تاریخ کے جبر کا شکار ریاست

  • منگل 08 / اپریل / 2014
  • 4782

نِکولو میکاولی نے ، جویورپ میں امورِ سیاست و ریاست کا ولی گردانا جاتا ہے ، اب قصّہ ء پارینہ بن چکا ہے ، لیکن پندھرویں صدی کا یہ سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنی مشہورِ زمانہ یا بدنامِ زمانہ کتاب " دی پرنس " کی وجہ سے لائیبریریوں کے قبرستانوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد مثال نہیں بلکہ ہمارے بّرِ صغیر میں اس کی ایک زندہ و تابندہ مثال موریہ عہد کے سیاستدان چانکیہ کی صورت میں دستیاب رہی ہے ۔

میکیاولی نے ریاستوں کو دو قسموں یعنی بادشاہت اور جمہوریہ میں تقسیم کیا تھا ۔ کیا میرا سابق وطن پاکستان ، ان دونوں قسموں میں سے کسی ایک کی ذیل میں آتا ہے ؟ شاید ہاں ، مگر نہیں ۔
یہ جمہوریت ضرور ہے مگر مخلوط جمہوریت یا عسکری جمہوریت ۔ یہ ریاست میکیاولی کے ہاں اُن ریاستوں کی ذیل میں آتی ہے جن پر مجرمانہ اقدامات سے قبضہ کر کے اُس کے مالکانہ حقوق حاصل کیے جاتے ہیں۔ میکیاولی کی زبان میں اس کی تعریف یہ ہے :
STATE WON BY CRIME

اس کی تفصیل میکیاولی کی زبانی سنیے :
" اگاتھوکلیس ، سسلی کا رہنے والا تھا ۔ وہ ایک عام شہری تھا ۔ نچلے سے بھی نچلے طبقے کا شہری جو سیراکیوز کا بادشاہ بن گیا ۔ وہ ایک کمہار کے گھر میں پیدا ہوا ۔ اُس کی ابتدائی زندگی محرومیوں اور سختیوں کا ملغوبہ تھی ۔ لیکن اس غربت کے باوجود وہ اعلیٰ جسمانی اور ذہنی صلا حیتوں کا حامل تھا جو سیراکیوز کی فوج میں بھرتی ہوگیا ۔ وہ تیزی سے فوجی عہدوں پر ترقی کرتا فوج کا سپہ سالار بن گیا ۔ جب اُس نے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا تو اُس نے بادشاہ بننے کی ٹھان لی ، خواہ اُسے کسی دوسرے کا مرہونِ منّت ہوکر تشدد اور جبر کے راستے سے ہی کیوں نہ گزرنا پڑے ۔ اُس نے اپنے ارادے کا اظہار ہیمیکلار سے کیا جو کارتھیجی تھا اور سسلی میں جنگی مورچے پر تھا ۔ معاملہ طے پا جانے کے بعد اُس نے اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس طلب کیا ۔ گویا وہ کسی اہم معاملے سے اہلِ اقتدارکو آگاہ کرنا چاہتا ہو اور پہلے سے طے شدہ کاشن پر اُس کے سپاہی آگے بڑھے اور سب عمائدینِ مملکت اور حکمرانوں کو چن چن کر قتل کر دیا اور پھر وہ کسی بھی عوامی مزاحمت کے بغیر بادشاہ بن گیا ۔"

میکیاولی کی یہ کہانی مجھے ایوب خان کی یاد دلاتی ہے جس نے تمام سیاستدانوں کو ایبڈو کے قانون کے تحت نا اہل قرار دیا اور اُن پر ایک معینہ مُدت کے لیے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی اور پھر وہ صدر بن گیا اور تب تک رہا جب تک کہ حالات اُس کے حق میں سازگار رہے ۔ لیکن جاتے جاتے وہ ملک کو پھر مارشل لاء کے حوالے کر گیا ۔ اور پھر یہ فوجی مداخلت ایک پاکستانی روایت بن گئی کہ مارشل لا ، اُس کے بعد مارشل لاء کے پروردہ سیاسی سویلین اور پھر مارشل لا ء اور اس طرح چھیاسٹھ سال میں سے تقریباً انتالیس سال اسی روایت کی نذر ہو گئے ۔

اب اس فوجی اور سویلین سیاسی پریڈ میں پھر سے سویلین کی باری ہے اوریہ سویلین بھی فوج ہی کے چنیدہ اور پروردہ ہیں ۔ ایسے میں پاکستانی ریاست کے طرزِ حکومت کا سوال اُٹھانا غیر ضروری لگتا ہے۔ کیونکہ طرزِ حکومت اُس وقت ترجیح بنتی ہے جب یہ طے ہوجائے کہ ملک کے اصل حکمران فوجی ہیں یا سویلین ۔ کون جانتا ہے کہ کل کیا ہو ۔ یہ درست ہے کہ جنرل راحیل شریف موجودہ حکمرانوں کی ترجیح ہیں مگر یہ اُسی طرح ہے جیسے ضیاء الحق ، ذوالفقار علی بھٹو کا ترجیحی انتخاب تھے ۔

ملک میں کوئی ملی اور قومی وحدت عملاً موجود نہیں ہے ۔ لوگ پٹھان ، سندھی ، مہاجر ، پنجابی اور بلوچ میں تقسیم ہیں ۔ نفرتیں ملک کے گلی کوچوں میں ننگی ناچ رہی ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ ملک کو طالبانی خطرات نے اندر سے ، اور امریکہ ، افغانستان اور بھارت نے باہر سے شدید دباؤ میں رکھا ہؤا ہے ۔

اِس سنگین اور المناک صورتِ حال میں ایک نو خیز سیاسی آواز نے ہلچل مچا دی ہے ۔ وہ آواز ہے بلاول زرداری بھٹو کی ۔ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کا بیٹا جو ایک طرف طالبان کو للکار رہا ہے اور دوسری طرف وفاق کے موجودہ پنجابی وزیرِ اعظم اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کو سخت اور تند لہجے میں مخاطب کر رہا ہے ۔

بلاول بھٹو پاکستان کے حکمران خاندانوں کی اُس نئی نسل کا نمائندہ ہے جس میں اُس کے مدِ مقابل نواز شریف کی بیٹی مریم نواز، شہباز شریف کا بیٹا حمزہ ،گجرات کے نت خاندان کا چودھری مونس الہٰی اور علامہ طاہر القادری کے بیٹے محی الدین قادری شامل ہیں ۔ ان سب کا نصب العین اور منزل اقتدار ہے۔ لیکن ان کا حریف جی ایچ کیو بھی اپنے نئے جرنیلوں کی قیادت میں ان کے تعاقب میں کسی شکرے کی طرح پرواز کر رہا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ پر پیچ اور پر تشدد سیاسی فضا میں جب معاشرہ شدید بد امنی ، لاقانونیت اور جرائم پیشگی کی چکی میں پِس رہا ہے ، بلاول بھٹّو زرداری کسی ایسی قومی شخصیت کے طور پر سامنے آ سکے گا،  جو " چاروں صوبوں کی زنجیر " کے نعرے سے آگے کا کوئی کرشمہ ہو ۔ کوئی کرزما ہو ۔

لوگ اس سلسلے میں بہت کچھ کہہ رہے ہیں ۔ کچھ مبصروں اور کالم کاروں کو بلاول میں اُس کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی شبیہ نظر آتی ہے۔ کیونکہ بلاول پڑھے لکھے اور ذہین ہیں اور اوپرے انداز میں اردو بولتے ہیں اور نسبتاً دلیر بھی لگتے ہیں۔  ممکن ہے ایسا ہو ۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں وہ ملکی سیاست میں کوئی اہم یا فیصلہ کن کردار ادا کر سکیں۔ مگر سرِ دست تو ایسا نہیں لگتا ۔ اس وقت تو پوری قوم کو سکول کے بنچ پر بیٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو نئی نسل میں سے ایسے ذہین افراد کی کھیپ میسر آ سکے جو اس ملک کی بے ڈھنگی چال کو کوئی ڈھنگ دے سکیں ۔ کیونکہ کوئی ایک بلاول یہ کام نہیں کر سکتا ۔ جس طرح یہ نعرہ وضع کیا گیا تھا کہ " ہر گھر سے بھٹو نکلے گا" ، اسی نعرے کی عملی صورت یہ ہوگی کہ :
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

بلاول بھٹو زرداری نوجوان آدمی ہیں ۔ نا تجربہ کار ہیں ۔ وہ ایک تو وزیرِ اعظم کے نواسے ، دوسری وزیر اعظم کی کوکھ کے جنمے اوراس پر طرہ یہ کہ اقتدار کی مدت پوری کرنے والے کامیاب سویلین صدر کے بیٹے ہیں۔ جو مونہہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے ۔ وہ غربت اور محرومی کے دکھ کا عملی تجربہ نہیں رکھتے۔ اور نہ ہی سیاسی گھرانوں میں ایسی روایت موجود ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو عوام کے مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے انہیں تجربات کی بھٹی میں جھونک کر انہیں کندن بنانے کے لیے کوئی پروگرام وضع کرتے ہوں۔ ایسے نوجوانوں کو لیڈر مان کر اُن کے پیچھے چل پڑنا ایک قسم کا جؤا ہے کہ اُس کا حاصل یا تو پو بارہ ہے یا پھر تین کانے ۔

میں پیپلز پارٹی کے حق میں مایوسی پر مبنی خیالات نہیں بُن رہا ، مگر میں اس کے خلاف ہوں کہ سیاسی گھرانوں کی اندھا دھند پیروی کی جائے اور اُن کے حقِ اقتدار کو آسمانی حق سمجھ لیا جائے۔

پاکستان اس عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ اُس کو سیاسی طالع آزماؤں کے لیے مختلف سیاسی نظاموں کی آزمائشی تجربہ گاہ بنا دیا جائے ۔ یہ اٹھارہ کروڑ عوام کا ملک ہے ۔ ہر فرد اپنے ساتھ اپنے آسمانی حقوق لے کر پیدا  ہؤا ہے جو اُس کے بنیادی انسانی حقوق ہیں ۔ اور ان حقوق کی فراہمی اور تحفظ حکمرانوں کا بنیادی وظیفہ اور فرض ہے اور جو حکمران یہ فرض ادا نہیں کرتے وہ حکمران نہیں لُٹیرے ہوتے ہیں ۔ اور ایوانِ اقتدار ہر شہری کی جان مال اور عزت و آبرو کا محافظ ہوتا ہے۔  چنانچہ ہرحکمران کو عملاً یہ شہادت مہیا کرنی ہے کہ وہ حکمران ہے لُٹیرا نہیں ۔ مگر۔۔۔
اے بسا ارزو کہ خاک شدہ