اخبارات کے نادار مالکان

  • جمعرات 20 / مارچ / 2014
  • 4952

اتوار کا دن اگرچہ اخبارات ، ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے لیے باقاعدہ چھٹی کا دن نہیں ہوتا ۔ ان صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں کی بڑی تعداد کو اس روز اپنے فرائض منصبی ادا کرنے ہوتے ہیں۔ تاہم یہ دن عمومی طور پر ان کے لیے زیادہ مصروف نہیں ہوتا اور وہ فرائض منصبی کی ادائیگی کے باوجود کچھ نہ کچھ وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزار لیتے ہیں۔ اور اس طرح ان کے ذہنوں میں بھی یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ وہ مشینی مصروفیات اور تھکا دینے والی زندگی گزارنے والے کوئی روبوٹ نہیں بلکہ ان کی بھی ایک خانگی زندگی ہے۔

تاہم اتوار 16 مارچ کا دن لاہور کے صحافیوں کے لیے خاصا مصروف ثابت ہؤا کہ اس روز شہر میں بعض ایسی علمی، سیاسی و ثقافتی تقریبات ہو رہی تھیں جن کو مس کرنا کسی پیشہ ور صحافی کے لیے ممکن نہیں تھا۔ صبح نو بجے سے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی اساتذہ کی ملک گیر باڈی تنظیم اساتذہ کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات کی ایک روزہ میڈیا ورکشاپ ہو رہی تھی۔ جس میں پنجاب کے 36 اضلاع کے سیکرٹری اطلاعات کے علاوہ تنظیم اساتذہ پاکستان کے سربراہ پروفیسر میاں محمد اکرم مرکزی سیکرٹری جنرل پروفیسر اظہار الحق، اور تنظیم اساتذہ لاہور کے فعال اور سرگرم صدر پروفیسر رضوان الحق شریک تھے۔

اس ورکشاپ سے معروف صحافی اور ممتاز کالم نگار جناب رؤف طاہر، شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن اختر ناز، روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ ایجوکیشن رپورٹرز، ایسوسی ایشن کے رہنما محمد یوسف عباسی اور معروف ریڈیو پروڈیوسر رانا ناصر نے خطاب کیا۔ اور صحافت اور شعبہ تدریس کے باہمی تعلق و تعاون، اساتذہ اور اہل صحافت کی ذمہ داریوں، ملک میں نظریاتی صحافت کی بڑی حد تک خاتمے، تعلیم جیسے اہم شعبہ کو میڈیا میں نظر انداز کرنے، اساتذہ کے مسائل سے پہلو تہی کرنے اور اہل صحافت کی بے سمت روش پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

دوسری تقریب پاکستان ریلوے میں مزدوروں کی نمائندہ تنظیم اوراجتماعی سودا کار ایجنٹ پریم یونین کی مجلس عاملہ کی وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے ملاقات تھی۔ جو حقیقت میں ایک مزدور یونین اور ایک محکمے کے وزیر کی ملاقات نہیں تھی بلکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا باہمی رابطہ بھی تھا۔ اگرچہ یہ رابطہ دوسرے درجہ کی قیادت کے درمیان تھا لیکن مئی 2013ء کے بعد شاید یہ پہلا غیر رسمی رابطہ تھا کہ جماعت اسلامی پنجاب کے مستند رہنما حافظ سلمان بٹ اس ملاقات میں پریم یونین کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جناب خواجہ سعد رفیق بطور وزیر وہاں موجود تھے۔

ان دونوں رہنماؤں کے باہمی تعلق کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ دونوں نسلاً کشمیری مگر لاہور کے قدیم باسی ہیں۔ دونوں کے حلقہ ہائے انتخاب لاہور میں ہیں۔ دونوں نے بطور طالب علم رہنما اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ حافظ سلمان بٹ اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما اور گورنمنٹ کالج لاہور کی سٹوڈنٹس یونین کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کی سیاست میں بھی نمایاں رہے ہیں۔ مگر پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے انتخاب میں جنرل سیکرٹری کا عہدہ تھوڑے سے ووٹوں سے ہار گئے تھے۔

خواجہ سعد رفیق مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے فعال ترین رہنما تھے اور طویل عرصے تک ایم اے او کالج سٹوڈنٹس یونین پر چھائے رہے۔ دونوں کا روایتی حلقہ انتخاب ایک ہی ہے۔ 1985ء میں اس حلقہ سے حافظ سلمان بٹ رکن قومی اسمبلی اور خواجہ سعد رفیق کی والدہ بیگم فرحت رفیق مرحومہ پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ 1988ء کی پنجاب اسمبلی میں حافظ سلمان اور سعد رفیق دونوں اکٹھے رہے ہیں جب کہ 2002ء میں دونوں قومی اسمبلی کے رکن تھے۔ اس کے علاوہ 2002ء کے بلدیاتی انتخابات میں ضلع ناظم لاہور کے لیے حافظ سلمان بٹ جماعت اسلامی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدوار تھے۔

جماعت اسلامی کے حلقوں میں کہا جاتا ہے جماعت اسلامی کے اندر مسلم لیگ (ن) کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں اور ان سے بہترین تعلق رکھنے والوں میں جناب لیاقت بلوچ اور حافظ سلمان بٹ شامل ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں جماعت اسلامی کے لیے انتہائی نرم گوشہ رکھنے والوں میں خواجہ سعد رفیق سر فہرست ہیں۔ اس پس منظر کے ساتھ خواجہ سعد رفیق اور حافظ سلمان بٹ کی ملاقات (وزیر ریلوے اور پریم یونین کی ملاقات) کو صحافتی حلقے بے حد اہمیت دے رہے تھے۔

تیسری تقریب بھارتی اداکار اوم پوری اور ادکارہ دیویادتہ کی لاہور پریس کلب آمد تھی۔ پاکستان اور بھارت کو یکجا کرنے کے لا حاصل مشن پر کار بند جنگ اور جیو گروپ کی دعوت پر پاکستان آنے والے یہ اداکار اس گروپ کی کوششوں سے پریس کلب آئے اور امن کی آشا کا راگ الاپتے ہوئے واپس چلے گئے۔

چوتھی تقریب مالکان اخبارات وجرائد کی تنظیم ’’اے پی این ایس‘‘ کی تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور حکومتی ترجمان پرویز رشید کی آمد تھی۔ یہ تقریب اگرچہ ایک بھاری بھر کم تنظیم اور وفاقی کابینہ کے ایک انتہائی اہم رکن اور بہت سی خفیہ اور پس پردہ حکومتی سرگرمیوں کے راز دان جناب پرویز رشید کی وجہ سے خاصی اہم تھی لیکن یہاں ہونے والے گفتگو اور گرما گرمی نے اسے مزید اہم بنا دیا۔

اتوار کے روز چونکہ اخبارات اور چینلز میں رپورٹرز کم ہوتے ہیں اس لیے عام طور پر ایک ہی رپورٹر کو بیشتر تقریبات کور کرنا ہوتی ہیں۔ چنانچہ یہ بے چارے رپورٹرز مندرجہ بالا تقریبات کو کور کرتے ہوئے بھاگم دوڑ پرویز رشید کی تقریب میں پہنچے تو وہاں سینئر صحافیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد پہلے سے موجود تھی۔ جو اطلاعات کے وفاقی ادارے پی آئی ڈی اور پنجاب کے محکمہ تعلقات عامہ ڈی جی پی آر کے افسروں اور اہلکاروں کی شبانہ روز محنت کا پتہ دے رہی تھی۔ کہ ان بے چاروں نے کس منت سماجت کے بعد ان صحافیوں کو اتوار کے روز اکٹھا کیا ہو گا۔

وفاقی وزیر جناب پرویز رشید کی آمد پر انہیں سٹیج پر بٹھا دیا گیا اور ان کے دائیں بائیں خبریں گروپ کے چیف ایڈیٹر جناب ضیاء شاہد، روزنامہ پاکستان گروپ کے جناب مجیب الرحمن شامی اور پاکستان ٹوڈے کے مالک و ایڈیٹر اور سابق نگران وزیر اطلاعات جناب عارف نظامی نے نشستیں سنبھال لیں۔ اپنے ابتدائی کلمات میں جناب عارف نظامی نے بتایا کہ یہ تقریب اے پی این ایس اور سی پی این ای کے سابق صدر سنیٹر سید فصیح اقبال کی یاد میں منعقد ہو رہی ہے جو چند روز قبل انتقال کر گئے ہیں۔

جناب سید فصیح اقبال کے بارے میں یہ واحد جملہ تھا جو دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس تقریب میں کہا گیا۔ اس کے بعد حرام ہے جو کسی نے جناب فصیح اقبال کا نام بھی لیا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگلے روز کے اخبارات میں یہ خبر جناب پرویز رشید کے اعزاز میں اے پی این ایس کے استقبالیہ کے طور پر شائع ہوئی ۔ جس کے لیے جناب عارف نظامی نے ایوان اقبال کو استعمال کیا کہ یہاں انہیں نہ تو ہال کا کوئی کرایہ دینا پڑتا ہے اور نہ چائے یا کھانے کے اخراجات۔ کیونکہ وہ ایوان اقبال کے چیئرمین ہیں۔ زرداری حکومت نے ان کے چچا مجید نظامی کو ہٹا کر انہیں چیئرمین مقرر کیا تھ۔ بعد میں وہ نگران حکومت میں وزیر اطلاعات بھی بن گئے۔ جب کہ موجودہ دور میں بھی چیئرمین ایوان اقبال کے عہدے پر بدستور فائض ہیں۔ اور موجودہ حکومت جناب مجید نظامی کی تالیف قلب کے لیے تاحال کچھ نہیں کر سکی۔

ایوان اقبال میں ہونے والی اس تقریب کا مقصد اور غرض و غایت ابتدائی چند منٹوں میں ہی سامنے آ گئی۔ جب پہلے جناب مجیب الرحمن شامی اور بعد میں عارف نظامی نے پوری طاقت سے یہ دہائی دی کہ اخباری مالکان مہنگائی کے اس دور میں مر لٹ گئے ہیں کہ ان کے ڈیڑھ ارب روپے حکومت کے ذمہ ہیں۔ جو حکومت ادا نہیں کر رہی۔ اگر یہ رقم فوری طور پر اخبارات کو نہ دی گئی تو اخبارات کے لیے اپنا کام چلانا ناممکن ہو جائے گا جو پہلے ہی کافی مشکل ہے۔

اس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے وضاحت کی کہ انہوں نے اپنی وزارت کو یہ احکامات جاری کر رکھے ہیں کہ اشتہار کی اشاعت یا نشر ہونے کے زیادہ سے زیادہ تیس دن میں اس کی ادائیگی کر دی جائے اور جب سے انہوں چارج سنبھالا ہے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ تاہم اگر ان کے احکامات کے باوجود کسی کی رقم واجب الادا ہے تو وہ بتائے اسے فوراً ادائیگی کر دی جائے گی۔ اس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ گزشتہ حکومت (زرداری حکومت) کے زمانے کے واجبات ہیں جس پر پرویز رشید نے دبنگ انداز میں کہا کہ وہ ایک مالی سکینڈل اور کرپشن تھی۔ ایک اشتہاری کمپنی کے ذریعے بوگس اشتہار دیئے گئے۔ جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ تاہم وہ پھر بھی اس معاملے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔

اس سارے پروگرام کے دوران مالکان اخبارات اپنی رقوم کی ادائیگی، مالی ابتری اور مشکلات کا رونا روتے رہے۔ اور یہ فرض تینوں اخباری مالکان باری باری ادا کر رہے تھے کہ ایک صحافی نے ایک سوال کر کے ساری میز ہی الٹا دی۔ اس صحافی نے وزیر اطلاعات سے پوچھا کہ وہ اخباری مالکان کے اس واویلے پر تو ہمدردی کا اظہار کر رہے۔ ہیں ان کے وہ معاملات بھی دوبارہ دیکھنے کا یقین دلا رہے ہیں۔ جن کو وہ خود مالی کرپشن کہہ رہے ہیں۔ مگر یہ بتائیں کہ جن اخبارات اور چینلز میں چار چار ماہ تک صحافیوں اور کارکنوں کو تنخواہیں نہیں دی جا رہی ان کے خلاف بھی کسی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں اور کیا اس سلسلے میں حکومت کوئی حکمت عملی بنا رہی ہے۔

اس سوال پر صحافیوں کے چہروں پر ہلکی سی مسرت اور مالکان کے چہروں پر کچھ پریشانی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ جناب عارف نظامی نے تو بہت آہستہ سے دوبارہ کہا ہم تو دیتے ہیں ہم تو دیتے ہیں۔ مگر یہ آواز اتنی آہستہ تھی کہ سٹیج سے نیچے کسی کو سنائی نہیں دی۔ اس پرشامی صاحب نے پھر پرانی دلیل دہرائی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ڈیڑھ ارب روپے واجب الادا ہیں۔ ۔ اس پر اس صحافی نے کہا کہ آپ نے کائرہ کے دور میں یہ کہہ کر اشتہارات کے نرخ دو گنا کرا ئے کہ اس کے بعد آپ ویج بورڈ کا نفاذ کردیں گے۔ اشتہارات کے نرخ تو ڈبل ہو گئے مگر کارکنوں کو تنخواہیں نہ ملیں۔

اس معاملے میں تلخی اور تندی قائم تھی کہ ایک بڑے ٹی وی چینل کے بیورو چیف نے سامعین میں سے کھڑے ہو کر ایک دھماکہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صحافی نے بالکل درست بات کی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ سٹیج پر بیٹھے ہوئے تینوں مالکان اخبارات اپنے کارکنوں کو تنخواہیں نہیں دیتے۔ اس براہ راست اور سخت الزام کا مالکان اخبارات کوئی جواب نہ دے سکے اور جلدی جلدی تقریب ختم کر دی۔ لیکن انہوں نے اس کا جواب اس طرح دیا کہ مختلف ٹی وی چینلز نے اس تقریب کو تو نشر کیا مگر صحافیوں کی تنخواہوں اور اس پر ہونے والی بدمزگی کا کوئی تذکرہ نہ کیا۔ اگلے روز کے اخبارات میں خبر کا یہ حصہ بالکل شائع نہیں ہؤا۔ جس سے کم از کم لاہور کے صحافتی حلقوں کو آزادئ صحافت کا اصل مفہوم ضرور معلوم ہو گیا ہو گا۔

لاہور کے صحافتی اور سیاسی حلقے میں اب اس حوالے سے ایک بحث جاری ہے صحافیوں کی محفلوں اور پریس کلب میں یہ گفتگو صبح و شام ہو رہی ہے یہ گفتگو تو بہت ہو رہی ہے لیکن صورتحال کی بہتری کی کوئی امید کسی کو نہیں ہے۔ کیونکہ ریاست اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ وہ اپنے مفاد کی خاطر ایک طبقہ کا استحصال ہوتا ہؤا دیکھ رہی ہے اور محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔

لیکن اس بار صحافی خاصے مشتعل نظر آتے ہیں اور شاید پہلی بار وہ اے پی این ایس اور سی پی این اے کے معاملات کی چھان بین اور شفاف آڈٹ کرانے جیسے مطالبات بھی کرتے نظر آ رہے ہیں۔