ملبہ
- جمعرات 27 / مارچ / 2014
- 4895
تو جناب یہ ہے وہ ملبہ جسے ہٹا کر آپ نیا گھر تعمیر کریں گے۔
اگرچہ پلاٹ توسربہت خوبصورت ، وسیع و عریض اور بڑے موقع پر ہے، لیکن کیا کیا جائے کہ جن کے تصرف میں یہ رہا ہے انہوں نے کبھی اسے اپنا سمجھا ہی نہیں ۔ انکی ذہنیت کا ندازہ تو آپکو یہاں ہر طرف بکھرے ہوئے کاٹھ کباڑ اور غلاظت سے ہو ہی گیا ہو گا سر۔ سو اب آپ کو کو تھوڑی سی زحمت تو کرنا ہی پڑے گی اور اپنا نیا مکان تعمیر کرنے کے لیئے یہ سارا کاٹھ کباڑ ہٹا کر اصل پلاٹ تو اس میں سے برآمد کرنا ہی پڑے گا۔
دیکھئے سرکتنا تعفن ہے یہاں۔ جیسے اگلے وقتوں میں شہروں کا فضلہ پھینکنے کے لئے مخصوص کی گئی جگہوں پر ہوتا تھا۔ شہر کی ساری گندگی انہی ڈھیروں پر ہی توپھینکی جاتی تھی۔ گلے سڑے پھل، سبزیاں، اوجھڑیاں، قربانی کے جانوروں کی آلائش، گلیوں بازاروں میں مر جانے والے کتے ، گدھے اور دیگر مردار۔ اور پھر ان سلی خانوں پر ضیافت اڑاتی چیلوں، گِدھوں ، کووں اور کتے بلوں کو بھی توآپ نے دیکھا ہی ہو گا۔ اور پھر ان سب کے درمیان کوڑے میں رزق تلاش کرتے وہ غلیظ بچے۔ توبہ توبہ جناب۔ کبھی قریب آ جاتے تو انکے جسموں سے اٹھنے والی بو سے ابکائیاں آنے لگتی تھیں۔ نجانے زندہ کیسے تھے۔
آپ یہاں پھینکے گئے کاٹھ کباڑ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں ۔ ضرور لیجئے سر۔ احتیا طاٌ ناک پر رومال رکھ لیجئے۔ بیماریوں کا گڑھ ہوتی ہیں ایسی جگہیں۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں سر۔ اوپر منڈلاتی چیلوں اور گِدھوں کی شکلیں آپ کو جانی پہچانی لگتی ہیں۔نہیں نہیں! یہ کیسے ہو سکتا۔ ان مردار خوروں کی شکلیں سیاستدانوں اور اشرافیہ سے کیسے مل سکتی ہیں۔ یہ تو چیلیں ہیں سر چیلیں۔ آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ حد ہو گئی ! اب مردار نوچتے بھنبوڑتے کتوں میں بھی آپ کو شناساچہرے نظر آنے لگے۔آپ کا چشمہ درست نمبر کا ہی ہے ناں سر ۔ بعض اوقات نمبر غلط ہو تو بینائی متاثر ہو جاتی ہے۔
آپ اس گول مول سے بنڈل کا پوچھ رہے ہیں۔ سرجس سے یہ کچرا چننے والے غلیظ بچے فٹبال کھیل رہے ہیں۔ ٹھہریئے پڑھ کر بتا تا ہو کیا ہے یہ۔ جی ! اس پر تو آئین لکھا ہوا ہے۔ دیکھئے ان خبیثوں نے فٹبال کھیل کھیل کر کیسی دھجیاں بکھیر دی ہیں اس بنڈل کی۔ جی جی ! آپ فکر نہ کیجئے۔ میں سنبھال کر رکھ دیتا ہوں اسے کہیں۔ یہ دیکھئے ناں ۔ یہ ایک ٹوٹی ہوئی ساگوانی الماری پڑی ہے۔ اس میں رکھ دیتا ہوں اندر کے خانے میں۔ دھوپ سے بھی محفوظ رہے گا۔
وہ سامنے سر! وہ بھاری بھاری لباسوں والے لڑکے!! ! میناروں کے پاس!! جی جناب۔ وہ بھی فٹبال کھیل رہے ہیں۔ نہیں نہیں!! کسی دوسرے بنڈل سے نہیں۔ ٹھہریئے دیکھتا ہوں۔ اوہو ! سر وہ تو ایک انسانی سر سے فٹبال کھیل رہے ہیں۔ ساتھ والے مینار بھی کھوپڑیوں کے ہیں۔ سر سے کیوں فٹبال کھیل رہے ہیں!! یہ تو میں نہیں جانتا جناب۔ شاید فٹبال بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔ انسان تو آج کل بہت سستے مل جاتے ہیں۔ ڈھاٹے !! ڈھاٹے تو سر ظاہر ہے اس لئے باندھے ہوں گے کہ اس غلاظت کے ڈھیر پر تعفن جو بہت ہے۔
یہ والے پلندے سر !! جو بڑی خوبصورت پیکنگ میں ہیں۔۔ سر یہ تو کوئی قرار داد ہے اور یہ کیا ہے !!! جی سر۔ اس پیکنگ پر لکھا ہے نظریہء ضرورت۔ کیا خوبصورتی سے سجا کر رکھی ہوئی ہے دیکھا سر آپ نے۔ جی ہاں یہ باقی سجی سجائی پستکوں پر بھی کچھ نظریوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ جی ہاں جی ہاں! کافی سارے ہیں۔ واہ ۔ ایسا لگتا ہے کوئی ابھی ابھی انکی کتابت کر کے یہاں رکھ گیا ہے۔
دیکھ رہا ہو ں ! دیکھ رہا ہو سر ! آپ اس سامنے والی عمارت کی بات کر رہے ہیں ناں۔ جی وہ جو جلی ہوئی سی ہے ۔ جی ! یہاں سر ایک بہت بڑا آدمی گرمیوں میں آ کر رہا کرتا تھا۔ اب وہ سامنے اس مر مریں مزار میں آرام کر رہا ہے۔ ۔ قحبہ خانہ !!! ارے نہیں نہیں سر ۔ یہ اسی بڑے آدمی کا مزار ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ وہ تو ہمارے باپ برابر ہے۔ آپ کی عینک کا نمبر یقیناٌ تبدیل ہو چکا ہے سر۔ بدلوا لیں ورنہ سر میں درد رہنے لگے گا۔ وہ سامنے ٹیڑھے میڑھے پول پر سر!! جی ہاں سر جھنڈا ہی ہے۔۔ ہاں سفید والا حصہ تو کافی مٹیالا سا ہو رہا ہے۔۔ جی جی ! سارے جھنڈے پر شاید کچھ لال رنگ کے چھینٹے بھی ہیں۔۔ جی سر !! خشک ہو کر سیاہ ہو رہے ہیں۔ اچھی طرح سے دھونے کی ضرورت ہے سر ۔۔ بالکل نیا ہو جائے گا۔
گندہ نالہ !! نہیں سر گندا نالہ تو ادھر ہے۔۔ وہ سامنے جسکا سیاہ پانی سیدھا سبزیوں کی کیاریوں میں جا رہا ہے۔۔ دیکھا آپ نے کتنا سر سبز کھیت ہے۔ سارا شہر اس ہرے بھرے کھیت کی سبزیاں کھاتا ہے بشرطیکہ خریدنے کی اسطاعت رکھتا ہو۔۔ یہ جسے آپ گندہ نالہ کہہ رہے ہیں یہ تو دریا ہے سر دریا۔ اسکی مچھلی کھائی کبھی آپ نے۔ کیا ذائقہ ہے سر اپنے اس دریا کی مچھلی کا۔ کافی مہنگی بکتی ہے پھر بھی نایاب ہوتی جاتی ہے۔ مچھیرے کہتے ہیں اکژ مری ہوئی ملتی ہے ۔ پتہ نہیں کیا بات ہے سر۔۔ حالانکہ اتنا بڑا دریا ہے۔
جی سر ! یہ مرا ہوا گدھا ہی ہے جسے ریڑھے پر رکھ کر لیجا رہے ہیں وہ لوگ۔ نہیں نہیں سر!! اسکا چمڑا کس کام کا۔ بالکل بیکار۔ کیا کریں گے اسکا !! آپ نہیں جانتے ۔ کمال ہے سر۔ جناب اسکی کھال اور گوشت سے کھرچ کر چربی اتاری جائے گی۔ پھر اسکا تیل بنے گا اور پکوان تیار ہوں گے۔ پھر بھی دیکھئے کتنا مہنگا ہے۔ غریب آدمی بیچارہ تو اب تیل بس سونگھ ہی سکتا ہے۔۔ اور صرف چربی ہی کیوں سر۔ اسکی ہڈیاں اور انتڑیاں تک کام میں لائی جائیں گی۔آپ کیا جانیں سر !! کیسا کیسا سائنسدان پڑا ہے ہمارے ہاں۔ کیاکیا کرشمے دکھا سکتے ہیں یہ لوگ۔
گاڑھا دودھ تو آپ روزانہ ہی پیتے ہوں گے ناں سر۔ اور بھی نجانے کیا کیا کھاتے ہوں گے جو انہی سائنسدانوں کا ایجاد کردہ خالص مال ہے۔۔۔ جی ہاں سر ! وہ چیلیں اور کوے ہی پکڑ رہے ہیں۔ ۔۔ کیا کریں گے انکا ! ! آپ بھی سر بچوں والے سوال کرتے ہیں۔ چلئے چھوڑیئے۔ آج آپ کو چرغہ اور چکن تکہ کھلاتے ہیں۔۔ جی ہاں سر ! لگتی تو کورس کی کتابیں ہی ہیں۔ نجانے کون کمبخت پھینک گیا ہے انہیں اس ڈھیر پر۔ جاہل۔۔۔ یہ شاید تاریخ کی کتاب ہے۔۔ آپ خود سوچئے سر !! جو لوگ تاریخ کی کتاب کوڑے دان میں پھینک سکتے ہیں انکے لئے خود تاریخ کو اس میں ڈال دینا کونسی بڑی بات ہے۔۔۔ نہیں نہیں سر۔۔ یہ سارا کوڑا صاف کرنا ہی پڑے گا۔۔ یقین جانیئے پلاٹ تو بہت خوبصورت ہے۔۔ جب کوڑا ہٹے گا تو آپ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔۔ اور پھر اس پر جب آپ خوبصورت مکان تعمیر کریں گے تو اسکے حسن کو چار چاند لگ جائیں گے سر۔
نہیں سر ! کل کا انتظار کیا کرنا۔ آج ہی کام شروع کر دیں۔۔ ہم لوگ !! ہم لوگوں نے تو سر جو تیر چلانے تھے چلا لیئے۔۔ ہم میں تو اب اتنی سکت ہے نہیں۔ ہاں نوجوانوں کو لگایئے اس کام پر۔۔ وہی غلیظ ملبے میں دفن اس پلاٹ کو نکال کر روپ سنواریں گااس کا۔ اگر وہ آمادہ ہوئے تو۔ اور کیوں نہ ہوں گے۔ گھر کے مالک بھی تووہی ہیں۔