قومی وحدت کا زائچہ
- ہفتہ 19 / اپریل / 2014
- 4592
میں نہیں جانتا کہ میں کیا کہنے والا ہوں ۔ میرے پاس کہنے کو رہ ہی کیا گیا ہے ۔ چند آنسو ، چند خواب اور چند حسرتیں ۔ پاکستان جو اُنیس سو سنتالیس سے اُنیس سو اکہتر تک تھا وہ اب نہیں رہا ۔ موجودہ پاکستان کے سیاسی نظام کے بارے میں کچھ کہنے کی سکت ہی نہیں ، کیونکہ صورتِ حال اقبال کی زبان میں یوں ہے:
بدلتے رہتے انداز کوفی و شامی
سول کہلانے والے سیاستدانوں اور فوجی سیاستدانوں کی باہمی آویزش اور اقتدار کی مسلسل کشمکش میں پاکستان کی ساکھ بے حد کمزور ہو گئی ہے ۔ کیا کوئی میکاولی یہ بتا سکتا ہے کہ ایسے سیاسی نظام کو کہتے کیا ہیں جو نہ تیتر ہے نہ کوّا ؟
پاکستانی معاشرہ ، کوئی سوسائٹی نہیں بلکہ ایک مہاجر کیمپ ہے جس میں الطاف بھائی لندن والے کی اُمّت بھی محصور ہے اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مارے اور قائداعظم کے قافلے سے بچھڑے غریب لوگ بھی۔ لیکن کسی کے پاس نہ ملی اتحاد کی سند ہے ، نہ ہی تنظیم کا سبق ہی یاد ہے اور نہ اب کسی کو اپنے ہونے کا یقین ہے ۔
ملک مختلف متحارب گروہوں کا میدانِ جنگ بنا ہؤا ہے جو مسلح بھی ہیں اور جرائم پیشہ بھی ۔ ہر روز ملک کے گوشے گوشے میں اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کی لاشیں گرتی ہیں ، بنک ڈکیتیاں ہوتی ہیں ، دھماکے ہو رہے ہیں اور ملک کی مسلح افواج تک دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں ۔ میڈیا کے اکھاڑوں میں سیاسی ، صحافتی ، عسکری ، سول اور نا معلوم فرشتے ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں لگے ہیں ۔
رہے علماء تو تاجر پیشہ طبقوں کی طرح وہ بھی اپنی روزی روٹی کی فکر میں رہتے ہیں ۔ اُن کو اس ذمہ داری کا احساس ہی نہیں کہ اُن کا اصل کام جہالت کے اندھیرے کو مٹا کر علم کی شمعیں جلانا ہے تاکہ لوگوں کو اسوہء حسنہ کی تعلیم دی جاسکے ۔ وہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے بجائے الزامات کا سارا ملبہ حکومت پر ڈال دیتے ہیں ۔
مجھے ہمیشہ اس بات کا احساس بڑی شدت سے رہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی امور کی کوئی وزارت ہے ہی نہیں، اور اگر ہے تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ مذہب حکمرانوں کا مسئلہ ہی نہیں ، چناچہ مذہب کو مکمل طور پر عملاء اور علماء نما بہروپیوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ جنہوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے ، اور اُن کے ہاتھوں پچھلے چھیاسٹھ سال میں عوام کی جو درگت بنی ہے اُس کا ذکر بھی سوہانِ روح ہے ۔
مسلمانوں کو مذہب کے نام پر اس بیسویں صدی کے اختتام پر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں جس طرح مختلف محاذوں پر قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے وہ ایک دردناک داستان ہے ۔ عراق ، لیبیا ، ایران ، شام ، افغانستان اور پاکستان ۔
پاکستان ایک فلاحی اسلامی ریاست کی جیتی جاگتی عملی مثال پیش کرنے کے لیے قائم ہؤا تھا۔ مگر پاکستانی قیادت ان چھیاسٹھ برسوں میں اس ریاست کی تعمیر کے چیلنج کا سامنا ہی نہیں کر سکی ۔ نہ تو علماء میں کوئی ایسا نکلا جو اسلامی فلاحی ریاست کے لئیے فکری راستہ ہموار کرپاتا اور نہ ہی اقبال کے بعد دانشوروں میں کوئی ایسا برگد آثار شخص ہی آگے آیا جو پوری قوم کو کسی واحد راستے پر چلا سکتا اور نظریات کو عملی جامہ پہنانانے کا معجزہ دکھاتا ۔
اس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ سریع الاعتقادی نے پاکستان کی اجتماعی مذہبی نفسیات میں جڑیں پکڑ لیں اور ملک جعلی پیروں ، عاملوں ، جادو گروں ، تعویذ فروشوں اور جعلی مولویوں کا گڑھ بن گیا۔ جو لوگوں کو طرح طرح سے گمراہ کر کے لوٹتے ہیں ۔ میڈیا کے مالکان اُن کے اشتہار پورے اہتمام سے شائع کرتے ہیں۔ پھر اپنے پروگراموں میں اُن کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور اُنہیں بے نقاب کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ مگر مذہب اور تصوف کے نام پر ہونے والی یہ کرپشن بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے جو ملک کے سماجی تاروپود کر گھن کی طرح کھائے چلی جا رہی ہے ۔
اس وقت سیاسی منظر پر سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف اور نواز لیگ کی موجودہ حکومت کے درمیان ایک انتقامی جنگ جاری ہے۔ جس پر ملکی وسائل پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں ۔ یہ وسائل جو پاکستان کے غریب عوام کی ملکیت ہیں ، ملک کے با اختیار لوگوں کے اللوں تللوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ جس سے غریب عوام کے حقوق غصب ہو رہے ہیں ۔
فوج اور سول کے درمیان اقتدار پر قبضے کی کشمکش تقریباً چھپن سال پرانی ہے۔ جس ایوب خان نے سات اکتوبر 1958 کو اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا ۔ اُس روز ایوب خان نے جو تقریر کی اُس کے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہے ہیں ۔ اُنہوں نے فرمایا :
We are not here to hold these posts . we have to do the job and quit .
لیکن ایوب خان نے جو کام شروع کیا تھا وہ آج تک ختم نہیں ہؤا ۔ کیونکہ اب یہ باقاعدہ ایک شعبہ بن چکا ہے جس میں سیاست کے شوقیہ فنکار فوج کے ذریعے اقتدار میں آنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ خود فوجی حکمرانوں کو اقتدار کا چسکا اس حد تک پڑ چکا ہے کہ وہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے ذوق ، ضرورت اور مفاد کے مطابق ایسی مسلم لیگ بنا دیتے ہیں جو اُن کی جیب میں پوری آ سکے اور موجودہ نواز لیگ بھی اُنہی لیگوں میں سے ایک ہے جسے جنرل ضیاء الحق نے بنایا تھا ۔
فوج اپنے اقتدار کے کے حق کو ایک آسمانی حق قرار دیتی ہے اور میڈیا اکثر جنرل حمید گل کی زبان سے جسٹس منیر کے قلم سے نکلا وہ جملہ بلواتا رہتا ہے جس میں جسٹس منیر نے کہا تھا َ
EVERY QUO HAS A DIVINE RIGHT.
فوج کے پرانے افسر جو اپنے جرنیلوں کے وفادار اور قوم کے بے وفا ہیں ، اس آسمانی حق پر ایمان رکھتے ہیں اور جب تک یہ فکری عسکری جہالت موجود ہے، اس ملک میں قومی وحدت کا تصور پیدا نہیں ہو سکتا ہے ۔ شاید اس بے ترتیب اور غیر منظم ہجوم کا مقدر یہی ہے کہ وہ قوم نہ بن سکے ۔