پاکستان کے نام ۔ ۔ ۔ ایک پردیسی شاعر کا محبّت نامہ

  • سوموار 24 / مارچ / 2014
  • 4783

خُداوندِ برگ و برتر کے جلالت مآب نام کے ساتھ جو رحمان اور رحیم ہے ۔
نارویجین قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر محترمہ ماریت نی باک ، عزت مآب سفیرِ پاکستان جناب عبدالحمید خان ، معزز عملائے کرام ، دانشورانِ اوسلو اور ہم وطنانِ عزیز !

آج قرار دادِ لاہور کی چوہترویں سالگرہ ہے اور میں اس تاریخی قرارداد کی یاد میں اُنیس سو چالیس کے کل ہند مسلم لیگ کے جسلے کے صدر محمد عل جناح اور اُن کے رفیقِ کار مولوی فضل الحق کو ، جنہوں نے اجلاس میں قرار داد پیش کی تھی ، اپنا مؤدبانہ سلام پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے بّرِ صغیر کے مسلمانوں کی ترجمانی کی اور اُن کی خواہشات کے پیشِ نظر ، مُسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مُطالبہ پیش کیا ۔ یہ قرار داد لگ بھگ پون صدی پہلے پیش کی گئی تھی لیکن اُس قرارداد کی رُو سے ہم نے جس پاکستان کا خواب بُنا اور اُس کی بنیاد پر خطّے کے مُسلمانوں کو جو سبز باغ دکھایا ، وہ آج چھیاسٹھ برس گزر جانے کے بعد بھی ایک خواب ہی ہے ۔ ایک تشنہ ء تعبیر خواب اور اس بیچ میں ایک المیہ یہ کہ سن انیس سو اکہتر کے دسمبر میں وہ خواب ٹوٹ بھی چکا ہے اور مولوی فضل الحق ، جنہوں نے قرار دادِ پاکستان پڑھ کر سنائی تھی ، بنگلہ دیش کے وجود میں آنے سے پہلے سے ہی سابق مشرقی پاکستان کی خاک میں دفن ہو چکے ہیں ۔

یہ ہماری پون صدی کی تاریخ ہے ۔ پچھلے دنوں جب میں خالد محمود کی مُرتب کی ہوئی " تاریخِ ناروے" پڑھ رہا تھا تو ناروے کے 1905 کے وزیرِ اعظم جناب کرستیان میکائیلسن کا وہ بیان آنکھوں کے راستے دل میں اُتر گیا جس میں وہ فرماتے ہیں :
" آزادی کا مطلب صرف یہ ہے کہ آزادی کے روزِ اوّل سے ہی پوری قوم محنت میں جُٹ جائے "۔
تب مجھے قائدِ اعظم کا وہ فرمان یاد آیا ، جو اُنہوں نے طلباء کے ایک وفد سے ملاقات میں جاری فرمایا تھا اور وہ فرمان تھا : " کام ، کام اور صرف کام " ۔

اِس پر میں نے دونوں قوموں کے طرزِ عمل کا موازنہ کیا تو محسوس ہوا کہ نارویجینوں نے اپنے وزیرِ اعظم کی بات سنی اور 1905 سے لے کر اُنیس سو چودہ تک ہر شعبے کو ترقی کی راہ پر پُورے خلوص سے گامزن رکھا ، لیکن اِس کے برعکس ہم نے کیا کیا ؟ تقسیم کے ابتدائی چند برس سیاسی جوڑ توڑ میں گزار دیئے ۔ اوپر تلے حکومتیں اور وزرائے اعظم پے بہ پے بدلے اور پھر گیارہ سال بعد ملک کو ایک فیلڈ ماشل نے فتح کر لیا ۔ اگلے مرحلے میں سلسلہ وار مارشل لائیں اور سقوطِ ڈھاکہ ہمارا مقدر بنے ۔ نا عاقبت اندیش اور جاہل عسکری حکمرانوں نے ملک کو افغانستان کی جنگ میں جھونک دیا اور پھر ملک دہشت گردی ، کرپشن ، بد عنوانی ، فرقہ واریت ، نا انصافی ، لاقانونیت اور ایک وبا آثار ٹارگٹ کلنگ کے جال میں پھنستا چلا گیا ۔ اور اب یہ حال ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔

ہمارے ساتھ جو بیت رہی ہے وہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ، کیونکہ ہم خود تو وہ جاننا ہی نہیں چاہتے ۔ ہم یہ سُننا ہی نہیں چاہتے کہ ہم قومی زوال کی دلدل میں گردن تک دھنس چکے ہیں ۔ ہم جرائم اور بے راہروی کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باوجود اپنی نیکی کے بلند بانگ دعووں میں اس طرح حنوط ہیں کہ اپنے دستار و حجاب کو اُتار کر اپنا اصل چہرا دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔

اگر کوئی ہمیں آئینہ دکھائے تو ہم اُس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری کردار کُشی کر رہا ہے جس سے قوم کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے ، حالانکہ حوصلہ شکنی تو اُن کی ، کی جاتی ہے جن میں حوصلے کی سکت ہو اور ہم میں حوصلہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ اور یہ کوئی نئی کیفیت نہیں ہے ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت شاعرِ مشرق علامہ اقبال کو بھی درپیش تھی ، جنہوں نے فرمایا تھا :
وائے ناکامی ، متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

اور جب دل سے نقصان کا احساس رُخصت ہو جائے تو بے حِسی طبیعتِ ثانی بن جاتی ہے اور نقصان ، زرِ منافع لگتا ہے ۔ چنانچہ آج ہم اسی خسارے کو اپنا منافع سمجھ کر اُسے اپنے میڈیا میں پازیبیں پہنوا کر نچوا رہے ہیں ۔

میں خالد محمود کا شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے اپنے سیاستدان ہونے اور سیاسی بصیرت سے بہرہ اندوز ہونے کا پورا لحاظ رکھا اور اُردو پڑھنے والوں کے لیے ناروے کی تاریخ مُرتب کر ڈالی ۔ میرے گمان کے مطابق یہ کتاب سیاستدان خالد محمود کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن ہے جو اُنہوں نے پاکستان کی تارکِ وطن کمیونٹی کو دیا ہے ۔

خالد محمود کی کتاب 15 ہزار برس قبل اس علاقے میں آ کر بسنے والے انسانی گروہوں کے احوال سے شروع ہوتی ہے جو ناروے کے مغربی ساحلوں کے آباد کار تھے ، اور معاشرتی تاریخ کی شاہراہ پر سفر کرتے یہ لوگ بالآخرجدید ناروے کے خالق ثابت ہوتے ہیں ۔ اس ملک کی تاریخ کو خالد محمود نے کہانی کے انداز میں بیان کیا ہے۔ جس سے یہ کتاب تاریخِ ناروے کے بجائے داستانِ ناروے بن گئی ہے ۔ کتاب کا بیانیہ سہل ، سادہ اور دل چسپ ہے اور ناروے میں چھپنے والی غیر ادبی کتابوں میں سب سے اہم اور کار آمد دستاویز ہے ، اِس کتاب کے مطالعے سے پاکستانی تارکینِ وطن کو اپنے اس دوسرے وطن ناروے سے وابستگی بڑھانے کے مواقع بہم ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔

میں کتاب کی زبان اور بعض اظہارات پر اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں تاہم کتابت اور پروف کی غلطیوں سے پیدا ہونے والی بد مزگی کا گلہ ضرور کروں گا ۔

اس کتاب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے توسل سے ہمیں اپنی آبائی معاشرت کا نارویجین سامفن سے موازنہ کرنے میں سہولت رہے گی ۔ اور اس قسم کے مواقع بہم پہنچانے کا سارا کریڈٹ خالد محمود کو جاتا ہے کہ اُنہوں نے سنجیدگی اور لگن سے اس کام کو پایہ ء تکمیل تک پہنچایا ۔

اب آخر میں میری جانب سے پاکستانی نژاد خواتین و حضرات ، نوجوانوں ، بچوں ، سیاستدانوں ، طلبا و طالبات اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کی خدمت میں قرار دادِ پاکستان کی چوہترویں سالگرہ پر تہِ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ہمارے حکمرانوں ، بالخصوص عسکری اور مذہبی رہنمائوں کو توفیق دے کہ وہ قرار دادِ پاکستان کی شکل میں اللہ ، اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور برِ صغیر کے مسلمانوں سے کیے ہوئے ایک پر امن ، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے وعدے کو پورا کر سکیں ۔ اور ہم جن مصائب کا شکار ہیں ، اُن سے ہمیں رہائی ملے ۔
اے سرزمینِ وطن ! تجھے تیرے پردیسی بیٹوں اور بیٹیوں کا سلام ۔۔

پاکستان کے نام
کشتِ ہجراں میں تری یاد ہی بو لیتے ہیں
اے وطن ! گُل نہ سہی خواب پرو لیتے ہیں
تجھ کو ہر سانس میں رکھتے ہیں مہک سا محفوظ
تو جو دل ہے ، تجھے پہلو میں سمو لیتے ہیں
رات بھر ہجر کی مے آنکھ میں کرتے ہیں کشید
صبح ، چہرا اِسی خونناب سے دھو لیتے ہیں
جب ترے پاس تھے ، ہم زخمِ فلاکت ہی تو تھے
اور اب دور ہیں ، تیرے لیے رو لیتے ہیں
گل کو یاد آئے گی خوشبوئے پریدہ ہم سے
اے صبا ! سوئے چمن ساتھ ہی ہو لیتے ہیں
شب کٹے یا نہ کٹے ، اپنی بلا سے مسعود
چادرِ رنگِ وطن اوڑھ کے سو لیتے ہیں

(یہ مضمون23  مارچ بیس سو چودہ کو اوسلو کے شالیمار ریاستوران کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں پڑھا گیا )۔