خوشونت سنگھ ، خُدا حافظ !

  • جمعہ 21 / مارچ / 2014
  • 8531

معروف صحافی ، دانشور ، کہانی کار ، محقق ، وقائع نگار اور سفارتکار سردار خوشونت سنگھ کا دیہانت ہو گیا۔ اِنّا للہ کہنا چاہتا ہوں مگر علماء کرام اور مُفتیانِ کرام سے خوف آتا ہے کہ وہ ہر طرف کلاشنکوف سے زیادہ خطرناک فتووں کے ہتھیار لیے خلقِ خُدا کی گردنیں ناپنے کے بہانے ڈھونڈتے پھرتےہیں ۔

جہاں تک زندگی کے مظہر کا تعلق ہے تو خُدا کی یہ کائنات حیات و موت کا کارخانہ ہے ۔ ہر روزلاکھوں ارواح، لباسِ خاک میں ہویدا ہوتی ہیں اوراسی قدر اپنا لباسِ خاک اُتار کر اُس مقام کو لوٹ جاتی ہیں جسےعلیین سمیت کئی نام دیئے جاتے ہیں ۔ اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں دہشت گرد قتل کرنے سے پہلے ریہرسل کے طور پر بھی قتل کرتے ہیں ، کسی بڑے یا چھوٹے شخص کا راہی ء ملکِ عدم ہونا کوئی غیر معمولی تاثر مُرتب نہیں کرتا ۔ تاہم جب بھی کسی جاننے والے شخص کی وفات کی خبر ملتی ہے تو مجھے جون ایلیا کا یہ شعر ضرور یاد آتا ہے :
کتنی خوش خُو ہو تم ، کتنا دل جُو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

لیکن اگر شاعر فلسفی ہو تو موت میں زندگی کے قرینے ڈھونڈتا ہے اور اقبال کی طرح کہتا ہے کہ :
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں

تاہم اس تمہید سے گریز کرتے ہوئے میں خوشونت سنگھ صاحب سے چند ملاقاتوں کا احوال بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ خوشونت کی شخصیت اورفن پر لکھنے والے اس وقت اپنے قلم کی جولانیاں دکھا رہے ہیں۔ مگر میں خوشونت صاحب کی ملاقاتوں کی کہانی بیان کرنا چاہتا ہوں اور جیسے میں نے اُنہیں دیکھا ، ویسے ہی قارئینِ " کاروان" کو دکھانا چاہتا ہوں ، تاکہ حصہ بقدرِ جُثّہ والا معیار قائم رہے :

یہ سن اسّی کے موسمِ خزاں کا ذکر ہے جب میں میر مرتضیٰ بھٹو سے ، جو اب مرحومین میں شامل ہیں ، رُخصت طلب کرکے کابل سے بھارت میں چھُٹیاں گزارنے گیا تھا ۔ ائر انڈیا کا طیارہ امرتسر کے راجہ سانسی ائر پورٹ پر اُترا تو عصر کا وقت تھا۔ مسافروں میں مجھ جیسے اوپرے مسافر کو دیکھ کر امیگریشن افسر کا ماتھا ٹھنکا ۔ تا ہم معمولی وضاحت کے بعد مجھے شہر میں داخلے کی اجازت مل گئی ۔ سکھ افسر یہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر میں سیدھا دہلی جانے کے بجائے امرتسر کیوں آیا تو میں نے اُسے بتایا کہ مجھے ایک تو جلیانوالہ باغ دیکھنا ہے اور دوسرے طلائی مندر کی وہ عمارت جس کی بنیاد لاہور کے صوفی بزرگ حضرت میانمیر صاحب نے رکھی تھی ۔ میری اس وضاحت پر سکھ افسر دل کھول کو مسکرایا اور میں نے بھی جواباً قہقہہ داغ دیا ۔ اور پاسپورٹ پر داخلے کا ٹھپہ لگ گیا ۔
آپاں انڈیا پہنچ گئے سی ۔

امرتسر کی گلیاں کوچے بالکل اسی طرح گھومے جیسے لاہور کی سڑکیں اور گلیاں ناپتے تھے ۔  جلیانوانہ باغ دیکھا ، گولڈن ٹمپل کی زیارت کی اور پھر دو دن بعد ریل میں سوار ہو کر میں دہلی کے لیے روانہ ہو گیا۔ دہلی کے موسم میں ابھی خنکی نہیں تھی ۔ میں دریا گنج کے ایک ہوٹل میں جا ٹھہرا اور اپنا سامان کمرے میں رکھ کر دہلی دریافت کرنے نکل کھڑا ہؤا ۔ اس سفر میں پہلے مجھے جنوبی دہلی میں حوض خاص میں واقع امرتا پریتم کے گھر تک پہنچنا تھا اور یہ امرتا ہی تھیں جنہوں نے خوشونت سنگھ کو فون کر کے بتایا کہ پاکستان سے ایک مسافر براستہ کابل آیا ہے ، اُس سے ملو !

چنانچہ اگلے روز میں ہوٹل سے نکل کر بارہ کھمبا روڈ پر واقع روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے دفتر پہنچا۔  جس کے ایڈیٹر اُس وقت خوشونت سنگھ تھے ۔ ریسیپشن سے مجھے سیدھا خوشونت سنگھ کے کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔ اُن کی اتنی تصویریں دیکھ رکھی تھیں کہ اُن سے مل کر کسی اجنبیت کا احساس تک نہ ہوا ۔ لاہور میں زمانہ طالبعلمی میں بمبئی کے السٹریٹد ویکلی آف انڈیا کے کئی شمارے دیکھنےکا موقع ملا تھا ۔ جس کے ایڈیٹر خوشونت تھے اور اپنی بے باک صحافت کی وجہ سے اپنی الگ شہرت اور پہچان رکھتے تھے ۔

جواہر لعل نہرو کے زمانے میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن میں بھی کام کر چکے تھے ۔ لیکن جب خوشونت مجھ سے ملے تو یوں لگا جیسے ہڈالی کا خوشابی اپنے پورے پنجابی پن کے ساتھ اپنے گاؤں کے کسی لڑکے سے ملا ہو ۔ وہ بڑے ہی خلوص سے پیش آئے۔ تواضع بھی کی لیکن ساتھ چاقو سے گُد گدی بھی کرتے رہے ۔ اُن کے ماتحت ایڈیٹر مسٹر چھوٹو کراڈیہ تھے ۔ وہ کسی کام کے لیے خوشونت سنگھ کے کمرے میں آئے تو خوشونت سنگھ نے اُن سے مُخاطب ہو کر کیا ، " چھوٹو ! دیکھو ، یہ پاکستانی کتنے صفائی پسند ہیں ؔ ۔ اور پھر میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ لاہور شہر کا جتنا کوڑا کرکٹ تھا ، وہ اُٹھا کر سرحد پار پھینک دیا ہے " ۔

اس پر مجھ سے بھی رہا نہ گیا، اور میں نے کہا ، " چھوٹو صاحب ! (میں نے خوشونت سنگھ صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا ) کوڑے کا بڑا ڈھیر تو سن سنتالیس میں پھینکا گیا تھا ،اور کچھ بچا کھچا جو تھا وہ اب آیا ہے۔"

اس پر ایک زور دار قہقہہ پڑا مگر ساتھ ہی خوشونت سنگھ نے مصنوعی غُصے سے کہا ، " اوئے مُنڈیا ! شرم کر، میں تیرا بزرگ ہاں ۔"
میں نے نگاہ اُٹھا کر خوشونت ک سنگھ کے چہرے کو دیکھا ۔ اُن کے سر پر روایتی سکھ پگڑی کی بجائے ، مغربی پنجاب کی دستار تھی اور چہرے میں کرانہ کی پہاڑیوں کی سی اُٹھان اور رفعت ۔

کچھ دیر میں دفتر کا ایک ملازم چائے اور کباب لے آیا ۔ کبابوں سے گرم ہواڑ نکل رہی تھی ۔ ساتھ میں چٹنی اور سلاد ۔ میں نے کباب دیکھ کر خوشونت سے پوچھا ، " سر ! آپ کباب کھا لیتے ہیں ؟ " تو خوشونت نے پوری خوشونتی سے کہا ، " یار ، تینوں کی دساں ، مینوں تے تھائی لینڈ والیاں کُتا وی کھوا دتا سی ۔ بڑا سوادی سی میں کھا گیا تے بعد وچ پچھن تے پتہ لگا کہ کّتے دا قورمہ سی ۔۔"
“اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خُدا“ ۔ میرے مونہہ سے نکلا۔
" بوہتی بک بک نہ کر تے کباب کھا " ، مجھے حکم دیا گیا تھا ، لیکن کھانے سے پہلے میں نے پھر پوچھ لیا کہ یہ کباب کس گوشت کے ہیں ؟
اس پر سنگھ صاحب نے ایک مسکراہٹ پھینکی اورکہا ،" کھا لے فیر دساں گا کہ کُتّا نہیں سی "
یہ خوشونت سنگھ کے ساتھ پہلی خوشگوار اور دل چسپ ملاقات تھی ۔ ایک خوبصورت شخص کے ساتھ ملاقات۔
پون گھنٹے تک ہندوستان ٹائمز کے دفتر میں دو پنجابی اپنے پورے پنجابی پن کے ساتھ جان پہچان کے مراحل سے گزرتے رہے ۔ لنچ کا وقت ختم ہونے پر خوشونت نے کہا کہ اُنہیں اب دفتر کا کام کرنا ہے ، ہم اس محفل کو برخاست کرتے ہیں۔ مگرملتے رہنا اور اگر میں کسی کام آ سکوں تو بتانا ۔

خوشونت سنگھ سے اگلی ملاقات دو ماہ بعد حوض خاص میں امرتا پریتم کے گھر پر ہوئی ۔ بمبئی کا ایک فلم ساز امرتا پیرتم پر دستاویزی فلم بنانے کے لیے آیا تو امرتا جی نے خواہش ظاہر کی کہ اس فلم میں اُن کی زندگی اور شاعری پر میں خوشونت سنگھ کے ساتھ بات کروں ۔ میرے لیے یہ اعزاز کا محل تھا ۔ کئی گھنٹے تک شوٹنگ ہوتی رہی ۔  میں ہرا درویشی چولا پہن کر درویشوں کے پنجاب کی نمائندگی کرتا رہا ۔ اور ہم دونوں نے امرتا پریتم کی زندگی اور فن پر نصف گھنٹے کی یہ دستاویزی فلم تیار کروائی ۔

اس طویل مکالمے کے دوران خوشونت سنگھ کے علمی تبحر کے کئی گوشے بے نقاب ہوئے اور ساتھ ہی سادگی اور سادہ دلی کے نمونے بھی اُن کی شخصیت میں یکجا دیکھے ۔ خوشونت سنگھ  نے امرتا پریتم کی افسانہ نگاری اور ناول نگاری پر اپنی رائے ظاہر کی۔ جب کہ میں نے امرتا کی شاعری کی حوالے سے بات کی ۔ کیونکہ میں امرتا جی کی اُس کتاب کو اردو میں منتقل کرچکا تھا ۔ جس پر انہیں بھارت کا سب سے برا ادبی اعزاز  " گیان پیٹھ"  ملا تھا ۔ کتاب کا نام تھا " کاغذ تے کینوس " جس کا اردو ر ترجمہ میں نےامرتا جی کے ہاں ان کے ساتھ بیٹھ کر َ کاغذ اور کینوس " کے نام سے کیا تھا ۔

اس دن عالمی ادب پر گفتگو ہوئی تو اچانک خوشونت سنگھ نے اپنی انگریزی کتاب " دی ٹرین ٹو پاکستان " کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ اس کتاب کو اردو میں بھی ہونا چاہئے ۔

خوشونت بولے ،"ایہہ میرے کولوں کیہ پچھنا ایں " ۔ گویا ایک طرح سے ترجمے کی زبانی اجازت دے دی گئی ۔

 

میں نے اگلے ایک مہینے میں ان کے ناول کو" پاکستان ایکسپریس" کے نام سے اردو میں منتقل کر دیا ۔ اس ترجمے کی خبر موہن سنگھ پیلس کے کافی ہاؤس سے ناشروں کو ملی تو گوپال مِتّل کے بیٹے پریم گوپال متل نے جن کا دریا گنج میں اشاعت گھر تھا ، مجھ سے رابطہ کیا کہ اگر خوشونت سنگھ اس ناول  کے اشاعتی حقوق میرے نام کردیں تو میں ترجمے کا معاوضہ فی الفور ادا کردوں گا ۔ میں نےخوشونت صاحب کو فون کیا تو انُہوں نے گھر آنے کا کہا ۔ وہ لودھی ایسٹیٹس میں لوک نائک بھون کے پہلو میں جہاں وزارتِ داخلہ کا دفتر تھا ، اپنے نجی گھر میں مقیم تھے ۔ میں نے گھنٹی بجائی ، سردار نے روازہ کھولا اور فرمایا : " لبھ لیا ای میرا ڈیرہ؟"

 

اور یہ کہہ کر وہ مجھے اپنی لکھنے کی میز تک لے گئے جو ایک بڑے سے دالان نما کمرے میں دیوار سے لگی تھی ۔ میز پرکتابوں رسالوں  اور فائلوں کا انبار  تھا ۔ گورو گرنتھ صاحب کا نسخہ بھی نیم وا پڑا اپنے اشلوک اور پوڑیاں تقسیم کر رہا تھا ۔ دائیں طرف زمین پر وہسکی کی بوتل اور گلاس تھے ۔

خوشونت سنگھ نے اپنا لیٹر پیڈ اور قلم تھامتے ہوئے کہا ِ " یار ، اک گل تے دس ؟ ایہہ صادقین قرآن دی خطاطی وی کردا اے ؟

میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بولے ، " کل اوہ ایتھے بیٹھے بیٹھے میری ساری وہسکی ہی پی گیا ۔ ایہہ قرآن لخن والے نوں جائز اے ؟"

عرض کیا ، " آپ بھی مولویوں والی بات لے بیٹھے۔ فن کار اور شاعر کے پاس شراب نوشی کا لائسنس ہوتا ہے ۔ اس پر خوشونت بولے ،" صادقین تے کہندے سن کہ اوہناں کول ضیا الحق دا جاری کیتا ہویا پرمٹ اے "۔

 

میں اُن کا اشارہ سمجھ گیا کہ وہ ضیا ء الحق کے اسلام کے دوہرے معیار کی بات کر رہے ہیں ۔ اس دوران  باتوں باتوں میں وہ اپنا وعدہ بھی  نبھا رہے تھے کہ ترجمے کے حقوقِ اشاعت اپنے لیٹر پیڈ پر میرے نام کر رہے تھے ۔

یہ خوشونت سے میری تیسری  نجی ملاقات تھی ۔ اگرچہ اس کے بعد متعدد تقاریب میں جب بھی  آمنا سامنا ہؤا تو بات خیر خیریت دریافت کرنے تک ہی محدود رہی ۔ میں سن انیس سو  چوراسی کے موسمِ گرما میں ناروے آ گیا اور اس دوران نہ کوئی خط و کتابت ہوئی اور نہ ہی کوئی ملاقات ۔ اور اب یہ چند سطور ہیں جو اُن کی وفات کی خبر پر میری طرف سے ایک سپاس نامہ ہیں۔ ایک دعائے مغفرت ہیں ۔ چونکہ سکھ توحید پرست ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے ایک اونکار کے عقیدے کے ساتھ بُت پرستی سے دور اور اسلامی تعلیمات سے زیادہ قریب ہیں ۔ اقبال نے بابا گرو نانک کو خراج عقدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا:

پھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے

 

خوب سے جاگنے والوں میں خوشونت سنگھ کا خاندان بھی تھا اور میں اُن کی رحلت پر اپنے اس نجی تعزیت نامے میں اُن کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں :

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا ۔