بھلے وہ حامد میر نہ ہو
- اتوار 20 / اپریل / 2014
- 4836
پاکستان کے سب سے بڑے اشاعتی و نشریاتی ادارے سے وابستہ ملک کے نامور صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے نے ملک میں بے یقینی کے بڑھتے ہوئے سائے مزید پھیلا دیئے ہیں۔ ممکنہ حملہ آوروں، حملے کے محرکات اور سیاسی اثرات کے حوالے سے طرح طرح کے اندیشوں کا اظہار کیا جانے لگا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی صحافیوں کی باہمی تقسیم بھی پوری طرح واضح نظر آ رہی ہے۔
حامد میر پر حملہ اپنی جگہ پر انتہائی تشویشناک اور گمبھیر مسئلہ ہے مگر اس معاملے نے خطرناک موڑ اس وقت لیا جب یہ خبر سامنے آئی کہ حامد میر نے پہلے ہی یہ بتا دیا تھا کہ اگر ان پر حملہ ہؤا تو اس کے ذمہ دار آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام اور دیگر حکام ہوں گے۔ حامد میر کے بھائی عامر میر نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حامد میر نے انہیں، اپنے گھر والوں، جنگ گروپ کی انتظامیہ اور اپنے چند دوستوں کو آگاہ کر دیا تھا کہ آئی ایس آئی کے چیف نے ان کے قتل کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اگر ان پر حملہ ہؤا تو اس کے ذمہ دار لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور آئی ایس آئی کے دیگر حکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا آئی ایس آئی کے بعض عناصر پرویز مشرف اور بلوچستان کے معاملات پر ان کے خیالات اور مؤقف سے شدید اختلاف رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حامد میر نے اپنے بیان پر مشتمل ویڈیو صحافیوں کی عالمی تنظیم ’’ پروٹیکٹ ٹو جرنلسٹس‘‘ کو بھی بھجوادی تھی۔
ملک کے نامور صحافی پر اس قاتلانہ حملے کے ذمہ داروں اور محرکات کے بارے میں اس وقت کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی۔ تاہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ جس فرد پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہو، حملے کے بارے میں اس کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ انہیں سرسری طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ قاتلانہ حملے کا ذمہ دار کوئی بھی ہو، عدل اور انسانیت کا تقاضہ ہے کہ اس کی بے لاگ تحقیقات کرائی جائے۔ یہ آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا مسئلہ ہے۔ تحقیقات میں کسی کو کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔
ادھر انٹر سروسز انٹیلی جنس پر الزامات کے بعد فوج کے ترجمان، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حامد میر پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اورفوج کی طرف سے اس مطالبے کی حمایت کی کہ حامد میر پر حملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ تاہم انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے ملک کے انتہائی اہم ادارے پر لگائے گئے الزامات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور آج ’’ اے آر وائی ‘‘ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آئی ایس آئی پر لگائے گئے الزامات کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ رپورٹنگ ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہئے جو یقیناًایک صائب مطالبہ ہے۔
بہرطور ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ اور فوج کا اس طرح آمنے سامنے آ جانا موجودہ ملکی صورتحال میں کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ حامد میر کا ریکارڈڈ بیان اپنی جگہ مگر ملک کے انتہائی حساس اور اہم ادارے پر دنیا بھر میں دیکھے جانے والے ایک نیوز چینل کی طرف سے بغیر کسی ثبوت کے حملے کے فوراً بعد انگلی اٹھانا بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ مناسب ہوتا کہ حامد میر صاحب کے اہلخانہ اور ان کا ادارہ تحقیقات اور اس کے بعد اصل محرکات اور ملزمان کے سامنے آنے کا انتظار کرتا۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ملک کے ایک معتبر صحافی کے بیان کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے ایک شفاف انکوائری ضروری ہے۔ اب وزیراعظم نوازشریف نے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی۔ آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرانا اور اس جرم کے ذمہ دار افراد کا احتساب حکومت اور فوج دونوں کی ذمہ داری ہے۔
حامد میر اس ملک میں پہلے صحافی نہیں جن پر حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی صحافیوں کی طرف سے آئی ایس پر تشدد کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل معروف صحافی سلیم شہزاد کو دن دہاڑے اسلام آباد سے اٹھا کر غائب کردیا گیاتھا اور پھر ان کی لاش منڈی بہاؤالدین میں پائی گئی۔ اس بہیمانہ قتل کا الزام بھی آئی ایس آئی پر لگایا گیا تھا۔ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم کردہ کمیشن نے اپنی تحقیقات کی رپورٹ بھی پیش کردی تھی لیکن قتل کے ذمہ داروں کی کوئی نشاندہی نہ کی گئی۔
بدقسمتی سے ایسی بیشتر تحقیقات کا مقصد حقیقت تک پہنچنا اور حملہ آوروں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہی نہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ معاشرے میں باہمی عدم اعتماد کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ عسکری قیادت کو ان وجوہ کا سراغ لگانا چاہئے جن کے سبب وہ انٹیلی جنس ایجنسیاں جن کا وجود قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے باعث طمانیت ہونا چاہئے، خوف کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔
حامد میر بہادر ، منجھے ہوئے صحافی اور اینکر پرسن کی حیثیت سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جمہوریت کیلئے ان کی جدوجہد بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آزادئ رائے کے بے باکانہ اظہار کے حوالے سے وہ نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بحیثیت صحافی ان کی غیر جانبداری شک و شبہ سے بالا تر رہی ہے۔
موجودہ ملکی حالات میں حامد میر پر حملہ قوم کی بے بسی کا مظہر تو ہے ہی تاہم اس کے ساتھ ہی اس معاملہ پر صحافیوں کی تقسیم بھی پوری طرح واضح نظر آ رہی ہے۔ اپنی ذات کے تحفظ کے مسئلے پر بھی صحافی برادری کا عدم اتفاق بحیثیت قوم ہماری تقسیم در تقسیم کا آئینہ دار ہے۔
ملک کے عوام کے ذہنوں اور حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے والے لوگ اگر اس حساس معاملہ پر بھی سیاست سے باز نہیں آ رہے تو ریاست سے گلہ کیسا۔ وقت آ گیا ہے کہ صحافی برادری میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے مفادات کا تحفظ اور ان کی باہمی چپقلش کی نذر ہو نے کی بجائے قومی مفادات اور ساتھیوں کے تحفظ کیلئے ٹھوس پالیسی اپناتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو وگرنہ کل کسی اور صحافی پر بھی اسی طرح حملہ ہو سکتا ہے بھلے اس کا نام حامد میر نہ ہو۔