بھارتی انتخاب میں نوجوان ووٹر کا رول

  • بدھ 12 / مارچ / 2014
  • 3985

فی الوقت ہندوستان میں انتخابات کا بازارگرم ہے۔ چہار جانب سیاسی جلسے، جلوس، ریلیاں، نعرے، وعدے، ایک دوسرے کی پول کھولنے اور ایک دوسرے کی حقیقت عیاں کرنے میں سیاسی و غیر سیاسی تقریباً سبھی لوگ سرگرم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سولہویں لوک سبھا انتخابات اپنے آپ میں مخصوص ہے کیونکہ اس مرتبہ الیکشن میں 750 ملین رائے دہندگان ہوں گے جو یورپ کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔

اس طرح 2014کے انتخابات دنیا کے سب سے بڑے انتخابات ہوں گے۔ 18سے 19سال کے رائے دہندگان میں غیر معمولی اضافہ ہؤا ہے۔ اس عمر کے لوگ تقریباً23ملین ہیں جو مجموعی رائے دہندگان میں 2.88فیصد ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس الیکشن میں گزشتہ کے مقابلہ100ملین ووٹر زیادہ ہوں گے۔ اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے ہیجڑوں کے لیے بھی ایک الگ زمرہ 'دیگر' کے نام سے بنایا ہے۔اس دیگر زمرے میں آنے والے رائے دہندگان کی تعداد28,314ہوگی۔  اس مرتبہ 10فیصد رائے دہندگان پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی نصف آبادی25سال سے کم ہے اور یہ نئے رائے دہندگان انتخابی عمل کو متاثر کرنے میں کافی اہم کردار ادا کریں گے ۔ ہماری گفتگو کا بھی یہی وہ اہم نکتہ ہے جس پر ہم اپنی بات آگے بڑھائیں گے۔

چند دن بعد ہونے والے الیکشن کی خوبیوں میں ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ ملک میں ایک نئی پارٹی اپنی آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے جو گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں موجود نہیں تھی۔اس پارٹی کی فی الوقت ایک حیثیت یہ بھی ہے کہ یہ پارٹی  ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی ، دونوں کے خلاف آواز اٹھا تی نظر آرہی ہے۔ دوسری طرف دیگر ریاستی پارٹیوں سے بھی اس کا اشتراک نہیں ہؤا ہے۔اس لحاظ سے یہ پارٹی اپنی شناخت بنانے کی دوڑ میں سب سے آگے ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ وقت میں یہ کیا کردار ادا کرنے والی ہے۔

یہ پارٹی عام آدمی پارٹی کے نام سے جانی جاتی ہے اور اس کے لیڈر اروند کجریوال ہیں ۔ بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کے 'گجرات ترقی ماڈل ' کا انھوں اپنے دورے میں باریکی سے مطالع کیا ہے۔ مندرا تعلقہ(گجرات)میں کسانوں سے ملنے کے بعد کہا کہ 'مودی وکاس پرش ہیں، لیکن صرف ادانیوں اور امبانیوں کے لیے'۔ ان کے مطابق گجرات حکومت (جس کے وزیر اعلیٰ بی جے پی کے وزیر اعظم کے دعویدار بھی ہیں)کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں نے زمین تحویل میں لینا شروع کر دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گویا گجرات کی ساری زمین فروخت پر ہے۔ اسی طرح 'ابڈاسا' میں سکھ کسانوں کی زمین کے متعلق بھی ان کا یہی کہنا ہے ۔

گجرات حکومت سکھ کسانوں کو ان کی زمین نہیں دینا چاہتی ہے۔ گجرات حکومت نے 2010میں ان کی زمین سیل کردی ، وہ عدالت کے پاس گئے اور انہوں نے بڑے وکیلوں کو رکھ لیا تاکہ سکھ کسان اپنی زمین سے محروم رہیں۔ وہیں اسی عام آدمی پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر منیش سسودیا نے گجرات دورے کے دوران ٹوئیٹ کرکے یہ اطلاع دی کہ ان کی کار پر حملہ کیا گیا، اس کے شیشے چکنا چور ہو گئے اور حملے کے لیے انھوں نے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات جو انھوں نے کہی وہ یہ کہ گجرات میں پولیس میری جاسوسی کر رہی ہے۔ گجرات میں گزشتہ شام سے میں جن لوگوں سے مل رہا ہوں، پولیس انہیں پریشان کر رہی ہے، پوچھ گچھ کر رہی ہے اور دھمکی دے رہی ہے۔ وہیں کجریوال کا بھی یہ الزام تھا کہ گجرات میں حکومت کے ترقیاتی کاموں کے جائزے کو مودی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متذکرہ واقعہ کے بعد ایک لائیو شو میں کسی نے یہ سوال بھی اٹھا یا کہ اگر بقول آپ کے گجرات حکومت اپنی ریاست کے شہریوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے، پھر کیوں وہ تین مرتبہ سے بڑی اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرتی آئی ہے؟ سوال کے جواب میں کجریوال کا کہنا تھا کہ ریاست میں کوئی بھی مضبوط اپوزیشن نہیں ہے۔ کانگریس کو یا تو مختلف مقامات پر خرید لیا گیا ہے یا پھر ڈرا دھمکا کر انھیں ابھرنے نہیں دیا جاتا۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے ہم نہیں جانتے لیکن اس بات سے ضرور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کا پلا ننگ کمیشن جب غربت کی حد28اور32روپے طے کرتا ہے تو پورا ملک اُس کے اِس طرز عمل کی مذمت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ  خلاف انصاف ہے کہ ایک کمزور شخص حد درجہ غربت میں مبتلا ہو۔ ان حالات میں 28یا 32روپے طے کرکے غربت کے گراف کو کم کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔

گجرات میں حکومت نے غربت کا پیمانہ صرف 11روپے طے کیا ہے لیکن اس اقدام پر چہار جانب خاموشی چھا جاتی ہے!ایسا کیوں ہے؟ کیا اس بات سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ میڈیا گجرات حکومت کی مٹھی ہے یا ان لوگوں کی گرفت میں جو نریندرمودی کو بی جے پی کے وزیر اعظم کا عہدہ دلانا چاہتے ہیں۔ مودی کو اڈوانی پر فوقیت دیتے ہیں، مرلی منوہر جوشی کو راضی یا پابند کرتے ہیں کہ وہ وارانسی کی سیٹ مودی کے لیے چھوڑ دیں۔ معلوم ہؤا میڈیا جملہ تمام بڑی قوتوں کی سرپرستی میں اپنے پروگراموں کو چلاتی ہے۔ ان کے نفع اور نقصان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی مختلف رپورٹیں اور پروگرام سامنے لاتی ہے۔

میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کی اسی صلاحیت و اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے صحت غلام نبی آزاد نے این ایس یو آئی کے ایک پروگرام میں دعویٰ کیا کہ میڈیا کے ایک حصے نے یو پی اے حکومت کی  کامیابیوں کو نظر انداز کرنے میں حریف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آج سماج ایسا ہو گیا ہے کہ آپ ٹی و ی پر کوئی جھوٹ 10 مرتبہ دکھائیے اور لوگ اس پر یقین کرلیں گے۔ کسی جلسہ عام میں کوئی جھوٹ 100مرتبہ بولیے اور لوگ سوچیں گے کہ یہ صحیح ہے۔آزاد نے کہا کہ مختلف پیمانوں پر گجرات کے نام نہاد ترقی ماڈل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے جبکہ کئی ریاستوں میں اس سے بہتر ماڈل موجود ہیں۔ اس کے باوجود میڈیا ان ریاستوں اور ان کے لیڈران کو بطور ماڈل سامنے نہیں لاتی۔ یہ وہ پس منظر اور حقیقت ہے جس میں آج نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ہندوستان کی تمام ہی سیاسی پارٹیاں اپنی طلبہ تنظیمیں رکھتی ہیں۔ان طلبہ تنظیموں میں خصوصیت کے ساتھ SFI,ABVP,NSUI,TCP,BVS,AISA,BCJD,CJD,CLJ,
CRJ,MSF,OCP,SCS,TRVS قابل ذکر ہیں۔ اِن تنظیموں کے علاوہ بھی ایک بڑی تعداد اُن طلبہ تنظیموں کی آج ہندوستان میں موجود ہے جو یا تو سیاسی پارٹیوں سے وابستہ نہیں یا اگر ہیں تودوسرے درجہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاسی پارٹی اپنی مخصوص پہچان کے ساتھ مخصوص ایجنڈے پر کار بند ہے۔اس پس منظر میں متذکرہ طلبہ تنظیمیں اور ان سے وابستہ طلبہ و نوجوان کسی مخصوص نظریہ و فکر کے لیے سرگرم عمل ہیں اور یہی ان کی پہچان ہے۔

معلوم ہؤا کہ ہندوستان کی نصف آبادی25سال سے کم ہے اور یہ نئے رائے دہندگان جو تقریباً10فیصد ہیں ، قبل از وقت ہی فکری و نظریاتی وابستگیاں رکھتے ہیں۔ تو ایک بڑی تعدادد ان لوگوں کی بھی ہے جو طبقاتی کشمکش کی بنا پر ذات برادریوں ، فرقوں اور علاقائی عصبیت میں مبتلا ہیں۔ اس پس منظر میں نوجوانوں کی جس بڑی تعداد کی بات کی جارہی ہے اس توقع کے ساتھ کہ وہ ہونے والے انتخابی عمل میں مخصوص تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسا دکھتا نہیں ہے۔ البتہ وہ نوجوان جو قابل ذکر نہیں ہیں یا باالفاظ دیگرفی الوقت اپنی مخصوص سیاسی و غیر سیاسی پہنچان نہیں رکھتے دراصل وہی ٹارگیٹ ہیں جن پر تمام سیاسی پارٹیاں اپنی توجہ مرکوزکیے ہوئے ہیں۔

بظاہر اس کھیل میں عام آدمی پارٹی اور طلبہ و نوجوانوں کا تال میل کافی بہتر محسوس ہو تا ہے۔ دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ نوجوان بڑی تعداد میں اس پارٹی سے وابستہ ہو رہے ہیں۔ شاید اس امید پر کہ اے اے پی ملک میں ایک اچھی اور صاف ستھری حکومت کی تشکیل میں مددگار بنے گی۔ وہیں کجریوال اگرچہ نوجوان نہیں لیکن ان کی حکمت عملی ا ور سرگرمیاں جس میں دھرنے، مظاہرے، جذبات سے لبریز تقریریں ،ہر کسی پر بلا خوف الزام دھرنے، اور ماضی سے چھٹکارا پاتے ہوئے حال پر تکیہ کرنے جیسی خوبیاں شامل ہیں ۔۔۔۔ نوجوانوں کو خوب متاثر کررہی ہیں۔ نتیجتاً وہ اس پارٹی سے وابستہ ہو رہے ہیں۔

لیکن درحقیقت یہ غیر منظم طلبہ و نوجوان جو اے اے پی سے متاثر ہیں یا شمولیت اختیار کر چکے ہیں وہ بھی بلا ارادہ اور غیر شعوری طور پر اے اے پی کی پالیسیوں اور نظریہ کے ہی علمبردار ہیں۔ پھر نوجوانوں کی وہ کون سی تعداد باقی رہ جاتی ہے جو ملک میں موجود کرپشن، کالا بازاری، ظلم و استحصال کا خاتمہ کرنے کی آزادانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ووٹ کا حق ادا کریں گے؟شاید یہ وہ قلیل ترین تعداد ہے جو کہیں اور کسی سے وابستہ نہیں لیکن ساتھ ہی یہ تعداد بری طرح کنفیوژ بھی ہے۔

طلبہ و نوجوانوں کے تعلق سے یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ وہ اپنی عمر سے بڑے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ مخلص ثابت ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اندر اٹھنے والے احساسات، خیالات اور جذبات کو چھپا نہیں پاتے۔اور جب یہ چھپانے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے بس یہی وہ دور ہے جس میں عام طور پر اخلاص میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے۔ انسان نفع و نقصان کے پیش نظر معاملات طے کرتا ہے اور اس کی سرگرمیاں انھیں نفع و نقصان کے بھنور میں الجھا کر رکھ دیتی ہیں۔

لیکن اس "حد درجہ اخلاص " کے ساتھ اگر غیر شعوری جذبات بھی شامل ہو جائیں تو معاملات سدھرنے کی بجائے بگڑ جاتے ہیں۔ نتائج وہ نہیں آپاتے جو مطلوب ہیں۔پھر یہ بدلے ہوئے نتائج کبھی خوشگوار توہو سکتے ہیں لیکن عموماًیہ تباہی کا پیش خیمہ ہی ثابت ہوئے ہیں۔اس پس منظر میں ان لوگوں سے بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو طلبہ و نوجوانوں کے خلوص اور صلاحیتوں کو غلط رخ دینے کی سعی و جہد میں ہم تن مصروف ہیں۔

لازم ہے کہ سرپرست تنظیمیں اور اہل فکر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس کے نتائج دیر یا سویر مثبت ہی نکلیں۔ لیکن اندیشہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں منفی اقدامات کو بھی مثبت بناکرپیش کیا جاتا ہے اور طلبہ و نوجوان غیر ذمہ دارانہ رویہ کے نتیجہ میں اُن متضاد افراد اور گروہوں سے تعلق قائم کر لیتے ہیں جو مناسب نہیں ہے۔لازم ہے کہ جب ہم کسی گروہ اور فرد سے تعلق استوار کریں اس لمحہ متعلقہ فرد اور گروہ کے ماضی اور حال کی سرگرمیوں کابھی مطالع کرلیں ۔

الیکشن قریب ہیں اور الیکشن کے موقع پر ہر شخص کو ووٹ دینا چاہیے تاکہ اختیار کا صحیح استعمال ہو لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس طرح ووٹ ڈالنا ایک جمہوری ملک میں ضروری سمجھا جاتا ہے، سیاسی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرنا بھی ضروری سمجھا جائے۔ ہمارے فہم میں ووٹ کا صحیح استعمال تب ہی ممکن ہے جبکہ آپ کسی بھی سیاسی پارٹی سے اس درجہ وابستہ نہ ہوں کہ آپ اور آپ کی فکر مفلوج نظر ہو جائے۔ اس حالت میں ملک ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی طرف بڑھے گا۔ پھر اگر تنزلی میں آپ بھی شامل ہوں تو یہ مناسب نہیں۔