یوم نسواں اور پاکستان کی عورت
- ہفتہ 08 / مارچ / 2014
- 4008
آج دنیا بھر میں یوم نسواں منایا گیا۔ ان ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں خواتین نے گزشتہ 50 برس کی جدوجہد کے ذریعے مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرنےکی کوششیں بارآور ہوتے دیکھی ہیں، اب ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ معاشروں میں مکمل مساوات تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
ان ملکوں میں سیاسی اور سماجی تنظیمیں اپنی کامیابیوں پر فخر کا اظہار بھی کرتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی کبھی اس بات کو فراموش نہیں کیا جاتا کہ انہیں ابھی مزید آگے جانا ہے۔ عورتوں کو سماج کے ہر شعبہ میں مساوی حق، احترام اور مواقع دلانے کے عزم کو تازہ کیا جاتاہے۔ اس لحاظ سے اس مہم کی سمت درست کہی جا سکتی ہے کہ بیشتر ترقی یافتہ ممالک کی سیاسی حکومتیں بھی اس جدوجہد کا حصہ ہیں اور اس اصول کو معاشرے کی ایک سچائی اور بنیاد کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ عورتوں اور مردوں میں تمیز کرنا ایک ناقص اور فرسودہ تصور ہے۔ دونوں کو سماج میں ایک طرح کے مواقع اور احترام حاصل ہونا چاہئے۔ اس حوالے سے اختلاف کی گنجائش، حقوق کی جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی خواہشات اور حکومتوں کے وسائل کے درمیان توازن کی حد تک بھی موجود رہتی ہے۔
اس کے برعکس ترقی پذیر ملکوں میں جن میں بیشتر اسلامی ممالک سرفہرست ہیں عورتوں کو مساوی سماجی مرتبہ و مقام حاصل کرنے کے لئے ابھی طویل جدوجہد کرنا ہے۔ اسلام کے نام پر انتہاپسندی کا جو ایک طوفان گزشتہ ایک دہائی کے دوران سامنے آیا ہے اس نے بھی اس جدوجہد اور کوشش کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسلامی ملکوں میں انتہاپسند مذہبی تنظیموں کے زیراثر یہ تصور عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت کے لئے علیحدہ معیار قائم کئے گئے ہیں۔ یہ عناصر اس بات کی سند بھی فراہم کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کا دست نگر اور معاشرے میں دوسرے درجے کا مقام ہی ملنا چاہئے۔
اس انتہاپسندی کے مقابلے میں اگرچہ عالمی سطح پر مسلمان دانشور خواتین اور سرگرم کارکنوں نے آواز بلند کی ہے اور متحرک رہنے کی کوشش کی ہے لیکن بدنصیبی سے ان کوششوں کو ان ملکوں کی سیاسی قیادت کی مکمل سرپرستی اور اعانت حاصل نہیں ہے۔ سماجی طور پر پیدا کئے جانے والے مغالطے بھی خواتین کے لئے یکساں مواقع اور احترام کے مطالبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
یوں تو بیشتر ترقی پذیر ملکوں کی طرح مسلمان ملکوں میں بھی معاشی عدم مساوات کی وجہ سے بھی عورتوں کے مساوی حقوق کی جدوجہد قوت پکڑنے سے محروم رہتی ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ مالی وسائل کی فراوانی کے باوجود بعض مسلمان ملکوں میں عورتوں کو سماجی لحاظ سے دبانے اور ان بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ نہ تو انہیں ووٹ کا حق دیا جاتا ہے اور نہ ہی معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کام، تعلیم اور سیاسی و سماجی تنظیم سازی کا مساوی موقع ملتا ہے۔
8مارچ کو عالمی یوم نسواں کے حوالے سے ایک بیان میں ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے خاص طور سے اس جانب توجہ مبذول کروائی ہے۔ اس بیان میں پاکستان میں طالبان جیسی انتہاپسند قوتوں کے ساتھ سیاسی جمہوری حکومت کی طرف سے مذاکرات کرنے اور انہیں سیاسی معاملات و اختیارات میں شراکت دینے کے ارادے کو خواتین کے حقوق کے لئے خاص طور سے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
اس بیان میں بتایا گیا ہے کہ طالبان اور اس قسم کی دیگر تحریکیں اور تنظیمیں خواتین کے تمام حقوق سلب کرنا چاہتی ہیں۔ اس لئے انہیں ملک کے سیاسی معاملات میں حصہ دار بنانے کا یہ مقصد ہو گا کہ پہلے سے سماجی اور معاشی طور پر پس ماندہ اور محروم طبقے کو مزید پیچھے کی طرف دھکیلا جائے گا۔ اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں خواتین متعدد سماجی تعصبات کا شکار ہیں۔ وہ قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ انتہاپسندانہ مذہبی رویوں کے تحت ان پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔
ایشین ہیومن رائٹس کا یہ انتباہ درست اور بروقت ہے۔ متعدد سماجی، معاشی اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ابھی تک پاکستان میں خواتین مساوی حقوق کی جدوجہد میں قابل توجہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں جبری شادیوں، سماجی استحصال اور بے توقیری جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ملک کی سیاسی قوتوں کو جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر اقتدار تک آتی ہیں، خاص طور سے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔