں کو یکجا کرکے سانجھ پبلیکیشنز کے امجدسلیم منہاس نے ایک کتابی شکل دی اور ’’ڈس کورس آن لائف‘‘ کے عنوان سے انہیں شائع کردیا ۔

اس کتاب کی تقریب رونمائی اگلے روز پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر کے کیفے ٹیریا میں منعقد ہوئی ۔ مقررین میں رضا کاظم ایڈووکیٹ، آئی اے رحمان، حسین نقی، نذیر قیصر ،مسعوداﷲ خان ،پروفیسر اعجاز انور، محمد عظیم، مبارک حیدر اورکئی دوسرے شامل تھے ۔ سعید احمد نے نظامت کی لیکن پروگرام کو غیر ضروری طول دے کر اس کے حسن کومتاثر کرنے کا باعث بھی بنے ۔

اپنے صدارتی خطاب میں رضا کاظم نے کہاکہ ایرک سپرین کے ساتھ ان کا تعلق 1948 ء سے ہے۔ انہوں نے اپنے طلبہ میں شعور پیدا کیا اور انہیں آزاد ماحول فراہم کیا ۔ مختلف شہروں میں موجود ان کے شاگرد ہی ان کی اصل اساس ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ میری تربیت سکول ، کالج میں نہیں پروفیسر ایرک سپرین کے ہاتھوں میں ہوئی ۔آئی اے رحمان نے کہاکہ دو قسم کے استاد ہوتے ہیں ایک وہ جو صرف کالج میں پڑھاتے اور پھر اپنا وقت اپنی مرضی سے اپنے دوسرے کاموں میں لگاتے ہیں۔ جبکہ ایک قسم ان اساتذہ کی ہے جو کالج میں پڑھانے کے بعد بھی شاگرد سے رابطہ منقطع نہیں کرتے ۔ان کے پاس وقت ہوتا ہے اوروہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں کرتے سوائے لکھنے ، پڑھنے اور پڑھانے کے ۔ پروفیسر ایرک سپرین اس دوسری قسم کے اساتذہ میں سے تھے ۔

وہ بات کہنے کے ماہر تھے اور گہری بات بھی انتہائی سہل انداز میں کہہ جاتے تھے ۔ان کی اسی بیاسی سال کی عمر کی تحریروں میں بھی شگفتگی کا عنصر دیکھا جاسکتا ہے۔ بہرحال جس کا م کے لیے انہوں نے اپنی زندگی بِتا دی وہ بڑا مشکل کا م تھا۔ حسین نقی نے کہاکہ وہ ایک مشفق اور ہمدرد استاد بھی تھے اور دوست بھی۔ انہوں نے اسلامیہ کالج سول لائنز میں کہ جب پروفیسر حمید احمد خان پرنسپل تھے ، کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا دستور بنانے میں رہنمائی کی ۔

انہوں نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ کالج انجمن حمایت اسلام کے زیر انتظام تھا۔ پروفیسر حمید احمد خان نے کالج کے لیے دو اساتذہ کی تعیناتی کے لیے انجمن کے ذمہ داران کو لکھا جن میں سے ایک فیض احمدفیض اور دوسرے ایرک سپرین تھے ۔ انجمن کے سیکرٹری نے لکھا کہ فیض احمد فیض ایک تو عربی کے سکالر ہیں اور دوسرے وہ کمیونسٹ ہیں سو انہیں نہیں رکھا جاسکتا ۔ چنانچہ پروفیسر ایرک سپرین کو رکھ لیاگیا ۔

انہوں نے کہاکہ ایرک سپرین اپنے شاگردوں کا بڑا خیال رکھتے تھے ۔ان جیسا مہمان نواز شاید کوئی دوسرا ہوگا۔ مسعود اﷲ خان نے کہاکہ وہ آخری عمر میں استاد سے صحافی بن گئے تھے ۔انہوں نے بہت لکھا لیکن جو چھپا ہے وہ پورا نہیں ہے ۔ ایف سی کالج میں انہوں نے طلبہ کے لیے آزاد ماحول اور آزاد فضا پیدا کررکھی تھی۔

پروفیسر اعجاز انور نے کہاکہ ایرک سپرین نے اسلامیہ کالج سول لائنز میں فائن آرٹس کے شعبہ کی بنیاد رکھی۔ اس خوبصورت تقریب میں سخت سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور پروفیسر ایرک سپرین کو یاد کیا ۔