کرائمیا اور کشمیر
- سوموار 17 / مارچ / 2014
- 4088
یوکرائن کے علاقے کرائمیا میں روس سے الحاق کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر ریفرنڈم میں 97 فیصد لوگوں نے روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد کرائمیا کے رہنما نے کہا کہ وہ 17 مارچ کو کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کی درخواست دیں گے۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ کرائمیا کے لوگوں کی رائے کا احترام کریں گے۔ کرائمیا کے وہ رہائشی جو کیف کی حمایت کرتے ہیں انہوں نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا جبکہ یورپی یونین اور امریکہ نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ کرائمیا میں ریفرنڈم کا انعقاد یوکرائن کے آئین اور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ یوکرائن کی صورت حال کی وجہ سے روس سے اپنے روابط پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ یوکرائن میں حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم ایک سرکس پرفارمنس ہے اور وہ اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔ یوکرائن کی پارلیمنٹ نے دارالحکومت کیف میں باضابطہ طور پر 40 ہزار فوجیوں کو جزوی طور پر اکٹھا کرنے کی منظوری دے دی ہے اور وہ ان حالات کو جنگی حالات کہہ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ روس سے الحاق کے سوال پر ہونے والے ریفرنڈم کے خلاف قرارداد کو ا قوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس نے ویٹو کر دیا تھا۔ سلامتی کونسل کے باقی رکن ممالک نے اس ریفرنڈم کے خلاف ووٹ دیا جبکہ چین نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔ مغربی ممالک نے ریفرنڈم مخالف کی قرارداد کو ویٹو کرنے پر روس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یوں روس کو سلامتی کونسل میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر کرائمیا کے مستقبل پر ریفرنڈم سے ایک دن قبل ماسکو میں ہزاروں افراد نے یوکرائن میں روس کی دخل اندازی کے خلاف احتجاج کیا ۔ روسی دارالحکومت ماسکو میں مظاہرین نے روس اور یوکرین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ نعرے لگا رہے تھے کہ کرائمیا پر روس کا قبضہ روس کی جارحیت ہے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ روس ہمسایہ ملک پر دباؤ ڈالنے کے لئے غیرقانونی طور پر طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ امریکی صدرباراک اوباما نے خبردار کیاتھا کہ روس کو یوکرائن میں فوجی مداخلت کی قیمت چکانی پڑے گی۔ خیال رہے کہ روسی صدر نے کہا تھا کہ مشرقی یوکرائن میں روسی زبان بولنے والے لوگ اگر روس سے مدد مانگیں گے تو ماسکو کو اس پر جواب دینا ہو گا۔ یوکرائن کے اپوزیشن رہنما نے فروری کے اوائل میں پارلیمنٹ پر زور دیا تھا کہ وہ ایک قرارداد کی منظوری دے جس میں صدر وکٹریانوکووچ پر احتجاجی مظاہرین کے خلاف پولیس کی خون ریز طاقت کے استعمال پر فوری طور پر مستعفی ہو جا نے اور قبل از وقت صدارتی انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا جائے۔ بعد ازاں یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ فرار ہو کر روس چلے گئے۔ ہزاروں مظاہرین نے صدارتی محل اور دارالحکومت کی دیگر عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔
جب سے یوکرائن کا بحران شروع ہوا ہے، عالمی تجزیہ نگار مسلسل مشرق اور مغرب کے درمیان تقسیم کے حوالے سے انتباہ کر رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ یوکرائن میں اصل دھڑے بندی مشرق اور مغرب کی نہیں بلکہ یہاں صرف دودھڑے ہیں۔ ایک دھڑا ملک میں جمہوریت پسند قوتوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا دھڑا روس نواز سابق صدر کا حامی ہے۔
یہ درست ہے کہ یوکرائن ایک کثیرالثقافتی ملک ہے جہاں لوگ کئی زبانیں بولتے اور مختلف سیاسی ترجیحات رکھتے ہیں۔ یوں یوکرائن دنیا کے دیگر ممالک سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ جب یوکرائن کی بات ہوتی ہے تو روسیوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ یہ ملک تقسیم ہو کر رہے گا؟ تنازعہ میں ملوث ممالک کو سمجھنا ہو گا کہ اگر امریکہ، روس اور یورپی یونین نے یوکرائن کو سرد جنگ کے دور میں نہ واپس نہ دھکیلا تو ریفرنڈم کے باوجود یہ کثیر الثقافتی ملک نارمل ملک بن سکتا ہے۔
ایک طرف تو اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کرنے سے قبل ہی روس نے کرائمیا پر قبضہ کر لیا اور 15 مارچ کو ریفرنڈم کے لئے قرار داد پیش کر دی اور اگلے ہی روز ریفرنڈم کا انعقاد ہو گیا۔ خطے کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشمیر میں ریفرنڈم کے حوالے سے بھارتی حکومت پر دباؤ کیوں نہیں ڈالتی جبکہ کشمیری عوام 66 برسوں سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت کی حکومت جانتی ہے کہ اگر منصفانہ ریفرنڈم کرایا گیا تو سری نگر کی گلیوں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا جائے گا اور کشمیری عوام عالمی برادری کو ایک مثبت پیغام دے کر بھارت کی جمہوریت دوستی کے ڈھول کا پول کھول دیں گے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جہاں مغربی اور امریکی ایجنڈے کے تحت کسی ملک کے علیحدگی پسندوں کو آزادی دلوانا چاہتی ہے تو فوری طور پر وہاں ریفرنڈم کروایا جاتا ہے اور انڈونیشیا اور سوڈان کی طرح ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرا دیا جاتا ہے مگر جہاں بات مسلمانوں کی آئے تو ان کے معیار تبدیل ہو جائے ہیں۔
کرائمیا میں ہونے والا ریفرنڈم یقینی طور پر کشمیری حریت پسندوں کی تحریک کیلئے مہمیز کا باعث بنے گا اور آزادی کی خواہش کی دبی ہوئی چنگاری پھر سے شعلہ بن جائے گی۔ بھارت کو سمجھنا ہو گا کہ اب عوام کو فوج کے ذریعے جوتے کی نوک تلے رکھ کر محکوم نہیں بنایا جا سکتا۔ آزادی ہر انسان کا حق ہے جو اس سے کسی بھی طرح چھینا نہیں جا سکتا۔ انسان اگر کرہ ارض کو بربادی سے بچانا چاہتا ہے تو اسے اپنی ہی طرح کے تمام انسانوں کو آزادی سے جینے اور اپنی مرضی کے فیصلے کرنے میں آزادی دینا ہو گی۔