پاکستان کیا جانتا تھا (2)
- سوموار 31 / مارچ / 2014
- 5321
(افغانستان اور پاکستان میں 2001-14 تک نیویارک ٹائمز کی نمائندہ کے طور پر کام کرنے والی صحافی کارلوٹا گال Carlotta Gall غلط دشمن The wrong enemy کے عنوان سے ایک کتاب شائع کر رہی ہیں۔ ایک ہفتہ قبل نیویارک ٹائمز نے اس کتاب کا ایک طویل اقتباس رپورٹ کی شکل میں شائع کیا تھا۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی حکام کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا اور بے نظیر بھٹو کو قتل کروانے کا منصوبہ القاعدہ نے پاکستانی حکام کی رضامندی سے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں مزید کئی انکشافات بھی کئے گئے ہیں۔ فوج اور حکومت کی طرف سے ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ جبکہ متعدد پاکستانی تبصرہ نگاروں نے مس گال کو ناقابل اعتبار صحافی قرار دیا ہے۔ تاہم اس رپورٹ کی اہمیت اور تفصیلی پس منظر کی وجہ سے کاروان اس کا ترجمہ شائع کر رہا ہے۔ کاروان نے کارلوٹا گال سے اس رپورٹ کو ترجمہ کرنے اور شائع کرنے کی اجازت حاصل کی ہے۔ تاہم انگریزی سے اردو قالب میں ڈھالنے کی ذمہ داری کاروان پر عائد ہوتی ہے۔ کسی قانونی پیچیدگی کی صورت میں صرف انگریزی متن ہی کارآمد ہو گا۔ اس اشاعت سے ادارہ اس رپورٹ میں بتائے گئے حقائق یا رائے سے اتفاق کا اظہار نہیں کر رہا ہے بلکہ تصویر کا ایک رخ سامنے لانے کے لئے اس قسم کی رپورٹ کو ناظرین کے لئے پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)
القاعدہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا بھانڈا پھوٹنے میں تین برس لگے۔ تب دنیا کو یہ خبر ملی کہ بن لادن پاکستان کی سب سے بڑی ملٹری اکیڈمی سے صرف چند گز کے فاصلے پر چھپا ہؤا تھا۔ میں مئی 2011ء میں ایک پاکستانی ساتھی کے ساتھ ایبٹ آباد گئی مگر پاکستانی فوج نے ہمیں راستے میں روک لیا۔ کار سے اتر کر ہم بغلی گلیوں اور اونچی دیواروں والے مکانوں سے ہوتے ہوئے ایک گندے راستے پر پہنچے۔ ہمارے سامنے اسامہ بن لادن کا گھر تھا۔ یہ تین منزلہ پختہ مکان تھا۔ اس کے اردگرد 18 فٹ بلند کنکریٹ کی دیوار تعمیر کی گئی تھی۔ دیوار کے اوپر خاردار تار لگی تھی۔ یہ جگہ تھی جہاں بن لادن 6 برس مقیم رہا تھا اور جہاں 31 گھنٹے پہلے نیوی SEAL کے کمانڈوز نے بالائی منزل کے بیڈروم میں اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
دس برس تک افغانستان اور پاکستان سے بن لادن کا سراغ لگانے کے بارے میں رپورٹنگ کرنے کے بعد میں وہ جگہ دیکھ کر ششدر رہ گئی تھی ، جہاں پر یہ مطلوبہ شخص چھپا رہا تھا۔ افغانستان میں اس کے ساتھ ایک وسیع گروہ ہوتا تھا۔ تاہم 8 برس تک اس نے صرف دو قابل بھروسہ پاکستانیوں پر اعتبار کیا تھا۔ ان لوگوں کے بارے میں امریکی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک بن لادن کا پیغام رساں تھا اور دوسرا اس کا بھائی۔
لوگ یہ جانتے تھے کہ یہ گھر عجیب سا تھا۔ یہ افواہ بھی موجود تھی کہ اس جگہ پر وزیرستان میں زخمی ہونے والے طالبان آرام اور علاج کے لئے آتے تھے۔ یہ بات مجھے مشرف کے سابقہ سویلین انٹیلی جنس چیف نے بتائی تھی۔ اس پر بھی بن لادن کو چھپائے رکھنے کا الزام تھا۔ لیکن وہ خود اس کی تردید کرتا ہے۔ لیکن اس نے لوکل انٹیلی جنس ایجنٹوں کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جنہیں اس گھر کی جانچ پڑتال کرنا چاہئے تھی۔ ملک بھر میں پاکستانی خفیہ ایجنسیاں ۔۔۔ آئی ایس آئی ، انٹیلی جنس بیورو اور ملٹری انٹیلی جنس ۔۔۔ کے پاس سیف ہاؤسز Safe Houses ہوتے ہیں۔ انہیں انڈر کور آپریشن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ گو عام طور سے خاموش اور محفوظ رہائشی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ یہاں ہر تفتیش کے لئے لوگوں کو لایا جاتا ہے۔ یا محض حراست میں رکھنے کے لئے بھی ان جگہوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ایسی جگہوں پر گرفتار لوگوں سے امریکن تفتیش کاروں نے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ لوگوں کو بعض اوقات کئی کئی مہینے ایسے گھروں میں مقید رکھا جاتا ہے۔ غیر قانونی انتہا پسند گروہوں کے لیڈروں کو عام طور سے ایسی ہی جگہوں پر نظر بند کیا جاتا ہے۔ بعض دوسرے لوگ جن میں افغانستان میں 2001ء میں اقتدار سے محروم ہونے والے طالبان رہنما بھی شامل تھے ، بھی اس قسم کے گھروں میں ذرا آزادی سے رہتے ہیں۔ یہ لوگ خود اپنے گارڈز متعین کرتے ہیں لیکن پاکستانیوں کو بھی ان ٹھکانوں کا علم ہوتا ہے۔ یہ بات ایک سابقہ پاکستانی افسر نے مجھے بتائی تھی۔ پاکستان چونکہ طویل عرصہ سے خفیہ طور پر انتہا پسند گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے اس لئے اگر کوئی پولیس افسر ایسی کسی جگہ سے تعرض کرے یا آئی ایس ائی کے آپریشن میں رکاوٹ بنے تو اسے وارننگ کے علاوہ تنزلی کا بھی سامنا رہتا ہے۔ اس لئے اب پولیس ایسی جگہوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔
انتہا پسندوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں صرف آئی ایس آئی اور پولیس میں ہی اختلاف نہیں ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسی کے اندر بھی شعبے بنے ہوئے ہیں۔ 2007ء میں ایک سابقہ انٹیلی جنس افسر نے جس کا کام 11 ستمبر کے بعد القاعدہ کے اراکین کا سراغ لگانا تھا ، مجھے بتایا کہ آئی ایس آئی کا ایک حصہ انتہا پسندوں کا پیچھا کرتا ہے جبکہ دوسرا ان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوتا ہے۔
بن لادن کے گھر پر SEAL کی کارروائی کے بعد ایک پاکستانی افسر نے مجھے بتایا کہ امریکہ کے پاس اس بات کا براہ راست ثبوت موجود تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو ایبٹ آباد میں بن لادن کی موجودگی کا علم تھا۔ یہ اطلاع سینئر امریکی افسروں کے ذریعے آئی تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ حملہ کے بعد امریکیوں نے پاشا یا اس کے ساتھیوں کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کی تھی۔ پاکستانی افسر نے مجھے بتایا : ’’ ہاں اسے اسامہ کے بارے میں معلوم تھا‘‘۔ یہ افسر یہ خبر جان کر حیران ہؤا تھا لیکن اس کا کہنا تھا کہ امریکی اس سے بھی زیادہ حیران تھے۔ پاشا طالبان کا مخالف تھا اور آئی ایس آئی میں امریکیوں کا معاون تھا۔ اس افسر کا کہنا تھا کہ پاشا ہمیشہ ان کا چہیتا تھا۔ لیکن اسامہ کی ہلاکت کے بعد پاشا اور آئی ایس آئی کے پریس آفس نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ انہیں ایبٹ آباد میں اس کی موجودگی کا علم تھا۔
دی ٹائمز کے ساتھیوں نے واشنگٹن میں امریکی افسروں سے یہ استفسار کیا تھا کہ پاکستان کے کس اعلیٰ افسر کو بن لادن کی موجودگی کا علم تھا۔ لیکن اچانک اس بارے میں معلومات فراہم کرنا بند کر دیا گیا۔ یوں لگتا تھا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان نقصان کو کم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ اوباما انتظامیہ کے افسروں نے کہنا شروع کر دیا کہ نہیں کوئی ’’ سموکنگ گن ‘‘ نہیں ہے۔
حملہ کے دوران بن لادن کے گھر سے دستی نوٹس ، خطوط ، کمپیوٹر فائلز اور دیگر ذرائع سے جو معلومات حاصل ہوئیں ، ان سے بہرحال متضاد تصویر بنتی تھی۔ ان معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ بن لادن اور متعدد پاکستانی انتہا پسند لیڈروں کے درمیان مسلسل مواصلت موجود تھی۔ ان میں حافظ سعید اور ملا عمر شامل تھے۔ حافظ سعید لشکر طیبہ کا بانی تھا اور اس کا گروپ کشمیر کے علاوہ افغانستان میں بھی مصروف عمل تھا۔ سعید اور عمر آئی ایس آئی کے اہم اور وفادار لیڈر ہیں۔ ایجنسی ان دونوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ دونوں آئی ایس آئی کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو پاکستانی مملکت پر حملے کرنے سے روکتے ہیں۔ یہ پاکستان کے وسیع اسٹریٹجک منصوبہ کا حصہ ہیں۔ ان دونوں کی اسامہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی مواصلت آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کے علم میں ہونی چاہئے۔
بن لادن صرف خط و کتابت پر ہی اکتفا نہیں کرتا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے ملنے کے لئے کبھی کبھی سفر بھی کرتا تھا۔ ایک پاکستانی سکیورٹی افسر نے مجھے بتایا تھا کہ اسے جہادی ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ اسامہ سفر بھی کرتا ہے۔ اس نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں سے رابطہ کئے بغیر تحریک نہیں چلائی جا سکتی۔ بن لادن کے سفر کا علم ہوتا تھا۔ اس کے قافلے کو جان بوجھ کر تمام سکیورٹی چیک پوائنٹس سے بغیر پڑتال کے گزرنے دیا جاتا تھا۔
2009ء میں بن لادن مبینہ طور پر ایک انتہا پسند لیڈر قاری سیف اللہ اختر سے ملنے کے لئے قبائلی علاقے میں گیا تھا۔ اختر کو غیر رسمی طور پر ’’ جہاد کا باپ ‘‘ بھی کہا جاتا تھا اور وہ آئی ایس آئی کا اہم کارندہ تھا۔ پاکستانی انٹیلی جنس کے ذرائع کے مطابق اسی کمانڈر نے 2007ء میں بے نظیر کی واپسی پر اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 2001ء میں اسی نے ملا عمر کو ایک موٹر سائیکل پر بٹھا کر محفوظ مقام پر پہنچایا تھا۔ 1998ء میں اسامہ بن لادن کے کیمپ پر امریکی میزائل حملوں سے اسے بچانے والا بھی سیف اللہ اختر ہی تھا۔ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد اسے پاکستان میں کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا ۔ لیکن اس پر کبھی مقدمہ قائم نہیں ہؤا۔
اگست 2009ء میں اسامہ سے ملاقات کے دوران اختر نے مبینہ طور پر درخواست کی تھی کہ راولپنڈی میں پاکستانی آرمی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ میں القاعدہ مدد فراہم کرے۔ انٹیلی جنس افسروں کو اس سال کے آخر میں اس حملہ میں ملوث لوگوں سے تفتیش پر یہ معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ اسامہ و اختر ملاقات کے بارے میں معلومات ایک رپورٹ میں جمع کی گئی تھیں۔ یہ رپورٹ تمام سویلین اور ملٹری انٹیلی جنس ، وزارت داخلہ کے سکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے امریکی افسروں کی نظر سے گزری تھی۔
اس ملاقات میں اسامہ نے اختر کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اور اس سے کہا تھا کہ اسے یا دوسرے انتہا پسند گروپوں کو پاکستان سے لڑنے کی بجائے بڑے مقصد کے لئے کام کرنا چاہئے۔ یعنی امریکہ کے خلاف جہاد کرنی چاہئے۔ اسامہ نے متنبہ کیا تھا کہ پاکستان میں لڑائی کرنے سے ان کا ٹھکانہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس نے اس موقع پر کہا تھا: ’’ اگر تم جہاز میں سوراخ کرو گے تو پورا جہاز ڈوب جائے گا‘‘۔
اس نے اختر اور طالبان پر زور دیا کہ جنگجوؤں کی بھرتی اور تربیت میں تیزی پیدا کی جائے تا کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کو منظم گوریلا جنگ میں گھیرا جا سکے۔ بن لادن کا کہنا تھا کہ آئندہ برسوں میں افغانستان، پاکستان ، صومالیہ اور بحر ہند کے علاقے القاعدہ کے اہم میدان کارزار ہوں گے۔ ان علاقوں میں جنگ جوئی کے لئے اسے زیادہ لڑاکا لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس نے انتہا پسندوں کی بحری جنگی تربیت کی بات بھی کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ امریکہ جلد افغانستان سے نکل جائے گا اور اس کے بعد سمندر اہم میدان جنگ ہو گا۔
اختر جس کی عمر 50 اور 60 کے درمیان ہے اب بھی پاکستان میں مفرور ہے۔ وہ اب بھی جہادی حلقوں میں سرگرم ہے اور مدرسے چلا رہا ہے۔ یہ ایک ایسے جہادی کمانڈر کی ایک اور مثال ہے جسے آئی ایس آئی کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے لیکن وہ اس قدر قیمتی ہے کہ اسے گرفتار یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
(جاری ہے)