پاکستان میں عدلیہ کا بدلتا کردار

  • سوموار 07 / اپریل / 2014
  • 13974

عدلیہ کا کردار ایک ایسا موضوع ہے جو قیام پاکستان سے مسلسل زیر بحث ہے اور ہر حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ سوال زیادہ شدومد کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ لیکن پاکستانی تاریخ میں اس بار یہ سوال حکومت کی تبدیلی کے بعد نہیں بلکہ چیف چسٹس کی تبدیلی کے بعد زیادہ زیر بحث ہے۔

اس سے جہاں عدلیہ کے غیر معمولی اہمیت اختیار کر جانے کا پتہ چلتا ہے وہیں اس نئی سمت اور رجحان کا بھی اندازہ ہو تا ہے کہ اب عدلیہ کے لیے حکومتوں کی تبدیلی غیر اہم ہوتی جا رہی ہے۔ البتہ اس کی اپنی صفوں میں ہونے والی تبدیلی زیادہ اہمیت اختیار کر رہی ہے۔

50 کی دہائی میں گورنر جنرل پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل سے متعلق جسٹس منیر کے فیصلے ۔ نظریہ ضرورت اور آمروں کے وضع کر دیا پی سی او کے تحت ججوں کے حلف اٹھانے جیسے معاملات نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں نہ صرف بہت سے سوالات بلکہ شکوک و شبہات اور تحفظات پیدا کئے۔ جس نے خود عدلیہ کو عوام اور دانش ور طبقے کے سامنے دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ چونکہ تاریخ کسی کے ساتھ رورعایت کرتی ہے۔ نہ مورخ کسی کا دفاع کر سکتا ہے اس لیے عدلیہ تا حال الزامات کے کٹہرے میں ہی کھڑی ہے۔ البتہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سابق فوجی آمر کو استعفیٰ دینے سے انکار اور پھر وکلاء تحریک نے پاکستان میں عدلیہ کا ایک نیا رخ متعارف کرایا ہے۔

اگرچہ یہ ایک چیف جسٹس کا انفرادی فعل تھا اور اگر انہیں وکلاء، ججوں، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی بھر پور حمایت نہ ملتی تو یہ ایک انفرادی فعل ہی رہتا اور اس سے آگے کچھ نہ ہوتا۔ کیونکہ ماضی میں بھی ہماری عدلیہ میں انفرادی جرأت کی مثالیں ملتی ہیں۔ مشرقی پاکستان کے جسٹس مرشد نے ایوب خان کی آمریت کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران اپنے عہدہ جلیلہ سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ مشرقی پاکستان ہائی کورٹ ہی کے ایک جج نے جنرل یحییٰ خان کے نامزدہ نمائندے جنرل ٹکا سے گورنر مشرقی پاکستان کے عہدے کا حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جب کہ بعض ججوں نے اطلاعات کے مطابق صدر ضیاء الحق کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے بھی انکار کیا تھا۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا تھا کہ ان ججوں کو حلف کے لیے بلایا ہی نہیں گیا تھا۔

اب یہ تاریخ کا ایک انتہائی نازک راز ہے کہ انہوں نے حلف لینے سے انکار کیا تھا یا انہیں بلایا ہی نہیں گیا تھا۔ جس پر واقفان حال کو اصل سچ اب عوام کے سامنے رکھ دینا چاہیئے۔ اس کے برعکس صدر پرویز مشرف اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے تین خفیہ اداروں کے سربراہوں کے سامنے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا اور ان پانچوں میں سے کسی نے بھی تاحال اس کی تردید نہیں کی۔ جس کے بعد صدر انہیں معطل کرنے پر مجبور ہوئے۔

اس کے بعد  جو کچھ ہوا وہ ماضی سے مختلف تھا ۔ سیاسی جماعتیں سول سوسائٹی اور وکلاء چیف جسٹس کے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔ جب کہ عدلیہ نے بھی کھل کر چیف جسٹس کا ساتھ دیا اور آخر کار وہ سپریم کورٹ کے فل بنچ کے حکم پر بحال ہوئے۔ جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے بعد عدلیہ کی فعالیت پہلی بار عملی شکل میں سامنے آئی۔ اگرچہ ان کے سابقہ دور میں اس کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ لیکن ان کی بحالی کے بعد عدلیہ کا زیادہ طاقتور اور مؤثر روپ نظر آیا۔

اس زمانے میں عدلیہ کے فیصلوں سے جہاں زرداری حکومت تنگ تھی۔ وہیں منہ زور افسر شاہی کے لیے بھی مشکلات تھیں۔ عدلیہ کے از خود نوٹسز کے نتیجے میں جہاں عوام کو ریلیف مل رہا تھا وہاں طاقت ور بے مہار ادارے بھی پریشان تھے۔ چنانچہ افتخار چودھری کی ریٹائر منٹ کے بعد بہت سے افراد اور اداروں نے سکھ کا سانس لیا۔ ساتھ ہی جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بطور چیف جسٹس چارج سنبھالنے کے بعد ایک تبدیلی محسوس ہوئی۔

پہلی تبدیلی تو یہ تھی کہ نئے چیف جسٹس نے بات بات پر از خود نوٹس لینے کی حوصلہ شکنی کی۔ دوسرے انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرح دوران سماعت کیسوں کے دوران ریمارکس دینے کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ بلکہ بڑی حد تک وہ رویہ اپنایا جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ جج سماعت کے دوران یا میڈیا میں نہیں بلکہ اپنے فیصلوں میں بولتے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے باقی ججوں نے بھی نہ صرف اسے نوٹ کیا بلکہ اس کی تقلید بھی کی۔

اس صورتحال میں یہ بحث زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ کیا ہماری موجودہ عدلیہ مستقبل قریب میں عدالتی فعالیت کا رویہ اپنائے گی یا صرف فیصلوں میں بولنے اور زیادہ سنجیدہ اور مدبرانہ روش اختیار کرے گی۔
اس سلسلے میں دانشوروں کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں اس وقت دونوں طرح کے نقطہ نظر موجود ہیں ججوں کی ایک تعداد جسٹس افتخار کے طرز انصاف کی حامی ہے اور دوسری عدلیہ کی فعالیت کے بجائے اس بات کی حامی ہے کہ فیصلے بولنے چاہیں۔

یہ دونوں نقطہ نظر عوام میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ پہلے نقطہ نظر کا حامی ہے۔ تو دوسرا طبقہ دوسرے طریقہ کار کا۔۔۔ لیکن ایک بات پر تمام حلقے متفق ہیں کہ آج کی عدلیہ 65 سالہ سابقہ عدلیہ سے بالکل مختلف ہے۔اس نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا ہے۔ آج کے ججز آزاد اور بے خوف ہیں۔ وہ عدالتی معاملات میں انتظامی مداخلت نہیں ہونے دیں گے اور عدلیہ کی آزادی اور وقار کے لیے سینہ سپر نظر آ ئیں گے۔

خوش قسمتی سے اکا دکا آوازوں کے سوا ملک کی سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، وکلاء اور میڈیا عدلیہ کی پشت پر موجود ہیں۔ میڈیا ایشوز کی نشان دہی کر رہا ہے۔ انتظامیہ اور حکمرانوں کی کرپشن کو بے نقاب کر رہا ہے جمہوریت کے خلاف سازشوں کو سامنے لا رہا ہے۔ حکمرانوں کے کاروباری مقاصد کو طشت از بام کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو سب کے سامنے رکھ رہا ہے۔ یہی صورتحال رہی اور میڈیا ذمہ داری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتا رہا۔ سیاسی جماعتیں اختلاف کے باوجود عدالتی فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کرتی رہیں تو دس سال بعد کا پاکستان ایک مختلف اور بہتر پاکستان ہوگا۔

آج عدلیہ حکمرانوں اور مؤثر افراد کی گرفت بھی کر رہی ہے اور حکمرانوں کے غلط فیصلوں کو کالعدم بھی قرار دے رہی ہے۔ اس صورتحال میں عدلیہ پر تنقید بھی ہو رہی ہے لیکن عدلیہ نے اب حوصلے کے ساتھ تنقید کو برداشت کرناسیکھ لیا ہے۔ یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو ایسا طریقہ اپنانا چاہیے کہ کسی ادارے کے ساتھ ٹکراؤ کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ لیکن اس کا مظاہرہ عدلیہ نے پرویز مشرف کیس میں کر دیا ہے۔عدالت نے سابق صدر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کیا۔ لیکن ان کے پیش ہونے کے فوری بعد انہیں بیرون ملک علاج کے لیے جانے سے متعلق اپنے ریمارکس میں پورے وقار کے ساتھ ملزم کو اس کے جائز حقوق دینے کی بات کی ہے۔

دانشور حلقوں کا کہنا ہے کہ عدلیہ مستقبل قریب میں گورننس اور کرپشن کے ایشو پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر ے گی۔ لیکن اسے مستقلاً سرگرم رہنا ہو گا۔ مئی 2011ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا بے باک تجزیہ کرنا ہو گا۔ ماتحت عدلیہ میں کرپشن کی شکایات کو دور کرنا ہو گا۔ عوام کو انصاف کی سستی فراہمی کے لیے خود کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی من مانیاں روکنا ہوں گی۔ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے حکومت اور اداروں پر دباؤ بڑھانا ہو گا۔ اور ہزاروں زیر التواء مقدمات کو جلد نمٹانا ہو گا۔

منہ زور بیورو کریسی اور بھاری مینڈیٹ والے حکمرانوں کو عدلیہ ہی کنٹرول کر سکتی ہے۔ جب کہ حکمرانوں کی دبی دبی خواہش یہ ہے کہ وہ عدلیہ کو کنٹرول کر لے۔ اس کے لیے وہ جوڈیشل کمیشن کے اختیارات کم کرنے کے لیے ترمیم بھی لا رہی ہے۔ عدلیہ کے لیے ایک اہم چیلجنز یہ بھی ہے کہ بار اور بنچ کے تعلقات میں توازن رہے۔ جب کہ وکلاء تحریک کے بعد نوجوان وکلاء جس طرح بے قابو ہو رہے ہیں انہیں بھی حدود و قیود کا پابند بنانا ہو گا۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے چیلنجز موجودہ عدلیہ کو درپیش ہیں اور عوام کی یہ جائز خواہش اور دعا ہے کہ عدلیہ ان چیلنجز سے وقار اور تدبر کے ساتھ سرخرو و کامیاب ہو۔

عدلیہ کے حوالے سے موجودہ حکومت کے رویے کے بارے میں دانشور طبقے مختلف تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کا رویہ بھی سابقہ حکومت کی طرح غیر آئینی طریقوں پر مشتمل ہے۔ اس نے پہلے دن سے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی شروع کر رکھی ہے کیپٹن شجاعت عظیم کے بارے میں سپریم کورٹ کے ریمارکس کے باوجود انہیں دوبارہ اس عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے حکومت عدلیہ سے تعاون کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

پیمرا، نادرا، اور پی سی بی کے سربراہوں کی من پسند تعیناتیاں کی جا رہی ہیں۔ حکومت بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ میگا پراجیکٹس میں کرپشن ہے اور میلے ٹھیلوں پر قومی خزانہ لٹایا جا رہا ہے۔ عدلیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ حکومت کو آئینی و قانونی حدود میں رہنے کا پابند بنائے۔ یہ اقدام حکمرانوں کو پسند تو نہیں آئے گا لیکن اس ملک کو قانون و آئین کے ٹریک پر لانے کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔