پاکستان کیا جانتا تھا ( آخری قسط)

  • بدھ 02 / اپریل / 2014
  • 4428

(افغانستان اور پاکستان میں 2001-14 تک نیویارک ٹائمز کی نمائندہ کے طور پر کام کرنے والی صحافی کارلوٹا گال Carlotta Gall غلط دشمن The wrong enemy کے عنوان سے ایک کتاب شائع کر رہی ہیں۔ ایک ہفتہ قبل نیویارک ٹائمز نے اس کتاب کا ایک طویل اقتباس رپورٹ کی شکل میں شائع کیا تھا۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی حکام کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا اور بے نظیر بھٹو کو قتل کروانے کا منصوبہ القاعدہ نے پاکستانی حکام کی رضامندی سے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں مزید کئی انکشافات بھی کئے گئے ہیں۔ فوج اور حکومت کی طرف سے ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ جبکہ متعدد پاکستانی تبصرہ نگاروں نے مس گال کو ناقابل اعتبار صحافی قرار دیا ہے۔ تاہم اس رپورٹ کی اہمیت اور تفصیلی پس منظر کی وجہ سے کاروان اس کا ترجمہ شائع کر رہا ہے۔ کاروان نے کارلوٹا گال سے اس رپورٹ کو ترجمہ کرنے اور شائع کرنے کی اجازت حاصل کی ہے۔ تاہم انگریزی سے اردو قالب میں ڈھالنے کی ذمہ داری کاروان پر عائد ہوتی ہے۔ کسی قانونی پیچیدگی کی صورت میں صرف انگریزی متن ہی کارآمد ہو گا۔ اس اشاعت سے  ادارہ اس رپورٹ میں بتائے گئے حقائق یا رائے سے اتفاق کا اظہار نہیں کر رہا ہے بلکہ تصویر کا ایک رخ سامنے لانے کے لئے اس قسم کی رپورٹ کو ناظرین کے لئے پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)

میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں دو برس صرف کئے کہ آئی ایس آئی کو بن لادن کی موجودگی کے بارے میں کیا معلومات تھیں اور کیا یہ اس شخص کی حفاظت کر رہی تھی۔ میں کسی نتیجے تک پہنچنے کے لئے واقعاتی شہادتوں اور ان ذرائع کے علاوہ جنہیں براہ راست اس معاملہ کے بارے میں علم نہیں تھا ، ثبوت حاصل کرنا چاہتی تھی۔ ایک شخص نے جو آئی ایس آئی کا سابق سربراہ رہ چکا تھا یعنی جنرل ضیاء الدین بٹ نے مجھے بتایا کہ اس کے خیال میں ایبٹ آباد میں بن لادن کو چھپا کر رکھنے کا انتظام مشرف نے کیا تھا۔ تاہم اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ بعد میں دباؤ میں آ کر اس نے پاکستانی پریس کو بتایا تھا کہ اس کی باتوں کا غلط مفہوم لیا گیا تھا۔

بالآخر 2012ء کے موسم سرما کی ایک شام مجھے وہ ثبوت مل گیا ، میں جس کی تلاش کر رہی تھی۔ ایک اندرونی ذریعے نے بتایا کہ آئی ایس آئی میں ایک خصوصی شعبہ موجود تھا جس کا کام صرف بن لادن کا معاملہ دیکھنا تھا۔ یہ شعبہ خود مختاری سے کام کرتا تھا۔ اس کا نگران افسر فیصلے کرنے میں آزاد تھا اور کسی اعلیٰ افسر کو جوابدہ نہیں تھا۔ اس کا کام صرف بن لادن کے معاملات کو دیکھنا تھا۔ مجھے جب یہ اطلاع ملی تو میں ایک کیفے میں بیٹھی تھی۔ میں نے بڑبڑانا شروع کیا لیکن یہ بڑبڑاہٹ اتنی بلند نہیں تھی کہ دوسرے اسے سن سکیں۔ ( بعد میں دو اعلیٰ امریکی افسروں نے مجھے بتایا کہ وہ خود بھی اسی نتیجہ پر پہنچے تھے جو میری معلومات سے برآمد ہوتا تھا)

یہ وہی خبر تھی جو افغانوں کو بھی معلوم تھی اور طالبان جنگجوؤں نے بھی مجھے بتائی تھی۔ لیکن اب بالآخر ایک اندر کا ذریعہ اسے تسلیم کر رہا تھا۔ آئی ایس آئی کا تقریباً ہر ذریعہ اس شعبہ کے بارے میں بے خبر تھا۔ اس ایجنسی کے انٹیلی جنس یونٹ اسی خفیہ طریقہ کار کے تحت کام کرتے ہیں۔ لیکن مجھے بتایا گیا تھا کہ اعلیٰ فوجی قیادت کو اس بارے میں خبر تھی۔

افغان صدر کرزئی جس وجہ سے امریکہ سے مایوس ہؤا تھا ، اس میں اس بات کو بے حد دخل تھا کہ امریکہ دہشت گردی کی حمایت و سرپرستی اور اسے دوسرے ملک روانہ کرنے کے بارے میں پاکستانی رویہ کو پوری طرح سمجھنے اور پھر اس سے جواب طلب کرنے میں ناکام رہا تھا۔ 2014ء میں امریکی نیٹو افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستانی ملٹری اور اس کی طالبان پراکسی فورسز وقت کا انتظار کر رہی ہیں۔ یہ اب بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہیں جتنا 2001ء میں تھیں۔

میں جنوری 2013ء میں حقانی مدرسہ گئی اور وہاں کے سینئر علماء سے ان فارغ التحصیل طلبہ کے بارے میں دریافت کیا جو وہ افغانستان روانہ کر رہے تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہر شخص جہاد کرنے میں آزاد تھا تاہم انہوں نے یہ پرانی دلیل دہرائی کہ ہر طالب علم خود اس بارے میں فیصلہ کرتا تھا۔ مدرسہ کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں طالبان کی مکمل حمایت کی۔ اس کا کہنا تھا کہ صرف مٹھی بھر لبرل طالبان کے خلاف ہیں۔ افغانوں میں ان کی تعداد 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ ترجمان اور اس کے ساتھی علماء کو یقین تھا کہ طالبان افغانستان میں فوجی فتح حاصل کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ : ’’ یہ ایک سیاسی حقیقت ہے کہ طالبان دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔ طالبان کا سفید جھنڈا انشاء اللہ دوبارہ کابل پر لہرائے گا‘‘۔

پاکستان کے سکیورٹی افسر ، سیاسی تجزیہ نگار ، صحافی اور قانون ساز بھی اس بارے میں متنبہ کرتے ہیں۔ پاکستانی فوج افغانستان پر کنٹرول کا تہیہ کئے ہوئے ہے اور وہ امریکہ کے نکلنے کے بعد طالبان کو اپنا رسوخ بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

دی ایسوسی ایٹڈ پریس کی کیتھی گینن Kathy Gannon نے ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ پاکستانی صوبہ پنجاب سے انتہا پسند قبائلی علاقوں میں جمع ہو رہے ہیں۔ وہ طالبان کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کر رہے ہیں تا کہ اس سال کے دوران افغانستان میں حملہ میں حصہ لے سکیں۔ پنجاب ملک میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس صوبہ میں قومی مذہبی جماعتیں اور ممنوعہ انتہا پسند گروپ کھلم کھلا سینکڑوں طالب علموں کو جہاد کے لئے بھرتی کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کے گروہوں کو شام میں بھی جہاد کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ یہ وہی جہادی گروپ ہیں جو سو فیصد کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ایک سابق پاکستانی قانون ساز نے مجھے بتایا کہ اس کے باوجود فوج ان کا تحفظ کر رہی ہے۔

قانون ساز نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امریکہ نہ تو پاکستان کے خلاف بات کرتا ہے اور نہ ہی وہ ایک ایسی حکومت کے بارے میں پالیسی تبدیل کر رہا ہے جو دہشت گردی ایکسپورٹ کر رہی ہے۔ اس نے سوال کیا کہ : ’’ آخر کتنے لوگوں کے مرنے کے بعد ان کو یہ بات سمجھ آئے گی۔ وہ ایک ایسی فوج کی امداد اور سرپرستی کر رہے ہیں جو افغانستان ، شام اور ہر جگہ امریکہ اور مغرب کے مشن کے خلاف کام کر رہی ہے‘‘۔

جب میں 2001ء کے تباہ حال افغانستان کو یاد کرتی ہوں تو وہ شاندار تبدیلیاں بھی یاد آ جاتی ہیں جو امریکی حملہ کے بعد سامنے آنے لگی تھیں۔ تعمیر نو اور ترقی کا آغاز ہؤا تھا۔ ہر دفتر میں پرامید نوجوان گریجویٹ نظر آتے تھے۔  13 سال بعد جنگ پر ایک کھرب ڈالر صرف ہو چکے ہیں۔ جنگ کے عروج کے دنوں میں ایک لاکھ 20 ہزار فوجی تعینات تھے۔ ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ لیکن افغانستان کی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ یہ اب بھی ایک کمزور ریاست ہے۔ یہ اب بھی ہمسایوں کی حرص اور اسلامی انتہا پسندوں کے نشانے پر ہے۔ شاید اس رائے کو مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ لیکن اس وقت افغانستان سے فوج نکالنا، کام ادھورا چھوڑنے کے مترادف ہے۔
جبکہ اصل دشمن اب بھی لاپتہ ہے۔
(ختم شد)