افغان انتخابات میں سکیورٹی خدشات
- جمعہ 04 / اپریل / 2014
- 4638
سکیورٹی خدشات اور طالبان کی دھمکیوں کے سائے تلے ہفتہ کے روزافغانستان کی تاریخ کے اہم الیکشن ہو نے والے ہیں ۔ انتخابات سے قبل طالبان اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے حملوں میں شدت لائے ہیں۔ جمعہ کو بھی خوست کے علاقے میں ایک غیر ملکی جرنلسٹ کو قتل کیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود افغان عوام میں بھی ان انتخابات کے حوالے سے کافی جوش و خروش نظر آ رہا ہے۔
افغانستان کی صدارت کا جبہ پہننے کے لئے 8 امیدوار ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ ان انتخابات کے لئے 11امیدوار میدان میں تھے مگر دو امیدوار زلمے رسول کی حمایت میں دستبردار ہو گئے ہیں جبکہ ایک نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے ہیں۔
اس بار اور اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں کئی چیزیں پہلے سے مختلف ہیں۔ خاص طور پر موجودہ صدر حامد کرزئی اپنی صدارت کی مدت پوری کرنے کے بعد الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے۔ کیونکہ وہ اس سے قبل دوبارہ صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان انتخابات کے بعد عالمی اور امریکی فوجیں یہاں سے رخت سفر باندھ رہی ہیں۔ سال رواں کے اختتام پر فوجوں کی روانگی مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مگر یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں جس سے امریکی فوجوں کے مزید دس سال تک یہاں قیام پذیر ہونے پر سوالیہ نشان لگا ہؤا ہے۔ پوری دنیا الیکشن کے بعد کی نئی حکومت کی تشکیل اور امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد کی افغانستان کی سکیورٹی کی صورت حال سے سخت پریشان ہے اور یہاں امن کی خواہاں ہے۔
افغانستان میں امیدواروں کی انتخابی مہم زوروں پر رہی۔ متعدد بین الاقوامی اداروں نے عوام کے رجحانات کا جائزہ لینے کے لئے سروے بھی کئے۔ گلیون ایسوسی ایٹس کے سروے کے مطابق 50 فیصد کے لگ بھگ ووٹروں کی یہ رائے ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو ووٹ دیں گے جو ملک کے اہم ترین ہمسایہ ملک پاکستان سے اچھے تعلقات کے لئے کام کرے گا۔ 71 فیصد کی یہ رائے ہے کہ وہ ایسا امیدوار منتخب کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ سے تعلقات بہتر بنائے۔ 90 فیصد ووٹروں کی رائے ہے کہ کسی بدعنوانی میں ملوث امیدوار کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ جبکہ 61 فیصد کی رائے ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو ووٹ دیں گے جو طالبان سے مذاکرات کا حامی ہو گا۔
انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے 29 فیصد نے اشرف غنی کے حق میں رائے دی۔ اشرف غنی عالمی بینک میں کام کرتے رہے ہیں۔25 فیصد نے عبداللہ عبداللہ کے حق رائے کا اظہار کیا۔ عبداللہ عبداللہ گزشتہ الیکشن میں حامد کرزئی سے دوسرے مرحلہ میں شکست کھا گئے تھے۔ عبدالرب سیاف نے 10 فیصد سے بھی کم ووٹ لئے اور باقی امیدواران اس لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔ ڈیمو کریسی انٹرنیشنل نے 2500 ووٹروں کی رائے کی مدد سے ایک علیحدہ سروے تیار کیا ہے۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے 31 فیصد ووٹ لئے اور سروے میں پہلے نمبر پر آئے ۔ اشرف غنی 25 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔
عام طور پر جن ممالک میں انتخابات کا عمل شروع ہوتا ہے وہاں بین الاقوامی مبصرین کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ لیکن بعض رپورٹس کے مطابق افغانستان کے الیکشن سے قبل غیر ملکیوں نے یہاں سے انخلا شروع کر دیا ہے اور انتخابات مانیٹر کرنے کے لئے آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ مبصرین کے مطابق افغانستان میں الیکشن کے دوران بے پناہ سیکیورٹی خدشات وابستہ ہیں۔ خاص طور پر گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن پر ہونے والے حملے نے خوف و ہراس کی کیفیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ قدرے محفوظ علاقوں میں واقع گیسٹ ہاؤس اور سرینا ہوٹل پر حملوں نے بھی حالات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ان حملوں کے بعد مختلف بین الاقوامی اداروں نے اپنا نیٹ ورک محدود کر دیا ہے ۔ خاص طور پر وہ ادارے جو کہ انسانی حقوق یا الیکشن کے تناظر میں یہاں کام کر رہے تھے وہ سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں الیکشن کی شفافیت بھی بڑی حد تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تمام امور بنیادی طور پر سکیورٹی صورتحال سے منسلک ہیں۔
اگر افغانستان میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف الیکشن کسی بھی وجہ سے نہیں ہو سکتے تو افغانستان کو ملنے والی امداد بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ کیونکہ افغانستان کو امداد دینے والے ممالک نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ آئندہ کی امداد الیکشن کے شفاف انعقاد سے وابستہ ہو گی اور جب تک اس کی تصدیق بین الاقوامی مبصرین نہیں کریں گے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مبصرین کی یہ بھی رائے ہے کہ دونوں بڑے امیدوار چونکہ ہم پلہ ہیں اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ انہیں 50 فیصد سے زائد ووٹ نہیں مل سکیں گے۔ اس طرح ان کے لئے پہلی ہی بار انتخابات جیت مشکل ہو گا۔ اگر ان امیدواروں کو 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ مل سکے تو الیکشن کا انعقاد دوبارہ ہو گا۔ جس طرح پہلے حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان مقابلہ ہؤا تھا۔ اس بار بھی اگر ایسا ہی ہؤا تو سکیورٹی کی مشکل صورتحال کے باعث آئندہ کے منظر نامے کے بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔
موجودہ الیکشن اس سارے تناظر میں بیحد اہم ہیں کیونکہ یہ نہ صرف افغانستان کی اندرونی صورتحال بلکہ خطے کی مجموعی صورت حال کے اعتبار سے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر افغانستان میں انتخابات کے حوالے سے کوئی خرابی ہوئی تو اس سے افغانستان کے ساتھ ساتھ پورا خطہ ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں الیکشن کے حوالے سے تربیت یافتہ اور تجربہ کار اسٹاف کی پہلے ہی کمی ہے۔ غیر ملکی اسٹاف کے بھرپور طریقے سے کام نہ کرنے سے انتخابات کے مراحل کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکے گا۔
اب جبکہ الیکشن اب سر پر آن پہنچے ہیں ، بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور امریکہ کو چاہئے کہ وہ اس مرحلے میں افغانستان کو مکمل مدد فراہم کریں تا کہ یہ مشکلہ مرحلہ خوش اسلوبی سے انجام پذیر ہو اور افغانستان میں بھی جمہوریت کا پودا پروان چڑھ سکے۔
موجودہ انتخابات سے قبل کابل میں اقتدار خوں ریزی سے ہی بدلتا رہا ہے۔ اگر موجودہ الیکشن پر امن طریقے سے منعقد ہو گئے اور ایک صدر نے دوسرے کو اقتدار حوالے کردیا تو یہ افغان تاریخ کا پہلا واقعہ ہو گا۔ نئی حکومت بننے کے بعد اگر طالبان کی طرف سے اسے طاقت کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور کئی دیگر ممالک کا امن بھی داؤ پر لگ جائے گا۔
طالبان کو بھی سوچنا چاہئے کہ جنگ و جدل اگر ساری عمر جاری رہے تو قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ افغانستان میں طویل عرصہ سے قتل وغارت گری کا کھیل جاری ہے۔ اب جبکہ امریکہ ان کے ملک سے نکل رہا ہے تو اس موقع پر انہیں بھی افغانی عوام کے ساتھ قومی دھارے میں شامل ہو کر قیام امن کے لئے کام کرنا چاہئے۔