حقیقت نگار مصنف
- اتوار 20 / اپریل / 2014
- 7475
دنیائے ادب کے جادو بیان مصنف اور ناول نگار گیبریل گارسیا مارکیز گزشتہ ہفتے 87 برس کی عمر میں میکسیکو سٹی میں اپنے گھر پر انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ چند برس سے تنہائی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ قریبی دوستوں اور ان کے بھائی جیمی مارکیز نے بتایا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنی یادداشت کھو رہے تھے۔ انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے قریبی لوگوں سے کہتے تھے کہ انہوں نے جو لکھنا تھا وہ لکھ لیا ہے۔
گارسیا مارکیز کو عہد حاضر کا سب سے بڑا ناول نگار قرار دیا جاتا ہے۔ 1967ء میں انہوں نے اپنے معرکتہ الآرا ناول ” تنہائی کے سو سال “ One Hundred Years of Solitude شائع کیا تھا۔ اس ناول نے اشاعت کے ساتھ ہی مقبولیت اور شہرت کے جھنڈے گاڑ دئیے تھے۔ یہ ناول دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو کر مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ مختلف زبانوں میں اس ناول کے 5 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ اس ناول کی مقبولیت کے بعد گارسیا مارکیز کا کہنا تھا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ اس مقبولیت کے بعد ان کی دیگر تحریروں کو اہمیت حاصل نہیں ہو گی۔ تاہم اس کے بعد ان کی تحریریں سپینش بولنے والوں کے علاوہ دیگر زبانوں کے قارئین کو بھی متاثر کرتی رہیں۔ اور وہ زندگی کی آخری سانس تک اپنی جادو نگاری ، سحر انگیز منظر کشی ، حقیقت پسندانہ کردار نویسی اور کہانی بیان کرنے کی خوبیوں کی وجہ سے پہچانے جاتے رہے۔
گیبریل گارسیا مارکیز Gabriel Garcia Marquez کولمبیا کے ایک قبصے اراکاٹاکا Aracataca میں 6 مارچ 1927ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد مختلف النوع کام کرتے تھے۔ وہ پوسٹ مین بھی تھے اور دوا سازی اور حکمت کا کام بھی کرتے تھے۔ گارسیا اپنے والدین کے گیارہ بچوں میں سب سے بڑے تھے۔ غربت اور تنگدستی کی وجہ سے انہیں ابتدائی برسوں میں ان کے نانا نانی نے پالا پوسا تھا۔ ان کے نانا ایک ریٹائرڈ آرمی کرنل تھے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی شخصیت اور تحریروں پر نانا کی گہری چھاپ ہے۔ ان کا مشہور زمانہ ناول ” تنہائی کے سو سال “ اگرچہ ایک تصوراتی بستی اور اس کے تخیلاتی کرداروں پر مشتمل ہے لیکن اس کتاب کا اہم کردار کرنل بوئیندیا Buendia اپنے طرز عمل اور رہن سہن میں ان کے نانا کا پرتو بتایا جاتا ہے۔
” تنہائی کے سو سال “ کی اشاعت کے حوالے سے بعض حیرت انگیز اور دلچسپ باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب کا مسودہ جب پبلشر نے پڑھنا شروع کیا تو وہ اس انجان اور غیر مقبول گارسیا مارکیز کی سحر بیانی سے حیران رہ گیا۔ اس نے فوری طور پر ارجنٹائن کے مقبول ناول نگار تھامس الائے کو اپنے گھر بلایا۔ الائے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ پبلشر کے گھر پہنچے تو کتاب کے صفحات پورے کمرے میں پھیلے ہوئے تھے اور وہ حیرت سے ایک کے بعد دوسرے صفحے کو پڑھ رہے تھے۔ اس ناول نی اشاعت کے ساتھ ہی شہرت کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ جلد ہی گریگوری راباسا Gregory Rabassa نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ بھی اصل کتاب کی طرح ہی مقبول ہؤا۔ اس ناول کی ابتدا ہی پڑھنے والے پر حیرت اور تجسس کی کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ ” تنہائی کے سو سال “ کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے:
” بہت سالوں بعد جبکہ اسے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا تھا ، کرنل آرلیانو بوئیندیا کو عرصہ پہلے گزری ہوئی سہ پہر یاد آ رہی تھی جب اس کا باپ اسے برف دکھانے لے گیا تھا۔ اس وقت میکانڈو دریا کے کنارے پر آباد ایک چھوٹا سا گاﺅں تھا جس میں بمشکل 20 گھر تھے۔ دریا کا پانی آئینے کی طرح صاف تھا اور اس کی تہہ میں چمکدار پتھر سفید اور بہت بڑے سائز کے تھے۔ گویا وہ قبل از تاریخ دور کے انڈے ہوں۔ دنیا ابھی اتنی نئی تھی کہ بہت سی چیزوں کی پہچان کے لئے نام تک تجویز نہیں ہو سکے تھے۔ بس ان کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ۔“
” تنہائی کے سو سال “ جادوئی حقیقت پسندی Magical Realism کا شاندار نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے سب کردار اور مقامات تصوراتی ہیں لیکن وہ ہمارے شب و روز کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ یہ کہانی گارسیا مارکیز کے اپنے گرد و نواح کی ہے لیکن ہر شخص اس میں اپنے ساتھ بیتنے والی سچائی کو تلاش کر لیتا ہے۔ بہت سے تبصرہ نگار گارسیا کو اس جادوئی حقیقت پسندی کا موجد قرار دیتے ہیں جس نے بعد میں یورپ اور دنیا بھر کے بعض اہم ترین لکھنے والوں کو متاثر کیا۔ تاہم گارسیا مارکیز خود یہ دعویٰ نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہء تحریر کے آثار پرانی سپینش تحریروں میں ملتے ہیں۔ انہوں نے عہد جدید میں زیادہ مؤثر طریقے سے اسے استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت عام آدمی کا تخیل بھی ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں سچائی صرف پولیس کے مظالم ہی نہیں ہیں بلکہ عام لوگوں کا رہن سہن ، سوچ اور خواب بھی سچائی اور حقیقت کا ہی حصہ ہیں۔
گارسیا مارکیز نے اس حقیقت کو اپنے سحر انگیز قلم سے ایک لازوال تحریر کی صورت میں اپنے پڑھنے والوں کے لئے پیش کیا ہے۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن جو گارسیا کے دوستوں اور مداحوں میں شامل ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ” تنہائی کے سو سال “ اس وقت پڑھا تھا جب میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میں نے ایک بار اسے پڑھنا شروع کیا تو اسے آنکھوں سے علیحدہ نہیں کر سکا حتیٰ کہ اسے مکمل کرنے تک میں لیکچر کے دوران بھی اسی کتاب کو پڑھتا رہا۔ میں نے اندازہ کیا کہ یہ ادیب جو کہانی بیان کر رہا ہے وہ تصوراتی لگتی ہے لیکن انتہائی سچی اور بے انتہا دانش پر مبنی ہے۔
گارسیا مارکیز کی اس کتاب کو تحریر کرنے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ 1961ء میں میکسیکو سٹی منتقل ہوئے تو انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ 1965ء میں ایک سفر کے دوران اس ناول کا پلاٹ ان کے ذہن میں آیا۔ گھر پہنچ کر انہوں نے خود کو گھر تک محدود کر لیا اور ڈیڑھ برس ناول نگاری میں صرف کئے۔ اس دوران انہوں نے کام کاج اور دیگر تمام مصروفیات ترک کر دیں۔ گھر کے انتظام اور خرچ کی تمام ذمہ داری ان کی اہلیہ مرسیڈیز پر تھی۔ جب انہوں نے کتاب مکمل ہونے کی نوید اپنی بیوی کو دی تو اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ اچھا تو تم نے یہ کتاب مکمل کر لی ہے۔ مگر ہم 12 ہزار ڈالر کے مقروض ہو چکے ہیں۔
” تنہائی کے سو سال “ نے گارسیا مارکیز کو اس قدر شہرت اور دولت عطا کی کہ پھر زندگی بھر انہیں کسی سے قرض لینے کی حاجت نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک آرام دہ زندگی گزاری۔ مرنے سے پہلے دنیا کے چار ملکوں میں ان کے گھر تھے۔ وہ خوش لباس اور خوش اطوار تھے۔ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اور انہیں مدعو کرنا انہیں مرغوب تھا۔
گارسیا مارکیز کو 1982ء میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھی انہوں نے کہا تھا کہ ہم سب اپنے مسائل اور سچائیوں کے اسیر ہیں لیکن انہیں بیان کرنے کے لئے بعض اوقات پروازی تخیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل مغرب دنیا کے دیگر لوگوں کو اپنے پیمانے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے دوسرے لوگوں کے نقطہ نظر ، پس منظر اور تجربوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ گھانا نژاد ایک شاعر نیلس پارکر کا کہنا ہے کہ ” تنہائی کے سو سال“ کے ذریعے گارسیا مارکیز نے اہل مغرب کو کامیابی سے یہ باور کروایا ہے کہ دوسروں کی حقیقت خود ان کی سچائی سے مختلف ہو سکتی ہے لیکن غلط نہیں۔ اس کتاب کی وجہ سے متعدد غیر مغربی مصنفین کو یورپ اور امریکہ کے قارئین تک پہنچنے کا موقع ملا۔
اس شہرہ آفاق مصنف نے صحافی کے طور پر زندگی کا آغاز کیا اور ساری زندگی خود کو صحافی قرار دیتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی حیثیت میں انہوں نے سچائی کو سمجھنا اور بیان کرنا سیکھا ہے۔ صحافی کی حیثیت سے انہوں نے ایک ڈوبنے والے جہاز کے ملاح کا ایک انٹرویو لیا تھا جس میں سرکاری کرپشن اور بداعمالی کا بھانڈا پھوڑا گیا تھا۔ یہ انٹرویو ” تباہ شدہ جہاز کے ملاح کی کہانی“ کے نام سے شائع بھی ہؤا۔ یہ انٹرویو کرنے کی پاداش میں گارسیا مارکیز کو 50ء کی دہائی میں کولمبیا سے یورپ ہجرت کرنا پڑی تھی۔ وہ دو برس تک پیرس میں مقیم رہے اور وہاں پر انہوں نے جنوبی امریکہ کے جلا وطن دانشوروں اور ادیبوں کے ساتھ وقت صرف کیا۔ اس زمانے میں انہوں نے اپنی ادبی تحریروں کا آغاز بھی کیا۔ ” تنہائی کے سو سال“ سے قبل ان کی دو کتابیں شائع ہو چکی تھیں لیکن انہیں کوئی خاص شہرت نہیں ملی تھی۔
مارکیز بائیں بازو کے خیالات کے حامی تھے۔ وہ جنوبی امریکہ کی انقلابی تحریکوں کی حمایت کرتے تھے۔ کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو سے ان کی ذاتی دوستی تھی۔ نوجوانی میں وہ کولمبیا کی کمیونسٹ پارٹی کے رکن بھی رہے تھے۔ اسی لئے امریکہ نے 30 برس تک انہیں ویزا دینے سے انکار کیا۔ بالآخر 1995ء میں صدر بل کلنٹن کی مداخلت پر انہیں پہلی بار امریکہ میں داخل ہونے کا ویزا دیا گیا۔ تاہم ان کی کتابوں کے ذریعے ان کی شہرت پورے امریکی براعظم میں پھیل چکی تھی۔
گیبریل گارسیا مارکیز گزشتہ جمعرات کو انتقال کر گئے۔ اس طرح سچائی پر مبنی جادوئی کہانیاں سنانے والا ایک محیر العقول داستان گو ہم سے جدا ہو گیا۔ کولمبیا کے صدر سانتوس نے انہیں تاریخ کا بہترین کولمبئن شہری قرار دیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے گارسیا کی موت پر اپنے پیغام میں کہا کہ ” کولمبیا کے اس بے بدل مصنف کی موت ہزاروں سال کی تنہائی اور اداسی دے گئی ہے۔ ایسے لوگ کبھی نہیں مرتے“۔
گارسیا مارکیز جنہیں ان سے محبت کرنے والے گابو کے نام سے پکارتے تھے، گو کہ اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی سحر انگیز تحریریں خواب و خیال کی نئی تصویریں پڑھنے والی نسلوں کے دل و دماغ پر نقش کرتی رہیں گی۔