مارشل لاء کی تلوار

  • سوموار 14 / اپریل / 2014
  • 4234

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں اداروں کے درمیان سرد جنگ کی تاریخ بہت پرانی اور عرصہ دراز سے چل رہی ہے۔ جو کبھی کبھی زیادہ شدت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کا واضح اشارہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس میں نظر آیا جب انہوں نے کہا کہ فوج اور جمہوری حکومت میں بے مثال تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان کے سیاسی اور جہوری نظام پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ایسا بیان اسی وقت سامنے آتا ہے جب دال میں کچھ کالا ہو۔

اتوار کے روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی پر سیاست نہ کی جائے اور دوسری ہی سانس میں غیر جمہوری عناصر کے ساتھ ساتھ شاید خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ سول ملٹری تعلقات کو اتنا مثبت اور مضبوط پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ جمہوری حکومت کے جنرل راحیل سے خوشگوار رابطے ہیں۔ فوج کی طرف سے ہر معاملے پر سو فیصد سپورٹ ملی ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق فوج کی سپورٹ نہ ہوتی تو اتنا فاصلہ طے کر کے نہ آتے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ آرمی چیف اور وزراء کے بیانات سے تعلقات میں بدمزگی آ گئی جسے جلد ٹھیک کر لیا جائے گا۔ اس بیان سے واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی اختلاف ہے جسے دور کرنے کی بات کی گئی اور جب فوج سے تعلقات ٹھیک نہ ہوں تو پاکستان میں نظام چلنے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی اور یہی سوچ کر چوہدری نثار بھی وضاحت دینے میدان میں اترے ہیں۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ حکومت اور فوج مل کر مذاکراتی عمل آگے بڑھا رہے ہیں۔ دونوں ایک ہی صفحہ پر ہیں۔ دونوں کی رائے میں اختلاف ہو سکتا ہے پالیسی میں نہیں۔ بہت سارے گروپس اور طاقتیں مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے فروٹ منڈی دھماکے کی مذمت کی ہے اور فروٹ منڈی دھماکے کو غیراسلامی اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔ طالبان سے مذاکرات میں ڈیڈلاک نہیں ہے اور قبائلی علاقوں میں زیادہ تر قیدی ان اداروں کے پاس ہیں جو فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ فوج کو اعتماد میں لئے بغیر کسی قیدی کی رہائی ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیرداخلہ کی اس پریس کانفرنس نے نان ایشو کو ایشو بنانے والے حلقوں کی جانب سے پیدا کئے گئے شکوک و شبہات کو زائل کرنے کی بجائے انہیں مزید تقویت دی ہے۔

فوج اور حکومت کے مابین دوریاں پیدا ہونے سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اسے کسی طور خوش کن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس تاثر کو جلد از جلد ختم ہونا چاہئے۔ قوم توقع رکھتی ہے کہ عسکری اور حکومتی قیادت بیان بازی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی تلخی کو بلاتاخیر ختم کر دے گی تا کہ وطن عزیز پر اس کے مزید منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

جہاں تک وزیرداخلہ کے بیان کے اس حصے کا تعلق ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہؤا، اس پر دو رائے برقرار ہیں۔ ہر امن دوست اور وطن دوست شہری کی خواہش ہے کہ پاکستان میں داخلی امن کی بہار ایک مرتبہ پھر لوٹ آئے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قبائلی علاقوں میں تصادم اور لڑائی کی کوکھ سے جنم لینے والے خون خرابے نے ملکی حالات کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ اقتصادی ترقی رکی ہوئی ہے۔ عوام کو امن نصیب نہیں اور دنیا بھر میں ملک کا ایک منفی تاثر ابھرا ہے ۔ تاہم اگر مذاکرات میں ڈیڈ لاک نہیں اور تمام امور خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں تو پھر آئے روز بم دھماکے کون کر رہا ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے حکومتی عمال بہت ساری کہانیاں سنا سکتے ہیں اور سنا رہے ہیں۔

پاکستانی قیادت کو طالبان سے مذاکرات اور ان کے ساتھ تعلقات کے ساتھ سابق صدر پرویز مشرف کیس کی شکل میں بھی ایک بڑے چیلنج کا سامنا  ہے۔ سبی اور اسلام آباد میں ہونے والی بدترین دہشت گردی اور کراچی میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے الم ناک واقعات پاکستان کے حالات کی جوخوفناک تصویر پیش کر رہے ہیں اس کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ ان تمام واقعات میں وہی طاقتیں ملوث ہیں جو اس سے قبل دہشتگردی کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں حکومتی وزراء کا فوج کے خلاف محاذ کھولنا افسوسناک ہے اور اس حکومت کی ترجیحات کا اندازہ لگانے والوں کو اب کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ عوام کے سلگتے مسائل کو حل کرنے میں کسی کو بھی دلچسپی نہیں ہے ۔ مسائل کے حل کے لئے واضح اور ٹھوس حکمت عملی کا فقدان اور عوام سے عدم دلچسپی ہی فوجی مداخلت کا راستہ ہموار کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی فوج اقتدار پر قبضہ کرتی ہے تو اسے کہیں سے بھی عوامی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

اگر جمہوری حکومت عوامی مسائل کے حل اور دہشت گردی کے خاتمہ کے ایجنڈے پر یکسو ہو کر ٹھوس اقدامات کرے تو کوئی شک نہیں کہ تمام مسائل حل ہونے کے ساتھ ساتھ اسے عوامی پذیرائی بھی ملے گی اور یہی پذیرائی فوجی مداخلت کا راستہ روک سکتی ہے ورنہ مارشل لاء کا خطرہ ایک ننگی تلوار کی طرح سروں پر لٹکتا ہی رہے گا۔