لاہور میں ادبی میلوں کی بہار
- اتوار 09 / مارچ / 2014
- 4862
گزشتہ کچھ دنوں سے صوبائی دارالحکومت میں ادبی اور کتابی میلوں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ پہلے الحمرا میں لاہور لٹریری فیسٹیول برپا ہؤا جو تین روز جاری رہا ۔ اس کے بعد ایکسپوسنٹر جوہر ٹاون میں بک فییر شروع ہوگیا جوپانچ روز تک اپنی بہار دکھا کر ختم ہوگیا ۔
یہ دونوں( ادبی اور کتاب) میلے اپنی نوعیت اور اثر پذیری کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کے حامل قراردیے جاسکتے ہیں ۔ جنہیں اہل لاہور بہرحال دیر تک یاد رکھیں گے اور ان کے ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے ۔
الحمرا میں لاہور لٹریری فیسٹیول کے نام سے سجائے جانے والے ادبی میلے نے خوب رنگ جمایا ۔الحمرا جہاں عمومی طورپر پر سکون ماحول پایا جاتا ہے ، ایسی گہماگہمی دیکھنے میں آئی کہ بائدو شائد ۔ کراچی میں ادبی میلے کی ’بے مثال کامیابی‘ کے بعد لاہور میں اس میلے کا انعقاد کیاگیا تھا ۔ دھماکوں ، بارود، دھوئیں اور قتل و غارت گری کی اس کثیف فضا اور آلودہ ماحول میں ادب کی بادِ نسیم نے مشام جاں کو معطر کردیا ۔
گو کہ لاہور ادبی میلہ 99 فیصد انگلش میڈیم طبقے کے لیے تھا کہ اس میں وہ تمام لوازمات موجود تھے جو مغربی اورفرنگی تہذیب کا خاصا تصور کیے جاتے ہیں لیکن ذائقے میں تبدیلی کے لیے کہیں کہیں اردو اور پنجابی کا تڑکا بھی لگایا گیا تھا۔ یوں دراصل ان ’’اردو میڈیم ‘‘ (اوسط درجے )کے شہریوں کے لیے قدرے کشش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جوکسی غلط فہمی کی بنا پر یا بھول چوک سے یہاں پہنچ گئے تھے ۔
ورنہ اصل میلہ تو ہماری اس نژادِ نو کے لیے تھا جو مغربی تہذیب کے زیر سایہ پلی بڑھی اور جوہمارے مستقبل کی اشرافیہ کہی جاسکتی ہے ۔ یہاں پر انگریزی زبان کے اہل قلم ، اہل فن ، اہل دانش اور اہل ہنر موجود تھے اور ہر فِگر ایک سے بڑھ کر ایک تھا۔ ان میں ادیب بھی تھے صحافی بھی ، سفارت کار بھی تھے اور اہل سیاست بھی، شاعر بھی تھے دانشور بھی ، فنکار بھی تھے اور اینکر ز بھی ۔ گویا ایک کہکشاں تھی جو زمیں پر اتر آئی تھی ۔
بلا مبالغہ ہزاروں افراد نے میلے میں شرکت کی۔ تاہم سب سے زیادہ تعداد ان نوجوانوں کی تھی جو توانا جذبوں اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ شریک تھے ۔ان کی اکثریت نجی سکولوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات کی تھی جوکسی صنفی امتیاز کے بغیر ذہنی وفکری آزادی کے ساتھ بھرپور انداز میں اس میلے سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔
یوں محسوس ہورہاتھا جیسے شہر کے سمندر میں الحمرا کے مقام پر ایک ایسا نیا جزیرہ ابھر آیا ہو جس کا لاہور یا اہل لاہور سے بہرحال کوئی تعلق نہیں تھا ۔ اس اعتبار سے اسے لٹریری فیسٹیول تو کہا جاسکتا تھا لیکن لاہور لٹریری فیسٹیول کہنا درست نہیں۔ کہ لاہور اس میں کہیں دکھائی نہیں دیا ۔ میلے میں آکر محسو س ہوتا تھا کہ یہاں کو ئی اور ہی مخلو ق پائی جارہی ہے جس کا اس ملک ،ا س کی تہذیب اور اس کی دھرتی سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ۔ اجنبی چہرے اور اجنبی ماحول ہی اس میلے کی اصل شناخت تھی ۔
اس میلے کو کامیاب بنانے کے لیے اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک سے بھی اہل ذوق نے بھرپور کردارا دا کیا۔ پاکستان میں مقیم امریکی سفیر اور بھارتی اہل قلم کی شرکت نے بھی اس میلے کو چار چاند لگائے تھے ۔ان کے علاوہ نجم سیٹھی ، وکرم سیٹھ، عائشہ جلال ، شازیہ سکندر ، فہمیدہ ریاض ، راشد رحمان ، ضیا ء محی الدین ، تہمینہ درانی ، شیریں رحمان ، ولی ناصر، اعتزاز احسن ، خالد احمد ،احمد رشید جیسے عبقری بھی اس میلے کی کامیابی میں برابرکے حصہ دار تھے۔
ایکسپو سنٹر جوہر ٹاؤن میں سجایا گیا بک فیئر بھی اپنی مثال آپ تھا۔ یہ اٹھائیسواں سالانہ فیئر تھا جو بغیر کسی فِیئر (Fear)کے کامیاب چلا آرہا ہے ۔26فروری سے 2 مارچ تک جاری رہنے والے اس بک فیئر میں کم وبیش 275بک سٹالز لگا ئے گئے تھے جن میں ملک کے تقریباً تمام قابلِ ذکر پبلشرز اور بک سیلرز کی نمائندگی موجود تھی ۔
اس فیئر میں تین سال کے بچوں سے لے کر اسی سال کے بوڑھوں تک کی دلچسپی کاسامان اورکتابی مواد موجود تھا ۔ایک ہی چھت تلے کتابوں کی تمام ورائٹی کا دستیاب ہونا بجائے خود ایک حوصلہ افزا اور خوش آئند بات تھی ۔ لاہور لٹریری فیسٹیول کے مقابلے میں یہاں پر پاکستان کے تمام شہری بھی موجود تھے جس کی وجہ سے یہاں کسی اجنبی ماحول کا گمان نہیں ہوتا تھا ۔ جس طرح کہ لاہور لٹریری فیسٹیول میں دیکھا گیا کہ یہ سراسر دیسی ماحول تھا جس میں ہر چہرہ شناسا دکھائی دیتا تھا۔ سو یہاں آنے والے کسی قسم کے تحفظات کا شکار نہیں تھے اور انہوں نے بڑے ’’کھلے ڈھلے ‘‘انداز میں سٹالز کے وزٹ کیے ، اپنے جیسے لوگوں سے انٹرایکشن کیا ، اپنی پسند کی کتابیں خریدیں اور گھر کی راہ لی ۔
ان میلوں میں آنے والے افراد کا کہنا تھا کہ ایسے بْک فیئر سال میں ایک بار نہیں چار بار لگنے چاہئیں تاکہ لوگوں میں پڑھنے کاشوق پیدا ہو۔ بلا شبہ بْک فیئرز ملک میں کتب بینی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس وقت جب کہ ملک میں مہنگائی کے عفریت نے ہر سہولت کو نگلنا شروع کردیا ہے کتابیں بھی انسانی رسائی سے باہر ہوتی جارہی ہیں ۔اگر ان پر عائد ڈیوٹیاں ختم کردی جائیں تو ان کی قیمتیں بھی عام آدمی کی قوت خرید میں آسکتی ہیں ۔ حکومت کو اس سلسلے میں خصوصی توجہ دینی چاہئے ۔
گو کہ یہ میلے اپنی ظاہری شکل و صورت اور اغراض ومقاصد کی رو سے ایک سے لیکن بہ باطن یہ دو مختلف و متضاد طبقات ، تہذیبوں اور رویوں کے عکاس اور آئینہ دار دکھائی دیتے تھے ( اور اس اعتبار سے ایک کو ولائتی میلہ اور دوسرے کو دیسی میلہ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے )۔ لیکن اس کے باوصف مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی باق نہیں کہ آج کے افراتفری ، مارا ماری اور دہشت گردی سے آلودہ ماحول میں یہ میلے بہر حال انتہائی دل خوش کن اور حوصلہ افزا ایکٹیویٹی قراردیے جاسکتے ہیں ۔ سماجی سطح پر بھی یہ بلا شبہ ایک ایسا مثبت قدم ہے جس کی نہ صرف پذیرائی کی جانی چاہئے بلکہ انہیں بیک آپ بھی کیاجانا چاہئے ۔