خوش بخت

  • سوموار 07 / اپریل / 2014
  • 5212

۔اسلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔
۔وعلیکم اسلام ۔ آئیے حضرات تشریف لائیے۔
۔ ماشااللہ بڑا خوبصورت قالین بچھا رکھا ہے آپ نے ۔ ہاتھ کا بنا ہؤا لگتا ہے۔
۔ جی بزرگوار ! چند سال قبل جلال آباد جانا ہؤا تھا ۔ وہیں سے خریدا تھا۔
۔ وہاں کے حالات تو کچھ ایسے اچھے نہیں ہیں۔ عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں۔ خیریت تھی ناں۔
۔ جی قبلہ! خیریت تھی۔ دراصل ایک پرانے دوست کی بچی بیوہ ہو گئی تھی۔ اسنے نے سہارے کا اشارہ دیا تو جانا ضروری سمجھا۔ بیچاری کا شوہر چڑھتی جوانی میں شہید ہو گیا تھا۔
۔ سبحان اللہ۔ بلند درجات پا گیا۔ کتنا عرصہ رہے آپ جلال آباد ۔
۔ بس دو دن ہی رہا تھا۔ زوجگان اور بچے بھی ہمراہ تھے۔ اور پیچھے اتنا بڑا کاروبار۔ کوئی اور سنبھالنے والا تھا بھی نہیں۔ آپ تو جانتے ہیں ملازموں پر تو بھروسہ کیا نہیں جا سکتا۔ کتنا ہی کھلائیں پلائیں، موقع پاتے ہی ہاتھ دکھا جاتے ہیں۔
۔ درست فرمایا آپ نے۔ بد نیت اور بے ایمان لوگ۔ خدا سے بھی نہیں ڈرتے۔ تو کیا دو دن میں نمٹا لیئے تھے آپ نے سارے کام۔

۔ جی بزرگوار۔ میں تو بڑا سادہ سا انسان ہوں۔ اور پھر بیوہ کا معاملہ تھا۔ گانے بجانے کی تو ویسے ہی اجازت نہیں ہے۔ بس سادگی سے نکاح پڑھوایا اور رخصتی لے کر اگلے روز ہی واپس لوٹ آیا۔ بچوں کو زیادہ چھٹیاں کروانے کے تو میں حق میں ہوں نہیں۔ تعلیم کا حرج ہوتا ہے۔
۔ اللہ اجر دے گا آپ کو اس نیک کام کا۔ کسی لاچار کو سہارا دینا تو انتہائی لائق تحسین کام ہے۔
۔ ہم کس لائق حضور ! سہارا دینے والی تو اوپر والے کی ذات ہے۔

۔ تو میرے خیال میں اب معاملے کی بات کر لی جائے۔
۔ جی بسم اللہ !
۔ پیغام تو آپ کو حاجی صاحب نے پہنچا ہی دیا ہے۔ اب آپ فرمائیے کیا فیصلہ ہے آپ کا۔
۔ دیکھئے ایسے معاملات میں بات صاف صاف کر لینے کا حکم ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ دختر عزیز اسی جلال آباد والی زوجہ کے بطن سے ہے۔ ماشا اللہ اگلے ماہ پورے نو برس کی ہو جائے گی۔ انتہائی نیک اور فرمانبردار بچی ہے۔
۔ کیوں نہ ہو۔ نیک اور صالح والدین کی اولاد نیک ہی ہوتی ہے۔
۔ بس دعا کریں۔ اس فرض سے سبکدوش ہو جاؤں تو حج کی سعادت حاصل کروں۔ عمرے تو اللہ کے فضل سے چار کر چکا ہوں۔
۔ اللہ تعالیٰ آپ کی یہ آرزو جلد پوری کرے۔

۔ بس آپ کی دعا چاہیئے۔ عرض یہ ہے کہ آپ جیسے صالح بزرگوں سے ملنے کے بعد کوئی سوال کرنا زیب تو نہیں دیتا۔ پھر بھی رسماٌ کچھ اپنے بارے میں فرما دیں تو اور تسلی ہو جائے گی۔
۔ یہ تو آپ کا حق ہے ۔ آخر آپ لڑکی کے والد ہیں۔ دیکھ بھال کر ہی رشتہ طے کریں گے اسکے مستقبل کا سوال ہے۔ اور بحیثیت والد یہ آپ کا فرض بھی ہے
۔ پدری ذمہ داری کا تقاضہ سمجھ لیجئے۔
۔ بہر حال ! فدوی کا دودھ کا کاروبار ہے کراچی میں۔ ایک بھانہ ہے جس میں تیس چالیس بھینسیں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک چھوٹی سی فیکٹری اگر بتیاں بنانے کی ہے۔ مانگ اتنی ہے کہ صرف کراچی کی ہی ضرورت پوری نہیں ہو پاتی۔ ہوٹلوں اور ڈھابوں پر برف سپلائی کرنے کے ٹھیکے بھی ہیں۔ ہے۔ دو وقت کی روٹی عزت سے مل رہی ہے۔

۔ ماشا اللہ! بڑا کرم ہے مالک کا آپ پر۔ ایک وسیع کنبے کی کفالت کرتے ہیں آپ۔
۔ اللہ کے فضل سے گھریلو زندگی بھی پر سکون ہے۔ دونوں زوجاؤں کو الگ الگ گھر لے کر دیئے ہوئے ہیں۔ اللہ نے اولاد کی نعمت سے بھی نواز رکھا ہے۔ چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں گھروں کی ہو چکی ہیں۔ بڑے بیٹے کاروبار میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ چھوٹا ابھی پڑھ رہا ہے۔
۔ ماشا اللہ ! ماشا اللہ۔ ہماری بچی کے لئے بھی یقیناٌ آپ الگ گھر ہی لیں گے۔

۔ سب میں انصاف کرنے کا حکم ہے۔ آپ کی دعا سے خرید رکھا ہے۔ بس گھر والی کا انتظار ہے۔ شادی ہوتے ہی اس میں منتقل ہو جائے گی۔ دراصل عمر کے ساتھ ساتھ اب توجہ کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
۔ کیسی باتیں کرتے ہو میرے عزیز۔ مرد کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے۔ اللہ سلامت رکھے تمہیں اپنے ٹبر پر۔ اور وسعت دے۔
۔ تو پھر معاملہ طے سمجھا جائے۔
۔ تمہاری امانت ہے عزیزی۔ دو بول پڑھواؤ اور لے جاؤ۔

۔ لڑکی سے پوچھ لیا آپ نے۔ شادی کے لئے عورت کی رضا مندی حاصل کرنے کا حکم ہے۔
۔ یہ بھی کوئی ایسی بات ہے۔ ضرور پوچھیں گے۔ انتہائی فرمانبردار اور نیک بچی ہے۔ سمجھتی ہے کہ ہم جو بھی کریں گے اسکے بھلے کے لیئے ہی کریں گے۔ اسکی جانب سے تو بس ہاں سمجھئے۔ پوچھنے کی رسم بھی پوری کر لیں گے۔
۔ تو لیجئے پھر منہ میٹھا کیجئے۔ مبارک ہو۔ یہ کراچی کی مٹھائی ہے۔ دیکھیں کیسا شیرہ ٹپک رہا ہے گلاب جامنوں سے۔
۔ واہ ! سبحان اللہ ۔ عزیزی ایک آدھ کلو ہی کافی تھی۔ تم تو دو ٹوکرے اٹھا لائے۔ کیا ضرورت تھی اس تکلف کی۔ ویسے مٹھائی تو تمہاری منگیتر کی بھی کمزوری ہے۔ دیکھے گی تو بہت خوش ہو گی۔
۔ خوشی کا موقع ہے۔ اس میں تکلف کیسا۔

۔ بیشک بیشک۔ اچھا عزیزی ایک اور بات بھی کرنی تھی۔ پہلی زوجاؤں سے تحریری اجازت لے لی تم نے۔
۔ یہ بھی کوئی بات ہے قبلہ ! صالح بیبیاں ہیں۔ اجازت ہی سمجھیں۔ تحریر بھی لے لیں گے۔دیکھئے کیسے کیسے قانون بنا رکھے ہیں ان نامرادوں نے۔ یہ تو اپنے شعائر کا مذاق اڑانے والی بات ہے۔ خیر امید تو ہے جلد ہی ان کالے قوانین سے نجات مل جائے گی۔

۔ درست کہا تم نے۔ لگتا ہے ابھی تک ہم غیروں کے غلام ہیں۔ جو حکم وہ دیتے ہیں ، ہم مان لیتے ہیں۔ اسی کے مطابق قانون بنا لیتے ہیں۔ جبھی تو اتنے عذاب ہم پر نازل ہو رہے ہیں۔
۔ بس اللہ رحم کرے۔ تو اب اگر آپ مناسب سمجھیں تو تاریخ ذرا جلدی کی دیں۔ دو ایک اور جاننے والے بھی جوان بچیوں کے باپ ہیں ۔ دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔

۔ بس گھر مں بات کر کے تمہیں جلد ہی مطلع کر دیں گے۔ ایک بات تو طے ہے ۔ اس فریضے سے سبکدوش ہو کر ہی حج پر جانے کی سعادت حاصل ہو گی۔ اور اب حج میں ایک دو ماہ ہی تو رہ گئے ہیں۔
۔ بہت خوب۔ آپ جیسے متقی اور پرہیز گارلوگوں سے مل کر ایمان تازہ ہوجا تا ہے۔ بس کراچی پہنچتے ہی میں تمام ضروری کاغذات وغیرہ تیار کروا لیتا ہوں تاکہ بعد میں اس پر وقت ضائع نہ ہو۔

۔ بہت مناسب رہے گا۔ اچھا مغرب کی اذان ہو رہی ہے ۔ نماز پڑھ لیں۔ پھر کھانا کھاتے ہیں۔
جی بسم اللہ۔ اور ہاں یاد آیا ۔ کاغذات میں نام پتہ کیا لکھا جا ئے گا۔ یہ تو بتایا ہی نہیں آپ نے۔
۔ ہاں ہاں لکھو۔۔۔
خوش بخت بی بی۔ سکنہ خوش بخت پورہ۔ ضلع خوش بخت آباد ۔ خوشبختستان۔