کونسا محفوظ شہر؟

  • منگل 04 / مارچ / 2014
  • 4372

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں بے گناہ پاکستانیوں کے قتل عام نے جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے وہیں ان کا بچا کچھا اعتبار بھی زائل کر دیا ہے۔ یہ محض ایک تخریبی کارروائی نہیں بلکہ ریاست پر ایک باقاعدہ حملہ تھا، ایک ایسا حملہ جس میں اسلامی اصول جنگ کو بھی ایک بار پھر پامال کیا گیا۔

حملہ آوروں نے بے گناہ مسلمانوں کا بے دریغ خون بہا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ جب چاہیں ریاستی اداروں اور عوام پر کاری ضرب لگا سکتے ہیں اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے محفوظ ترین شہر کو اپنے پیروں تلے روند سکتے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس وحشیانہ حملے سے لاتعلقی کا اظہار تو کیا ہے لیکن حملہ آوروں کی مذمت میں ایک بھی حرف ملامت ادا نہیں کیا۔ طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ اس حملے کی ذمہ دار بھارتی کی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ جیسی پاکستان دشمن ایجنسیاں بھی ہو سکتی ہیں اور مجاہدین کا کوئی گروہ بھی۔ گویا ان کے نزدیک بے گناہ نہتے مسلمانوں اور ایک اسلامی ریاست کی عدالتوں اورججوں پر حملہ کرنے والے مجاہد بھی ہو سکتے ہیں اور ایک دشمن ریاست بھی۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے یہ نام نہاد مجاہد اور ہمارے دشمن ایک ہی پیج پر ہیں۔ احرار الہند نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریک طالبان نے وضاحت کی ہے کہ احرارالہند تحریک طالبان پاکستان میں شامل تھی لیکن چند ہفتے قبل اس نے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا اختلاف تھا جس کی بنا پر اس تنظیم نے تحریک طالبان سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس وحشیانہ حملے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کے سدباب سے متعلق حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

اس حملے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے ایک بار پھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت دیگر فوجی و سیاسی حکام سے ملاقات کی اور مذاکرات کے مستقبل کا جائزہ لیا۔ یہ اجلاس بنیادی طو رپر مذاکرات کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ لیکن بیشتر وقت ان نئے مہلک حملوں پر تبادلہ خیال میں گزر گیا۔ عام افراد پر طالبان کے حملوں نے مذاکرات کی فضا مکدر کر دی ہے اور فریقین کے درمیان پہلے سی ہی اعتماد کے کمزور رشتے کو شدید دھچکہ لگا ہے۔

اس صورت حال میں مسلح حملوں کے ذمہ دار عناصر کے تعاقب کو مزید مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست اگر مذاکرات کو ناگزیر بھی سمجتی ہے تو اس کے ساتھ فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھی جانی چاہئیں۔ حکومت اور عسکری قیادت کو چاہئے کہ وہ یک جان و یک زبان ہو کرفیصلہ کن اقدام کریں اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائیوں کا جواب شمالی وزیرستان سے آئے گا۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وہ اس فساد سے زیادہ شدید اور بدتر ہو گا جو اس وقت پھیلایا جا رہا ہے۔

جنگ بندی کا اعلان طالبانِ کی جانب سے کیا گیا۔ اگر وہ اس اعلان میں مخلص ہیں اور لاحاصل خوں ریزی کا سلسلہ منقطع کرنے میں واقعی دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اسلام آباد پر حملہ کرنے والے گروہ کے سرکردہ افراد کی نشاندہی کریں اور ان سے متعلق تمام معلومات سے حکومت کوآگاہ کریں۔ ان کی کمین گاہوں سے بھی حکومت کو مطلع کیا جانا چاہئے۔ تحریک طالبان کے اخلاص کا اندازہ اسی بات سے ہو گا۔

اب یہ بھی ضروری ہو گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک پہنچیں۔ اس سلسلے میں کوئی غفلت اور تساہل برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ اسلام آباد پولیس سے جو غفلت سرزد ہوئی ہے، اس کا سختی سے احتساب کیا جانا چاہئے۔ اگر یہ خبر درست ہے کہ اس حملے کے بارے میں چند روز قبل انٹیلی جنس ایجنسیوں نے متعلقہ حکام کو مطلع کر دیا تھا تو ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ اسلام آباد میں سکیورٹی اداروں نے ان اطلاعات کی روشنی میں حفظ ماتقدم کے طور پر کیا کارروائی کی؟۔

پولیس کی کارکردگی تو سب کے سامنے عیاں ہے کہ وہ تاحال حملہ آوروں کی حتمی تعداد کا بھی تعین نہیں کر سکی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور تین تھے جن میں سے 2 نے اپنے آپ کو بم دھماکے سے اڑا لیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کے گھیراؤ کے باوجود تیسرا دہشت گرد کیسے فرار ہوا۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گرد جن گاڑیوں میں بیٹھ کر آئے تھے، وہ کیسے غائب ہو گئیں۔

چند روز قبل ہی وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد بالکل محفوظ شہر ہے۔ کیا محفوظ شہر ایسا ہوتا ہے؟ اپوزیشن نے وزیرداخلہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور حالات کا تناظر میں یہ مطالبہ کسی حد تک مناسب بھی ہے۔ حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر دہشت گرد پاکستان کے دارالحکومت پر یلغار کر سکتے ہیں تو پھر ان کے اپنے محلات بھی محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔

پاکستان کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے آج غیرمعمولی اقدامات اٹھانے کی ضروری ہے۔ امن و امان کے لئے وفاق اور صوبوں کو بھی ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کرنا چاہئے لیکن یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم سب سیاست کو بالائے طاق رکھ کر بِلا امتیاز دھرتی ماں کا حق ادا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ قومیں برباد ہو جاتی ہیں جو قومی سلامتی کے معاملات پر بھی سر جوڑ کر نہیں بیٹھتیں۔ زندہ قومیں ابتلا کے ادوار کا اپنے اتحاد اور پختہ عزم سے مردار وار مقابلہ کرتے ہوئے ہی کامیاب و کامران ہوتی ہیں۔