امن کو ترستی قوم

  • ہفتہ 22 / فروری / 2014
  • 4556

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان نے آئین پاکستان پر انگشت نمائی اور خیال آرائی سے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے الفاظ اور روح سے نا واقف ہیں اور ملک میں اپنی مرضی اور منشا کی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

کالعدم تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ آئین کا ایک جز بھی اسلامی نہیں۔ اچھا ہوتا اگر انہوں نے اس جاہلانہ تبصرے سے قبل ان علماء ہی سے رہنمائی حاصل کر لی ہوتی جنہیں ان کی تنظیم نے اپنی مذاکراتی کمیٹی کے لئے نامزد کیا ہے۔ انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ پاکستان کے آئین نے جدید دور میں اسلامی اصول سیاست کو اجاگر کیا اور یہ تصور پیش کیا کہ عوام کی منتخب حکومت اور ریاستی فیصلے حاکمیت الٰہی کے تابع ہوں گے۔

اس دستور کے تحت قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ ہی کو حاصل ہے لیکن وہ قرآن و سنت کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ کوئی ایسا قانون منظور نہیں کیا جا سکتا جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ وہ سب قوانین جو شرعی نقطہء نظر سے متنازع ہیں، انہیں عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کی خاطر وفاقی شریعت کورٹ کا قیام خاص طور پر عمل میں لایا گیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لئے قانون سازوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ اسی اصول کے تحت وفاقی شرعی عدالت سود کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ جہاں تک دستور پاکستان کا تعلق ہے، وہ نفاذ اسلام میں رکاوٹ نہیں، معاون ہے۔ البتہ کہا جا سکتا ہے کہ دستور کی اسلامی شقوں پر بہت کم عمل کیا جاتا ہے۔ اس کا حل دستور کو مسترد کرنا نہیں بلکہ اس پر پوری طرح عملدرآمد کرنا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ جس طرح کسی مسلمان کو اس کی عملی کوتاہیوں کی بنا پر کافر قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح ایک اسلامی ریاست کے آئین کو اس بنا پر غیراسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس پر بہت کم عملدرآمد ہوتا ہے۔

نام نہاد مذہبی جنگ لڑنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ نفاذ اسلام کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی قدروں کو فروغ دیا جائے اور ایک ایسے صالح معاشرے کی تشکیل کی جائے جس کی اکثریت کے دلوں میں اسلامی قوانین کی قبولیت کا جذبہ ہو ۔ پاکستان کے دستور کی اتفاق رائے سے منظوری میں تمام مکاتب فکر کے جید علما شامل تھے۔ اس کی مخالفت اجماع امت میں رخنہ اندازی کے مترادف ہے۔

طالبان اگر معاشرے میں اسلامی اقدار کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں تو دستور پاکستان کی مخالفت سے گریز کریں۔ کیونکہ انہی کی نامزد مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی آئین غیراسلامی نہیں، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جا سکتی ہے، اس میں کوئی کمی ہے تو دور کی جا سکتی ہے۔ جبکہ دوسرے رکن مولانا یوسف شاہ نے کہا آئین بنانے والوں میں علمائے کرام اور بزرگ سیاستدان شامل تھے۔ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو اسلامی نظام رائج ہو سکتا ہے۔

لیکن یہاں یہ امر حیرت انگیز ہے کہ طالبان قرآن و سنت کے نام پر اس دستور کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وہ قرآن و سنت کی تعبیر اپنے ہاتھ میں لینے کے خواہاں ہیں۔ جہاں وہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق اسلام کی روح کو تار تار کرتے ہوئے لوگوں کے گلے کاٹ سکیں۔

طالبان ترجمان نے ایک بار پھر آئین کے تحت مذاکرات سے گریز کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے ہم سے آئین کو منوانا چاہتی ہے جبکہ قرآن و سنت ہی آئین ہے۔ یہ بیان دراصل عوام میں ابہام پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہاں اس مؤقف کا اعادہ کرنا ضروری ہے کہ آئین قرآن و سنت کو اپنا رہنما قرار دیتا ہے۔ پاکستان میں حکومت اور نظام حکومت کیسے چلائے جائیں گے اور متنازع امور کو کیسے حل کیا جائے گا، یہ سب کچھ آئین کے تحت ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔

طالبان نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی میں حکومت کو پہل کرنی چاہئے کیونکہ بقول ان کے جنگ حکومت نے شروع کی تھی۔ اس مطالبے سے بھی واضح نظر آتا ہے کہ تحریک طالبان مذاکرات سے گریز چاہتی ہے۔ اس سے قبل تحریک طالبان پاکستان نے مہمند ایجنسی کے طالبان کے اس اعلان کی مذمت کرنے کی بجائے کہ ایف سی کے 23 سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا ہے، ذمہ داری میں شرکت کا تاثر دیا۔ اس رویے سے بھی یہ تاثر ملا تھا کہ تحریک طالبان مذاکرات سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے۔

23 مغوی ایف سی اہلکاروں کا قتل فوج اور عوام کیلئے اشتعال کا باعث ہے۔ فوج اور عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت جن عناصر سے مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کی بات کر رہی ہے ان کی طرف سے معصوم انسانوں کی ہلاکتوں اور دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اس طرح کی خونریزی کامتحمل نہیں ہوسکتا ۔ یہاں یہ امر عیاں ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستانیوں کی تباہی کا سامان کیا جا رہا ہے۔ شدت پسندی پر مائل قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ عراق اور شام کی طرح پاکستان میں بھی مسلمانوں کو تقسیم کر کے جنگ و جدل میں الجھا دیا جائے۔ اب یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ طالبان مصالحت کی راہ اختیار کرنے پر رضا مند نہیں ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ حکومت فوجی آپریشن کا آپشن اختیار کرے۔

حکومتیں جب عوام کی سلامتی اور اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے جنگیں کرتی ہیں تو وہ طاقت کا بھرپور استعمال کرتی ہیں۔ ان کا اول و آخر مقصد مملکت اور عوام کی سلامتی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کسی بات کی پروا نہیں ہوتی۔ طالبان کا معاملہ تو یہ ہے کہ متعدد گروپ ان کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہیں اور جسے جہاں موقع ملتا ہے وہ عوام اور فوج کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔

اب پلوں کے نیچے سے خاصا پانی بہہ چکا ہے۔ ہمیں حقیقت کی دنیا میں رہتے ہوئے زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہو گا اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ شدت پسندی کے ناگ کو وقتی طور پر پٹاری میں بند کرنے کی بجائے اس پھن کچل دیا جائے ورنہ پاکستان کے عوام امن کو ترستے رہیں گے۔