سر کا استعمال
- جمعہ 07 / مارچ / 2014
- 4946
سب سے پہلے تو مملکت خداداد سے تعلق رکھنے والے سبھی بہن بھائیوں کو مبارک باد کہ جو دشمن قوتیں از قسم یہود و ہنود ہمیں مسلسل نیچا دکھانے کیلئے اپنی نیندیں حرام کیئے ہوئے ہیں، ان پر ہم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ جو کچھ ہم کرسکتے ہیں اسکا تصوروہ خواب میں بھی نہیں کر سکتے۔ آئیے گزشتہ چند دنوں کے دوران اپنی کامیابیوں پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ اگر ملکی نوجوانوں کو ہمارے عظیم اور وژنری لیڈروں کی قیادت میسر ہو تو وہ کیسے کیسے کارنامے سر انجام دے سکتے ہیں۔
پچھلے دنوں پنجاب میں خادم اعلیٰ و ارفع کی قیادت میں ایک یوتھ فیسٹیول منعقد ہؤا تھاجس میں تالیوں کی گونج میں نوجوانوں نے کئی عالمی ریکارڈ توڑے اور نئے بناتے ہوئے اپنے نام گنیز بک آف ریکارڈ میں درج کروائے۔
پہلا ریکارڈ تو دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا بنانے کا تھا،جسے دن بھر کے بھوکے پیاسے سردی سے ٹھٹھرتے بچوں اور نوجوانوں نے کامیابی سے لہرانے کا کام انجام دیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ بنگلہ دیش کے پاس تھا۔ اور یوں ہم انہیں نیچا دکھا کر 1971کی سبکی کا ازالہ کرنے میں بالآخر اب کامیاب ہو ئے۔ تاریخ بتاتی ہے کی جب سلطنتیں ڈوب رہی ہوتی ہیں تو ان کے مختار اپنی عظمت کا بھرم رکھنے کے لئے ایسے ہی کارنامے سرانجام دیا کرتے ہیں۔ یا پھر رعایا کو فروعی بحثوں میں مشغول رکھا جاتا ہے۔
مثلا جب ہلاکو کی فوجیں بغداد پر دستک دے رہی تھیں تو خلیفہ معتصم باللہ کے وظیفہ خوار علماء حلال حرام کی بحثوں میں الجھے ہوئے تھے۔ غالباٌ طوطے کے حلال حرام ہونے پر بحث جاری تھی۔ ایسے میں ہلاکو خاں وہاں ٹہلتا ہؤا آیا جیسے کہ ہمارے ہاں اسکے تاتاری عزیز چہل قدمی کرنے تشریف لاتے ہیں۔ اور پھر سب سے پہلا کام اس نے یہ کیا کہ اسّی ہزار کتابوں پر مشتمل نایاب کتب خانہ جلا دیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے ہاں بچیوں کے سکول جلائے جاتے ہیں اور پھر کئی روز تک فتح کی اس آتش بازی سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ اس کے بعد خلیفہ جی کے ساتھ جو کچھ ہؤا، وہ تو سبھی جانتے ہیں۔ سو اب اپنی خلافت واپس حاصل کرنے کے لئے ہم پھر سے کوشاں ہیں تاکہ طوطے والی بحث کوآگے بڑھایاجا سکے۔
ایسی ہی ایک مثال مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار کی بھی دی جاسکتی ہے۔ ظل سبحانی کی بادشاہت قلعہ تک محدود لیکن قصیدے پڑھے اور سنے جا رہے ہیں۔پ ھر عالم پناہ کا جو انجام ہوا وہ بھی سبھی جانتے ہیں۔
جھنڈے کی بات تو خیرسمجھ میں آتی ہے کیونکہ نیل کے ساحل سے تا باخاک کاشغر گاڑنے کے لئے بہت سے جھنڈے چاہیئے ہوں گے۔ ایک جھنڈا لال ٹوپیوں والوں کو بھی چاہیئے ہو گا تاکہ لال قلعہ واپس لے کر اس پر لہرایا جاسکے۔ البتہ سب سے بڑا جھنڈا تو ظاہر ہے خادم اعلیٰ و ارفع کے سرکاری غریب خانے پر ہی سجے گا کہ ایسے مشکل وقت میں اس قومی اہمیت کے کام کی حوصلہ افزائی توآپ ہی نے کی ہے اور بکمال مہربانی فنڈز بھی عطا فرمائے ہیں۔
اور اب آئیے دوسر ریکارڈ کی طرف۔ یہ ریکارڈ نوکدار کِیلوں کے دو بستروں میں سینڈوچ کی طرح دب کر ایک ہاتھ سے بیٹھکیں نکالنے کا ہے۔ سبحان اللہ۔ ہے کوئی دنیا میں ہم سا جو ہماری ان مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا مقابلہ کر سکے۔اب آپ خود ہی سوچئے کہ جو قوم کیلوں کے بستر پر نہ صرف سو سکتی ہو بلکہ بیٹھکیں بھی نکال سکتی ہو، اور وہ بھی ایک ہاتھ سے ، اسے دنیا کی کونسی طاقت شکست دے سکتی ہے۔ ہم تو جناب وہ لوگ ہیں جن کے پاؤں میں آبلے اور سامنے کانٹوں کا جھاڑ ہو تو بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں: جی خوش ہؤا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
تیسرا ریکارڈ سب سے اہم ہے۔ باقی ریکارڈ تو دنیا والے شاید کبھی توڑ دیں لیکن ہمیں یقین ہے یہ ریکارڈ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔
اور یہ ریکارڈ ہے ایک منٹ کے اندر ۔۔ ایک سو پچپن اخروٹ سر سے توڑنے کا۔ ہوئی نا بات۔
ہم نے ایک مرتبہ ڈسکوری چینل پر ایک ڈاکومینٹری دیکھی تھی جس میں شمپنزی بندر کوئی اخروٹ نما پھل پتھر پر رکھ کر اسے لکڑی کے کندوں سے توڑ کر کھاتے دکھائے گئے تھے۔ اس تبصرے کے ساتھ کہ یہ عمل ان کی اوذار استعمال کرنے کی اہلیت اورذہانت کا پتہ دیتا ہے۔اب انہیں بندروں کو اگر اس یوتھ فیسٹیول کی فلم دکھائی جائے تو شرم سے ڈوب مریں کہ اتنا بڑا سر ہوتے ہوئے بھی ابھی تک پتھروں اور کندوں سے اخروٹ پھوڑے جارہے ہیں۔
اور صرف بندر ہی کیوں یہ اپنے یہود و ہنود کو ہی لے لیجیئے۔ نٹ کریکر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات اب انہیں کس طرح سمجھائی جائے کہ گذشتہ کم و بیش پینسٹھ سال کی کڑی تحقیق و جستجو کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ چیز ہمیشہ وہی استعمال کی جائے جو قابل استعمال اور ہر وقت دستیاب ہو۔ اندر کا حال تو خدا جانے۔ پر اپنے ہاں کھوپڑی کے باہر والا حصہ تو ہر وقت دستیاب ہے۔ سیدھی سی بات ہے۔ جب اخروٹ ہی پھوڑنے ہیں تو پھر
اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو۔
اپنا سر کیوں نہ ہو۔ پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغز اخروٹ کے اندر ہوتا ہے یا سر میں۔