سندھ فیسٹیول کے سائے تلے

  • سوموار 10 / مارچ / 2014
  • 4521

پاکستانی میڈیا کے کردار سے بہت سارے لوگ خوش نہیں ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسی میڈیا نے بہت سے مواقع پر انتہائی اہم مسائل پر لب کشائی کی ہے اور حکومت کی انتہائی نااہلی کو سامنے لانے کا سبب بنا ہے۔ آج اگر میڈیا اپنی سماعتیں بیدار نہ رکھے ہوئے ہوتا تو کسے خبر ہوتی کہ بلاول بھٹو زرداری کے سندھ فیسٹیول کی چکا چوند اور روشنیوں کے سائے تلے سندھ حکومت کی مصروفیت سے قطع نظر تھر کے صحراؤں کی ریت پر موت رقصاں ہے۔

ضلع تھرپارکر صوبہ سندھ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 19637مربع کلومیٹر یعنی40لاکھ 89ہزار 791ایکڑ پر محیط ہے۔ یہ ضلع چھ تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی آبادی 955،812 ہے جس میں سے صرف 4.54 فیصد ہی شہروں میں مقیم ہے۔ اس کے شمال میں میر پور خاص اور عمر کوٹ کے اضلاع، مشرق میں بھارت کے بارمیر اور جیسلمیر کے اضلاع، مغرب میں بدین اور جنوب میں رن کچھ کا متنازع علاقہ ہے۔ ضلع کا کل رقبہ 19،638 مربع کلومیٹر ہے۔

 1990ء تک عمر کوٹ اور میر پور خاص کے اضلاع ضلع تھر پارکر کا حصہ تھے، جس کا صدر مقام میر پور خاص شہر تھا۔31اکتوبر 1990ء کو اسے دو اضلاع میر پور خاص اور تھرپارکر میں تقسیم کر دیا گیا۔ تھرپارکر کا ضلعی صدر مقام مٹھی ہے۔ عمر کوٹ کو17اپریل 1993ء کو ایک الگ ضلع بنایا گیا۔ صحرائے تھر پاکستان کی جنوب مشرقی اور بھارت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 200,000 مربع کلومیٹر ہے یا 77,000 مربع میل ہے۔

صحرائے تھر بنیادی طور پر ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں سے آباد ہے۔ پاکستانی حصے میں سندھی اور کولہی آباد ہیں۔ بھارتی ریاست راجستھان کی تقریباً 40 فیصد آبادی صحرائے تھر میں رہتی ہے۔ ریگستان میں لوگوں کا بنیادی پیشہ زراعت اور گلہ بانی ہے۔ گزشتہ سالوں میں وہاں پر انسانی آبادی کے ساتھ جانوروں کی آبادی میں زبردست اضافہ ہؤا ہے۔ ریگستان میں انسانی اور مویشیوں کی آبادی کا اضافہ ماحول میں بگاڑ کی وجہ ہے۔ ضلع تھر پارکر میں بہت سے ایسے دیہی علاقے ہیں جہاں تک جانے کیلئے کوئی پختہ سڑک نہیں ہے۔

ریگستانی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس دور جدید میں بھی لوگ اونٹوں پر سفر کر کے اسپتالوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ تھر کے دور دراز دیہی علاقوں میں عوام کی سہولت کیلئے کوئی ڈسپنسری نہیں ہے اور نہ ہی وہاں محکمہ صحت کی کوئی گشتی ٹیم جاتی ہے۔ ان علاقوں میں کوئی شخص بیمار ہو جائے تو سفری سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے بر وقت اسپتال تک نہیں پہنچ پاتا اور اگر پہنچ بھی جائے تو غربت کی وجہ سے علاج نہیں کروا سکتا۔

بدقسمتی سے تھر کا نام لیتے ہی ہر شخص کے ذہن میں بھوک اور پیاس کا احساس ابھرتا ہے۔ تھر میں زندگی کا دار و مدار بارشوں پر ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو زندگی اپنے جوبن پر نظر آتی ہے۔ مقررہ مدت میں بارشیں نہ ہونے سے نہ تو فصلیں ہوتی ہیں اور نہ چارہ۔ بارش نہ ہونے سے علاقہ قحط کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور انسانی زندگی عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

رواں سال بھی کچھ ایسا ہی ہؤا۔ حکومت کو بروقت علاقے کو قحط زدہ قرار دے کر امدادی کارروائیاں شروع کرنی چاہئے تھیں لیکن میڈیا اور مقامی لوگوں کی جانب سے مسلسل توجہ دلانے کے باجود حکومت ایسا نہ کر سکی اور نیتجے میں صورتحال خراب ہوتی رہی۔ حکومت یا تو ٹال مٹول کرتی رہی یا پھر کھوکھلے اعلانات کرتی رہی مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔

تین ماہ قبل تھر کے قحط کا ذکر سندھ اسمبلی میں بھی ہؤا تھا۔ تب حکومت نے 60 ہزاربوری گندم فراہم کرنے کا اعلان کیا لیکن یہ گندم مارچ کے پہلے ہفتے تک تقسیم نہیں ہو سکی۔ گزشتہ ایک ماہ سے صورتحال کی خرابی کی خبریں میڈیا میں آتی رہیں لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہ دی۔ غذائیت کی کمی کا پہلا شکار معصوم بچے ہوتے ہیں۔ ماہ جنوری میں بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونا شروع ہوئے اور میڈیا نے یہ خبریں بھی رپورٹ کیں مگر اس وقت تک یہ خبریں ہیڈ لائنز کی زینت نہیں بنی تھیں۔ جب بڑے پیمانے پر بچوں کی اموات شروع ہوئی اور اخبارات و ٹی وی چینلز کی شہ سرخیاں اور ہیڈ لائنز بننے لگیں۔ جبکہ سوشل میڈیا پر بھی شور ہؤا تب وقت کے سلطانوں کے کانوں پر جوں رینگی۔ یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ صورتحال نہ تو ایک دن میں پیدا ہوئی اور نہ ہی ایک دن میں خراب ہوئی ہے۔

دوسری جانب خراب طرز حکمرانی کی مثال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو گزشتہ ہفتے ان واقعات کے حوالے سے غلط بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں۔ بچے بھوک یا غذائیت کی کمی کی وجہ سے نہیں مر رہے ہیں بلکہ اس کی دیگر وجوہات بتائی گئیں اور یہ تک کہا گیا کہ دوسرے اضلاع کے بچے تھر میں آ کر مر رہے ہیں۔ لیکن دوسرے دن ہی وزیراعلیٰ کو بھری پریس کانفرنس میں اعتراف کرنا پڑا کہ انہیں غلط بریفنگ دی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ غلط بریفنگ کس نے دی؟

اگر بیوروکریسی نے دی تو اس حلقے سے منتخب ہو کر ایوانوں میں آ کر براجمان ہونے والے نمائندے کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے صحیح صورتحال سے وزیراعلیٰ صاحب کو آگاہ کیوں نہیں کیا؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ دوسرے اضلاع کی طرح تھر میں بھی صحت، تعلیم، ضلع انتظامیہ اور دیگر کلیدی محکموں میں افسران کا تقرر انہی منتخب نمائندوں کی فرمائش پر ہوتا ہے۔ اس صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنی ہی فرمائش پر لگوائے گئے ان سرکاری افسروں پر کوئی آنچ آنے دی جائے۔ حکومت نے صورتحال کی تمام تر ذمہ داری چند افسران پر عائد کرکے انہیں معطل کردیا جو کچھ عرصہ کے بعد یقیناًپورے کروفر سے پھر اپنی سیٹوں پر بیٹھے نظر آئیں گے ۔

اس وقت تھر میں فوج ، سندھ حکومت، وفاقی حکومت، عالمی امدادی ادارے بھی پہنچ چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ قحط زدگان کی مدد کا ساما ن ہو نے والا ہے۔ مگر اب ایشو یہ ہے کہ یہ سب امداد اور خوراک غریب لوگوں تک کیسے پہنچے گی۔ امدادی اداروں نے مٹھی میں کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں جبکہ غریب لوگ یہاں سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ امداد کی تقسیم اور رسائی کا انتظام حکومت یا پھر روایتی اور بڑی غیر سرکاری تنظیموں کے ذمہ ہو گا۔ حکومت کی یہ صورتحال ہے کہ اس نے انہی لوگوں کے ذمہ یہ کام لگایا ہے جو پہلے ہی تھر میں سفید و سیاہ کے مالک ہیں۔ ایسے ماحول میں کیوں کر ضرورت مند اور نادار لوگوں تک امداد پہنچ پائے گی اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے؟۔

پاکستان میں یہی صورتحال بڑی این جی اوز کی ہے جو اب کارپوریٹ سیکٹر بن چکی ہیں اور اس کام کو بطور بزنس لے رہی ہیں۔ یہ این جی اوز اپنا تو بہت کچھ بنا لیں گی لیکن عام آدمی کا بھلا نہیں ہو پائے گا، جس کے لئے عالمی برادری یا دوسرے مخیر حضرات اور ادارے امداد فراہم کر رہے ہیں ۔ سندھ کے ان غریب ہاریوں کا مقدر اس وقت تک نہیں بدلا جا سکتا جب تک وڈیرہ شاہی صوبے میں موجود ہے۔

ہمارے سسٹم میں اتنی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں کہ انہیں گننا بھی ممکن نہیں رہا۔ سسٹم کو ٹھیک کرنے اور اس میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے جو عزم اور حوصلہ درکار ہے وہ ہمارے حکمرانوں میں نظر نہیں آتا۔ جب تک ہر مسئلے کو سیاست کی نظر کرنے کی روش نہیں بدلے گی یہ سسٹم بھی نہیں بدل سکتا۔