طالبان کی زبان
- جمعہ 28 / فروری / 2014
- 4826
روزنامہ ایکسپریس میں پاکستان کے وزیرداخلہ کا بیان نظر سے گزرا- آ پ فرماتے ہیں کہ: “طالبان سے ان کی زبان میں بات کی جاۓگی“-
یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان کے ذمہ دار اورصف اول کے سیاستدان نے ایسی زبان استعمال کی ہوجس سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ یا تو موصوف کو علم نہیں کہ طالبان کس زبان میں بات کررہے ہیں، یا پھر انہیں اپنے عہدہ کے تقاضوں اوراس کی حدود کا علم نہیں-
طالبان کی زبان پر نظر ڈالیں تو وہ یہ ہے: طالبان کےہاں نہ حالت امن کا کوئی ضابطہ ہے، نہ حالت جنگ کا کوئی قاعدہ- حالت امن میں وہ انسانوں کے بنیادی حقوق سلب کر کے انہیں ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں جو طالبان کے خود ساختہ اسلام کے مطابق ہو- اس اسلام میں عورتوں کو جانوروں کا مقام دیا جاتا ہے- بچیوں کے سکول اور کتابیں جلائی جاتی ہیں اور ان کے سروں میں گولی ماری جاتی ہے- اس اسلام میں مردوں کو انتقام، سفّاکی اور نفرت کا سبق سکھایا جاتا ہے-
حالت جنگ میں یہ سفاک درندے نہتے مردوں، عورتوں اور بچوں کو خاک و خون میں نہلاتے ہیں، قیدیوں کو اس طرح زبح کرتے ہیں جیسے پتھر کے زمانے کا انسان بھی شاید ہی کرتا ہو، ان کو نہتہ حالت میں گولی ماری جاتی ہے اور ان کے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلتے ہوۓ فلم بنائی جاتی ہے-
یہ ہے طالبان کی مکروہ، سفاکانہ اور غیر اسلامی زبان- مجھے یقین ہے،کم از کم امید ہے، کہ مہذب پاکستان کی مہذب حکومت اس زبان میں کبھی بات نہیں کرے گی-
مجھے امید ہے کہ حکومت پاکستان اسلامی اقدار اور جنیوا کنوینشن کی حدود میں رہتے ہوئے اس اژدھے کا سر کچلے گی- ظلم اور فاشزم کا مقابلہ ظلم اور فاشزم سے نہیں، تکریم انسانیت اور تہذیب سے کیا جاتا ہے-
(اختر چوہدری ناروے کے ممتاز سیاستدان اور نارویجئن پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکر ہیں)