اصل مسئلہ
- جمعہ 18 / اپریل / 2014
- 4424
تو بھائی اصل مسئلہ یہی ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کر دیا ہے۔ دوسرے دانشور نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ایک آہ بھر ی اور انگڑائی لیتے ہوئے انگشت شہادت ماتھے پر اور انگوٹھا گال سے ٹکا کر یوں بیٹھ گیا جیسے علامہ اقبال ابھی ابھی بال جبریل مکمل کرنے کے بعد کچھ سوچنے لگے ہوں۔
تیسرے دانشور نے جو کسی گہری سوچ میں گم تھا اور تقریباٌ نصف گھنٹے سے جاری دوسرے دانشور کی عالمانہ گفتگو سننے سے پرہیز کررہا تھا، سگریٹ کا ایک لمبا کش لیتے ہوئے پہلے دانشور سے جو اس محفل کا میزبان بھی تھا ، کافی پینے کی خواہش کا اظہار کیا اور دوسرے دانشور کی ان سنی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے بولا :
میرے عزیز دوست نے اگرچہ نہایت ایمانداری سے ساری صورتحال کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انکے دلائل کی بنیاد وہ ناقص معلومات ہیں جنہیں دانستاٌ بھولے بھالے ذہنوں میں اتار تے ہوئے وہ مفاد پرست عناصرکے لادینی سیکیولر ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وجہ ظاہر ہے۔ یہ لوگ اپنی مرضی کی تاریخ گھڑ کر اسے زبردستی ہمارے حلق سے نیچے اتارنا چاہتے ہیں۔ اب اصل حقیقت میں آپ کو بتاتا ہوں۔
پھر جب وہ تقریباٌ ساڑھے انتیس منٹ تک اصل حقیقت بیان کر چکا تو دوسرے دانشور نے جواب دینے کا استحقاق طلب کیا اور اجازت ملنے سے قبل ہی تیسرے دانشور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا:
پہلے تو یہ بتائیے کہ میری کس دلیل کے جواب میں آپ یہ ساری باتیں کر رہے ہیں۔ مان لیجئے کہ آپ میری بات سمجھے ہی نہیں۔ یا شاید آپ نے میری بات سنی ہی نہیں۔
تیسرا دانشور طیش میں آتے ہوئے بولا:
آپ کی فضول باتیں سننے کے لئے میرے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہے۔اور پھر ایسی بے سرو پاباتیں کوئی سنے بھی کیوں۔
دوسرا دانشور تقریباٌ چلاتے ہوئے بولا:
تو اگر آپ نے بات سنی ہی نہیں تو یہ جو آدھے گھنٹے سے ٹر ٹر آپ کر رہے ہیں اس کی بنیاد کیا ہے۔ پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا۔
اصل مسئلہ یہ ہے آپ نے دو چار نظریئے گھڑ رکھے ہیں اور اگر کوئی دلیل اس نظریئے کے خلاف جاتی ہے تو آپ برداشت کر نہیں سکتے۔ بس ایسا صرف فاشسٹ ہی کرتے ہیں۔
تیسرا دانشور بھناتے ہوئے بولا:
آپ مجھے فاشسٹ کہہ رہے ہیں۔ دیکھا صاحبان آپ نے ۔ یہ لا دین سیکیولر مجھے فاشسٹ کہتا ہے۔ حالانکہ انہی لوگوں کے لئے ہم لبرل فاشسٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
دوسرا دانشور پلٹ کر بولا:
جی بالکل۔ ہماری کیا حیثیت ہے ۔ آپ تو بڑے بڑوں کو یہ لقب عنایت کر چکے ہیں۔
تیسرا دانشور منہ سے جھاگ اڑاتا ہوا بولا:
اور آپ لوگ جو ہر شریف آدمی کو انتہا پسند اور تنگ نظر کہنے پر مصر رہتے ہیں۔ کیا جواز ہے اسکا۔
ایسے میں چوتھی دانشور جو مسلسل اپنے موبائل پر کسی سے میسج کا تبادلہ کر رہی تھیں، گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے بولیں:
میرے خیال میں آپ دونوں حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ جس مسئلے کی بات آپ کر رہے ہیں در حقیقت وہ مسئلہ کوئی اتنا اہم نہیں ہے۔ اصل مسئلہ میں آپ کو بتاتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں عوام کو اصل مسئلے سے آگاہ کرنا ہماری قومی ذمہ داری کا تقاضہ ہے۔
اب تیسرا دانشورمداخلت کرتے ہوئے بولا۔
بی بی آپ کیا بتائیں گی۔آپ وہی کیجئے جو آپ کرسکتی ہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے تجریدی آرٹ کے نام پر الٹی سیدھی تصویرں بنائیے اور این جی اوز سے پیسے بٹورکر اپنی جیب میں ڈالئیے۔ آپ کا اس ملک کے غریب عوام سے کیا لینا دینا۔ہ م تو عوام میں رہتے ہیں اور اصل مسئلے کا ادراک ہم سے زیادہ کس کو ہو سکتا ہے۔۔ لیجئے میں آپ کو بتاتا ہوں اصل مسئلہ ہے کیا۔۔
چوتھی دانشور انکی بات کاٹتے ہوئے تلملاتے ہوئے بولیں:
آپ بتائیں گے اصل مسئلہ کیا ہے!! حیرت ہے !! آپ جو شاعری کے نام پر بے سرو پا نظمیں لکھ کر لوگوں کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں اور دانشور کہلاتے ہیں۔ آپ کیا جانیں اصل مسئلہ کیا ہے۔ مسئلے پر روشنی ڈالنے سے پہلے حجامت تو کروا لیجئے۔ اتنا جھاڑ جھنکار سر پر لئیے گھومتے ہیں۔
تیسرا دانشور بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پہلے تو طنزاٌ مسکرایا۔ پھر آنکھوں سے شعلے برساتے ہوئے بولا:
میرے بال تو میرے اپنے ہی ہیں۔ یہ جو آپ مصنوئی پلکیں لگائے گھومتی ہیں، غزال نظر آنے کیلئے اور چہرہ میک اپ کی دبیز تہوں میں چھپائے رکھتی ہیں اسکے بارے میں کیا خیال ہے۔ کیوں نہ آپ کا اصل چہرہ عوام کو دکھا ہی دیا جائے۔
اب پہلے دانشور نے جو اس محفل کا میزبان بھی تھااور تیسرے اور چوتھی دانشور کی تلخ گفتگو پر دوسرے دانشور کولطف اندوز ہوتے دیکھ کر کھول رہا تھا، قدرے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مداخلت کی:
بھئی دیکھئے خاتون و حضرات جب اتنے اہم موضوع پر بحث ہو رہی ہو تو اس میں ذاتیات پر بات نہیں کرنی چاہیئے۔ ماشااللہ ہم سب مہذب لوگ ہیں لہٰذاہ ہمیں بات بھی تہذیب کے دائرے میں رہ کر کرنی چاہیئے۔اصل مسئلہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ لیکن چونکہ کھانے کاوقت ہو رہا ہے لہٰذاہ کیوں نہ پہلے کھانا کھا لیا جائے اور باقی گفتگو کھانے کی میز پر ہی جاری رکھی جائے۔
سبھی دانشوروں نے اس تجویز پر اتفاق کیا۔ ایسے میں دوسرے دانشور کو کچھ خیال آیا۔آہستگی سے بولا۔
بھائی آپ نے ناحق بھابی کو زحمت دی۔ انہیں کھانا بنانے پر لگا دیا۔
چوتھی دانشور بھی ہمدردی جتاتے ہوئے گویا ہوئیں:
ہاں یہی تو ہمارے سماج کا المیہ ہے۔ بجائے اسکے کہ انہیں قومی ترقی کے کاموں میں آگے لایا جائے بس بچے جننے اور کھانے بنانے پر لگا دیا جاتا ہے۔
تیسرا دانشور چڑتے ہوئے بولا۔
دیکھی آپ نے لبرل فاشسٹ سوچ۔ انہیں ہماری کسی روایت میں کوئی مثبت پہلودکھائی دیتا ہی نہیں۔
اس سے پہلے کہ چوتھی دانشور دوبارہ منہ کھولتی، پہلا دانشور جو کہ میزبان بھی تھا، بات ختم کرتے ہوئے بولا:
ارے نہیں نہیں!! بیگم تو سرکاری کام کے سلسلے میں دورے پر ہیں۔ ایف۔بی۔آر کی ملازمت میں اتنا وقت ہی کہاں ملتا ہے کہ وہ کھانے بنا سکیں۔ ماشااللہ نوکر چاکر خانسامے سبھی موجود ہیں گھر میں۔ لیکن کھانا آج ہم باہر اس نئے ریستوران میں کھائیں گے جس کا ذکر میں پہلے کر رہا تھا۔
تیسرا دانشور خوش ہوتے ہوئے بولا۔
کیا بات ہے اسکے کھانے کی۔ چند روز پہلے پارٹی اجلاس میں وہیں کھانا کھایا۔ لیکن بھئی وہ تو بہت مہنگا ہے۔ کھال اتار لیتے ہیں گاہکوں کی۔
میزبان دانشور مسکراتے ہوئے بولے:
ارے چھوڑو مہنگے سستے کو۔ اسکا مالک پیسے ہی کہاں لیتا ہے ہم سے۔ بیگم کا بھائی بنا ہؤا ہے۔ کوئی چھوٹا سا کام کر دیا تھا انہوں نے اسکا۔ غالباٌ ٹیکس وغیرہ کا مسئلہ تھا۔ اب تو بار بار فون کر کے بلواتا ہے۔ بہت شریف آدمی ہے۔
دوسرا دانشور چونکتے ہوئے بولا:
ارے بھائی وہ ہم نے بھی ایک چھوٹا سا کام بتایاتھا بھابی کو۔ بھتیجے کی نوکری کے لئے کہا تھا۔آئیں تو یاد دلا دیجئے۔
چوتھی دانشور بے صبری سے بولیں۔
بھئی کب لوٹیں گی آپ کی بیگم۔ کہا بھی تھا ان سے کہ کسی صنعت کار کو فون کر کے کچھ پینٹنگز میری بکوا دیں۔ انکی بات کون ٹالے گا۔ میری تو خواہش ہے کہ اس ملک کا آرٹ ہے اسی ملک میں رہے۔ ورنہ تو کئی این۔او۔ جیز لینے پر تیارہیں۔ پر ظاہر ہے وہ تو اسے باہر ہی لے جائیں گے۔
تیسرا دانشور باوجود کوشش کے اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکا۔ زہر خند مسکراہٹ سے بولا:
تو بی بی لے جانے دو ناں۔ خس کم جہاں پاک۔ اچھا اسی موضوع پر ایک نظم لکھی ہے میں نے ۔ سناؤں !!
میزبان دانشور اسکی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
میرے خیال میں اب چلتے ہیں ۔ وہاں ریستوران میں ٹیبل ریزرو کی ہوئی ہے۔ اسکا مالک بیچارہ انتظار کرتا ہو گا۔ انتہائی شریف آدمی ہے۔ اور ابھی تو اصل مسئلے پر بھی بات ہونی ہے۔