یوکرائن کا بحران
- جمعہ 21 / فروری / 2014
- 4382
تین دن کے خوں ریز فسادات کے بعد جمعہ کی صبح کو یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ Victor Yanukovych اور اپوزیشن لیڈروں کے درمیان عبوری معاہدے کے آثار موجود تھے۔ اس معاہدے کے تحت صدر ملک کا بحران ختم کرنے کے لئے نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کروانے پر رضا مند ہو گئے تھے۔
اگرچہ یورپین ذرائع سے اس معاہدے کی تصدیق کی گئی تھی لیکن یوکرائن کی اپوزیشن کی طرف سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ یوکرائن میں منگل 18 فروری کو شروع ہونے والے ہنگاموں میں سرکاری طور پر 77 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 13 پولیس افسر بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے مرنے والوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 700 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں 350 شدید زخمی ہیں اور انہیں دارالحکومت کیف KIEV کے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا۔
اگرچہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم اور تشدد کا زیادہ مظاہرہ دارالحکومت میں ہی ہؤا ہے لیکن ملک کے متعدد دیگر شہروں میں بھی پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم صدر یانوکووچ اور ان کے مخالفین کے درمیان اصل میدان کارزار کیف ہی بنا ہؤا ہے۔ جہاں پر مظاہرین نے نومبر سے شہر کے وسط میں وسیع علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور اسے آزادی چوک کا نام دیا گیا ہے۔
موجودہ خونریز ہنگاموں کا آغاز منگل کو اس وقت ہؤا جب پولیس نے مظاہرین کو ہٹانے کی کوشش کی۔ اگرچہ ہنگاموں اور ہلاکتوں کے بارے میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جا رہی ہے لیکن منگل کے روز اس وقت ان میں شددت آئی جب 13 پولیس افسر ایک بکتر بند گاڑی کو آگ لگنے سے جل کر ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو تختہ مشق بنایا۔ منگل کے روز 26 افراد تصادم میں ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد بدھ کو صدارتی ترجمان نے عبوری امن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین کے ساتھ تعرض نہیں کیا جائے گا اور حکومت حالات کو بہتر کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔
تاہم جمعرات کو شدید تصادم کا آغاز ہو گیا اور سارا دن پولیس اور مظاہرین ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے رہے۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عام اندازہ ہے کہ صرف کل مرنے والوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہے۔ اس خونی دن کے دوران یانوکووچ اور اپوزیشن میں یورپی یونین اور روس کے نمائندوں کے تعاون سے امن قائم کرنے کے لئے بات شروع کروائی گئی تھی۔ یورپی یونین کے تین ملکوں کے وزرائے خارجہ اس مقصد کے لئے کیف میں موجود ہیں۔ ان میں جرمنی ، فرانس اور پولینڈ کے وزیر خارجہ شامل ہیں۔ روس نے بھی اعلیٰ سفارتی نمائندوں کو کیف بھیجا ہؤا ہے۔ اس تنازعہ میں یورپی یونین اپوزیشن جبکہ روسی حکومت صدر یانوکووچ کا ساتھ دے رہی ہے۔
اس دوران روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ بھی ہؤا ہے اور وہ اس بات پر متفق ہیں کہ یوکرائن میں فوری طور پر خوں ریزی بند ہونی چاہئے تا کہ مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔ تادم تحریر یہ بات واضح نہیں تھی کہ جمعہ کی رات طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں کیف میں امن بحال ہو سکے گا۔ اپوزیشن کی طرف سے صدر وکٹر یانوکووچ کے فوری استعفیٰ اور آئین میں وسیع تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سرکاری طور پر صدر کی طرف سے ابھی تک یہ اعتراف بھی نہیں کیا گیا کہ وہ ملک میں نئے انتخابات کروانے یا خود مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں۔
موجودہ تنازعہ کا سلسلہ نومبر میں شروع ہؤا تھا۔ یوکرائن نے کئی برس تک یورپی یونین سے مذاکرات کے بعد تین معاہدوں پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم نومبر کے دوران ان کی باقاعدہ تصدیق کا مرحلہ باقی تھا۔ آخری لمحے پر صدر یانوکووچ نے ان معاہدوں کی توثیق کرنے اور یورپی یونین کے ساتھ اقتصادی تعلقات استوار کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے روس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت روس یوکرائن کو سستی گیس اور آسان قرض دینے کے لئے تیار تھا۔ یہ دونوں سہولتیں یوکرائن کی بحران زدہ معیشت کے لئے بے حد اہم تھیں۔
تاہم یورپی یونین کے حامیوں نے صدر یانوکووچ کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ہزاروں لوگوں نے کیف کے مرکز میں دھرنے دے دیا۔ ہزاروں نوجوان گزشتہ تین ماہ سے اس دھرنے میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے مسترد کر کے یوکرائن کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ صدر نے اس دباﺅ کے باوجود اپنا مؤقف تبدیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب ان اختلافات نے منگل سے ایک خونی تصادم کی شکل اختیار کر لی ہے۔
یوکرائن کے لوگوں نے ستمبر 1991ء میں واضح اکثریت سے خود مختار ملک بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ 46 ملین کی آبادی پر مشتمل یہ ملک یورپ اور روس کے لئے یکساں طور پر اہمیت کا حامل ہے۔ یورپی یونین نے یوکرائن کو یونین میں شامل کرنے اور اس ملک کی منڈی تک رسائی کے لئے گزشتہ کئی برس سے مسلسل کام کیا ہے۔ لیکن روس کے لئے بھی یوکرائن اقتصادی لحاظ سے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے طور پر اس ملک کو سوویت یونین میں شامل سابقہ ملکوں کی اقتصادی یونین کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرائن کی فوجی اہمیت بھی ہے۔ امریکہ اور نیٹو ممالک اپنی اسٹریٹجک Strategic پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے یوکرائن کو معاشی طور سے یورپ کے قریب لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یوکرائن کی آبادی واضح حصوں میں تقسیم ہے۔ اگرچہ ملک کی اکثریت یوکرائنی نژاد ہے اور ان کی اپنی زبان ہے لیکن سوویت یونین کے دور میں روسی زبان اس ملک میں عام ہو گئی تھی۔ اب ملک کی اہم ترین زبان روسی ہی ہے۔ اس کے علاوہ انیسویں صدی کے دوران لاکھوں کی تعداد میں روسی نژاد لوگوں کو یوکرائن میں آباد کیا گیا تھا۔ ان اصل النسل روسیوں کی آبادی اس وقت 8 ملین کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ ملک کے 15 ملین لوگ روسی زبان کو اپنی مادری زبان قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں کی زیادہ تعداد جنوب اور مشرق میں آباد ہے۔ جبکہ مغربی علاقوں میں یوکرائنی زبان بولنے والے آباد ہیں۔
روسی نژاد یوکرائنی فطری طور پر روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ یورپی یونین کی بجائے روسی اقتصادی یونین کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ جبکہ ملک کی اکثریت اس رائے سے متفق نہیں ہے۔ نومبر میں صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ معاہدوں کو مسترد کر کے دراصل اکثریتی جذبات کے خلاف فیصلہ کیا تھا۔ اس لئے یہ تنازعہ ایک پیچیدہ اور سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ اور بعض ماہرین کے نزدیک اگر صورتحال کا قابل قبول سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ تصادم خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
یوکرائن کے مستقبل کے حوالے سے فوج کا رول بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ صدر یانوکووچ یہ اشارہ بھی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور تخریب کاری بند نہ کی تو وہ فوج کو مظاہروں کو کچلنے اور امن بحال کرنے کے لئے طلب کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑے گی۔ موجودہ آئین کے تحت انہیں یہ حق حاصل ہے تاہم اس دوران صدر وکٹر یانوکووچ کی پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہو چکی ہے۔ ان کی پارٹی کے متعدد اہم لیڈر اور ارکان پارلیمنٹ اب صدر کے خلاف ہو چکے ہیں۔ اس لئے گزشتہ دنوں یوکرائنی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کے ذریعے وزیر داخلہ کو پابند کیا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ اس لئے پارلیمانی ووٹ کے بغیر فوج کو طلب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ صدر یانوکووچ اس قرارداد یا پارلیمنٹ کے اختیار کو تسلیم کرنے میں کس حد تک فراخدلی کا مظاہرہ کریں گے۔
اگرچہ یوکرائن کی تقدیر کا فیصلہ اس کے عوام کو ہی کرنا ہے لیکن یورپی یونین ، امریکہ اور روس اپنے اپنے طور پر اس ملک میں سرگرم عمل ہیں اور اپنے مفاد کے مطابق سیاسی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان بیرونی طاقتوں کے درمیان کسی مفاہمت کے بغیر یوکرائن میں تنازعہ کا مستقل حل ممکن نہیں ہے۔