نواز لیگ اور ایم کیو ایم کا معرکہ
- جمعرات 13 / مارچ / 2014
- 4235
پنجاب اسمبلی نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کر کے طبل جنگ بجا دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ اعلان جنگ صرف لفظوں تک محدود رہتا ہے یا اس میں ماضی کی طرح انسانی جانوں کا ضیاع اور اقتدار کا کوئی خونیں کھیل بھی شامل ہوتا ہے۔
منگل 11 مئی کو پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں اس قرار داد کی اچانک منظوری نے جہاں بہت سے سوالات اٹھائے ہیں وہیں مستقبل کی سیاست کی ممکنہ تصویر کشی بھی کر دی ہے۔ اس اجلاس میں بعض معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کا اتحاد نظر آیا تو بعض عوامی مسائل کے سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن کی واضح تقسیم بھی دیکھنے میں آئی۔ تاہم جہاں کہیں حکومت اور اپوزیشن کا مفاد یکساں تھا وہاں جذبات اور طریقہ کار بھی ایک جیسا رہا۔
لگتا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف متفقہ قرار داد کو پوری تیاری کے ساتھ پیش کیا گیا اور حکومت نے صاف نہ چھپنے اور واضح طور پر سامنے بھی نہ آنے کی پالیسی اپنائی۔۔۔ قرار داد میں الطاف حسین کے فوج کو ٹیک اوور کرنے کی دعوت سے متعلق تقریر کی مذمت کی گئی۔ الطاف حسین نے یہ بیان ہفتہ بھر پہلے دیا تھا اور اس سے قبل فوج کے ساتھ یک جہتی کا دن بھی منایا تھا اور اس کے لیے کراچی میں ایک بڑا جلسہ بھی کیا تھا۔ مگر اس وقت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی و صوبائی قیادت اور حکومتیں دونوں خاموش رہیں۔ اور مصلحت سے کام لیتی رہیں۔ غالباً خوف یہ تھا کہ کہیں عسکری حلقے ناراض یا بدگمانی کا شکار نہ ہو جائیں۔
مسلم لیگ (ن) کی اصل پریشانی یہ تھی کہ وہ بھی فوج کی خوشنودی کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی مگر اس بار ایم کیو ایم اس معاملے میں اس پر بازی لے گئی تھی اور فوج کو ایک ایسا مشورہ دے رہی تھی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کا اقتدار ہی خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ لیکن وہ یہ کڑوا گھونٹ پی گئی کہ کہیں اس پر ایم کیو ایم ڈٹ ہی نہ جائے اور یہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے کہ صرف وہ ہی فوج کا غیر مشروط ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔
حالانکہ اس سے قبل یہی کام انتہائی اعلیٰ سطح پر مسلم لیگ (ن) اس وقت کر چکی تھی جب امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کے ایک ٹی وی انٹرویو کے بعد فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے جناب منور حسن سے اپنا بیان واپس لینے اور جماعت اسلامی سے اس پر معافی مانگنے کا باقاعدہ مطالبہ کیا تھا اور اس کے لیے قومی پریس کو ایک بیان بھی جاری کر دیا تھا۔ جماعت اسلامی نے فوج کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر کے وزیر اعظم کو آئی ایس پی آر کی سیاسی معاملات میں مداخلت کا نوٹس لینے۔ معاملہ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔
اس تلخ صورتحال کے چند گھنٹے بعد ہی وزیر اعظم نواز شریف اچانک کچھ فوجی تنصیبات کے معائنہ پر روانہ گئے اور وہاں منور حسن یا جماعت اسلامی کا نام لیے بغیر آئی ایس پی آر کے مؤقف کی حمایت کی اور جماعت اسلامی کے مؤقف کو عملاً غلط قرار دیا۔ یہی نہیں بلکہ حکمران جماعت نے اس بیان کو شہ سرخیوں میں شائع کرنے اور نیوز بلیٹن میں خبر نمبر ایک کے طور پر نشر کرانے کا بھی بندوبست کیا۔ لیکن اس بار ایم کیو ایم کا اتنا واضح اور مسلم لیگی حکومت کے لیے زہر قاتل مطالبہ سامنے آنے کے باوجود مصلحت پسندانہ خاموشی اختیار کی۔ جس سے ایم کیو ایم نے مزید حوصلہ پکڑ لیا اور مسلم لیگ (ن) کے اپنے گھر اور گڑھ میں ’’صوفیا کانفرنس‘‘ کر ڈالی۔
ایم کیو ایم نے یہ کانفرنس پورے دھڑلے سے کی جس سے جناب الطاف حسین نے بھی ٹیلی فونک خطاب کیا۔ کانفرنس سے کئی روز قبل ایم کیو ایم کی تقریباً پوری رابطہ کمیٹی لاہور پہنچ گئی اور کانفرنس کی کامیابی کے لیے اس نے اپنا پورا زور لگا دیا۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر فاروق ستار، رشید گوڈیل، وسیم اختر اور دیگر رہنماؤں نے اس سلسلے میں لاہور پریس کلب میں ایک پروگرام بھی کیا اور اس کے لیے لاہور پریس کلب کو ایم کیو ایم رہنماؤں کے ساتھ میٹ دی پریس پروگرام کرنے پر آمادہ کر لیا۔
ایم کیو ایم کے لوگ اس مقصد کے لیے پریس کانفرنس بھی کر سکتے تھے مگر انہوں نے دوسرا راستہ اپنایا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ میڈیا کی منتخب باڈی ان کی صوفیا کانفرنس کو کس قدر اہمیت دے رہی ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میٹ دی پریس پروگرام کے ساتھ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری خود ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے اور انہوں نے فاروق ستار کی گفتگو سے قبل خطاب بھی کیا۔ جس میں ایم کیو ایم کی تعریف و توصیف کے حوالہ سے ان کی آئندہ ہونے والی صوفیا کانفرنس کی کامیابی کی بات بھی کی۔
یاد رہے کہ ارشد انصاری پرویز الٰہی کے دور میں بھی لاہور پریس کلب کے صدر تھے۔ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کا لاہور پریس کلب میں ہونے والا ایک پروگرام منسوخ کر دیا تھا ۔ اس وقت ان پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے ایسا اس وقت کے وزیر اعلی پرویز الٰہی کے دباؤ پر کیا تھا۔ اس پروگرام کی منسوخی سے قبل وہ ایم کیو ایم کو پریس کلب میں ایک پروگرام کرنے کی اجازت دے چکے تھے جس پر اطلاعات کے مطابق پرویز الٰہی ان سے خاصے ناراض تھے۔ یہ وہ دن تھے جب ایم کیو ایم پنجاب میں سرگرم ہونے کی تیاریاں کر رہی تھی اور مسلم لیگ (ق) اسے اپنے اقتدار اور پنجاب کے امن کے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔
اور آج بھی تقریباً وہی صورتحال ہے۔ ایم کیو ایم پنجاب میں متحرک ہونا چاہتی ہے اور مسلم لیگ (ن) اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ اسی لیے اس کا رد عمل صوفیا کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے۔ لیکن اس نے مصلحت سے کام لیتے ہوئے آگے اپوزیشن لیڈر محمود الرشید کو کر دیا ہے۔ غالباً انہیں یہ کہہ کر اعتماد میں لیا گیا کہ ایم کیو ایم پنجاب میں تحریک انصاف کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ چنانچہ حکومت پیچھے رہی اور قرار داد جوشیلے اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے پیش کر دی۔ جو آسانی سے متفقہ طور پر منظور ہو گئی۔
اس کے فوراً بعد حکومت نے اپوزیشن کے تعاون سے انسانی حقوق کو نصاب کا حصہ بنانے سمیت 5 دوسری قرار دادیں بھی منظور کرا لیں۔ لیکن اپنا کام نکلتے ہی حکومت اپنی سابقہ روش پر لوٹ آئی۔ اور خود محمود الرشید کی پیش کردہ ایک قرار داد اپنے اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر مسترد کر ڈالی۔ اس قرارداد کے ذریعے صوبے بھر کے قبرستانوں میں تدفین کے لیے مفت اراضی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس قرار داد کے مسترد ہونے پر اپوزیشن نے ایوان میں ہنگامہ کر دیا۔ شیم شیم کے نعرے لگائے اور اخباری رپورٹ کے مطابق ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔
اس موقع پر محمود الرشید نے کہا کہ ثابت ہو گیا ہے کہ ایوان میں غریب کا کوئی خیر خواہ نہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ قرار داد پر رائے شماری کرائی جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کون ان کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس دوران جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر وسیم اختر کی کسانوں کے حوالہ سے پیش کردہ تحریک التواء پر پارلیمانی سیکرٹری نے نامکمل جواب دیا تو ڈاکٹر وسیم اختر نے بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کی بجائے شکر مافیا کا ساتھ دے رہی ہے۔
اجلاس میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرار داد کی منظوری کے بعد صوبائی وزراء اپوزیشن کی طرف اشارے کر کے ’’بوری بند لاش کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘ کے اشارے بھی کرتے رہے۔ یہ اشارے کرنے میں صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو، چودھری شیر علی اور رانا ارشد پیش پیش تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم اس کا کیا جواب دیتی ہے اور اس پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کو کیا پیغام دیتی ہے۔ ویسے پنجاب میں ایم کیو ایم کے سرگرم ہونے پر شہری حلقے بھی تشویش اور خوف کا شکار ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے آنے سے پنجاب کے حالات بھی کراچی جیسے ہو سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کو اس بات کا بھی انتظار ہے کہ ایم کیو ایم اس تاثر کو زائل کرتی ہے یا اسے قائم رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہتی ہے۔