کون سی شریعت ۔ آخری جزو
- اتوار 23 / فروری / 2014
- 5206
گذشتہ سے پیوستہ
اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کے بعد شریعت کے قوانین کا انحصار اُلی الامر پر ہے ۔ اُلی الامر حاکمِ وقت ہے اور حکومتِ وقت کے وضع کیے ہوئے قوانین جو قرآن اور سُنّت کی روشنی میں مُرتب کیے جاتے ہیں ، اُلی الامر کا اختیار ہوتے ہیں۔ جنہیں وہ حسبِ ضرورت نافذ کرتا ہے ۔
قوانین کے اس مجموعے کو آئین یا دستور کہا جاتا ہے اور قرآن کا " اُلی الامرِ منکم " کا حکم اس دستور کی بنیاد اور جواز ہے ۔ یہ دستاویز حکومت کی رِٹ کی حدود کا تعین کرتی ہے اور ملکی قوانین کو معاشرے کی فطری اور قومی زبانوں میں شائع کرتی ہے تاکہ لوگوں کو قانون کی تعلیم دے کر مہذب شہری بنایا جا سکے ۔ قانون کی تعلیم سب کے لیے لازمی ہے ۔ چنانچہ جوشخص اللہ کی رضا کے مطابق زندگی بسرکرنے کے قوانین نہیں جانتا اور اُن کی تعمیل نہیں کرتا ، انسانی معاشروں کا مجرم ہوتا ہےاور سماج دشمن عناصر میں شمار ہوتا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اور قانون لازم و ملزوم ہیں ۔ قانون سے عدم واقفیت کا جواز قابلِ قبول نہیں ہوتا ۔ چونکہ پاکستانی مسلمانوں کی مادری اور فطری زبان عربی نہیں ہے ، اس لیے آئین کی زبان عربی نہیں ہے بلکہ حکومت کے ذیلی اداروں کے صوابدید کے مطابق انگیری اور اردو ہے ۔
تازہ قضیہ یہ ہے کہ طالبان کے لیے پاکستان کا آئین ایک ناقابلِ قبول دستاویز ہے ۔ کیوں ؟ جواب واضح ہے کہ یہ آئین طالبان کو، جو پاکستان کی وفاقی حکومت پر قبضہ کرنے کی نیت سے چھاؤنی ڈالے بیٹھے ہیں ، اقتدار پر ناجائز قبضے کا حق نہیں دیتا ۔ ایسی صورت٘ حال میں طالبان کا موقف پاکستان کی منتخب حکومت کی رِٹ کے لیے نہ صرف چیلنج ہے بلکہ کھلی بغاوت ہے ۔
پاکستان کے آئین کو تسلیم نہ کرنا پاکستان کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے اور اس کھلی بغاوت سے طالبان ، پاکستان کی ریاست کی دشمن قوت قرار پاتے ہیں ۔
پاکستان کے آئین کو نہ ماننے کے تناظر میں بعض دوسرے عوامل بھی کارفرما ہیں جن میں سے سب سے اہم اور اساسی عامل خود طالبان کا ایڈ ہاک یا عبوری وجود ہے ۔ طالبان ایک طرح سے آئین شکنی کی پیداوار ہیں ۔ پاکستان کے آئین میں کہیں یہ رقم نہیں ہے کہ کسی پڑوسی ملک یا کسی سامراجی طاقت کی خوشنودی کے لیے باقاعدہ فوج کے علاوہ بھی کوئی لشکر ، جند ، جتھہ ، جیش یا مسلح گروہ بنانے کی اجازت ہو گی ۔ مگر آئین کو پسِ پشت ڈال کر ایک عسکری حکمتِ عملی کے تحت طالبان بھرتی کیے گئے اور اُنہیں ایک دیسی ساخت کے ہتھیار کے طور پر روس کے خلاف امریکی جنگ میں جھونک دیا گیا ۔ کون نہیں جانتا کہ طالبان نامی یہ بے لگام نیم فوجی تنظیم امریکی سی آئی اے نے جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی اور پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے ڈالرانہ تعاون سے بنائی تھی اور اس کے لیے دنیا بھر کے مسلمان ملکوں سے جہاد کے نام پر بھرتی لی گئی تھی ۔
ایک اعتبار سے پاکستان کے مذہبی ادارے ، دینی مدارس اور نظامِ مساجد ہمیشہ ریاست میں الگ ریاست کی مثال رہے ہیں اور حکومتوں نے ان دینی اداروں کو مذہبی امور کی وزارت کے تحت منظم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔ اس سلسلے میں دو کام کرنے لازمی تھے :
1 ۔ فرقوں کی فکری اور عملی ہم آہنگی کا قانون : اس قانون کے تحت ملی وحدت کا بورڈ قائم کیا جاتا اور یہ لازم قرار پاتا کہ کوئی دینی فرقہ کسی دوسرے فرقے کے وجود ، طرزِ فکر اور طرزِ عبادات کی پبلک میں مخالفت نہیں کرے گا اور اگر کوئی متنازعہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو اس کے لیے ملی وحدت کا بورڈ اعلیٰ علمی صلاحیتوں کے حامل علماء کی مشاورت سے تنازعے کو طے کرے گا ۔ اگر اس قسم کی تربیت موجود ہوتی تو آج طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے میں دقتیں پیش نہ آتیں ۔
2۔ وفاقی دارالافتا کا قیام : دین میں مفتیوں کو انسانی زندگیوں کے فیصلے کی اجازت فرض کر لی گئی ہے ۔ گویا انسان نہ ہوا مولی یا گاجر ہو گیا ۔ حالانکہ انسانی زندگی پر موت کا حکم جاری کرنا صرف انصاف کے اعلیٰ اداروں یعنی عدالتوں کا کام ہے ۔ ہر گلی محلے کی مسجد کے امام کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو بھی کافر قرار دے کر مروا دے ۔ ہرملا اور ہرمفتی کے ہاتھ میں فتوے کا اختیار عدلیہ کی رِٹ کے لیے چیلنج ہے ۔
ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر کسی کو کسی کے خلاف مذہب یا مذہبی شخصیات کی بے حرمتی یا توہین کی شکایت ہے تو اس معاملے کو مکمل دستاویزی اور شخصی شہادتوں کے ساتھ وفاقی دار الافتا کے حوالے کرے اور پھر شہادتوں اور ملزم کی شنوائی کے بعد سزا کا فیصلہ دیا جائے۔ لیکن اس ضمن میں پاکستان کے طرم خان وکلا اور ججوں نے اناڑیوں کا سا ثبوت مہا کیا ہے اور وہ اُس قانونی نظام کو مرتب کر کے نافذ نہیں کرسکے جو مکمل اور مفت انصاف کی ضمانت ہوتا ۔
اس ساری بد امنی اور بحرانی صورتِ حال کی ذمہ داری پاکستان کی تمام حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے مذہبی امور کی وزارت کے تحت مذہب کے ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا اور اپنی پیشہ ورانہ نالائقی اور صلاحیتوں کے فقدان کی بنا پر خود بھی ایک بیگانی جنگ میں ملوث ہیں اور قوم کو بھی عذاب میں ڈال رکھا ہے ۔ ان حالات میں آئین میں درج قوانین پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں مگر آئین سے یکسر انکار جہالت ، پاگل پن اور بغاوت ہے ۔ وما علینا الالبلاغ۔