دو بزرگ شرفاء کی گفتگو
- منگل 01 / اپریل / 2014
- 4773
۔ارے آؤ آؤ میرزا! بڑے دنوں بعد دکھائی دیئے۔
۔ بھئی کیا بتائیں میر صاحب ! وقت ہی نہیں ملتا۔
۔ میاں ایسی بھی کیا مصروفیت کہ ملاقات سے بھی گئے۔
۔ خیر اب تم سے کیا پردہ ۔ یہ جب سے بہو لے کر آیا ہوں گھر کا سکون ہی برباد ہو گیا ہے۔
۔ باہر کی ہو گی۔ خاندانی شرافت تو میاں خاندان کے ساتھ چلتی ہے۔ سچ پوچھو تو اپنے ہاں بھی یہی حا لت ہے۔ ہائے کیا وقت تھے جب ابا حضور کے سامنے بیگم کی آواز نہ نکلتی تھی۔ اور اب۔۔۔
۔ اب ۔۔اب تو صاحب ’’ وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘۔ بس یہ سمجھو اپنے ہی گھر میں بے وقعت ہو ئے جاتے ہیں۔
۔اور ہم اپنے صاحبزادے کی کیا بتائیں۔ سامنے بیٹھے ہیں۔ باپ کی بات کاٹی جا رہی ہے۔ بیوی کے اللے تللے ہو رہے ہیں۔ نہ اِنکے سر پر ٹوپی۔ نہ اُنکے سر پر اوڑھنی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات ہورہی ہے۔
ارے کیا یاد دلا دیا میرزا ! بھئی ابا حضور تو سوتے میں بھی دوپلی اوڑھے رہتے تھے کہ نجانے کب کوئی بزرگ خواب میں تشریف لے آویں۔
۔ سبحان اللہ ! اگلے شرافت کے نمونے تھے میاں وہ لوگ۔ سچ پوچھو تو اب باہر گلی میں جاتے ہوئے بھی خوف آتا ہے ۔ ہر سو لچے لفنگے گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ دندناتے پھرتے ہیں۔
۔ ارے کیا بات کر دی میرزا۔ ابا حضور تو شام کو جب اپنے تانگے پر سوار ہوعذرا جان کے ہاں جاتے تھے ٹھمری غزل سننے تو محلے کے لونڈے بالے احترام سے دیوار کے ساتھ لگ لگ جاتے تھے۔
۔ارے واہ ۔ نگاہ نیچی۔ آواز دھیمی۔ آداب آداب کہتے جھکتے چلے جاتے تھے ہماری گلی کے بانکے تو۔ اب کیا بتائیں! ابا حضور گلنار بائی کے بالا خانے سے مجرا سن کر جب رات گئے لوٹتے تو نتھو پنواڑی کی دکان کے سامنے یونہی بے مقصد ڈولتے ایرے غیرے ما رے خوف کے ایک دوسرے کی اوٹ میں ہونے لگتے۔ایسا تو احترام تھا شرفاء کا۔
۔ میاں کیا گانے والیاں تھیں۔ گویا شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو۔ اللہ بخشے ابا حضور بتایا کرتے تھے۔ میاں یہ کوٹھے نہیں۔علم وادب کے گہوارے ہیں۔ شرفاء کی تربیت گاہیں ہیں۔
۔ارے میر صاحب منہ کی بات چھین لی تم نے تو۔ یہی بات تو ابا حضور بھی کیاکرتے تھے ۔ اور پھر کوئی ایرا غیرا ارزل تو قدم نہ دھر سکتا تھا وہاں۔اپنا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے جنت مکانی بتاتے تھے کی ایک شب گلنار بائی داغ کی غزل۔۔’’ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات ‘‘۔۔ گاتی تھیں۔ جب ’’ہوتی رہی قبول دعائیں ۔۔ ‘‘۔۔ پر پہنچیں تو مصرعہ ایسا اٹھایا کہ سبھی لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ابا حضور نے دادا جان کی شیروانی پہن رکھی تھی جس میں ہیرے کے بٹن ٹنکے تھے۔ جھٹ سے ایک بٹن نوچا اور گلنار بائی کی جانب اچھال دیا۔اب وہ قبول کرنے سے ہچکچاتی ہیں کی ایسی قیمتی چیز میں کیسے لے لوں۔ابا حضور نے انکی اماں سے گلوری لیتے ہوئے سفارش کی التجا کی۔
اماں بولیں۔ارے بٹیا لے لو۔ پشتنی ہیں پشتنی۔ انکے لئے ایک آدھ ہیرے کی کیا وقعت۔ چاہیں تو ابھی نوچ کر سارے دے دیویں۔ بس انکا یہ کہنا تھا کہ ابا حضور نے سبھی بٹن نوچ ، گلنار کی جانب اچھال دیئے۔ اب وہاں ببن نواب بھی موجود تھے جو ابھی ابھی حقہ تازہ کر کے لائے تھے۔آبدیدہ ہوتے ہوئے بولے۔ میاں بس تم جیسوں کے دم سے ہی شرفاء کا بھرم قائم ہے۔ ہمیں ہی دیکھ لو۔گاؤں بک گئے۔ حویلیاں گروی رکھ دیں ۔اب انکی چلم بھرتے ہیں پر ناک نیچی نہیں ہونے دی۔ بھئی سبحان اللہ !کیسے وضعدار لوگ تھے۔
۔ لو ! میرزا ایسا ہی ایک واقعہ ہمارے ابا حضور سنایا کرتے تھے۔ بتایا کہ ایک شب عذرا جان ٹھمری گاتی تھیں۔۔’’رنگی ساری گلابی چنریا رے‘‘۔ جانے کیا ہؤا کہ گاتے گاتے آواز بھرا گئی اور آنکھوں سے اشک رواں۔ بس وہاں بیٹھے سبھی شرفاء کی آنکھیں بھی نم ہونے لگیں۔ اباحضور نے آنسو پونچھتے ہوئے ماجرا پوچھا توپہلے تو بائی جی کچھ بتاویں نہ۔ پھر دبے دبے لفظوں میں بولیں۔اجی نواب صاحب کیا بتائیں۔ یہ دن بھی دیکھنا تھاکہ شرفاء کی میزبانی سے محروم ہوئے جاتے ہیں۔ابا حضور نے دلاسہ دیا۔ پانی پلایا تو بولیں۔ اچھن نواب نے یہ حویلی بٹیا کے نام کر دی تھی۔ا ب آج کے زمانے میں ان جیسے رئیس کہاں۔ ایک ایک مصرعہ پر توڑا اشرفیوں کا لٹا دیویں تھے۔ اب اس کم سن کو اتنا ہوش کہاں۔ اوڑھنے پہننے کے شوق میں میں سب کچھ مہاجن کے ہاں گروی رکھوا دیا۔ اب وہ کمبخت نیلامی کی بات کرے ہے۔ بس نواب صاحب ہماری لاج تو اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ تو میرزا ! یہ سننا تھا کہ ابا حضور تو طیش میں آگئے۔ فوراٌ ہی طبلے والے کو بھیج کر منشی کو بلا یا اور وہیں کے وہیں کاغذ لکھ دیاکہ اس کم ذات مہاجن کی رقم تو چھوٹی حویلی بیچ کر فوراٌ ادا کر دی جائے ۔
۔ارے کیا وقت تھے میر صاحب کیا وقت تھے وہ۔ چین ہی چین۔ سستا زمانہ ۔ سات روپے من تو آٹا تھا۔
۔ میاں ہوش کے ناخن لو۔ کب کی بات کرتے ہو ۔ ہمارے زمانے میں تونو روپے من تھا۔
۔ تمہارے زمانے میں نو روپے من کیسے ہو سکتا ہے۔ میاں عمر کے ساتھ ساتھ تمہاری یادداشت بھی جواب دیتی جا رہی ہے۔
۔ اپنی یادداشت کے بارے میں کیا خیال ہے۔ یقیناٌ تم بھول رہے ہو۔
۔ کیسے بھول رہے ہیں۔ تمہاری پیدائش تو ہم سے پہلے کی ہے۔
۔اماں یہ کیا بات کر دی۔ میرے حساب سے تو تم چار سال بڑے ہو ہم سے۔
۔ میں تو پہلے ہی کہہ رہا ہوں کہ تمہارا حافظہ جواب دینے لگا ہے۔ب س میاں عمر کا تقاضہ سمجھو اسے۔
۔ اور تم تو ابھی بچے ہو۔ دودھ پیو گے ننھے میاں۔ کب کی پیدائش ہے تمہاری۔
۔ ہماری پیدائش تو جب کی بھی ہے، درست ہے۔ تمہاری طرح نہیں کہ ابا نے پان سات سال کم لکھوا دی۔
۔ اب ایسی چھچھوری حرکتیں تو میاں آپ کے ابا ہی کرتے ہوں گے۔ ہمارے ابا تو اللہ بخشے کردار والے تھے۔
۔ تو تمہارا مطلب ہے ہمارے والد بد کردار تھے۔ دیکھو زبان سنبھال کر بات کرو۔
۔ ارے جا جا !زبان سنبھال کر بات کرو ۔۔ بڑا آیا ہمیں کردار سکھانے والا۔ خاندانی لوگ ہیں ہم خاندانی۔
۔ ارے جانتے ہیں تمہارے خاندان کو۔ دعا دو زمانے کو۔ سالے پشتنی کنجڑے آج میرازا مغل بنے گھومتے ہیں۔
۔ دیکھ بے کبابئے۔ نواب حیدر کی حویلی کے پچھواڑے تیرا ابا جو کباب لگاتا تھا ناں، وہ ہمارے گھر بھی آتے تھے۔ بھئی کیا ذائقہ تھا۔ یاد کرتے ہیں تو آج بھی منہ میں پانی آ جاتا ہے۔
۔ دیکھ کسی گھمنڈ میں مت رہیؤ۔ سالے بتیسی توڑ دو ں گا۔
۔ تو میں کیا چوڑیاں پہنے ہوئے ہوں۔ دو ہاتھ جڑ دیئے تو چلنے پھرنے سے بھی جائے گا سالا کبابیا۔
۔ابے کنجڑے کی اولاد۔ لگتا ہے آج تو ہڈی پسلی تڑوا کر ہی ٹلے گا۔
۔ اور تیری کھٹیا جو کھڑی ہو جائے گی، وہ۔
۔ چل چل۔اپنی راہ لگ۔ اسی لئے تو میں تم جیسوں سے ملتا نہیں۔
۔ارے میں تو تیری صورت دیکھنے کا روادار نہیں۔ نجانے صبح سویرے کس منحوس کا منہ دیکھا تھا جو تجھ سے مڈ بھیڑ ہوگئی۔
ابھی دونوں میں مکالمہ جاری تھا کہ سامنے سے حکیم صاحب آتے دکھائی دیئے۔ ضعیفی سے جن کی کمر جھک گئی تھی۔لاٹھی ٹیکتے کھانستے لڑھکتے قریب پہنچے تو بولے۔
بھئی یہ آج دن چڑھے دونوں بڈھے ایک ساتھ کیسے۔ خیریت تو ہے۔
بڈھے !۔۔ دونوں شرفاء حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ آخر میرزا بولے۔
بس ذرا یونہی بازار کی سیر کو نکلے تھے۔ کہاں کا قصد ہے۔
حکیم صاحب ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے بولے:
ارے بھئی وہ اپنے شمشیر بیگ تفنگ آبادی نے اصرار کر کے مشاعرے پر بلایا ہے۔ اب ہم لاکھ انکار کرتے ہیں پر وہ مان کر ہی نہیں دیتے ۔ کہتے ہیں حکیم صاحب مشاعرے کا رنگ تو آپ ہی سے جمتا ہے۔ اب کیا کیا جائے ۔ برخوردار ہیں اپنے۔ لو تمہیں بھی سنائے دیتے ہیں دو چار اشعار۔ عرض کیا ہے:
گل سے بلبل نے کہا اب کسے صیاد کا خوف جل گیا۔۔۔
۔ اجی حکیم صاحب ! ۔ چھوڑیئے شاعری کو۔ پہلے یہ بتایئے آپ کی جوانی میں آٹا کس بھاؤ ملتا تھا۔
حکیم صاحب تبسم فرماتے ہوئے بولے۔ میاں شاعری تو شرفاء کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔ خیر تمہاری مرضی ۔ اور جوان تو ہم اب بھی ہیں۔ ہاں لڑکپن کی پوچھتے ہو، تو تھا یہی کوئی بارہ روپے من۔ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔
بارہ روپے من !!! دونوں پھر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
ان کو حیرت میں ڈوبا چھوڑ حکیم صاحب تو چلتے بنے۔ میر صاحب سے نہ رہا گیا۔ تلملا کر بولے۔
۔ سائیس تھا یہ پیر فرتوت۔ وہاں گندے نالے کے پہلومیں چھپر ڈال رکھا تھااس ارزل نے۔ نعل لگاتا تھا گھوڑوں کے۔اب حکیم کہلاتا ہے۔اللہ کی شان ہے میاں۔
۔ ارے سچ کہا میر صاحب ۔ جب کبھی نعل لگوانے ہوتے تو ابا حضور وہیں بھیجا کرتے تھے اپنے کمندِ ہوا کو۔ کہتے تھے کاریگر اچھا ہے۔
۔ حد ہو گئی ہے میرزا۔ سنا تم نے ۔آٹا بارہ روپے من۔بھئی لا حول ولاقوۃ۔
۔ چلو چھوڑو میاں۔ ایسے نیچ کم ذاتوں کی حرکتوں پر کیا جی کو جلانا۔ اب چلتے ہیں ۔ گھر میں آج بادامی شاہی قورمہ بنانے کا ذکر ہو رہا تھا۔ ٹھنڈا ہو گیا تو کھانے کا مزہ جاتا رہے گا۔
ار ے میر صاحب ! کیا یاد دلا دیا۔ بھئی بادامی شاہی قورمہ تو ابا حضور کی خاص فرمائش پر اماں بنایا کرتی تھیں۔ بس جتنا گوشت اتنے بادام۔ اور ابا حضور کا مزاج ایسا کہ کھانا چنا جائے تو دھواں اٹھتا دکھائی دے۔ کبھی رکابی میں ترائی پر جھلی پڑتی نظر آجاتی تو اللہ بخشے نقرئی رکابی سمیت کنویں میں الٹ دیا کرتے تھے۔ اب اماں لاکھ کہتی ہیں کہ اللہ ماری بی مغلانی نے باتوں میں لگا لیا تھا۔ پر توبہ کیجئے صاحب ۔ تین دن تک توطیش کے عالم میں رہتے۔ اب وہ نوالہ توڑیں تو کوئی دوسرا بھی ہاتھ بڑھائے۔
۔ کیا یاد دلا دیا میاں۔ کچھ ایسا ہی واقعہ ہمارے ہاں بھی تھا۔ تم کنویں کی بات کرتے ہو۔ ابا حضور تو پورا دیگچہ دریا میں۔۔۔
۔اچھا تو میر صاحب اجازت۔ چلتا ہوں ۔ بہو انتظار کرتی ہوں گی۔
۔ بھئی میرزا پوری بات تو سن لیا کرو۔ شریفوں میں تو بات پوری سننے کا دستور ہے۔ خیرہم بھی چلتے ہیں۔ آج واجد شاہی پسندے بنانے کا کہہ رہی تھیں بیگم۔ شیرمال بنتے تو میں دیکھ آیا ہوں۔ پسندے بھی تیار ہی ہوں گے۔ راہ تکتے ہوں گے سبھی۔
۔ خدا حافظ میرصاحب!
۔ خدا حافظ میرزا۔ بھئی ملتے رہا کرو۔ غنیمت ہے جو ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں۔