ہیتھرو ائیرپورٹ سے ایک سبق
- بدھ 02 / اپریل / 2014
- 4585
وہ ہیتھرو ائیرپورٹ لندن کے کو ریڈور سے باہر آنے والے مسافروں کے چہروں پر چھائی اجنبیت اور تھکن کے ملے جلے احساسات کا بغور مطالعہ کرتی ۔ایک پرتپاک مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کرتی اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ان سے ہمکلام ہوتی کہcan i halp you ۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میڈیا سائنسز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال اسلام آباد کے ایک چارستارہ ہوٹل میں"علم و آگاہی " تربیتی ورکشاپ میں تعلیمی اصلاحات اورپالیسی سازی میں میڈیاکے کردارکے کردار کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ وہ اپنے تجربات بتا رہے تھے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے پرائمری سکول سے اپنے سفر کا آغاز کرنیوالابچہ جب ہیتھرو ائیرپورٹ لندن کے کو ریڈور سے باہر نکلا تو اسکے ایک ہاتھ میں بیگ تھا اور دوسرے ہاتھ میں وہ وزٹنگ کارڈ تھا جس پر اسکی منزل اور میزبان کا پتہ درج تھا۔ لیکن اس کا ذہن تو شاید سمتوں کی پہچان بھی بھول چکا تھاکہ اچانک وہ لڑکی سامنے آئی اور اس نے ٹوتی پھوٹی انگریزی میں مجھ سے پوچھا what can i help you تو میں نے بغیر سوچے سمجھے اپنی منزل کا کارڈ اس کے حوالے کر دیا۔ اس نے پرجوش انداز میں کارڈ پر درج شدہ ایڈریس کو دیکھا اور مجھے قریب ہی ٹرمینل پر کھڑی ایک گاڑی کے پاس لے گئی اورگاڑی کے ڈرائیور کو میری منزل کا پتہ بتا کراسے تاکید کی مجھے مذکورہ پتہ پر اتار کر گھر کی نشاندہی بھی کردے۔
لڑکی کا خدمت کرنے کا شوق اور راہنمائی کرنے کا انداز دیکھ کر میں نے پوچھا کہ کیا اسے ایئرپورٹ انتطامیہ کی طرف سے دور دیسوں سے آنے والے مسافروں کی مدد کے لیے یہاں تعینات کیا گیاہے تو اس لڑکی نے جواب دیا کہ میں یہاں ملازمت وغیرہ نہیں کرتی۔ میرا تعلق جرمنی سے ہے اور میں پچھلے چند مہینوں سے تعلیم کے سلسلے میں انگلینڈ میں ہوں۔ قریب ہی میراکالج ہے اورمیری کلاس سپروائزر نے مجھے یہ عملی اسائنمنٹ دی ہے کہ انسانیت کی خدمت کس طرح کی جاتی ہے اور دور دیسوں سے آنے والے مسافروں کی پریشانیوں کو آسانیوں میں کیسے تبدیل کیا جاتاہے۔
پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کہتے ہیں کہ چونکہ میں استاد ہوں اور میں تعلیم اور تعلم کے شعبہ کی مشکلات اور presentation اور اسا ئنمنٹ کے دوران طلباء کی کمزوریوں اور لغرشوں سے بخوبی واقف تھا اس لیے میں نے اس لڑکی سے کہا کہ آپ گھر بیٹھ کر بھی یہ اسائنمنٹ شیٹ مکمل کر کے کالج جمع کروا دیتیں۔ آپ کو ایئر پورٹ پر آکر صبح سے شام تک یہ مشقت کرنے کی کیا ضروت تھی؟ تو وہ لڑکی ایک دم چونک کر بولی سرhow is it possibleایسا تو ممکن ہی نہیں ہے۔ اتنے میں گاڑی چلنے لگی اس لڑکی نے مجھے سلام کیا اور دوڑتی ہوئی کسی دوسرے مسافر کی خدمت کے لیے روانہ ہو گئی اور میں گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ گاڑی میں ہر رنگ اور نسل کے لوگ سوار تھے ڈرائیور ہر مسافر کو اسکی منزل پر اتارتا اور اگلی منزل کے لیے رواں ہوجاتا۔
گاڑی لندن کی منظم سڑکوں پر رواں دواں تھی اور میں اپنے ملک کے تعلیمی نظام کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ کیسے ہمارے ملک میں تعلیم اور تربیت کے دوران فاصلے بڑھتے جارہے ہیں اور ہم معاشی پسماندگی، معاشرتی بے اعتنائی ،اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ ان کے لفظوں میں جان اور ان کے لہجے میں درد اور خلوص تھا ۔مگر امید کے دئیے ان کی آنکھوں میں مسلسل جگمگا رہے تھے وہ اپنے تجربات کی روشنی میں بتا رہے تھے کہ کس طرح ہماری نصابی کتب ہمارے رویوں میں تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔ کس طرح ہمارا نظامِ تعلیم اورہماری درسگاہیں پاک سر زمین میں کوئی بڑی تبدیلی لانے سے معذور ہیں اور کس طرح ہمارے صحافتی حلقے معاشرے میں شدت پسندی اور سنسنی خیزی کے فروغ میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان ہواؤں سے تو بارود کی بو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائے گے سارے بچے
وہ نصابی کتب کا طلباء کے رویوں میں ممکنہ تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی نصابی کتب کا تقابلی جائزہ پیش کر رہے تھے کہ ہمارا تعلیمی نظام برداشت، انسانیت، تحمل و بردباری، مساوات، انصاف، ایمانداری اور ہمدردی جیسی اخلاقی اقدار کو فروغ دینے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کرنے میں ناکام رہاہے۔ ہم بچے کو جھوٹ اور چوری سے نفرت کی تعلیم دیتے ہیں اور اسے جھوٹے اور چور کی عزت کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ایسے تعلیمی نظام سے اداس نسلیں جنم لیتی ہیں اور اتنے دوہرے معیاروں سے بنیاد پرست اور شدت پسند پیداہوتے ہیں ۔
پلے گراؤنڈ سے لیکر یونیورسٹی تک ایک بچے کو مختلف زبانیں سیکھنے پر مجبور کیا جاتاہے۔ وہ گھر میں پنجابی بولنا سیکھتاہے مسجد یا مدرسہ میں عربی اور فارسی کی گردانیں یاد کرتاہے۔ سکول میں اردو بولنا واجب ہوتاہے۔ جبکہ انگریزی بطورِلازمی مضمون پڑھائی جاتی ہے۔ کالجز میں جدت اور جدیدیت کے نام پر ثقافتی یلغار کی جاتی ہے جبکہ یونیورسٹیز میں رومانس کے سٹال لگائے جاتے ہیں۔ زبانوں کے اس جھمبیلے اور محبتوں کے قضیے میں ایک طالب علم کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ وہ معاشیات، اخلاقیات، سائنس اور سب سے بڑھ کر انسانیات جیسے مضامین کی طرف توجہ دے۔ تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرے کے باوقار اور با ضمیر انسان بن سکیں ۔ بقولِ بیدل حیدری
کیا بھروسہ ہے سمندر کا خدا خیر کرے
سیپیاں چننے گئے ہیں میرے سارے بچے