نظریہ ء پاکستان سے مفروضہ ء خلافت تک

  • بدھ 12 / مارچ / 2014
  • 4957

اِسلامی خلافت ، برِ کوچک پاک و ہند کے مسلمانوں کا دیرینہ خواب ہے ۔ جب ترکی میں عثمانی خلافت کو کفن پہنایا گیا تو ہندوستان کے مُسلمانوں نے پُر زور ماتم کیا اور شیعہ روایت میں ماتم کے جتنے بھی قرینے تھے سبھی آزمائے گئے ۔ مسلمانوں کی خلافت سے یہ لگن ، وابستگی اور عقیدت دیکھ کر جنابِ گاندھی بھی تحریکِ خلافت میں شامل ہو گئے ۔ دوسری طرف مجلسِ احرار کے نامور لیڈر مولانا محمد علی جوہر کو یوں للکارا گیا :
بولی اَمّاں ، محمد علی کی
جان ، بیٹا خلافت پہ دے دو
 

اقبال نے اپنے انداز میں ماتم کیا اور کہا :
چاک کر دی تُرکِ ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مُسلم کی دیکھ ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ

اور پھر بے چارے غم کے مارے مُسلمانوں کی دل دہی اور تسّلی کے لیے اُمید کا ایک دیا بھی ذیل کے الفاظ میں روشن کیا :
اگر عثمانیوں پہ کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

لیکن یہ آسمان کا فیصلہ تھا ۔ اِسلامی خلافت کے نام پر جو عثمانی ملوکیت قائم تھی اُس کی بساط اُلٹ چکی تھی ۔ اور خلافت قائم نہ رہ سکی ۔ اب اِس سانحے کو پون صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن یار لوگ ابھی تک ماتم کُناں ہیں کہ ہائے خلافت ، وائے خلافت ۔

تاہم اگر مُسلمانوں کی واضح اکثریت خلافت کا احیاء چاہتی ہے اور اس پر اُمت کا اجماع ممکن ہے تو کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ مجھے تو بالکل بھی نہیں کہ ایک بے چارے پردیسوں کے برفانی صحراؤں کی خاک چھاننے والے بے وطن شاعر کی اوقات ہی کیا ہے ؟

اصل میں معاملہ اختر چودھری کی طرف سے اُٹھایا گیا ہے اور موصوف مسلمان بھی ہیں ۔  سیاستدان بھی ہیں اور پالیمینٹیرین بھی اور وہ بھی ناروے کی عیسائی ریاست کے ۔ لیکن بات اُنہوں نے نُقطے کی کہی ہے کہ ہل چلائے ، سہاگہ پھیرے ، بیج ڈالے ، پانی دیئے اور رکھوالی کیے بغیر خلافت کی فصل اُگنے کی توقع چہ معنی دارد۔

لیکن ہم لوگ جو ناروے میں رہتے ہیں اور یہاں کے اکہرے شہری ہیں ، پاکستان کے مُسلمان مذہبی دانشوروں کے خوابوں پر کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔ میں سُنتا اور پڑھتا رہا ہوں کہ تنظیمِ اسلامی کے خُلد آشیانی امیر ڈاکٹر اسرار احمد خلافت کے داعی اور علمبردار تھے ۔ میں نے اپنے گنہ گار کانوں سے سُنا کہ اُن پر نازل ہونے والے الہامات کے مطابق اب خلافت کا احیاء پاکستان میں ہی ہوگا ۔ اِلّا ماشا اللہ ء ۔

اسرار احمد صاحب مرحوم تو خیر سے ڈاکٹر اور عالمِ دین تھے مگر پاکستان میں ایسےصوفی دانشور بھی موجود ہیں ، جو قرار دادِ پاکستان پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ تصدیق بھی دیکھ چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ پاکستان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی منظوری سے وجود میں آیا تھا ۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر بنگلہ دیش بھی آپ کی منظوری سے ہی بنا ہوگا کیونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی ۔ واللہ اعلم ۔

خیر یہ تو ایک سُخن گسترانہ بات تھی ، اصل قصّہ یوں ہے کہ خلافت کے تصور کا منبع ، معدن اور ماخذ قرآنِ کریم ہے۔ مگر خلافت کا یہ قرآنی تصور ایک بالکل الگ سیاق و سباق میں ہے ۔ قرآنِ کریم میں مرقوم ہے کہ اللہ رب العزت نے فرشتوں سے مُخاطب ہو کر فرمایا :
"اِنّی جاعل فی الارض خلیفہ " ۔ البقر آیت نمبر ۳۰ کا آغاز ۔
کہ وہ زمین پر اپنا نائب مقرر کرنے والا ہے تو اس پر فرشتوں کی تنقید اور ابلیس کے انکار سے جو صورتِ حال پیدا ہوئی ، اُس کے ذکر سے گریز کرتے ہوئے عرض کروں کہ خلیفتہ الارض کا تصور سیاسی نہیں بلکہ تخلیقی ہے اور وہ یوں کہ ہر انسان اپنی ذات میں خلافت کی انفرادی اکائی ہے۔ جس کے ذمے کام یہ لگایا گیا کہ کہ وہ زمین کے نظامِ کار سے متعلق ، انفرادی اور اجتماعی امور کی انجام دہی کے لیے نیکی اور حیا کے الوہی اصولوں کے مطابق قوانین وضع کرے اور زمین کا نظام احسن طریقے سے چلائے ۔ زمین پر انسان کی ذمہ داری اور فرائضِ منصبی کے ضمن میں اقبال نے یہ تقابلی جائزہ مرتب کیا ہے :
تو شب آفریدی ، چراغ آفریدم
تو خاک آفریدی ، ایاغ آفریدم
اے اللہ ! تو نے رات بنائی تو میں نے چراغ بنا لیے ۔ تو نے مِٹّی بنائی تو میں نے اس سے ظروف بنا لیے ۔

کیوں ؟ تاکہ اس طرح زمین پر تخلیق کی مرحلہ در مرحلہ تکمیل ہوتی رہے ۔

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کُن فیکوں

لیکن جہاں تک سیاسی اور انتظمی امور کا معاملہ ہے وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ہر اُمت کے لوگوں کے تدبر اور بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہؤا وہ اُس عہد کی اُمت کی اپنی ذمہ داری پر تھا ، اور مختلف عہد کی اُمتیں ایک دوسرے کی جواب دہ نہیں ہیں۔ قرآنِ کریم میں لکھا ہے :
" وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے ۔ جو کچھ اُنہوں نے کمایا وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے وہ تمہارے لیے ہے اور تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ۔" البقر ۔ آیت نمبر ایک سو چونتیس۔
اس سے طے ہو جاتا ہے کہ ہر عہد کے لوگ اپنے اعمال ، اپنے افعال ، اپنی کارکردگی اور اپنی قانون سازی کے ذمہ دار خود ہیں ۔

یہی وجہ تھی کہ نبی ء اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو سیاست پر مبنی نظامِ خلافت وضع کیا اور نہ ہی اپنا جانشین مقرر کیا ۔ جس کا مطلب یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا فیصلہ کہ انتظامی، اقتصادی ، معاشرتی اور اخلاقی امور طے کرنے کے لیے کون سا نظام ہو ، اپنے دینی پسمانگان پر چھوڑ دیا ۔
اس سلسلے میں علامہ جلال الدین السیوطی کا بیان ملاحظہ ہو :
" بزاز نے اپنی مُسند میں لکھا ہے کہ ہم سے عبداللہ بن وضاح کوفی نے یحیٰ بن یمانی کے ذریعے اسرائیل ، و ابو یفظان و ابو وائل و حذیفہ کی زبانی بیان کیا ہے :
لوگوں نے دریافت کیا ، " یا رسول اللہ ! آپ اپنا خلیفہ کیوں نامزد نہیں کرتے ؟"
ارشاد ہؤا ،" اگر میں اپنا خلیفہ مقررکردوں اورتم اُس کے احکام سے سرکشی کرو تو تم پر عذابِ الہٰی مسلط ہوگا"۔
تارخ الخلفاء ۔ از علامہ جلال الدین السیوطی ، باب اول

اس طرح آپ نے یہ ذامہ داری مسلمانوں پر ڈال دی کہ وہ قرآن اورسنت کی روشنی میں اپنے عہد کے تقاضوں کے مطابق اپنا نظام وضع کر لیں ۔ ابن ہشام نے سیرت میں وفات سے قبل کا واقع نقل کیا ہے جو متن کے اعتبار سے بہت اہم ہے ۔ آپ نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے بعد فرمایا :
" لوگو ! آگ بھڑکا دی گئی ہے ۔ اور تاریک رات کےٹکڑوں کے مانند فتنوں نے رُخ کر لیا ہے ۔ خُدا کی قسم ، تم میرے ذمے کوئی چیز نہیں لگا سکتے ۔ میں نے کوئی چیز حلال نہیں کی اور میں نے کوئی چیز حرام نہیں کی ، بجز اس کے جو قرآن نے حرام کی "۔ ابن ہشام ، باب ۱۷۵ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات

لیکن قرآن نے کسی نظام خلافت کی بات نہیں کی ۔ سوائے اس کہ اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت فرض کی ہے اور اس کے بعد حاکمِ وقت کے بنائے ہوئے قوانین کی پابندی کا حکم دیا ہے ۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کے خلیفہ چنے جانے کا سبب اجماعِ صحابہ ہے ۔ بیہقی نے زعفرانی کی زبانی لکھا ہے کہ رحلتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگ پریشان ہو گئے ۔ انہوں نے آسمان کے نیچے کسی دوسرے کو آپ سے اچھا نہ پایا تو اُنہوں نے اپنے دنیاوی کاروبار آپ کے حوالے کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔

لیکن اڑھائی سال کی مدتِ خلافت کے بعدحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ حاکم نے شعبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس ذلیل دنیا سے ہم کیا اُمید رکھیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر دونوں کو زہر دیا گیا ۔ بحوالہ تاریخ الخلفا ء از علامہ سیوطی

حضرت ابوبکر نے وفات سے قبل حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ سے وصیت نامہ لکھوایا جس میں عمر کو اپنا جانشین منتخب کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰیٰ نے سب سے پہلے خود کو امیر المومنین کہلوایا ، درہ ایجاد کیا ، سن ہجری جاری کیا ، نمازِ تراویح پڑھنے کا حکم دیا اور محکمہ ہائے داخلہ و خارجہ قائم کیے ۔ لیکن آپ مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لولوہ کے ہاتھوں زہر آلود خنجر سے جامِ شہادت نوش فرما گئے ۔ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان کی بیعت حضرت عمر کی شہادت کے بعد تیسرے دن عبد الرحمان بن عوف کی انتخابی مہم سے ہوئی۔ جنہوں نے لوگوں کو حضرت عثمان کی بیعت کے لیے قائل کیا۔ مگر آپ کی مُدتِ خلافت درد ناک شہادت پر انجام کو پہنچی ۔ چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ تعالی کو اپنے پیش رو کی شہادت کے بعد بیعت کے ذریعے خلیفہ چنا گیا لیکن آپ کو بھی ابن ِ ملجم نے شہید کر دیا ۔

اسلام میں مُدتِ خلافت کے ضمن میں امام احمد نے حماد بن سلمہ ، سعید بن جمہان اور سفینہ کی زبانی لکھا ہے کہ ہم نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے ، " تیس سال تک خلافت رہے گی اور اُس کے بعد ملوکیت ہو گی "۔ جمہور علماء کا بیان ہے کہ چاروں خلفاء اور امام حسن کے زمانے تک کی مدت یہی تیس سال ہے ۔ بزاز نے بھی مستند حوالوں سے رسولِ اکرم کا یہ ارشاد لکھا ہےکہ " اسلام کا آغاز نبوت و رحمت سے ہؤا ۔ پھر خلافت و رحمت ہو گی ۔ پھر ملوکیت و ستم رانی کا دور دورہ ہو گا "۔

اب چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد جب اسلامی کہلوانے اٹھاون ملک تا حال خود کو ایک ملی وحدت کی لڑی میں نہیں پرو سکے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی ایک ملک میں خلافت کا احیاء ہو اور وہ بھی پاکستان میں جو چار مارشل لاؤں سے گزرا ہے ، دو لخت ہو چکا ہے ، جس کی پوری انتظامی مشینری کرپشن زدہ ہے ، جس کے معاشرتی تاروپود کو دہشت گردی نے معطل اورا پاہج کر رکھا ہے۔ ایسی ریاست میں خلافت کی بات دیوانے کی بڑ سے زیادہ کیا ہو سکتی ہے۔ مگر دیوانوں کو بڑ مارنے اور شکست خوردوں کو فتح کے خواب دیکھنے سے کون روک سکتا ہے ۔

حالانکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں صادق اور امین بن کر رہیں کیونکہ قومی سطح پر کوئی تبدیلی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام افراد انفرادی طور پر خود کو بدل لیں اور برائی اور بے حیائی سے پاک ہو جائیں تو ایک اسلامی معاشرت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔  کیونکہ جسے ہم سسٹم سسٹم کہ رہے ہیں وہ افراد کے انفرادی نفسی تغییر کا نام ہے ، اور اس انفرادی نفسی تغییر کے بغیر اجتماعی قومی تغییر خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ مگر ہماری بدقسمتی کہ یہی خام خیالی من حیث القوم ہمارا رویہ بن چکی ہے۔ لیکن ہم عقل سے کام نہیں لے رہے اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اللہ اُن پر گندگی ڈال دیا کرتا ہے ۔ قرآن گواہ ہے ۔