دوسری شادی
- جمعہ 14 / مارچ / 2014
- 4284
لیجئے حضور ! طوطے والی بحث کا آغاز تو ہو گیا۔
دوسری شادی میں رکاوٹ کے قانون کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہوئے اب اس کے خلاف فرزندان و بزرگان اسلام کو میدان میں اترنے کی دعوت دے دی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دینی اہمیت کے اس اولیں کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کیسے کیسے بے لوث اور جذبہء ایمانی سے سرشار مجاہد میدان کارزار میں اترتے ہیں۔ اور وہ بھی ایسے میں جب ہلاکو وچنگیز سرحدوں پر دستک دے رہے ہوں۔
ایوب خاں کے مارشل لاء نے جہاں پنگوڑے میں انگوٹھا چوستی جمہوریت کو زندہ درگور کرتے ہوئے نظریہء پاکستان دریافت کیا، وہیں کچھ اچھے کام بھی کئے تھے۔ جن کی تعریف میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیئے۔ ان میں خاندانی منصوبہ بندی کی مہم اور عائلی قوانین کی تیاری بھی تھی۔ انہی عائلی قوانین کے تحت دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی شرط رکھی گئی تھی۔اگرچہ یہ شرط کچھ ایسی مشکل بھی نہ تھی کہ پاکستان کے بیشتر مرد تو آج بھی بیوی کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے جو کاغذ چاہیں لکھوا لیں۔ کسی کو شک ہو تو اپنی مرضی کے کسی بھی دیہات میں جا کر خود دیکھ سکتا ہے۔ بہر حال یہ ایک اصولی مسئلہ ہے جسکے تحت قانونی تقاضہ پورا کرنے کی زحمت تو کرنا ہی پڑتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے شوشے ایسے وقت میں کیوں چھوڑے جا رہے ہیں جب کہ ملک آفات میں گھرا ہو اور اسکی بقا کے لالے پڑے ہوں ۔ کہں ایسا تو نہیں کہ یہ خود ساختہ عالم ان وحشی درندوں کے ہراول دستے ہوں اور انکی آمد کی راہ ہموار کر رہے ہوں جو نااہل حکمرانوں کے ہاتھوں جاں بلب ریاست پر اپنا ایجاد کردہ عقیدہ شریعت کے نام پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ جو قانو ن خودد علماء کی مشاورت سے بنایا گیاتھا اور پچاس سے زائد برس سے کسی اعتراض کے بغیر نافذ العمل ہے وہ یک بیک اسلام کے منافی کیسے ہو گیا۔
یا تو جن علماء کی مشاورت سے اسے بنایا گیا تھا وہ نا اہل تھے یا پھر اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ سربراہ علم و تبحر میں ان سب پر بھاری ہیں۔ لیکن ان کی بات کیوں مانی جائے۔ کیا اس لئے کہ انکی دستار زیادہ پیچدار اور جبہ طلائی کام سے مزین ہے۔ نہیں مولا نا! ہم اپنی ماؤں کو مائیں، بہنوں کو بہنیں ، بیٹیوں کو بیٹیاں سمجھتے ہیں۔ آپ کی تشریح کے مطابق انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح جب اور جس طرف آپ کا جی چاہے نہیں ہانکا جا سکتا۔
کسی مسئلے پرفرمان جاری کرنے سے پہلے آپس کے اختلاف تو دور فرما لیجئے۔ حالت یہ ہے کہ اخوت اسلامی اور اتحاد بین المسلمین کا درس دینے والوں کو کسی ایک مسجد میں اکٹھا کر دیا جائے تو لمحوں بعد وہاں بہتر دروازے اور بہتر محرابیں کھڑی ہو جائیں گی اور اللہ کے گھر میں عبودیت کے لئے غلط دروازے سے داخل ہونے والا خارج از اسلام اور واجب القتل قرار پائے گا۔
علامہ، مولا نا، ملا، مفتی جیسے الفاظ کبھی بیحد محترم سمجھے جاتے تھے اور اس مقام تک پہنچنے کیلئے کسی پروفیسر کی طرح برسوں علم کی ریاضت کرنا پڑتی تھی۔ ایک عالم دینی علوم کے علاوہ عصری علوم اور تقاضوں سے بھی نہ صرف واقف ہوتا تھا بلکہ ان سے پوری طرح استفادہ بھی کرتا تھا۔ اور پھر ایسے ہی علماء کے شاگردوں میں ان باکمال ہستیوں کے نام بھی آتے ہیں جن کے حوالے سائنس، طب، فلسفہ، ریاضی، فلکیات، ترجمے اور ایسے ہی بہت سے دوسرے میدانوں میں آج بھی دیئے جاتے ہیں۔
آج عالم اور مولانا کے ٹائٹل سجائے ہزاروں لوگ موجود ہیں۔ لیکن کوئی سینا، کوئی جبران، کوئی بیرونی پیدا نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ بالکل واضح ہے۔عصری علوم اور تقاضوں سے بے بہرہ شخص اپنے تئیں بھلے عالم کہلاتا پھرے ، وہ حقیقی معنوں میں عالم ہو نہیں سکتا۔ ایسے ہی کیا کوئی ذی شعور، مولینا جلال الدین رومی اور آج کے کسی مولا نا کو ایک ہی بریکٹ میں بند کر سکتا ہے۔ آپ خود سوچئیے۔
یقیناًآج بھی ایسے عالم موجود ہیں جن کا احترام واجب ہے۔ علماء حق اور اللہ کے برگزیدہ بندے ہر دور میں انسانیت کی فلاح کے لئے کوشاں رہے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ان نام نہادعالموں کی تعداد بہرحال کہیں ذیادہ ہے جو ہمہ وقت زعم تقویٰ کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں اور اپنی اتھارٹی منوانے کے لئے لوگوں کو فروعی مسائل میں الجھائے رکھتے ہیں۔ کیا یہ وہی عالم نہیں جن کا علم حرام حلال کے فتوے جاری کرنا اور مختلف عقیدہ رکھے والوں کو کافر قرار دینے تک محدود ہے۔ یہ آج کی بات نہیں ہے۔ صدیوں سے ایسا ہوتا چلا آرہا ہے۔
مولینا محمد حسین آزاد کی کتاب دربار اکبری پڑھ لیجئے۔ اکبر کے دور میں بھی ایسے ملاؤں میں کافر کافر کھیلنے کا مشغلہ جاری تھا۔ کیا یہ وہی لوگ تو نہیں جنہوں نے برصغیر میں ریل آنے پر اس کا سفر حرام قرار دیا تھا۔ایسے ہی کبھی کیمرہ، لاؤڈ سپیکر، اور بہت سی دیگر ایجادات بھی حرام ٹھہرائی گئی تھیں۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم بھی کافر قرا پائے تھے اور پاکستان ان کی نظر میں کافرستان تھا۔ پھر یہ ساری ایجادات حلال ہو گئیں اور پاکستان کو کافرستان قرار دینے والے پھدک کر اسکی سبز چراگاہوں میں آگھسے اور اسکے ٹھیکیدار بن کر نئے نئے نظریات ایجاد کرنے لگے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔
اب ان کی نظر میں وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے فوجی اور دیگر سیکیورٹی اہل کارشہید نہیں بلکہ حرام موت مارے جارہے ہیں اور جو ان کی گردنیں کاٹتے ہیں وہ شہید۔ یعنی: جو چاہے آپ کاحسن کرشمہ ساز کرے۔
چند برس پہلے ناروے میں ایک کٹر نسل پرست ’’ آرنے میر ڈال ‘‘ کا بڑا شہرہ تھا۔ جو تارکین وطن اور خاص طور سے پاکستانیوں کے خلاف مسلسل زہر اگلتا رہتا تھا۔ نارویجئن دانشوروں نے اس کا توڑ کرنے کیلئے ایک بہت سیدھا سادہ اور آسان سا حل نکالا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ میرڈال جب نیا جلسہ کرے تو بڑی تعداد میں اس میں شریک ہوں اور جیسے ہی وہ اپنی زبان کھول کر نسل پرستی کا زہر اگلنے لگے ، ایک سو اسی کے زاویے پر گھومتے ہوئے اسکی جانب کمر کر لیں جو اس بات کا علامتی اظہار ہو گا کہ وہ اسے اور اسکی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ اور پھر ایسا ہی ہؤا۔ لیکن میرڈا ل کے ظرف کی بھی داد دینی چاہئے کہ اس ذلت کے بعد وہ سیاسی منظر سے ہمیشہ کے لئے غائب ہو گیا۔
یہی نسخہ ایسے کٹھ ملاؤں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جو جبہ و دستار کی آڑ میں لوگوں کو بے مقصد اور تخریبی بحثوں میں الجھانے یا فرقہ پرستی کا زہر پھیلانے کیلئے منبر و محراب کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن ایسا ہو گا نہیں۔
آج جب دنیا ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش میں سرگرداں ہے ، افسوس کہ خطہ پاک کے بقراط مٹی میں لوٹنیاں لگاتے دوسری شادی کا ولیمہ کھانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
کاش لاؤڈ سپیکر کو حرام قرار دیئے جانے کا فتویٰ واپس نہ لیا گیا ہوتا۔