قائدِ اعظم کے مزار سے قحبہ خانے تک

  • سوموار 03 / مارچ / 2014
  • 4609

آج 2 مارچ ہے اور اتوار کے دن کا تیسرا پہر ۔ میں کُل ہند مسلم لیگ کے مارچ اُنیس سو چالیس کے جلسے میں قائدِ اعظم کا صدارتی خُطبہ پڑھ رہا ہوں ۔ فرماتے ہیں :

" ہندوستان کے مسلمان ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے اقلیّت نہیں ہیں ، بلکہ قومیت کی کسی بھی مروجہ تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں۔ اِس لیے اُن کا اپنا وطن ہونا ضروری ہے ۔  جو الگ جغرافیائی حدود میں ہو جہاں وہ اپنی ریاست قائم کر سکیں ۔ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ ایک آزاد قوم کی حیثیت سے امن اور رواداری کی فضا میں رہنا چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنی روحانی ، ثقافتی ، معاشی اور ثقافتی زندگی کو ایسے بھرپور طریقے سے فروغ دیں جوہمارے لوگوں کے اپنے مثالیوں کے مطابق ، اُن کی ذہنی صلاحیتوں سے تعمیر ہو ۔ "

اسی تعریف کی روشنی میں برِ صغیر کے مسلمانوں کی غالب اکثریت ، ہندوستان کے اندر ایک ایسا مُلک تعمیر کرنے کے منصوبے باندھتی رہی ہے جو اُن کے ماضی سے الگ ہو اور جہاں وہ مادی منفعت کے ساتھ اُن اعلیٰ اور ارفع اقدار کو رواج دے سکیں جن کی بنیاد حق و صداقت اور انصاف پر ہو ۔ یعنی ایک ایسی ریاست وجود میں لائی جائے جو زمان و مکان کی قیود کے باوجود لازمانی فیوض و برکات سے مالا مال ہو ۔ ایک ایسی روحانی دولت سے معمور جسے حالات کی ابتری تہ و بالا نہ کرسکے اور جسے بدعنوان اور قانون شکن لوگوں کی فکر آلودہ نہ کر سکے ۔

اس خطے میں آباد مسلمانوں نے زندگی کے معانی کتاب اللہ  کےحوالے سے تلاش کرنے کا عہد کیا تھا اور جب اُنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف بغاوتیں ، لڑائیاں ، دو عالمی جنگیں ، مذہب کے نام پر تقسیم در تقسیم ، نظریاتی کشمکش ، فلسفہ ہائے قومیّت اور گہری پریشاں فکری کے طوفان دیکھے تو اُنہوں نے یہی سوچا کہ اب یہی ایک راستہ ہے کہ ایک الگ ملک بسایا جائے جہاں وہ اپنی جنّت نشان دنیا آباد کر سکیں ۔

زندگی کی نہ ختم ہونے والی حق و باطل کی جنگ میں مسلمانوں نے اپنی معاشرتی ضرورتوں کے مطابق ایک قومی ضابطہ ء حیات وضع کرنا چاہا تاکہ تمام سیاسی دھاروں کو ایک مِلّی وحدت میں مدغم کیا جا سکے۔ اور ایک ایسا قومی رویہ ایجاد کیا جا سکے جو کسی بھی صورت میں شکست و ریخت کا شکار نہ ہو ۔ ایک ایسا رویہ جو مشینی اور خود کار نہ ہو بلکہ عقل و استدلال اور ہوش خرد سے عبارت ہو ۔

لیکن مذہب کے بارے میں ہمارا رویہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم نے انفرادی تحقیق و تجسس اور اکیڈمک اپروچ کے بجائے مسجد کے اماموں اور دینی مدارس کے علماء و اساتذہ پر تکیہ کیا اور اُن سے پوچھا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا ، جنّت میں حوروں سے معاملہ کس طرح طے ہوگا اور دوزخ کے شعلوں کا درجہ ء حرارت کیا رہے گا ۔

اور ہم نے اُن کے بیانات و حکایات کو من و عن تسلیم کیا اور اُن پر ایمان لائے ، جس کا مطلب ہے کہ ہم " اقرار باللسان " کی دنیا پر اکتفا کر کے اُس میں مقیم ہو گئے ۔ ہم نے اُن خوابوں جیسے الفاظ کو اپنا ایمان بنایا جو ہمیں کوئی پختہ اور لازوال تعبیر نہ دے سکے ۔ ہمارا موجودہ فکری ورثہ جس کا ہم حاصل ہیں ، کسی طور بھی اوریجنل نہیں ہے ، مُستند نہیں ہے۔ بلکہ یہ بھانت بھانت کی شرحوں ، تفسیروں ، توجیہوں اور تاویلوں کا مرہونِ منّت ہے جس نے مِلّی وحدت کو فرقہ بندی کے ہتھوڑے سے ریزہ ریزہ اور پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ اقبال اس صورتِ حال کو یوں بیان کرتے ہیں :
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفّسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

فرقہ بندی کے سکولوں کا مارا ہؤا برگشتہ ذہن اِس قدر ٹُکڑوں میں بٹا ہوا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اُس وحدت تک ، جو متفقہ فقہی نظم و ضبط کی پابند ہو ، رسائی نہیں پا سکتا ۔ کیونکہ حقیقت تک رسائی کے لیے وہ جس بصارت اور بصیرت کی مدد لے رہا ہے ، اُس میں بہتر قسم کے لینز لگے ہیں ۔ وہ اپنی تشویش، اپنے احساسِ جرم ، اپنے خوف ، اپنے بغض و حسد اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے مروجہ طرزِ عمل کے اُس پار دیکھ ہی نہیں سکتا جہاں سے حکمت اور محبّت کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ مکتبی دانش نے ذہنوں کو اِس قدر کُند کردیا ہے کہ وہ بے حِس اور ماؤف ہو گئے ہیں۔

تو آخر اِس صورتِ حال کا تدارک ، اس بحران سے نکلنے کا طریقہ اور راستہ کون سا ہے ؟
اِس کا بنیادی سبب تو یہ ہے کہ ہم اپنی فکری قوتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے ریڈی میڈ فلسفوں اور باتونی ذہنوں کی ایجاد کی ہوئی دلفریبیوں کا شکار ہیں ۔ اس صورتِ حال کو اقبال کی نظر سے دیکھیں تو کچھ یوں ہے :
شیر مردوں سے ہوا بیشہ ء تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی

ہم صوفی و مُلّا کے غلام ہیں اور زندگی کی حقیقتوں کو خطیبوں کے خطبوں ، مُلّاؤں کے مواعظ اور مزاروں کے مجاورں کی مجذوبانہ بڑ بڑاہٹ میں ڈھونڈتے ہیں ۔ اور ستم ظریفی کی حد تو یہ ہے کہ ہم میں سے دانشور کہلانے والے بیشتر لوگ جو سیاسی جبر اور آمرانہ چیرہ دستی کی مُخالفت کرتے ہیں ، خود اپنے ذہنوں کو مکتبی دانش اور مساجد کے مواعظ کے تحکمانہ جبر کا غلام بن کر رکھتے ہیں ۔ یعنی اللہ کے نام پر جہالت کی آمریت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔  جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ گھسی پٹی روایتوں کے راویوں ، لکیر کے فقیروں اور روحانیت کے نام پر گمراہی پھیلانے والوں کے مذہب کے نام پرکیے گئے جبر کو ہنسی خوشی سہتے ہیں۔ حالانکہ مذہب میں کسی طرح کے جبرو اکراہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ واضح حکم ہے :
لا اِکراہ فی الدین

جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم شرفِ انسانیت کی نفی کے مرتکب ہوتے ہیں اور انسانی مرتبے سے معزول ہو جاتے ہیں ۔ اور اگر ہم کسی ردِ عمل میں مبتلا ہو کر اس روایتی طرزِ فکر سے بغاوت کرکے کوئی دوسرا مکتبی دروازہ کھولتے ہیں تو یہ بھی ایک فکری پھندا ہوتا ہے جس میں ہم خود ہی پھنس جاتے ہیں ۔ جب کہ اصل اقدام یہ ہوتا ہے کہ ہم زندگی کرنے کا ہنر سیکھیں اور وہ بھی اُن اقدار کی روشنی میں جو ادارہ ء رسالت کے صدر الصدور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق اور امین کی سند ہائے فضیلت کے ساتھ وضع کی ہیں ۔ اور وہ روشنی محض درود و سلام اور کتاب و شنید نہیں جو اقرار باللسان کے شعبے کے ذیل میں آتی ہے ، بلکہ وہ اقدار جو تصدیق بالقلب سے مشتق ہیں جن کی رو سے صادق اور امین کی عملی مثال بن کر، محبّت تقسیم کر کے ، حکمت کے موتی رول کر ، انصاف اور مساوات کے باغ لگائے جاتے ہیں۔ جن میں حکمت کی تعلیم کا پہلا سبق خود شناسی ہوتا ہے ۔ خود شناسی وہ اسم ہے جس کی تاثیر سے خود ستائی ، خودنمائی ، خود غرضی ، لالچ ، حسد ، رعونت اور غیض و غضب کے جھاڑ جھنکار اور خارزارجل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔

 لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستان بنا کر ، متعدد حکومتیں بدل کر ، مارشل لائیں لگا لگا کر ، جنگیں لڑ لڑ کر ، ہم صدیوں پرانی اور فرسودہ معاشرتی روایات کو نہیں بدل سکے اور ہم میں سے اکثر بدستور لالچی ، حاسد ، جارح ، مغرور ، پریشاں خاطر اور مایوسیوں کے مارے ہوئے ہیں تاہم کبھی کوئی کرکٹ میچ جیت کر ہم جھومر،  بھنگڑا یا ہو جمالو کی دھن پر ناچ کر دل کا رانجھا راضی کر لیتے ہیں ۔

مگر من حیث القوم ہم تا حال فرقہ وارانہ نفرت ، خوف ، اور اپنے تاریخی قومی تفاخر کا ملا جُلا گرگٹ ہیں جو اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے ۔ ہم تشدد بھی ہیں اور امن بھی ۔ ہم ابھی بیک وقت بیل گاڑی ، گدھا گاڑی ، اور اونٹ گاڑی بھی ہیں اور میٹروبس ، برقی ریل اور سپر سونک جیٹ بھی ، لیکن نفسیاتی سطح پر چونکہ ہم بالکل بھی نہیں بدلے اس لیے پاکستان کے جو تاروپود ہم نے تیار کیے ہیں وہ ہمارے باطن کا عکس ہیں ۔

ہمارا بیرونی معاشرتی ، ثقافتی اور سیاسی ڈھانچہ ہمارے اندرونی عذابوں اور تضادات کی من و عن تصویر ہے۔ کیونکہ ہم پوری تحریکِ پاکستان اور قیام پاکستان کی چوہتر سالہ تاریخ کا ، جو انیس سو چالیس کی قراردادِ لاہور سے شروع ہوتی ہے ، اور اقتدار کے چھیاسٹھ سالہ سیاسی ، اقتصادی اور معاشرتی سفر کا ماحصل ہیں ۔

ہم میں سے ہر پاکستانی پورا پاکستان ہے ۔ اور ہم اب اپنے سفر میں یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ بانی ء پاکستان کی قبر سے ملحقہ کمرے کو دادِ عیش دینے اور نوجوان جسموں کی آبرو باختگی کے لیے کرائے پر دیتے ہیں اور قوم کی بیٹیوں کی دلالی وصول کر کے اس سے حلال گوشت خریدتے ہیں اور اپنی قوم کے اعلیٰ ترین قائد کے مزار کو قحبہ خانے میں تبدیل کر کے قائدِ اعظم کے احسانوں کا بدلہ چکا رہے ہیں :

یہ ترے نام پہ مِلّت کو نچانے والے
بوٹیاں عصمتِ جمہور کی کھانے والے
ہڈیاں اپنے بزرگوں کی چبانے والے
تیری تربت پہ ترا عرس منانے والے
ایک دن تیرا کفن بیچ کے کھا جائیں گے
اور پھر بھی تیری عظمت کی قسم کھائیں گے

اے مرے قائدِ اعظم ۔ ۔