امتحانی پرچہ
- اتوار 23 / فروری / 2014
- 9313
چند روز قبل ایک امتحانی پرچے میں پاکستان کے ہونہار طلباء کے جوابات دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ سر فخر سے بلندہو گیا اور بے اختیار ان اساتذہ کو شاباش دینے کو جی چاہا جن کی انتھک محنت اور لگن سے انکے شاگرد علم و فن کی ان بلندیوں کو چھونے لگے ہیں۔
اصل پرچہ تو کاروان کے پاس ہے۔ اگر وہ مناسب سمجھیں تو اپنے قارئین کے علم میں اضافے کیلئے چھاپ دیں۔ لیکن پرچے میں دیئے گئے جوابات ان ممکنہ جوابات سے بہت ذیادہ مختلف نہیں ہیں جو ہم نمونے کے طور پر یہاں پیش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اردو کا یہ پرچہ دسویں جماعت کے طلباء و طالبات کیلئے ہے۔
سوال: طائر لاہوتی کا مطلب بتائیے۔
جواب: طائر لاہوتی ایک خوبصورت پرندہ ہوتا ہے جو پاکستان کے شمالی علاقوں مثلاٌ سندھ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ آجکل لاہور کے اچھے ریستورانوں میں بھنے ہوئے طائر لاہوتی کی ڈش مل جاتی ہے لیکن بہت مہنگی۔اسے صرف امیر لوگ ہی کھا سکتے ہیں۔
سوال: مرغ حرم کی وضاحت کیجئے۔
جواب: مرغ حرم ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبال صاحب مرحوم کو بہت پسند تھا۔ اکثر شام کے کھانے میں نوش فرماتے تھے اور ملازم کو سختی سے ہدایت تھی کی پکانے سے پہلے اسے اچھی طرح پر فشاں کر لیا کرے تاکہ کوئی وائرس کھانے میں نہ چلا جائے۔ طائر لاہوتی کی طرح یہ بھی لاہور کے اچھے ریستورانوں میں ملتا ہے اور اسے ذیادہ تر شاعر ، کالم نویس اور علماء کرام کھاتے ہیں۔
سوال: اقبال کے شاہین سے کیا مراد لی جاتی ہے۔
جواب: شاہین دراصل عقاب کی بہن کو کہتے ہیں۔ بہت اونچا اڑتی ہے۔ لیکن چیلوں کی طرح ہر وقت سر پر منڈلاتی نہیں رہتی۔ یہ پرندہ علامہ اقبال کو بہت پسند تھا۔ وڑائچ طیاروں اور دوسری بسوں پر اکثر اسکی تصویر بنی ہوتی ہے۔ اسکا گوشت حرام ہے ۔
سوال: مندرج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے۔
1۔ غالب برا نہ مان جو وعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
جواب: غالب کافی اچھے شاعر تھے۔ شراب بھی پیتے تھے لیکن عالموں اور واعظوں کا بڑا احترام کرتے تھے۔ ان کے لا دین یعنی سیکیولر دوست اکثر ان کے پاس آکر وعظوں کے خلاف انکے کان بھرتے رہتے لیکن غالب انکی بات نہ سنتے۔ کہتے تھے بزرگوں کا برا کہنا بھی اچھا ہوتا ہے اس لئے میں انکی باتوں کا برا نہیں مانتا۔
2۔ میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
کشقہ کھینچا ، دَیر میں ببیٹھے کب کا ترک اسلام کیا
جواب: میر بھی کافی اچھے شاعر تھے۔ ان کی صحت بھی بہت اچھی تھی کیونکہ شراب نہیں پیتے تھے اور صبح سویرے باغ کی سیر کو نکل جاتے جہاں تازہ ہوا میں وہ کافی دیر کشقہ کھینچتے تھے۔ ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے انہیں منع بھی کیا تھا کہ زیادہ کشقہ نہیں کھینچنا چاہیئے۔ دماغ الٹ جاتا ہے۔ مسلمانوں کو کشقے کی جگہہ کوئی دوسری ورزش کرنی چاہیئے ۔ پر نہیں مانے۔ دِ یر چلے گئے اور پھر آگے کافرستان اور وہاں جا کر کشقہ کھینچنے لگے۔ آخر دماغ الٹا اور اسلام کو چھوڑ کافروں میں شامل ہو گئے۔اب کچھ اچھے مسلمان ان کافروں کو مسلمان بنانے کے لئے کافی محنت کر رہے ہیں۔ اللہ انہیں اسکا اجر دے۔
3۔ اللہ رے گمرہی بت و بتخانہ چھوڑ کر
مومن چلا ہے کعبہ کو اک پارسا کے ساتھ
جواب: مومن کافی مومن آدمی ہیں اور اپنے شعروں میں اللہ کا نام لیتے رہتے ہیں۔اس شعر میں وہ اپنے حج پر جانے کا ذکر کر رہیں ہیں کہ جلد ہی وہ ایک پارسا معلم کے ساتھ کعبہ شریف جا رہے ہیں۔اسی لئے مجھے مومن بہت پسند ہیں۔اللہ ان کا حج قبول کرے۔
4۔ ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
فرازؔ
جواب: فراز بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ شراب بھی پیتے تھے۔ اس شعر میں وہ بتا رہے ہیں کہ سیلاب یا زلزلہ وغیرہ آ جانے سے لوگ اجڑ جاتے ہیں اور اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ کے لئے کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ آفت آنے پر یہ لوگ افراتفری کے عالم میں بھاگتے ہیں لہٰذاہ اپنی قیمتی چیزیں ساتھ نہیں لے جاسکتے۔ اب اگر کوئی ان اجڑے ہوئے لوگوں کے گھرو ں میں جا کر تلاش کرے تو ممکن ہے اسے وہاں سے کوئی قیمتی چیز مل جائے مثلاٌ موتی ، سونا وغیرہ۔
5۔ دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
اقبالؔ
جواب: یہ ایک پہیلی ہے جو ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے بچوں کو بوجھنے کے لئے دی ہے۔ وہ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے خاص طور سے ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے بچوں سے۔ اس میں پوچھا گیا ہے کہ وہ کونسی ایسی چیز ہے جو ہو تو اندھیرا ہو جاتا ہے۔ نہ ہو تو روشنی جس میں ہر چیز چمکنے لگتی ہے۔ اسکا جواب ہے۔۔۔لوڈ شیڈنگ۔ کافی آسان بجھارت ہے۔
سوال۔ اپنے کسی پسندیدہ شاعر کا نام اور ایک شعر لکھئے۔
جواب: شاعر۔۔۔ پنکی مستانہ
شعر: تجھے دل دیا تھا جو ہیرا سمجھ کر
اسے کھا گیا ہے تو کھیرا سمجھ کر