عدلیہ پر شب خون کی تیاری

  • بدھ 19 / فروری / 2014
  • 4319

وفاقی حکومت جوڈیشل کمیشن پر قانون و انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کی بالادستی قائم کرنے کے لیے آئینی ترمیم لا رہی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے اس وقت ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری اور عدالتی نظام کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن مکمل با اختیار ہے۔ اور وہ بعض معاملات میں قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو مسترد کر چکا ہے۔

لیکن چونکہ ایسا پیپلز پارٹی کے سابقہ دوریعنی زرداری حکومت میں ہؤا تھا۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) نے جو اس وقت اپوزیشن میں تھی یا تو جوڈیشل کمیشن کو سپورٹ کیا تھا یا خاموشی اختیار کر کے عملی طور پر اپنا وزن جوڈیشل کمیشن کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ لیکن اب وہ خود قائمہ کمیٹی کی بالادستی کے لیے آئینی ترمیم لا رہی ہے۔ اور اس طرح جوڈیشل کمیشن کو بے اختیار کرنا چاہتی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں پیپلز پارٹی اور موجودہ اپوزیشن کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر آئینی ترمیم ممکن نہیں ہے اور اگر کسی طرح ترمیم کر بھی لی گئی تو اس کی وجہ سے کھلنے والا پنڈورا باکس دوبارہ بند نہیں ہو سکے گا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم پیش کر کے وفاقی حکومت اپنے پاؤں پر ایسا کلہاڑا مارے گی جس کا لگا ہؤا زخم شاید کبھی مندمل نہ ہو سکے۔

حکومت کو یہ غلط فہمی ہے کہ پیپلز پارٹی عدلیہ کے ہاتھوں لگنے والے اپنے سابقہ زخموں کی وجہ سے اس ترمیم کی حمایت کرے گی۔ مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی پہلے ہی عدالتی فعالیت کی مخالف اور اب حکومت کی حلیف بھی ہے۔ اس لیے وہ بھی حکومت کے ساتھ ہو گی۔ ایم کیو ایم کو بھی عدلیہ سے کچھ شکایات ہیں اور عمران خان کی تحریک انصاف بھی گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ جوڈیشل افسروں کو قرار دیتی ہے۔ اور اسے یہ بھی شکایت ہے کہ اس دھاندلی کے خلاف عدالتیں کچھ نہیں کر رہیں۔

یہ تو ہے حکومت کی خوش فہمی۔ جب کہ غالب امکان ہے کے پیپلز پارٹی ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے رویے کا بدلہ لے گی۔ اور آئینی ترمیم پیش کرنے تک تو اسے حمایت کا یقین دلائے گی۔ لیکن ترمیم پیش ہونے کے بعد وہی کرے گی جو مسلم لیگ (ن) نے ماضی اس کے ساتھ کیا تھا۔ ایم کیو ایم بھی حالات کا رخ اور سندھ میں اپنی مجبوری کے باعث پیپلز پارٹی کا غیر اعلانیہ ساتھ دے گی۔ جب کہ عمران خان کو اندازہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن پر قائمہ کمیٹی کی بالادستی سے ایک طرف عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی اور اس ترمیم کی حمایت سے جہاں عوام میں شفاف اور فعال عدلیہ کے لیے ان کے نعرے کی ساکھ متاثر ہو گی تو دوسری طرف عوام میں یہ تاثر بھی پیدا ہو گا کہ اپنے مفادات کے لیے عمران خان بھی اصولوں کے بجائے حکومت کے ساتھی ہیں۔ یہ تاثر وہ کسی قیمت پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ اسی نکتے پر تو ان کی مستقبل کی سیاست کا دارومدار ہے کہ وہ عدلیہ کو حکومتی اثر و نفوذ سے آزاد دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

اس ترمیم سے حکومت اور عدلیہ کے درمیان بد اعتمادی کے علاوہ ایک سرد جنگ بھی شروع ہو جائے گی۔ حکومت کا خیال ہے کہ یہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کی لڑائی ہو گی۔ لہٰذا مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد نہیں ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود اپوزیشن کا ایک مؤثر حصہ اس ترمیم کی مخالفت کرے گا۔ اس لیے ترمیم منظور ہونے کی صورت میں عدلیہ اسے پارلیمنٹ کی نہیں حکومت کی کارستانی قرار دے گی۔

اس طرح یہ حکومت کے خلاف تیار ہونے والی چارج شیٹ کا ایک بڑا عنوان بن جائے گی۔ جب کہ مقتدر اور بالادست حلقے بھی نہیں چاہیں گے کہ حکومت ایک بڑے ادارے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے۔ حکومت کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ آئی جی ایف سی بلوچستان۔ لاپتہ افراد کے کیس اور بعض دوسرے معاملات میں جس طرح سابقہ عدلیہ نے فوج اور ایجنسیوں کے لیے مشکلات پیدا کی تھیں اس تجربے کی بنا پر فوج بھی اس ترمیم کی مخالف نہیں ہو گی۔ لیکن یہ محض ایک مفروضہ اور حکومت کی خام خیالی ہے۔

اداروں کے ساتھ لڑائی اور اپنی بالادستی قائم کرنے کی خواہش شریف فیملی اور ان کی حکومت کی سرشت میں شامل ہے۔ وہ اپنے دونوں سابقہ ادوار میں بھی اداروں کے ساتھ تصادم کی پالیسی پر گامزن رہے ہیں اور اس کوشش میں دونوں بار حکومت گنوا چکے ہیں۔ اب بھی ماضی سے کوئی سبق سیکھنے کے بجائے وہ اسی پالیسی پر گامزن ہیں۔ جس کا اظہار گزشتہ آٹھ نو ماہ کے ان کے دور حکمرانی میں بار بار ہوتا رہا ہے۔ اس بار انہیں ایک رعایت یہ حاصل ہے کہ پیپلز پارٹی معاہدے کے تحت ان کے پانچ سال آسانی سے گزروا دینے کی پابند ہے اور ابھی تک اس پر کاربند بھی۔ لیکن پیپلز پارٹی بہرحال ایک سیاسی جماعت ہے اور اپنے خمیر کے اعتبار سے مسلم لیگ کی مخالف۔ جب کہ بھٹو فیملی شریف فیملی کو اپنا سیاسی ہی نہیں خاندانی اور موروثی مخالف بھی سمجھتی ہے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی وعدے سے مکر بھی سکتی ہے۔

نواز شریف حکومت کے خلاف مجوزہ آئینی ترمیم پہلی چارج شیٹ نہیں ہو گی۔ تاہم ایک بڑی چارج شیٹ ضرور ہو گی۔ اس سے قبل اپنے چند ماہ کے حالیہ دور میں نواز حکومت لاپتہ افراد اور بعض دوسرے معاملات میں عدلیہ اور ایجنسیوں کو ناراض کر چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے باوجود کیپٹن شجاعت عظیم کی دوبارہ اس عہدے پر تعیناتی اس کی تازہ مثال ہے۔ جس سے افتخار محمد چودھری کے بعد کی عدلیہ بھی خوش نہیں ہو گی۔ نادرا کے چیئرمین طارق ملک کو پہلے ان کے عہدے سے آدھی رات کو ہٹانا اور پھر عدالت کی طرف سے ان کی بحالی کے احکامات کے باوجود مستعفی ہونے پر مجبور کرنا ایک اور چارج شیٹ ہے۔

پیمرا کے چیئرمین عبدالرشید چودھری کو بھی اچانک تبدیل ہونے کے بعد عدالت کے حکم پر بحال ہونا پڑا۔ یہی صورتحال اکاؤنٹنٹ جنرل کی ہوئی اور اب پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کی سربراہی پر ذکاء اشرف کو ہٹا کر جناب نجم سیٹھی کو لگانا سب کے لیے حیران کن ہے۔ جب ذکاء اشرف اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی بحالی کا پروانہ لے آئے تو حکومت نے انہیں چند دنوں کے لیے مجبوراً قبول تو کر لیا مگر اب پی سی بی کے آئین میں ترمیم کر کے دوبارہ جناب نجم سیٹھی کو چیئرمین کرکٹ کنٹرول بورڈ لگا دیا گیا ہے۔

جناب سیٹھی کے پاس صرف خبریں لانے والی چڑیا ہی نہیں ہے بلکہ اقتدار تک پہنچانے والی چڑیا یا ہما بھی موجود ہے۔ وہ اس سے قبل نگران وزیر۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے مقرب خاص اور نگران وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کا نام بطور نگران وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی نے پیش کیا تھا۔ لیکن مسلم لیگ (ن) نے اتفاق نہیں کیا تھا اس سلسلے میں اجلاس ناکام ہو کر ختم ہو چکا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے دوبارہ اجلاس بلانے کی درخواست کی اور نجم سیٹھی کے نام پر اتفاق کر لیا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ اچانک کام بعض ملکی و غیر ملکی مقتدر قوتوں کی مداخلت اور جناب نجم سیٹھی کی باصلاحیت اور متحرک بیگم جگنو محسن کی کوششوں سے سر انجام پایا تھا۔ جو شریف فیملی کے بہت قریب ہیں۔ ان کا نام مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی یا سنیٹر کے طور پر بھی آتا رہا ہے۔ اور وہ جاتی امراء میں انتخابات سے قبل ہونے والی بہت سی تقریبات میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی سر انجام دیتی رہی تھیں۔

اس انداز میں نگران وزیر اعلیٰ بننے والے نجم سیٹھی پر اب الزام لگا ہے کہ انہوں نے مئی 2013ء کے انتخابات میں 35 پنکچر لگانے کا فریضہ سر انجام دیا تھا۔ شاید اسی کے صلے میں انہیں چیئرمین پی سی بی بنایا گیا ہے۔۔۔ بہرحال نجم سیٹھی کی تقرری کے لیے بی سی پی کے آئین میں کی جانے والی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کو بے دست و پا کرنے کے لیے ملکی آئین میں مجوزہ ترمیم اس حکومت کے حلق کا کانٹا بن جائے گی اور اس کے لیے بڑی چارج شیٹ ثابت ہو گی۔