مجید امجد.....ایک منفرد آواز

  • جمعرات 17 / اپریل / 2014
  • 11083

خواجہ رضی حیدر کی ترتیب و تدوین کردہ کتاب ’’ مجید امجد...ایک منفرد آواز‘‘ کو سورتی اکادمی کراچی نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں سوانحی مطالعہ کے عنوان سے دس مضامین، نظموں کاتجزیاتی مطالعہ کے عنوان کے تحت سترہ مضامین، مجید امجد غزل کا شاعر کے عنوان سے تین مضمون، مجید امجد--مکتوبات کے آئینے میں ، کے عنوان سے چھ مضامین اور ’’مجید امجد-- روشنیوں کے ابد میں(چند منتخب نظمیں)‘‘ کے عنوان سے پندرہ نظمیں شاملِ  ہیں۔

کسی کتاب کے حسن و قبح کے  بارے میں ایک تو اس کی ظاہری شکل و صورت پر بات کی جا سکتی ہے، یہ کہ امپوٹیڈ پیپر، آفسٹ چھپائی، مجّلد اور ٹائٹل خوبصورت ہے۔ اگر کسی کتاب کو معیاری قرار دیا جانا ہے تو بے شک مذکورہ خوبیوں کے بغیر کوئی کتاب معیاری نہیں ہو سکتی۔ مگر محض ان خوبیوں کے بل بوتے پر کتاب معیاری نہیں ہو سکتی۔ کتاب کی دوسری خوبی اس کا اغلاط سے پاک ہونا بھی ہے۔ تحریر یعنی اِملا، زبان یعنی گرائمر کی غلطیاں فی زمانہ کچھ در خورِ اعتنا نہیں رہیں۔ اخبار سب سے زیادہ شائع ہونے والی اشاعت ہے ۔ بلا تخصیص اردو یا انگریزی، کوئی بھی اخبار غلطیوں سے پاک شائع نہیں ہوتا۔ اور اب تو اِملا (spelling) اور گرائمر کی غلطی پر کوئی کم ہی ناک بھوں چڑھاتا ہو گا۔

اردو زبان میں ہونے والی اشاعتوں میں اس نوع کی غلطیوں پر بد مزہ ہونے والے بڈّھے بڈّھیاں ویسے بھی اب کم کم ہیں اور جو ہیں بھی تو اُن کی سُنتا کون ہے ۔ پروف ریڈر زبان و ادب کی پرورش کی خاطر یہ کام کم اور ناف سے اوپر کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر اسے بطور روزگار اپنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ یہ کوئی بہت سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا جاتا کہ ’اور بھی غم ہیں زمانے میں‘۔ اشاعت کی انگریزی زبان کے بگڑنے کا معا ملہ قابلِ فہم ہے۔ ہم برطانیہ کی کالونی رہے ہیں۔ برٹش انگلش انگریزوں ہی کی طرح پُر تکلف ہے۔ امریکہ کے سیاست اوراکانومی میں بڑھنے والے اس خطے میں اثرنفوذ نے امریکنوں کے مزاج کی طرح زبان کو بھی بگاڑا اور پھر انٹر نیٹ اور موبائل فون کی ایجاد نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔

بات کتاب کے حُسن و قبح کی ہو رہی تھی سو ظاہری شکل و صورت کے ساتھ ساتھ موضوع اور اس کی پیشکش پر توجہ دی جانا انتہائی ضروری ہے۔ ’ مجید امجد.....ایک منفرد آواز ‘ میں شامل مضامین شاعر موصوف کی شخصیت اور شاعری کے فنی محاسن ، موضوعاتِ شعر، ندرتِ خیال، تراکیب اور لفظوں کے اچھوتے استعمال وغیرہ کا احاطہ کرتے اور اُس زمانے ماحول اور فضا میں لے جاتے ہیں جسے nostalgiaکہتے ہیں۔ جیسے ’’اب اُن گلی محلوں میں فرنیچر مارکیٹ بن چکی ہے جہاں سانس لیں تو لکڑی کا بورا آپ کی روح میں سما جاتا ہے... پاس ہی سُکھ چین والی گلی میں ....اس کی ماں جو سب کی اماں تھی، ایک شعری تبرّی مرسل کرتیں...یہ محفلیں باقاعدگی سے کیفے ڈی روز، جی ایم ڈین کے گھر یا پروفیسر راجہ عبد ا لقادر کے ہاں منعقد ہوتیں(مضمون:موسمِ عشق جو آیا تو۔امین رضا)۔

ان کا دفتر پرانی سول لائنز بھنڈاری چوک کے قریب ایک بہت بڑی کوٹھی کے ایک حصے میں واقع تھا...لاہور میں ایک پاک ٹی ہاؤس اور ایک کافی ہاؤس تھا۔ ساہیوال میں کیفے ڈی روز اور سٹیڈیم ہوٹل تھا(مضمون: مجید امجد۔عسکری حسن ایڈووکیٹ)، اوکاڑہ شہر میں اسٹیشن کے قریب Venusسینما تھا...اوکاڑہ اسٹیشن کی سیڑھیوں کے پاس ایک دُکان سے میں مختلف رسائل...امجد صاحب اپنی بیٹھک میں پلنگ پر نیم دراز ہوتے اور میں کرسی پر بیٹھتا پھر وہ اپنے پلنگ کی پرچھتی پر سے ہاتھ بڑھا کر ایک لیدر کے اٹیچی کیس سے گولڈ فلیک کی ییلو رنگ کی ڈبی نکال کر...میں اکثر اُن کے باغیچے میں سفید گُلاب اور موتیے کے پھُول دیکھتا تھا...بابا جوگی نے اسٹیڈیم ہوٹل کے بیرونی ہال کے ساتھ چھوٹی سی ایکسٹنشن بنائی ہوئی تھی وہاں ایک لمبی میز اور کُرسیاں تھیں ہم اکثر وہاں بیٹھ جاتے تھے ....(مضمون: مجید امجد کی یادیں- مظہر ترمذی)

’’ مجید امجد.....ایک منفرد آواز‘‘ جس کتاب کا نام ہے وہ اپنے ظاہری محاسن کے ساتھ ایسے مضامین کا مجموعہ ہے جو امجد صاحب کی شخصیت اور شاعری پر مستند ناقدین نے ان کی زندگی میں اورزندگی کے بعدلکھے۔ کچھ مضامین خاص طور پر اسی کتاب کیلئے لکھے گئے ہیں ۔ ان تمام مضامین کوزیرِ نظر کتاب کی شکل دینا بکھرے موتیوں کو ہار میں پرونے کے مترادف ہے۔ ایسے نابغہٗ روز گار لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کے کام کی تعبیر و تشریح میں بھی صدیاں نہیں تو عشرے ضرور درکار ہیں۔ مجید امجد بھی بلا شبہ ایسے ہی شاعر تھے جو دنیا و مافیہا سے بے نیاز ’خود نگر و تنہا‘ انسان کی محرومیوں اور ان محرومیوں کے اسباب کو اپنی شاعری میں وا کرتے رہے ، کائنات کے اسرار و رموز کے پردے چاک کرتے رہے اور اپنی سائیکل کے ساتھ خراماں خراماں چلتے اس جہانِ فانی سے چلے گئے۔ امجد کے شیدائیوں اور ناقدین نے ان کی شاعری کو کیسا پایا، اس کی چند ایک جھلکیاں دیکھیں:

ڈاکٹر انور سدید اپنے مضمون ’مجید امجد...خرقہ پوش و پا بہ گل‘ میں لکھتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ مجید امجد نہ تو خالصتاً ترقی پسند تھے اور نہ جدیدیت کے اندھادھند مخالف ان کی شاعری کا پیکر رنگوں، روشنیوں، پھُولوں، نغموں اور پھلوں کے لطیف عناصر سے مرتب ہؤا ہے۔ یہ غبار رنگ میں رس گھولتی ہوئی کرن ہے جو گرفتِ سنگ میں بَل کھاتی ہے تو ایک سحرِ نظر پیدا کر دیتی ہے۔ یہ دل کے برج پر فاصلوں سے اُترتا ہوا عکسِ جمیل ہے۔ یہ دستِ خیال میں جست بھرتا ہوا غزالِ زمانہ رقص ہے۔ یہ دوریوں کے سیلِ رواں پر تیرتا ہؤا برگِ نامہ بر ہے۔ یہ دیارِ شب کے اندھیرے میں ڈولتی ہوئی بانسری کی لے ہے۔ اس لَے میں کئی زمانے آ کر ایک نقطے پر مل جاتے ہیں اور پھر اُس حس کو بیدار کردیتے ہیں جو حواسِ خمسہ کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہے اور درُونِ دل جذبات کی دنیا میں اور بیرونِ نظر کائنات میں ادغام پیدا کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ چنانچہ مجید امجد وہ شاعر ہے جسے زمانہ اپنی گرفت میں نہیں لے سکتا بلکہ جسے دریافت کرکے زمانہ خود اپنا مزاج مرتّب کرتا ہے‘‘۔

ڈاکٹر غلام شبیر رانا اپنے مضمون ’مجید امجد: ہے جس کے لمس میں ٹھنڈک ، وہ گرم لَو ترا غم‘ میں ایک جگہ یوں رقم طراز ہیں: ’’ مجید امجد کی ادارت میں مجلّہ ’عروج‘ نے بہت ترقی کی اور اس کی اشاعت میں بھی بہت اضافہ ہؤا۔ اس مجلّے کی مقبولیت کا سبب یہ تھا کہ اس میں مجید امجد نے تجزیاتی اور تنقیدی مضامین، ادب پارے، حالات حاضرہ کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کی سعی کو اپنا نصب ا لعین بنایا۔ خاص طور پر جلیاں والا باغ، موپلوں کی جدوجہد، بھگت سنگھ کے جذبۂ آزادی، حادثہ مچھلی بازار کان پور جیسے موضوعات پر ’عروج‘ میں نظم و نثر کی جو تخلیقات شامل اشاعت ہوئیں۔ ان سے جبر کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہو گیا۔‘‘

اس مضمون میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’مجید امجد کی نظم گوئی ایک کُھلا ہؤا امکان ہے اس کے سوتے بے لوث محبت اور بے باک صداقت سے پھوٹتے ہیں۔ ان کی شاعری دورِ غلامی سے لے کر طلوعِ صُبح آزادی تک کی مسافت کی تمام راہوں کی آئینہ دار ہے۔ تخلیقِ فن کی یہ مسافت ایک درخشاں عہد کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مجید امجد نے اپنے ذاتی تجربات ، احساسات اور مشاہدات کو ایک ذاتی تحریک کے اعجاز سے حدود زمان و مکاں سے آگے پہنچانے کی سعی کی ہے۔ یہ لہجہ مقامی نہیں بلکہ ایک آفاقی نوعیت کا حامل دکھائی دیتا ہے‘‘۔

’دنیا جُڑی تُڑی سچائی‘ اس کتاب میں شامل ڈاکٹر منظور اعجاز کا مختصر مضمون ہے۔ ایک جگہ انہوں نے مجید امجد کی شاعری کا فیض اور راشد سے موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ فیض اور راشد کے مقابلے میں مجید امجد اس لئے منفرد تھے کہ انہوں نے بہت ہی کم فارسی تراکیب مستعار لیں جو فیض اور راشد کا طرہ امتیاز ہے۔ مجید امجد اپنے گِرد بسی ٹھوس دنیا کے ذاتی تجربے سے شاعری تخلیق کرتے تھے ‘‘۔

اس کتاب میں جتنے بھی مضامین امجد صاحب کی شاعری اور ان کی زندگی و شخصیت کے بارے میں لکھے گئے ہیں ان کے مطالعے سے قاری مجید امجد کی شاعری کو از سرنو پڑھ کر شاعری کی نئے مفہوم اور نئی جہتوں سے آشنا ہوتا ہے۔

مجید امجد کے انتقال پر اپنے ایک مضمون میں احمد ندیم قاسمی صاحب نے کچھ یوں لکھا تھا کہ امجد دنیا میں آئے شاعری کی اور چلے گئے۔ ان کی شاعری کو سمجھنے کیلئے شاید مزید پچاس سال درکا ر ہونگے۔ اور اُن کی یہ بات اس اضافے کے ساتھ اور بھی سچ لگتی ہے کہ ابھی بھی امجد کی شاعری کو سمجھنے کیلئے اور وقت درکار ہے۔ اس لئے ’مجید امجد: ایک منفرد آواز‘ ایک قابلِ تقلید کوشش ہے۔ یہ کتاب اہلِ نظر کی ذاتی لائبریری کی زینت میں ایک قیمتی اور خوبصورت اضافہ بننے کے لائق ہے۔ مجید امجد نے اپنے بارے میں ایک نظم آٹو گراف میں کہا ہے:
میں اجنبی میں بے نشاں
میں پا بہ گِل!
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل۔۔۔۔۔ یہ لوحِ دل!
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے