تعلیم کی اہمیت
- جمعرات 06 / مارچ / 2014
- 4822
مسلمانوں کے عروج وزوال کی داستان غریب وسادہ و رنگیں ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آ موز اور تکلیف دہ بھی ہے۔ خلفائے راشدین کے دور کے بعد زوال کا جو سلسلہ شروع ہؤا وہ عباسی دور کے خاتمے اور سقوط غرناطہ وبغداد کے بعد ہمارا مقدر بن گیا۔
علامتی انداز کی خلافت عثمانیہ کے خاتمے نے تو مایوسی وناامیدی کو ہمارے گھر کا راستہ ہی دکھا یا۔ جبکہ سقوط ڈھاکہ اور پھر بوسنیا ہر زیگنوینیا کے واقعات نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو نڈھال کر کے رکھ دیا۔ اس دوران مسلمانوں پر الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہؤا جو تاحال جاری ہے۔ ایک پر امن امت کو دہشت گرد، مسلمانوں کو ایک رجعت پسند اور متشدد قوم کہا گیا۔
9/11کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں پر زندگی تنگ ہو گئی۔ عراق پر ننگی جارحیت، افغانستان پر فوج کشی اور سوڈان کی تقسیم جیسے واقعات کے باوجود مسلمان تشدد کے حامی اور عدم برداشت کے علمبردار گردانے جاتے رہے۔ فلسطین میں جمہوری طریقے سے، اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ’حماس‘ کو حکومت نہیں کرنے دی گئی اور مصر میں 52فیصد اکثریت حاصل کرنے والے ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کو ہزاروں افراد کے قتل کے بعد ختم کر دیا گیا۔ لیکن مسلمانوں ہی کو جمہوریت کا دشمن اور سخت گیر کہا جاتا رہا۔
تیونس اور لیبیا کے بعد اب شام میں آگ اورخون کی ہولی جا ری ہے۔ جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان کا جینا حرام کر دیا گیا ہے۔ ان حالات کی کچھ نہ کچھ ذمہ داری مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر 52مسلم ممالک موجود ہیں۔ اللہ کی زمین پر ایک کونے سے دوسرے کونے تک 2ارب مسلمان بستے ہیں۔ مسلم ممالک تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہیں لیکن مجموعی طور پر جدید علوم سے دور ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی موجودہ ترقی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔ شاندار ماضی اتنی بڑی افرادی قوت اور بے پناہ وسائل رکھنے کے باوجود ہم ذلیل وخوار ہو رہے ہیں۔
دنیا بھر میں کسی ایک مذہب کے لوگ آپس میں اس طرح دست وگریبان نہیں ہیں جس طرح ایک خدا ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والی یہ امت باہم برسرجنگ ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ امت مسلمہ کی ترقی کا راز کس نکتے میں پنہاں ہے اور مسلمان کس طرح موجودہ ذلت و رسوائی سے باہر نکل سکتے ہیں۔ یہ وہ سوال ہیں جو طویل عرصہ سے زیربحث ہیں لیکن ان کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے کہ مسلم امہ ان معاملات پر بحیثیت مجموعی سر جوڑ کر نہیں بیٹھ سکی۔ نہ مسلم حکمرانوں نے ذلت و رسوائی اور تباہی وبربادی کی موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنایا اور نہ مسلم دانشوروں نے اس سلسلے میں کوئی اجمالی سوچ اور فکر دی ۔
اس سلگتے ہوئے سوال کا جواب گذشتہ دنوں لاہور میں عرب دانشوروں نے اس وقت دینے کی کوشش کی جب وہ یونیورسٹی اساتذہ، ماہرین قانون، علماء اور صحافیوں کے ایک منتخب فورم سے خطاب کر رہے تھے۔ سعودی عرب کے ممتاز سکالر، دانشور، ماہر تعلیم اور سعودی عرب کی سب سے بڑی یونیورسٹی امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض کے پروچانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیمان عبد اللہ ابا الخیل نے لاہور میں سعودی عرب کے اشتراک سے قائم ہونے والی لاہور انٹرنیشنل یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی دکھ اور دردمندی کے ساتھ کہا کہ مسلمانوں نے ترقی کرنی ہے اور آج کی دنیا کا مقابلہ کرناہے تو مسلم ماہرین تعلیم، اساتذہ اور دانشوروں کو اپنی علمی سطح بلند کرنا ہو گی۔ اور میانہ روی کو اپنانا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میانہ روی اور اعتدال اسلامی تعلیمات کا تقاضا اور نبی آخر الزماں کی سنت ہے۔ یہ بات انہوں نے جس دردمندی سے کی اور اس کے لیے جو دلائل مجلس کے سامنے رکھے اس نے ہر شخص کو اس نکتے پر سوچنے پر مجبور کر دیا۔
اس مجلس میں ممتاز عالم دین اور اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سعودی نژاد پریذیڈنٹ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبد العزیز بن ابراہیم الغدیر، لاہور انٹرنیشنل یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد جمال عباسی، انٹرنیشنل اسلامک جوڈیشل کونسل کے ڈائریکٹر جنرل جسٹس (ر)منیر اے شیخ، جسٹس (ر)تنویر احمد خان، جسٹس (ر) منیر اے مغل، جسٹس (ر) بشیر بھٹی، تنظیم اساتذہ پاکستان کے صدر پروفیسر میاں محمد اکرم، پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، ڈاکٹر خالد حمید، ممتاز صحافی اور کالم نگار سید انور قدوائی، ڈائریکٹر جنرل ریلیشنز پاکستان ریلوے عبد الرؤف طاہر، ممتاز ماہر تعلیم عدنان رشید کے علاوہ بیس مختلف لہجوں میں قرآن عظیم کی قراءت محفوظ کرانے والے شہرہ آفاق قاری ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی شریک تھے۔
ڈاکٹر ابا الخیل نے اس موقع پر مسلمانوں کو فرقہ واریت سے بچنے کی بھی تلقین کی۔ سفارتی مجبوری کے باوجود انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان فروعی اختلافات میں اپنی قوت ضائع کرنے بجائے مشترک معاملات کو اپنائیں۔ ڈاکٹر سلیمان عبد اللہ ابا الخیل نے یہی پیغام تنظیم اساتذہ پاکستان اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مشترکہ تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ’’تعلیمی ثنویت اور عالم اسلام‘‘ کے موضوع پر ہونے والے اس علمی سیمینارمیں سینکڑوں اساتذہ شریک تھے۔
اس سیمینار کی خوبی یہ تھی کہ اس میں جہاں جدید علوم کے ماہرین نے پاکستان میں دوہرے نظام کے نقصانات پر روشنی ڈالی وہیں دینی مدارس کے منتظمین اور اساتذہ نے بھی اس کی خرابیوں کا تفصیلی ذکر کیا۔ ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل جو نہ صرف امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے پروچانسلر ہیں بلکہ عالم اسلام کی 280اسلامی جامعات کے بھی سربراہ ہیں۔ انہوں نے یہاں اساتذہ پر پھر زور دیا کہ اسلام تحقیق، تسخیر اور غوروفکرکا دین ہے اس لیے مسلمان اساتذہ کی ذمہ داریاں آج بہت بڑھ گئی ہیں۔ انہیں نہ صرف جدید علوم میں تحقیق کا کام کرناہے بلکہ یہ علم نئی نسل میں منتقل بھی کرنا ہے۔
انہوں نے اساتذہ ، کو تلقین کی کہ وہ نوجوان نسل کی بہترین تربیت کے لیے خود کو جدید طریقوں سے آراستہ کریں اور اسے ایک دینی فریضہ سمجھ کر ادا کریں کہ نئی نسل ہی ہمارا اثاثہ ہے اور اس نسل ہی نے اگلی ایک دو دہائیوں کے بعد مسلم امہ کی قیادت سنبھالنی ہے۔ انہوں نے طلبا پر زور دیا کے ان جدید سائنسی علوم پر خصوصی توجہ دیں۔
ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل نے کہا کہ ترقی کی خواہش سب کو ہوتی ہے لیکن تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ مسلم امہ کو اپنی ساری توانائیاں حصول تعلیم پر صرف کرنی چاہییں، مسلم دنیا میں تعلیم کی شرح بڑھے گی تو ترقی کی رفتار بھی تیز ہو گی۔ ہمارے رویوں میں بھی بہتری آئے گی اور ہمیں باقی دنیا سے اپنے معاملات بہتر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے اشارتاٌ یہ بھی کہا کہ شاید آج کی مسلم دنیا اپنا کیس بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ہمیں مسلمانوں پر لگانے جانے والے الزامات اور مسلم دنیا پر ہونے والی سیاسی، ثقافتی، سفارتی یلغار کا دلائل اور اعتدال کے ساتھ جواب دینا ہو گا۔
اس موقع پر پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبد العزیز بن ابراہیم الغدیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آج جدید دنیا کے سامنے جن الزامات اور مشکلات کا سامنا ہے انہیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ پاکستان کو ان کا جواب زیادہ سائنسی انداز میں دینا چاہیے۔ خاص طور پر مغربی میڈیا پاکستان کے بارے میں جو شکوک وشبہات پیدا کر رہا ہے ان کا فوری اور مؤثر تدارک کرنا چاہیے۔
جبکہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے پریذیڈنٹ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے بھی ان باتوں کی تائید کی۔ اس تقریب کے دوران یہ دلچسپ انکشاف بھی ہؤا کہ لاہور انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی دنیوی اور دینی اعتبار سے ایک خوش نصیب شخص ہیں۔ وہ مسلک اہلحدیث سے وابستہ مشہور روپڑی خاندان سے وابستہ ہیں۔ لیکن اتحاد بین المسلمین کے جذبے کے تحت انہوں نے اپنے نام کے ساتھ اپنا خاندانی لاحقہ استعمال نہیں کیا۔ وہ خود اور ان کے دس بچے حافظ قرآن ہیں اور اللہ نے ان پر یہ خصوصی عنایت بھی کی ہے کہ ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں پی ایچ ڈی ہیں۔ اس طرح کسی ایک گھر میں 8پی ایچ ڈی افراد کا ہونا شاید ایک عالمی ریکارڈ ہو گا۔
ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی کے دو داماد بھی پی ایچ ڈی کے حامل اور علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ان کی اہلیہ محترمہ رضیہ مدنی بھی لاہور شہر کی خواتین میں مقبول ایک عالمۂ دین ہیں۔ ان کا تعلیمی اور قرآنی درس وتدریس کا وسیع حلقہ موجود ہے۔ اور انہوں نے اپنے آپ کو خواتین کی دینی تعلیم ورتربیت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ لیکن یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ اس میں کسی قسم کی فرقہ واریت کا کوئی رنگ شامل نہ ہونے پائے۔
عرب دانشوروں نے مسلمانوں کو اپنی علمی سطح بلند کرنے، اعتدال اور میانہ روی اپنانے اور فرقہ واریت سے بچنے کا جو پیغام دیا ہے امت مسلمہ کے دانشوروں اور اہل علم کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔