صحافی کی ڈائری سے
- ہفتہ 19 / اپریل / 2014
- 4783
آپریشن تھیٹر کے اندر ڈاکٹر اداس کے ریزہ ریزہ وجود کو جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اپریشن تھیٹر کے دروازے پر اداس کی بوڑھی ماں خدائے بزرگ وبرتر سے اداس کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ تین چار گھنٹوں کے بعد اپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتاہے اپریشن تھیٹرکا عملہ اضطراب کے عالم میں تیز تیزچل رہا ہے اور اداس کے عزیز و اقارب اداس نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔
اداس ایک متوسط خاندان میں جنم لیتاہے۔ بلکہ نہیں جنم توبڑے لوگ لیتے یا دیتے ہیں۔ یوں کہئے کہ اداس ایک غریب گھرانے میں پیداہوتاہے۔ اداس جب عمر کے چوتھے سال کو پہنچتاہے تو اس کی ماں اسے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروادیتی ہے جہاں صرف ایک بوڑھے برگد کا سایہ ہوتا ہے، جس کے نیچے سکول کے ہیڈماسٹر سے لے کر پہلی کلاس تک کے بچے بڑے منظم طریقے سے اپنی اپنی مسند پر برا جمان ہوتے ہیں۔ سکول میں پروٹوکول کا بہت خیال رکھا جاتاہے۔ استادجی کے سائیکل کو دور سے دیکھ کر کلاس سٹینڈاپ کی کال دی جاتی ہے۔ استاد جی کا سائیکل پکڑکر اسے سنبھال کے ایک طرف کھڑاکرنے اور اسے رگڑرگڑ کر صاف کرنے بلکہ چمکانے میں فخر محسوس کیاجاتاہے۔ بڑی جماعت کے بچے ٹاٹ پر بیٹھتے ہیں اور چھوٹی جماعتوں کے بچے بغیر ٹاٹ کے یا پھٹے پرانے ٹاٹوں پر ۔
اداس کبھی کھیل کود کے شوق میں، کبھی چند سکوں کے لالچ میں اور کبھی استاد جی کے خوف میں صبح سویرے اپنی تختی پر چند ایڑھی ترچھی لائنیں لگاتا، نئے نئے حروف تخلیق کرتا، اپنا ادھ کھلا بستہ کاندھے پر لٹکائے گاؤں کی مانوس گلیوں میں گھومتا گھماتا سکول چلاجاتا۔ اداس کی ماں گھر میں تنہا بیٹھی خوابوں کے محل تعمیر کرتی رہتی ۔ یہ ہر ماں کی فطرت میں شامل ہے یا شاید ممتا کا حصہ ہے کہ جب اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوتی ہے تووہ دنیا کے سارے دکھ بھول جاتی ہے بلکہ اپنے سارے دکھوں کا مسیحا اپنے بیٹے کو سمجھتی ہے۔
اداس عمر کی منزلیں طے کرتا ہؤا جب پانچویں جماعت پاس کرتاہے تو اس کی ماں اسے تحفے میں نیا بستہ سی کر دیتی ہے کیونکہ اس وقت تک بستہ خرید نے کا رواج نہیں تھا یا شاید یہ جدت اداس کے گاؤں تک نہیں پہنچی تھی۔ سکول کی تعلیم کے بعد اداس کی ماں اپنی سب جمع پونجی بیچ کر بیٹے کو کالج دا خل کرواتی ہے۔ اداس کالج میں اور پھر یونیورسٹی میں بھی اچھی پوزیشن حاصل کرتاہے۔ اور اداہ اداس کے لیے وظیفہ کا اعلان کرتاہے۔ تعلیمی اخراجات اداس کو تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتے اور یوں اداس اپنی سولہ سالہ تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتاہے۔
گوزندگی خوابوں کے سہارے نہیں گزر سکتی لیکن پھر بھی ہر انسان زندہ رہنے کے لیے اپنی ذات کی محرومیوں سے فرار چاہتا ہے اور اس فرار کے حصول کے لیے کچھ خواب ضروری ہوتے ہیں۔ اداس بھی اپنی ذات کی محرومیوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے خواب دیکھتاہے۔ اور بالآخر یہی فرار اسے ادب کے میدان میں لے آتاہے۔ یونیورسٹی تک پہنچتے پہنچتے وہ ادب کے میدان کی خاک میں سے ریزہ ریزہ خوابوں کی کرچیاں چن چن کر اسے کہانی کے دھاگے میں پرونے کے قابل ہوجا تاہے۔ انہیں دنوں یونیورسٹی میگزین میں اداس کے نام سے ایک کہانی چھپتی ہے۔ کہانی دراصل یونیوسٹی ہی کی ایک ناکام محبت کے گرد گھومتی ہے جو کلاس میں ہلکے پھلکے پڑھاکو انداز میں یعنی نوٹس کے تبادلے سے شروع ہوتی ہے، کیمپس میں پھلتی پھولتی ہے، کیفِ ٹیریا میں پروان چڑھتی ہے اورکیمپس کے پل پر شاعرانہ اندازمیں انجام پاتی ہے ۔
اداس چند دنوں تک ناکام محبت کا لاشہ اپنے کاندھے سے لگا کے پھرتارہا۔ پھر آہستہ آہستہ جیسے اس کی عقل ٹھکانے آئی تو اسے روزگار کی فکر ستانے لگی۔ وہ بہترین روزگار کی تلاش میں کچھ عرصہ تو بے روزگار رہا۔ ایک دن گھر میں بیٹھے بیٹھے اس نے اپنی ماں کے چہرے کو غور سے دیکھا تو اسے محسوس ہو ا کہ ماں جی کا محبت بھرا مقدس چہرا غربت اور پریشانیوں کی وجہ سے یوں ذرد ہوتا جارہاہے جیسے کسی نوری فرشتے سے نور کی چادر آہستہ آہستہ چھنتی جا رہی ہو۔ تو اس نے بہترین روزگار کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا اور کو ئی بھی نوکری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اداس کی جیب میں نہ تو سکہ رائج الوقت کی فراوانی تھی کہ نوکری دینے والے اس کی جیب کا منہ کھلنے کا انتطار کر رہے ہوتے اور نہ ہی اس کے خاندان کا کوئی ایسا سیاسی اثرو رسوخ تھا کہ وڈیرہ سائیں جاب آرڈر اس کے گھر پہنچا دیتا ۔
بالآخر ایک مہربان پروفیسر نے اس کی طبیعت کے پیشِ نظر اسے ایک اخباری میگزین میں ملازم کروادیا۔ اداس اپنے میگزین کے لئے افسانے اور کہانیاں لکھتا رہا۔ ماں کے خوابوں کی تعبیر اور خواہشات کی تکمیل کے لیے دن رات کام کرتا رہا۔ لیکن افسوس وہ اپنی ماں کے خوابوں کو تعبیر میں نہ بدل سکا۔ اپنی بوڑھی ما ں کی ضعیف خواہشات کا سر نہ ڈھانپ سکا۔ اداس کے روم میٹ بتاتے ہیں کہ وہ اس وقت ڈائری لکھ رہا تھا جب اس کی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی اور اس کے منہ سے خون آنا شروع ہو گیا ۔اداس اپنی ڈائری کے نامکمل اوراق میں لکھتا ہے کہ:
“میں بھی کیسا انسان ہوں سالوں کی شب و روز کی محنت کے باوجود اپنی ماں کا ایک بھی خواب پورا نہیں کر سکا۔ میرے گھر میں آج بھی روٹی کے حصول کے لئے جنگ جاری ہے۔ میری سوچ میرااحساس اور میرا ضمیر بھوک کے وحشی پرندے نے نوچ ڈالے ہیں۔ میرے ارمان مایوسیوں میں بدل چکے ہیں اور میری ماں کے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں۔ جن کا وہ میرے سامنے اظہار کرنا بھی گناہ سمجھتی ہے۔
مجھے بھی یہ قلم مزدوری چھوڑ کر بڑے بڑے لوگوں کی طرح راتوں رات امیر ہوجانے کا فن سیکھنا چاہیے۔ مجھے بھی ضمیر کو نہیں بریف کیس کو سامنے رکھ کر سوچنا چاہیے۔ لیکن میرے اندر سے آواز آتی ہے اداس مال و متاع اور مادیت پرستی ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ ضمیر اور ایمان کی بھی کچھ اہمیت ہوتی ہے۔ ماں میں اس جنم میں تمہیں کوئی خوشی نہیں دی سکا۔ تمہارا کوئی خواب پورانہیں کر سکا۔ تمہاری کسی خواہش کا سر نہیں ڈھانپ سکا۔ لیکن میں دن رات کی محنت سے تھک چکا ہوں میں زندگی کے دوہرے معیار سے اکتا گیا ہوں۔ اورانسانوں کے دوغلے پن نے مجھے کرچی کرچی کردیا ہے۔ ماں میں تم سے ایک وعدہ کرتا ہوں۔ میں اپنے اگلے جنم کی ساری خوشیاں تمہاری جھولی میں ڈال دوں گا اور تمہارے سارے دکھ اپنے سینے سے لگا کر فخر محسوس کروں گا۔ کہ میں نے تخلیق کی دیوی کا حق ادا کرنے کی ایک حقیر سی کوشش کی ہے۔“
اس سے آگے اداس کی ڈائری کے الفاظ آنسوؤں سے دھندلائے ہوئے ہیں اوراداس کی ڈائری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔
تین چار گھنٹوں کے بعد آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتاہے اپریشن تھیٹرکا عملہ اضطراب کے عالم میں تیز تیزچل رہا ہے اور اداس کے عزیز و اقارب اداس نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر باہر آتا ہے اور اداس کی بوڑھی ماں سے مخاطب ہوتاہے: “ماں ہم نے کوشش تو بہت کی لیکن شاید اداس تمہاری قسمت میں نہیں تھا۔ اداس کا دل کسی انجانے بوجھ کی وجہ سے پھٹ گیا تھا۔ جس کو ریکور کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن تھا۔
اداس کی ماں پر یہ خبر بجلی کی طرح گرتی ہے وہ ویران آنکھوں سے ڈاکٹر کے چہرے کی طرف دیکھتی ہے اونچی آواز میں اداس اداس کے نام کے بین کرتی ہے بال نوچ کر چند لمحے بے رحم آسمان کی طرف دیکھتی ہے۔ ہسپتال کے درو دیوار سے سر ٹکراتی ہے اور پھر قہقہے لگاتی ہوئی ہسپتال کے مین گیٹ سے باہر نکل جاتی ہے۔