پاکستان کیاجانتا تھا(1)
- سوموار 31 / مارچ / 2014
- 4137
(افغانستان اور پاکستان میں 2001-14 تک نیویارک ٹائمز کی نمائندہ کے طور پر کام کرنے والی صحافی کارلوٹا گال Carlotta Gall غلط دشمن The wrong enemy کے عنوان سے ایک کتاب شائع کر رہی ہیں۔ ایک ہفتہ قبل نیویارک ٹائمز نے اس کتاب کا ایک طویل اقتباس رپورٹ کی شکل میں شائع کیا تھا۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی حکام کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا اور بے نظیر بھٹو کو قتل کروانے کا منصوبہ القاعدہ نے پاکستانی حکام کی رضامندی سے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں مزید کئی انکشافات بھی کئے گئے ہیں۔ فوج اور حکومت کی طرف سے ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ جبکہ متعدد پاکستانی تبصرہ نگاروں نے مس گال کو ناقابل اعتبار صحافی قرار دیا ہے۔ تاہم اس رپورٹ کی اہمیت اور تفصیلی پس منظر کی وجہ سے کاروان اس کا ترجمہ شائع کر رہا ہے۔ کاروان نے کارلوٹا گال سے اس رپورٹ کو ترجمہ کرنے اور شائع کرنے کی اجازت حاصل کی ہے۔ تاہم انگریزی سے اردو قالب میں ڈھالنے کی ذمہ داری کاروان پر عائد ہوتی ہے۔ کسی قانونی پیچیدگی کی صورت میں صرف انگریزی متن ہی کارآمد ہو گا۔ اس اشاعت سے ادارہ اس رپورٹ میں بتائے گئے حقائق یا رائے سے اتفاق کا اظہار نہیں کر رہا ہے بلکہ تصویر کا ایک رخ سامنے لانے کے لئے اس قسم کی رپورٹ کو ناظرین کے لئے پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)
11ستمبر کے حملوں کے فوراً بعد میں نیویارک ٹائمز کیلئے رپورٹر کے طور پر افغانستان میں رہنے لگی تھی۔ اگلے بارہ برس کے دوران میں نے طالبان کا زوال اور آزادی اور خوشحالی کی امید کو ابھرتے اور پھر اسے آہستہ آہستہ ختم ہوتے دیکھا۔ نیا آئین لانے اور دو انتخابات کے باوجود افغان عوام کی حالت میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ طالبان تنظیم نو کے بعد نئی طاقت اختیار کر چکے ہیں اور ان کے گوریلا حملوں کے لئے حمایت میں اضافہ ہؤا ہے۔ 2006تک طالبان ایک سو سے زیادہ خودکش حملے کر چکے تھے اور جنوبی افغانستان پر قبضہ کے لئے حملہ آور ہو رہے تھے۔ یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ خطرناک اور پرعزم دشمن مزید طاقتور ہو رہا تھا کمزور نہیں۔ میں نے جب بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا افغان باشندوں نے مجھے ایک ہی بات بتائی کہ اس بغاوت کو منظم کرنے والے پاکستان میں ہیں۔ خاص طور سے ان کا مرکز کوئٹہ میں ہے۔ پولیس تفتیش سے بھی یہی پتہ چلتا تھا کہ اکثر بم بھی پاکستان سے آتے تھے۔
دسمبر 2006میں کوئٹہ میں میری متعدد پاکستانی رپورٹروں اور فوٹو گرافروں سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے مل کر ان خاندانوں سے بھی ملاقات کی جو اس بات پر نوحہ کناں تھے کہ ان کے بیٹے افغانستان میں خودکش حملے کرتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔ بعض خاندان اس بے یقینی کا بھی شکار تھے کہ نامعلوم ٹیلی فون کالز یا بالواسطہ طور سے ملنے والی معلومات پر اعتبار بھی کیا جائے یا نہیں۔ یہ سب البتہ یہ بتانے سے خوفزدہ تھے کہ ان کے بیٹے کیسے ہلاک ہوئے اور انہیں کس نے بھرتی کیا تھا۔ یہ لوگ پاکستانی انٹیلی جنس آئی ایس آئی ISI کے اہلکاروں سے خوفزدہ تھے۔
کوئٹہ میں رپورٹنگ کے دوران ہم نے نوٹ کیا کہ ایک انٹیلی جنس ایجنٹ موٹر سائیکل پر ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔ ہم نے جسے بھی انٹرویو کیا، ISI کے ایجنٹوں نے بعد میں اس سے ملاقات بھی کی۔ ہم نے کوئٹہ کے نواح میں آبادی پشتون آباد کا دورہ کیا۔ یہاں پر غریب افغان پناہ گزین اپنے کچے گھروں میں رہتے تھے۔ یہ غریب لوگ عام طور سے مزدوروں، ڈرائیوروں اور دکانداروں پر مشتمل تھے۔ یہاں طالبان کے بھی بہت سے رکن رہتے تھے۔ تاہم یہ لوگ اونچی دیواروں کے پیچھے بنے ہوئے بڑے گھروں میں رہتے تھے۔ یہ گھر عام طور سے مسجدوں اور مدرسوں کے قرب میں واقع تھے۔ یہی لوگ ان مساجد اور مدارس کا انتظام چلاتے تھے۔
ان میں سے ایک مدرسہ جامعہ اسلامیہ ہے جو اگرچہ ایک گندی تنگ گلی میں واقع ہے لیکن اندر ایک وسیع دالان اور تین منزلہ پختہ عمارت موجود ہے۔ یہاں پر 280طلبہ کی گنجائش ہے۔ ہم جن خودکش بمباروں کا سراغ لگا رہے تھے ان میں سے کم ا زکم تین اس مدرسہ میں تعلیم پا چکے تے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں پر مزید خودکش بمبار بھی تیار کئے گئے تھے۔ پاکستان کی مذہبی جماعتوں سے سینئر قائد اور صوبائی حکومت کے افسران اعلیٰ اکثر اس مدرسہ میں آتے تھے۔ طالبان لیڈر بھی رات کے اندھیرے میں اپنی بڑی جیپوں میں ملاقاتوں کے لئے جاتے تھے۔
ہم نے انٹرویو کی درخواست کی تو جواب دیا گیا کہ کسی خاتون جرنلسٹ کو مدرسہ میں آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میں نے چند سوال ایک پاکستانی رپورٹر کے حوالے کئے جو فوٹو گرافر کے ساتھ اندر گیا۔ مدرسہ کے نائب منتظم نے اس بات کی تردید کی کہ وہاں پر انتہاپسندوں کو تربیت دی جاتی ہے یا جہاد کے لئے بھرتی کی جاتی ہے۔ اس نے بتایا کہ ہم طالب علموں کو قرآن پڑھاتے ہیں۔ قرآن میں لکھا ہے کہ ہر مسلمان پر جہاد فرض ہے۔ ہم طالب علموں کو صرف وہ بتاتے ہیں جو قرآن بتاتا ہے۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ جہاد پر جانے کا فیصلہ کریں۔ انٹرویو ختم ہؤا تو مدرسہ کی کلاسوں میں بھی چھٹی ہو گئی۔ طالب علم بھاگتے ہوئے مدرسہ سے باہر گلی میں آنے لگے۔ ٹوپیوں اور معمولی کپڑوں میں ملبوس یہ طالب علم سائیکلوں پر یا پیدل ایک دوسرے کا پیچھا کرتے اپنے گھروں کو جانے لگے۔
رپورٹر اور فوٹو گرافر واپس آ گئے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ مدرسہ کی دیواروں پر ایک پاکستانی مذہبی رہنما اور طالبان رہنما ملا عمر کی حمایت میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہ مذہبی رہنما اس مدرسہ کا سیاسی نگران تھا۔ یہ اور اس قسم کے کئی مدرسے افغانستان میں طالبان کی قوت میں اضافہ کا سبب بن رہے تھے۔ اس بارے میں صدر حامد کرزئی اور دیگر افغان لیڈر متنبہ بھی کرتے رہے تھے۔ یہ مدرسہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں قائم سینکڑوں مدرسوں میں سے ایک تھا۔ یہاں پر طالبان اور پاکستان کے مذہبی رہنما مل کر انتہاپسندوں کی ایک فوج تیار کر رہے تھے۔ ایک پشتون ممبراسمبلی نے مجھے بتایا کہ یہ مدرسے تو محض دکھاوا ہیں ان کے پیچھے آئی ایس آئی سرگرم عمل ہے۔
جنرل پرویز مشرف کی حکومت اور اس کے انٹیلی جنس چیف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی طالبان کو حفاظت اور سہولتیں فراہم کر رہے تھے۔ اس کا مقصد ملک میں سرگرم متعدد انتہاپسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے علاوہ افغانستان میں رسوخ بڑھانے کے لئے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنابھی تھا۔ باہر بیٹھ کر اس طریقہ کار کے بارے میں پوری طرح سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔ لیکن پاکستان کی حکمت عملی یہ تھی کہ بظاہر امریکیوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیا جائے لیکن درپردہ طالبان، کشمیری اور القاعدہ کے غیر ملکی اراکین کی سرپرستی کی جائے۔ اس دوہری حکمت عملی میں آئی ایس آئی کا رول بے حد اہم تھا۔ اس ایجنسی کے ذریعے پاکستان نے انتہاپسندوں کے ساتھ تعلقات استوار کئے ہیں۔ امریکہ نے اس حقیقت کو سمجھنے پر بھی، اس کا اظہار کرنے میں احتیاط کا مظاہرہ کیا تاکہ ایک طاقتور مسلم ملک کے ساتھ براہ راست تصادم کی صورت حال سے بچا جا سکے۔
کوئٹہ میں میرے قیام کےآخری اور پانچویں دن سفید کپڑوں میں ملبوس 4ایجنٹوں نے میرے فوٹو گرافر کو اس کے ہوٹل سے گرفتار کر لیا۔ اس کے کمپیوٹر اور دیگر پروفیشنل سازوسامان پر قبضہ کر لیاگیا۔ پھر وہ اسے لے کراس ہوٹل کی پارکنگ میں پہنچے جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی۔ وہاں سے انہوں نے فوٹو گرافر کو مجھے فون کرنے اور نیچے آنے کے لئے کہا۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں مشکل میں ہوں۔ اس وقت اندھیرا پھیل چکا تھا۔ میں نیچے پارکنگ میں نہیں جانا چاہتی تھی۔ لیکن میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں امداد حاصل کرتی ہوں۔ میں نے نیویارک میں اپنے ایڈیٹر کو فون کیا اور پھر پاکستانی حکام سے رابطہ کی کوشش کی۔ اس دوران یہ ایجنٹ میرے کمرے کا دروازہ توڑ کر اندر آ گئے۔ میرا لیپ ٹاپ میرے ہاتھ سے چھین لیا گیا۔ ان میں ایک خاکی کپڑوں میں ملبوس افسر تھا جو انگریزی بول رہا تھا۔ باقی تین پہلوان قسم کے ایجنٹ تھے۔ ان میں سے ایک نے فوٹو گرافر کو پکڑا ہؤا تھا۔
انہوں نے میرےکپڑوں، نوٹ بکس اور موبائل فون کی تلاشی لی۔ ایک شخص نے جب میرا پرس لینے کی کوشش کی تو میں نےاحتجاج کیا۔ اس پر میرے منہ پر دو مکے مارے گئے۔ میں لڑکھڑا کر کافی ٹیبل پر گری۔ گرتے ہوئے سنبھلنے کے لئے میں نے افسر کی جیکٹ کو تھام لیا۔ پھر بھی کافی ٹیبل پر رکھی کراکری گر کر ٹوٹ گئی۔ یہ مضحکہ خیز لمحہ تھا۔ یہ فلموں میں دکھائے گئے کسی ہوٹل کے کمرے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔
میں غصے میں کھڑی ہوئی اور ایک خاتون کے کمرے میں داخل ہونے اور اس پر تشدد کرنے پر شور مچایا۔ افسر نے مجھے بتایا کہ مجھے پشتون آباد کے نواح میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اور طالبان کے اراکین سے انٹرویو لینا منع ہے۔ جب وہ جانے لگے تو میں نے کہا کہ فوٹو گرافر کو چھوڑ دیا جائے۔ افسرنے جواب دیا کہ فوٹو گرافر پاکستانی تھا۔ ہم جو چاہیں اس کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ لوگ تشدد حتیٰ کہ قتل بھی کر سکتے ہیں۔ خاص طور سے کوئٹہ میں جہاں سکیورٹی فورسز قانون سے بالاتر تھیں۔ یہ لوگ انتہاپسند گروہوں کی سرکاری سرپرستی اور ان کے زیر سایہ افغانستان اور دیگر مقامات پر دہشت گردی پھیلانے کے عمل کو چھپانا چاہ رہے تھے۔
چھ ماہ بعد پاکستان میں اس کے مظاہر نمودار ہوئے۔ 2007کے موسم بہار میں لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ کی طالبات نے شہر میں غیر قانونی طور سے بنائی گئی مساجد مسمار کرنے پر دھرنا دیا۔ لال مسجد سے افغانستان اور پوری مسلم دنیا میں جہاد کی پاکستانی پالیسی کی حمایت کی جاتی تھی۔ یہ مسجد ایک جہادی مبلغ مولانا محمد عبداللہ نے قائم کی تھی۔ وہ خود 1998میں ایک قاتلانہ حملہ میں مارا گیاتھا۔ اس سے تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے افغانستان میں اسامہ بن لادن سے ملاقات کی تھی۔ القاعدہ نے اس وقت اس قتل کی ذمہ داری پاکستانی حکومت پر عائد کی تھی۔
عبداللہ کے بعد اس کے بیٹوں نے اس مسجد کا انتظام سنبھال لیا اور انتہاپسندانہ تبلیغ و تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ بڑا بھائی مولانا عبدالعزیز ہے۔ وہ اپنے جمعہ کے خطبے میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی حمایت پر پرویز مشرف کی حکومت پر پرجوش تنقید کرتا۔ چھوٹا بھائی عبدالرشید غازی تھا۔ اس کی شہرت ایک غیر مذہبی بیورو کریٹ کی تھی۔ لیکن باپ کے مرنے کے بعد اس نے اسامہ بن لادن سے ملاقات کی اور 2007تک یہ حالت ہو گئی کہ گرفتاری سے بچنے کے لئے وہ لال مسجد سے باہر نہیں نکلتا تھا۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے طالبات کے دھرنے کے خلاف کارروائی کی تو خودکش بمبار اس کا سخت انتقام لیںگے۔
اس قسم کے لیڈروں کی پشت پناہی میں طالبات نےسڑکوں پر اپنے انتہاپسندانہ احتجاج کو پھیلا دیا۔ وہ انتہاپسندانہ سخت گیر رویہ کا مظاہرہ کرتیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ وہ مطالبات سے دستبردار ہونے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیں گی۔ احتجاج شروع ہونے کے کئی ماہ بعد طالبات کے ایک گروہ نے ایک مساج پارلر پر چھاپہ مار کر کئی چینی خواتین کو اغوا کر لیا۔
چین جیسے اہم دوست ملک کے دباؤ کی وجہ سے پرویز مشرف کو ایکشن لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ 3جولائی کو پاکستانی فوج کےرینجرز نے گلی کے دوسری طرف ایک اسکول میں مورچے بنائے۔ پولیس افسر اور فوجیوں نے لال مسجد کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ مسجد میں مسلح جہادی موجود تھے۔ ان کے پاس راکٹ اور خطرناک رائفلز تھیں۔ انہوں نے ریت کے تھیلوں سے پشتے بنا کر مسجد کی دیوار کے ساتھ مورچہ بندی کرلی۔ لائوڈ اسپیکروں پر طالب علموں کو داد شجاعت دینے پر اکسایا جانے لگا۔ ایک طالبہ نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا: “اے اللہ تمہاری امداد کہاں ہے؟ دشمن کو تباہ کر دو۔ ان کے دل شق ہو جائیں اور ان پر آگ کی بارش کر دو“۔
اسلام آباد سرسبز خوشحال شہر ہے جہاں سرکاری ملازم اور سفارت کار رہتے ہیں۔ لیکن اس وقت کئی دن تک وہاں جنگ کا سماں رہا۔ ملک بھر سے پریشان حال والدین اپنے بچوں کو واپس لے جانے کے لئے اسلام آباد آ گئے تھے۔ لال مسجد کے لیڈروں نے طالبات کو روکنے کی کوشش کی۔ ایک والد نے مجھے بتایا کہ طالبات سے کہا گیا تھا کہ اگر عورتیں اور دوسرے لوگ مریں گے تو عوام ان کے ساتھ مل جائیں گے۔ تب مجھے اندازہ ہؤا کہ ان طالبات کو ایک انقلاب برپا کرنے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
محاصرہ کے ایک ہفتہ بعد خطرناک لڑائی ہوئی۔ پاکستان کے ایلیٹ کمانڈوز ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مسجد میں داخل ہوئے۔ لیکن مسجد کے میناروں اور 75کمروں میں مشین گنوں سے مسلح لوگوں نے ان کا مقابلہ کیا۔ یہ لڑائی دس گھنٹے جاری رہی۔ خودکش بمباروں نے پاکستانی فوج پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ مسجد کے تہہ خانے سے فوج پر ہینڈ گرنیڈ پھینکے گئے۔ عمارت کی سیڑھیوں کے نیچے سے کمانڈوز کو 50لڑکیاں ملیں جنہیں حفاظت سے باہر لایا گیا۔ غازی عبدالرشید ایک تہہ خانے میں اپنے ساتھیوں سمیت لڑتا ہؤا مارا گیا۔
اس محاصرہ میں ایک سو کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے۔ آئی ایس آئی کا اس مسجد کے لیڈروں سے تعلق رہا تھا۔ اس کے علاوہ اس کے دو انفارمر بھی مسجد میں موجود تھے۔ لیکن حیرت انگیزطورپر اس معاملہ پر اس ایجنسی نے انتہائی غیر مؤثر رول ادا کیا۔ اس محاصرہ کے بعد کابینہ کے ایک اجلاس میں وزیروں نے اس موقع پر موجود آئی ایس آئی کے سینئر افسر سے دریافت کیاکہ وہ انتہاپسندوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہی۔ ایک وزیر نے کہا کہ “میں کس سے ملتا ہوں اور شام میں کیا بات کرتا ہوں، وہ خبراگلی صبح تمہاری میز پر موجود ہوتی ہے۔ تمہیں یہ کیوں پتہ نہیں چل سکا کہ آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر سے سو میٹر کے فاصلے پر کیا ہو رہا ہے۔“ آئی ایس آئی افسر خاموشی سے وزیروں کا غم و غصہ برداشت کرتا رہا۔
کابینہ کے اس اجلاس میں شریک ایک سابق وزیر نے مجھے بتایا کہ ان لوگوں کو سو فیصد پتہ تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی نے ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لئے انہیں من مانی کرنے کی آزادی دی تھی۔ ریاست اتنی کمزور نہیں جتنا عام آدمی کی نظر میں اسے سمجھا جا رہا ہے۔
لال مسجد سانحہ کے بعد فوج کو طوری طور پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بننا پڑا۔ شمال مغرب میں فوجی قافلوں پر حملے کئے گئے، سرکاری عمارتوں، فوجی و سویلین جگہوں پر ملک بھر میں بم دھماکے شروع ہو گئے۔ اس دوران فوج کے ہیڈکوارٹرز اور راولپنڈی میں آئی ایس آئی کے کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سال ہا سال تک پراکسی جنگ کے لئے تیار کئے جانے والے جہادیوں کے غصے کا نشانہ اب پاکستان تھا۔ لال مسجد محاصرہ کے چھ ماہ بعد ایک سینئر انٹیلی جنس افسرنے مجھے اور میرے ایک ساتھی کو بتایا کہ ہم انہیں کنٹرول نہیں کر سکے۔
اگرچہ انتہاپسند اب اپنے ہی آقاؤں کے خلاف برسرپیکار تھے، پاکستان کے جرنیل اب بھی انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اس بار پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو ٹارگٹ کرنا مطلوب تھا جو 2007کے موسم خزاں میں دس سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ بے نظیر نے پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کی تھی۔ اس کے نتیجے میں پرویز مشرف فوج سے مستعفی ہو کر ایک بار پھر ملک کے صدر بن جاتے اور بے نظیر کو ملک کا وزیراعظم بننے کا موقع فراہم کیا جانا تھا۔ یہ انتخابات 2008کے شروع میں ہونے والے تھے۔
بے نظیر نے کسی بھی پاکستانی لیڈر کے مقابلے میں مسلح انتہاپسندی کے خطرات کے بارے میں زیادہ بات کی تھی۔ ان کا کہناتھا کہ غیر ملکی انتہاپسندوں نے پاکستانی علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس لئے وزیرستان میں فوجی آپریشن ہونا چاہئے۔ انہوں نے خودکش بمباروں کو غیر اسلامی قرار دیا۔ اس طرح یوں لگتا ہے کہ وہ خود پر حملہ کرنے والوں کو چیلنج کر رہی تھیں۔ پاکستان واپسی کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ کوئی سچا مسلمان مجھ پر حملہ نہیں کرے گا کیوں کہ اسلام عورتوں پر حملہ کی ممانعت کرتا ہے۔ مسلمانوں کو پتہ ہے کہ عورت پر حملہ کرنے والا جہنم میں جائے گا۔ بے نظیر نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے افغانستان اور امریکہ سے تعاون بڑھانے کا وعدہ بھی کیاتھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے پاکستان میں ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی مغرب کے حوالے کرنے کی بات کی تھی۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بے نظیر بھٹو کی بتایا تھا کہ ان کی انٹیلی جنس سروس کو معلوم ہؤا ہے کہ بے نظیر کی جان خطرے میں ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق پرویز مشرف کی قیادت میں پاکستانی فوج کے دس طاقتور جرنیلوں نے بھٹو کو مارنے کے لئے کسی انتہاپسندانہ منصوبے پر گفتگو کی تھی۔
18اکتوبر 2007کو بے نظیر بھٹو کراچی پہنچیں۔ میں ان درجنوں صحافیوں میں شامل تھی جو ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے مذہبی نشان والا ہار پہنا ہؤا تھا اور پاکستانی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انہوں نے نماز ادا کی۔ چندگھنٹے بعد جب وہ ایک جلوس کی شکل میں شہر جا رہی تھیں کہ دو خوفناک بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں پولیس کی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ متعدد محافظ اور پارٹی کارکن مارے گئے۔ اگرچہ بے نظیر اس حملہ میں بچ گئیں لیکن اس میں 150افراد ہلاک اور 400زخمی ہوئے۔
بے نظیر نے دعویٰ کیا تھا کہ مشرف نے انہیں براہ راست دھمکی دی تھی۔ کرزئی نے انہیں مزید احتیاط کا مشورہ دیا۔ اور ان کے لئے ایک بکتر بند گاڑی کا انتظام کیا جس میں موبائل فون کے سگنل روکنے کے لئے جیمرز لگے ہوئے تھے۔ موبائل فون عام طور سے بم دھماکوں کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ اس دوران بھٹو نے اپنی مہم جاری رکھی۔ اور کھلی گاڑی میں اپنے حامیوں کے استقبال کا جواب دینے کے لئے سفر کرتی رہیں۔
دسمبر کے آخر میں دو کم سن نوجوانوں سمیت انتہاپسندوں کا ایک گروپ اکوڑہ خٹک کے مدرسہ حقانیہ پہنچا۔ ان نوجوانوں کو خاص طور سے خودکش حملے کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ تین ہزار طالب علم اس مدرسہ میں رہتے ہیں۔ اس مدرسہ کے ایک ترجمان نے مجھے بتایا تھا کہ افغانستان میں لڑنے والے95 فیصد طالبان اسی مدرسہ میں پڑھتے رہے تھے۔ جلال الدین حقانی نے بھی اسی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس افغان کمانڈر نے حقانی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی ہے جو آئی ایس آئی کے اشارے پر کابل اور مشرقی افغانستان میں حملے کرتا رہا ہے۔
دو نوجوان طالب علم جو ایک رات کے لئے اس مدرسہ میں مقیم رہے تھے، اگلے روز روالپنڈی روانہ ہو گئے۔ بے نظیر 27دسمبر کو وہاں پر ایک جلسہ سے خطاب کرنے والی تھیں۔ جب ان کا قافلہ جلسہ گاہ سے واپس جا رہا تھا تو اس کی رفتار کم کر دی گئی تاکہ وہ مداحین کو جواب دے سکیں۔ ان نوجوانوں میں سے ایک نے بے نظیر پر گولی چلائی پھر خودکش دھماکہ کر دیا۔ مس بھٹو بکتر بند گاڑی کی روف ونڈو سے باہر نکل کر کھڑی تھیں۔ گولی کی آواز پر وہ نیچے جھکیں، لیکن دھماکے سے گاڑی اپنی جگہ سے آگے کی طرف ہو گئی اور بے نظیر کا سر چھت کے کنڈے سے جا لگا۔ یہ چوٹ جاں لیوا تھی۔ وہ زخمی حالت میں اپنی معتمد ناہید خان کی گود میں گر گئیں۔
جیسا کہ بے نظیرکہتی رہتی تھیں کہ ان کے مخالفین کے گروہ انہیں مارنا چاہتے تھے اور کسی نہ کسی طرح سے وہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ یہ وہی گروہ تھے جو افغانستان میں طالبان کی بغاوت کا سبب بنے تھے۔ یعنی طالبان، پاکستانی انتہاپسند گروہ اور القاعدہ۔ انہیں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ جن میں مشرف اور کیانی شامل تھے، کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس قتل کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے قرار دیا ہے کہ ان میں سے ہر گروہ اس قتل سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ اس لئے ان سب کی تفتیش ہونا ضروری تھا۔
پاکستانی پراسیکیوٹرز نے بعد میں پرویز مشرف پر بے نظیر کو قتل کرنے کی سازش کا حصہ ہونے کا الزام عائد کیا۔ اس مقدمہ کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار نے مجھے بتایا تھا کہ واقعاتی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پرویز مشرف نے بے نظیر کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی تھی کیوں کہ وہ قاتلانہ حملہ میں ان کی موت کو یقینی بنانا چاہتا تھا (پرویز مشرف اس الزام کو مسترد کرتے ہیں) چوہدری ذوالفقار علی بعد میں پرویز مشرف کو گرفتار کروانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ محنتی اور لائق ایڈووکیٹ مقدمہ کی جلد سماعت کی کوشش کر رہا تھا۔ مئی 2013میں اسے اپنے دفتر جاتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
علی کو یقین تھا کہ بے نظیر کو قتل کرنے کا منصوبہ القاعدہ نے بنایا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ امریکہ کی دوست تھیں، ایک قدآور لیڈر تھیں اور قوم پرست تھیں۔ پاکستان کے ایک سکیورٹی افسر نے بھی بھٹو کیس میں قید لوگوں اور دیگر انتہاپسندوں سے انٹرویو کرنے کے بعد اسی رائے کا اظہار کیا تھا۔ اس افسر کا کہناتھا کہ بے نظیر کو قتل کرنے کا فیصلہ القاعدہ کی سپریم کونسل میں کیا گیا تھا۔
(جاری ہے)